کیا ماں اور بہنیں ولن ہوتی ہیں؟

(Saleem Ullah Shaikh, Karachi)

بظاہر تو یہ بڑے مزاحیہ اشتہار لگتے ہیں اور شاید ہی کسی نے اس کی سنگینی کو محسوس کیا ہو لیکن دراصل اس میں غیر محسوس انداز میں اولاد کو ماں سے دور کیا جارہا ہے۔ ابتدا میں ہمارے ڈراموں اور خواتین کے ناولز میں ساس اور نندوں کو ولن کے کردار میں پیش کیا جاتا تھا۔کئی ڈراموں میں اس طرح دکھایا گیا کہ اولاد کے بگاڑ میں باپ کی سختی کا بہت ہاتھ ہے اور والدین بالخصوص باپ کی سختی اور معاذ اللہ اولاد سے اس کی ضدکے باعث بچے غلط راستوں پر چل پڑتے ہیں۔ اب ڈراموں میں یہ دکھایا جارہا ہے کہ ماں اپنی اولاد اور بہنیں اپنے بھائیوں کی خوشیوں کی دشمن ہیں۔
جی ہاں ! یہ بہت اہم سوال ہےکہ کیا واقعی ماں اور بہنیں اولاد اور بھائیوں کے لیے ولن ہوتی ہیں؟ یہ سوال ہمارے ذہن میں اس لیے آیا کہ گزشتہ کچھ عرصے سےپاکستانی نجی ٹی وی چینلز پر جو ڈرامے پیش کیے جارہے ہیں ، ان ڈراموں میں ماں اور بہنوں کو اپنی اولاد اور بھائی بہنوں کا دشمن، ان کے خلاف سازش کرنے والے اور ان کو برباد کرنے کے منصوبے تیار کرتے دکھایا جاتاہے۔ ان ڈراموں میں مرکزی خیال یہ ہوتا ہے کہ ایک فرد اگر اپنی مرضی کی زندگی گزارنا چاہے تو اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کی ماں اور بہنیں ہوتی ہیں اور جب کوئی فرد ان کی مرضی کے خلاف کوئی قدم اٹھائے تو پھر ماں اپنی ہی اولاد کی دشمن بن جاتی ہے ، اس کی خوشیوں کو برباد کرنے کی کوششوں میں لگ جاتی ہے۔ کم و بیش یہی رویہ بہنوں کے حوالے سے بھی دکھایا جارہا ہے کہ بہنیں اپنے بھائیوں کی خوشیوں کی دشمن ہیں، وہ ان کے خلاف سازشیں کررہی ہیں۔

ہم نے اس موضوع پر بہت سوچا اور پھر جو تجزیہ کیا وہ آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔ دراصل خاندانی نظام کو توڑنے کا عمل جو عرصہ پہلے شروع کیا گیا تھا ، یہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ میں ذرا آپ لوگوں کو ماضی میں لے جانا چاہوں گا۔ ابتدا میں ہمارے ڈراموں اور خواتین کے ناولز میں ساس اور نندوں کو ولن کے کردار میں پیش کیا جاتا تھا۔ اس چیز کو اتنی کثرت سے پیش کیا گیا کہ رفتہ رفتہ اس کے اثرات ہمارے معاشرے میں سرایت کرگئے، ساس کے اوپر لطیفے بنائے گئے۔ مزاحیہ ادب اور فکاہیہ مضامین میں ساس کا مذاق اڑایا گیا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ساس اور بہو کے رشتے میں دراڑیں پڑ گئیں ، سا س اور بہوکے درمیان اعتماد کا جو رشتہ ہوتا تھا وہ ختم ہوگیا۔( کیا آج واقعی یہ صورتحال نہیں ہے؟)

