آیت نحل کی جدید تفسیر۔۔۔

(شہد کی مکھی کی مثال میں چھپی ایک جدید تحقیق ۔۔جو بہت سے لڑکیوں کے لیے مقام عبرت)

میں کافی دیر شہد ڈھونڈتا رہا۔خالص شہد،پھر مجھے اندازا ہوا کہ خالص شہد ناپید ہوتا جا رہا ہے۔تو میں شہد کی مکھی کی طرف آیا۔اس آیت میں ٹھوس شے وہی تھی۔مجھے اس دوران ایک دلچسپ ریسرچ ملی۔گو کہ کچھ لوگ اس تحقیق کو نہیں مانتے۔اور وہ کہتے ہیں کہ شہد کی کمی کی وجہ biopestidesکا بے دریغ استعمال ہے۔لیکن میں اس تحقیق کو مان سکتا ہوں۔کیونکہ مجھے اس آیت میں اور اس میں لنک نظر آتا ہے۔کہنے کے ساتھ اس نےاپنا موبائل اٹھایا اور اس کی تاریک اسکرین کمرے میں دکھائی دی۔شہد کیوں ناپید ہوتا جا رہا ہے،اس کی وجہ ہے یہ چیز۔نہیں،بلکہ اس کے گرد چکراتا ،ان دیکھا موبائل سگنل۔"یہ موبائل سگنل بہت عجیب چیز ہے۔آپ دنیا کے کسی کی کونے میں ہوں۔کوئی آپ کو فون کرےتو یہ آپ کو ڈھونڈ لیتا ہے۔عین آپ کے کان کے قریب آبجتا ہے۔آپ سب کو معلوم ہے کہ جگہ جگہ اونچے ٹاورز لگے ہوتے ہیں۔جن سے جڑا نادیدہ لہروں کا جال پوری دنیا میں بچھا ہے،یہاں تک کہ دنیا ان ہی کے جال میں پھنسی ہوتی ہے،مگر یہ بری بات نہیں ہے۔سیل فون ایک ضرورت ہے۔ ٹیکنالوجی ہے۔۔۔لیکن۔۔