مغربی تہذیب میں رنگے میں میڈیا نے جب یہ دیکھا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا ہے تو پھر دوسرا کام شروع کیا گیا۔ دوسرا کام یہ کیا گیا کہ باپ کو اولاد کی خوشیوں کا دشمن، سخت گیر اور بچوں کے جذبات سے ناواقف ، قدامت پرست اور بچوں کے جذبا ت سے ناواقف دکھایا جانے لگا۔کئی ڈراموں میں اس طرح دکھایا گیا کہ اولاد کے بگاڑ میں باپ کی سختی کا بہت ہاتھ ہے اور والدین بالخصوص باپ کی سختی اور معاذ اللہ اولاد سے اس کی ضدکے باعث بچے غلط راستوں پر چل پڑتے ہیں۔ (یہی کچھ پاکستان یاور انڈین فلموں میں بھی دکھایا جاتا رہا۔) نتیجہ یہ نکلا کہ بچے اپنے والدین بالخصوص والد کو اپنی خوشیوں کا دشمن، بے مروت اور احساس سے عاری انسان سمجھ کر اس سے دور ہوتے چلے گئے۔ باپ اور اولاد کے درمیان جب یہ خلیج پیدا ہو گئی تو پھر ہم نے دیکھا کہ معاشرے میں نوجوانوں کی بے راہ روی کا طوفان آگیا ۔آج ہم نوجوان نسل کے بگاڑ اور بے راہ روی کا رونا رو رہے ہیں لیکن اس کی بنیاد تو ہماری میڈیا، ہمارے ڈراموں اور فلموں نے رکھی تھی۔(سوچیے !کیا یہی بات نہیں ہے؟)

معاشرے میں کافی حد تک بگاڑ پیدا ہوا لیکن ایک ہستی ایسی ہے جو آج بھی اپنی آخری سانس تک اپنی اولاد کو جوڑے رکھتی ہے،جو تنکا تنکا کرکے بنائے گئے اپنے گھروندے کو اپنی زندگی میں اجڑنے نہیں دیتی ، جی ہاں میں دنیا کی عظیم ہستی ماں کی بات کررہا ہوں۔ معاشرے میں سارے بگاڑ کے باوجود ماں کی اپنی اولاد سے محبت اور اولاد کے دل سے ماں کا احترام بہرحال نہیں نکالا جاسکا، اس کے ساتھ ہی بہن کی بھائی کے لیے محبت میں بھی کمی نہیں آئی ۔ اس لیے اب دجالی میڈیا نے ان رشتوں کو نشانے پر رکھ لیا ہے۔

میں دیکھا رہا ہوں کہ برتن دھونے کے ایک صابن کے اشتہار میں ماں کو منفی انداز میں پیش کیا جارہا ہے، وہی اشتہار جس میں نوجوان اپنی بیگم سے لانگ ڈرائیو پر جانے کی بات کرتا ہے اور ٹھیک اسی وقت نوجوان کی ماں یہ بات سن کر بہو کو کام پر لگا دیتی ہے۔ بہو جب کام ختم کرکے جانے لگتی ہے تو یہ دکھایا ماں پہلے ہی تیار ہوکر آجاتی ہے اور بیٹا اور بہو برا سے منہ بنا رہے ہیں۔ اسی طرح میں دیکھ رہا ہوں کہ دودھ کے ایک اشتہار میں بھی یہی کچھ دکھایا گیا ہے کہ نوجوان چائے پیتے ہوئے یہ گمان کرتا ہے کہ یہ چائے اس کی والدہ نے بنائی ہے اور وہ والدہ کی تعریف کرتا ہے اور ماں کے ہاتھ کا بوسہ لیتا ہے تو اس کی بیوی اسے گھر سے نکال کر چھت پر سونے بھیج دیتی ہے۔ بظاہر تو یہ بڑے مزاحیہ اشتہار لگتے ہیں اور شاید ہی کسی نے اس کی سنگینی کو محسوس کیا ہو لیکن دراصل اس میں غیر محسوس انداز میں اولاد کو ماں سے دور کیا جارہا ہے۔ اب یہ ٹرینڈ چل پڑا ہے میرا گمان ہے اس طرح کے مزید اشتہارات بھی بنیں گے۔

اسی طرح ڈراموں میں اب یہ دکھایا جارہا ہے کہ ماں اپنی اولاد اور بہنیں اپنے بھائیوں کی خوشیوں کی دشمن ہیں۔ جو طریقہ پہلے ساس ، پھر والد سے متنفر کرنے کے لیے اختیار کیا گیا ، وہی طریقہ اب ماں اور بہنوں سے دور کرنے کے لیے اختیار کیا جارہا ہے۔ اس مقصد خاندانی نظام کو تباہ کرنا ہے تاکہ خاندان ٹوٹ پھوت کا شکار ہوجائیں ، آپس کی محبت اور اتفاق ختم ہوجائے اور ہر فرد صرف اور صرف اپنی ذات کے لیے سوچنے لگے۔ جب ہر فرد صرف اپنی ذات، اپنی خواہشات او ر اپنی خوشی کو ترجیح دے گا تو پھر بے عملی پیدا ہوتی ہے، پھر انسان نفسا نفسی اور خود غرضی کا شکار بلکہ شاہ کار بن جاتا ہے۔ پھر معاشرے میں بگاڑ کو روکنے والا کوئی بھی نہیں بچتا کیوں کہ ہر فرد یہ سوچے گا کہ میں تو محفوظ ہوں نا۔ یا مجھے اس معاملے سے کوئی غرض نہیں ہے۔ سوچیے ، غور کیجیے اور اس سیلاب کو روکنے کی کوشش کیجیے۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
29 Mar, 2016 Total Views: 693 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Saleem Ullah Shaikh