لیکن ہوا یوں کہ شہد کی مکھی اللہ کے حکم پہ دور پہاڑوں ،درختوں میں اپنا گھر بنا لیتی ہے۔وہ سارا دن باہر پھرتی ہے۔ہر پھول،پھل پہ بیٹھتی ہے۔اس کا رس لیتی ہے۔اور پھر واپس اپنے گھر جاتی ہے اور۔۔۔نہیں۔۔۔یہیں رک جائیں۔کیونکہ جب بچپن میں آپ نے یہ عمل پڑھا تھا،تب شہد کی مکھیاں گھروں کو لوٹتی تھیں،مگر آج 2014 ء میں ایسا نہیں ہوتا۔وجہ ہے۔۔۔موبائل سگنل۔۔۔جب مکھی گھر سے نکلتی ہے تو اس کو اپنے گھر کا راستہ مقناطیسی لہروں کی مدد سے یاد رہتا ہے۔وہ پھولوں پہ اور پھلوں پہ بیٹھتی ہے۔اور رس چوس کر واپس گھر کی طرف اڑ جاتی ہے۔لیکن درمیان میں موبائل سگنل کی لہروں کا جال بچھا ہوتا ہے۔شہد کی مکھی جب کسی سگنل کی لہر سے ٹکراتی ہے،تو مقناطیس فیلڈ متاثر ہوتی ہے۔یوں سمجھیں وہ چکرا کے رہ جاتی ہے۔اور کنفیوژڈ ہوجاتی ہے۔اس ٹکر سے وہ سمت کا تعین کھو دیتی ہے۔وہ اپنے گھر کا راستہ بھول جاتی ہے۔اور پھر ماری ماری ایک جگہ سے دوسری جگہ اڑتی ہے،اور یونہی بھٹک بھٹک کر کہیں گر کے مر جاتی ہے۔ہر گزرتے دن کے ساتھ گھر لوٹنے والی مکھیوں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔۔۔اور جب مجھے یہ معلوم ہوا تو میں نے سوچا۔۔کہ یہ آیت نحل ہے۔اتنی اہم آیت جس میں سورہ کا نام لکھا ہے،تو شہد کی مکھی کی مثال بیان کرنے کا کیا مقصد ہو سکتا ہے"۔۔۔۔تب مجھے احساس ہوا کہ یہ موبائلز ہماری دنیا سے مٹھاس کیسے غائب کر رہے ہیں۔؟کتنی ہی پیاری اور اچھی لڑکیاں۔جنہوں نے شہد سے میٹھے گھر بناتے تھے،وہ روز گھر سے نکلتی ہیں،پھولوں،رنگوں اور کوشبوؤں کی آس لے کر ،آسان راستوں پہ چلتی ہیں۔مگر پھر ۔۔۔درمیان میں یہ موبائل سگنلز آجاتے ہیں۔اور ان کے راستے مشکل ہو جاتے ہیں۔وہ کنفوز ہو جاتی ہیں۔کسی نامحرم سے فون پہ بات کرنے کے لیئے ڈھیروں دلیلیں گھڑتی ہیں،فتوے دیتی ہیں۔کزن بھی تو بھائی ہوتا ہے۔اسلام اتنا بھی سخت نہیں،میں کوئی غلط بات تو نہیں کر رہی۔وغیرہ وغیرہ۔۔اور اسی کرب اور تکلیف میں وہ گھر کا راستہ بھول جاتی ہیں۔وہ دربدر بھکتی رہتی ہیں۔انھوں نے تو آسان راستوں پہ چلنا تھا،اپنےدلوں میں موجود قرآن اور نور سے،لوگوں کو شفا دینی تھی اپنے ٹیلنٹ اور پوٹینشل کو میٹھے کاموں کے لیئے استمال کرنا تھا،مگر یہ موبائل سگنلز ان کو بیمار کر دیتے ہیں۔مرض عشق بہت موذی ہے۔اگر آپ میں سے کوئی اس میں مبتلا ہےتو یاد رکھیئے۔۔اس مرض کی شفا ہے۔لیکن اس مرض سے شفا کے لیئے پہلے آپ کو اپنے راستے بدلنے ہوں گے۔وہ مشکل راہیں جن میں کرب ہے،پکڑے جانے کا خوف ہے۔ان کو تر ک کرنا ہوگا۔مگر اتنا یاد رکھیئے گا۔

کہ جو آُ کے نصیب میں ہے وہ آپ کو ضرور ملے گا،چاہے حرام سے چاہے حلال سے،لیکن اگر آپ اسے حرام سے لینے کی کوشش کریں گے تو اللہ اپ کے حلال کی لذت چھین لے گا۔کچھ میاں بیوں پسند کی شادی کے باوجود بڑی ناخوشگوار زندگی گزار رہے ہیں۔کبھی سوچا ہے کیوں؟کیونکہ وہ شادی سے پہلے سب حرام لے چکے ہوتے ہیں۔جو بعد میں ان کو مل ہی جانا تھا۔اس لیئے ان کے حلال کی مٹھاس ختم ہو جاتی ہے۔آپ کسی کے ساتھ بھلے اپنے منگیتر کے ساتھ ہی سیل فون پہ انوالوڈ ہیں۔تو اتنا یادرکھیں کہ محرم اور نامحمرم کے قوانین آپ کی دلیلوں اور حیلوں بہانوں سے نہیں بدل سکتے۔جو غلط ہے وہ غلط ہے۔آپ جتنا حرام لیں گے اتنا حلال کھوتے جائیں گے۔لیکن اس کے برعکس اگر آپ حرام چھوڑ دیں گے جس چیز سے منع کیا جارہا ہے اس کو اللہ کے لیئے ترک کر دیں گے۔تواللہ وہی چیز کچھ ہی عرصے میں آپ کو حلال بنا کر دے گا۔۔۔یہ میں نہیں کہہ رہا،یہ امام ابن القیم نے سات سو برس پہلے کہا تھا،آپ جو بھی اس کی راہ میں صدقہ کریں،یا قربانی کریں تو وہ اس کو کئی گناہ برکت دے کر آپ کو لوٹا دیتا ہے۔
(نمرہ احمد کے ناول "نمل"سے اقتباس)
 
Robina Shaheen
About the Author: Robina Shaheen Read More Articles by Robina Shaheen: 4 Articles with 14315 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.