سادہ انسان ، سادہ سوچ، سادہ مشن
رب کی دھرتی پر رب کا نظام
.. View More

Read More Articles by Saleem Ullah Shaikh: 466 Articles with 506163 views »
Reviews & Comments
nice topic :)
By: Zeena, Lahore on Mar, 18 2017
Reply Reply
0 Like
رانا صاحب ایک اہم بات کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ آپ نے بر صغیر کا ذکر کیا ہےتو یہاں ایک اہم بات یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ ہندوانہ رسم و رواج سے متاثر رہا ہے۔ سا س بہو کے معاملات میں بھی یہی چیز رہی ہے۔ البتہ جو بنیادی فرق ہم نے نظر انداز کردیا وہ ہندو اور مسلم تہذیبوں میں شادی بیاہ کے معاملات ہیں۔ مسلمانوں میں شادی بیاہ کے لیے ہمیشہ پہلے قریبی کزنز، پھر قریبی رشتہ دار اس کے بعد خاندان اور برادری، اس کے کہیں جاکر خاندان اور برادری سے باہر رشتہ کرنے کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ جب کہ ہندوئوں میں کزنز کی شادی کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔ ان کے یہاں کزنز کو کزن برادر اور کزن سسٹر کہا جاتا ہے۔ ان کے یہاں خاندان سے باہر شادی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ( شاید ان کے نزدیک اس کی کوئی مذہبی وجہ بھی ہے) اس لیے جب غیر خاندان سے ایک لڑکی شادی کرکے آتی ہے تو نئے لوگ، نیا ماحول اسے ملتا ہے، دوسری جانب یہی چیز ساس کے لیے ہوتی ہے کہ اس کی بہو اس کے خاندان، خاندان کے مزاج سے نا آشنا ہوتی ہے۔ اس لیے وہاں ساس بہو اور نند بھاوج کے درمیان چپقلش، غلط فہمیاں زیادہ پیدا ہوتی ہیں جب مسلمانوں میں معاملہ اس کے بر عکس ہوتا ہے۔ میڈیا ہندو معاشرے کے اکثریتی معاملے کو ہمارا اکثریتی معاملہ بنارہا ہے۔
By: Saleem Ullah Shaikh, Karachi on Apr, 07 2016
Reply Reply
0 Like
میں مصنف کی رائے سے مکمل اتفاق کرتی ہوں. اس کے علاوہ ایک اور چیز جو دکھائی جا رہی ہے شوہر اور بیوی کے تعلقات میں دراڑ کے حوالے سے ہے شوہر کے ناروا سلوک کے باعث عورت علیحدہ ہوتی ہے اور یہ کہ عورت مضبوط ہے اسے مرد کی ضرورت نہیں اس سوچ کا نتیجہ بھی یقیناً خاندان کی اکائی پر ضرب ہے
By: Rahila Waqar, Karachi on Apr, 04 2016
Reply Reply
2 Like
بہت شکریہ
By: Saleem Ullah Shaikh, Karachi on Apr, 07 2016
0 Like
شکریہ رانا تبسم صاحب: ویسے مجھے نہیں پتا کہ آپ کے نام کے ہجے رانا ہیں یا رعنا ، اگر اس کی تصدیق فرما لیں گے تو آئندہ اسی انداز میں آپ کا نام لکھوں گا۔
میں آپ کی بات سے متفق ہوں کہ سبھی مائیں ایسی نہیں ہوتی لیکن کچھ ایسی ضرور ہوتی ہیں۔ اور میں نے مضمون ان اکثریت کو فوکس کیا ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ میڈیا صرف منفی چیزوں کو ہی اجاگر کرتا ہے، اس جانب توجہ دلانے کی کوشش کی ہے۔
جزاک اللہ آپ اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ لمحات ہمارے مضامین پڑھنے اور ان پر اپنا قیمتی تبصرہ کرنے میں صرف کرتے ہیں۔
By: Saleem Ullah Shaikh, Karachi on Mar, 31 2016
Reply Reply
0 Like
ہاں ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر سب نہیں ہوتیں ۔ اسی طرح آپ نے اپنے مضمون کے چوتھے پیراگراف میں ایک ماں کی مدح و ستائش میں جو کچھ لکھا ہے وہ سو فیصد درست ہے مگر سبھی مائیں ایسی نہیں ہوتیں ۔ ہم نےایک نہیں کئی کیس ایسے دیکھے ہیں کہ کم عقل نادان اور آخرت کی پوچھ پکڑ سے بےنیاز ماؤں نے اپنے حسد یا اپنی فسادی بیٹیوں کے کہنے میں آ کر اپنے بیٹوں کے گھر اجاڑ دیئے ۔ ویسے بھی برصغیری متوسط اور نچلےطبقے میں میاں بیوی کے درمیان ہونے والی ناچاقی میں نوے فیصد انہی ماں بہنوں کا ہاتھ ہوتا ہے ۔ اچھا خاصا پڑھا لکھا کماؤ گھر کی کفالت میں کردار ادا کرنے والا مرد اپنی ماں بہنوں کے ہاتھوں کاٹھ کا الو بنا ہؤا ہوتا ہے ۔ قدم قدم پر روا رکھی جانے والی بیٹی اور بہو کے درمیان تفریق کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود اپنے دماغ سے نہیں سوچتا تو پھر اپنی بیوی کے ساتھ کیا انصاف کرے گا ۔ اور گھر کے ماحول کو بگاڑنے میں ان عورتوں کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے جو اپنے میکے کے قرب و جوار میں ہی کہیں بسی ہوئی ہوتی ہیں اور یہ جب جی چاہے منہ اٹھائے چلی آتی ہیں اور اپنی اماں تو کیا ابا تک کو پٹیاں پڑھاتی ہیں کہ بہو کو کیسے اسکی اوقات میں رکھنا ہے ۔ اور اسی قماش کی عورتوں نے خود اپنی سسرال والوں کو جوتے کی نوک پر رکھا ہؤا ہوتا ہے ۔ بھائی یہ ڈرامے اور اشتہار وغیرہ تو ابھی ایک ڈیڑھ عشرے کی کہانیاں ہیں جب یہ سب نہیں تھا تو معاشرے میں کونسی دودھ شہد کی نہریں بہہ رہی تھیں ۔ ان میں جو کچھ دکھایا جاتا ہے وہ تو برصغیر میں صدیوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے ۔ ہاں اسے اسطرح پروموٹ نہیں کیا جانا چاہیئے یا کم از کم اصلاح کی بھی صورتوں کو اجاگر کرنا چاہیئے نہ کہ نفرتوں کا پرچار ۔ خاندانی نظام صرف مجبور اور کمزور عورتوں کے دم سے قائم رہتا ہے ۔ پراعتماد باصلاحیت معاشی طور سے مستحکم عورتیں ساس نندوں کے ان ہتھکنڈوں کو زیادہ دیر برداشت نہیں کرتی ہیں ۔ اور شوہروں کو قابو میں رکھنے کے گر بھی جانتی ہیں ۔ آپ صدیوں سے قائم ایک ماحول کا سہرا مغرب کی سازشوں کے سر نہیں باندھ سکتے ۔
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA on Mar, 30 2016
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB