دہشت زدہ لیاری کی ہونہار پوزیشن ہولڈر٬ روشنی کی کرن - خصوصی انٹرویو

 

کہتے ہیں کہ اگر انسان اپنے کسی مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کا پختہ ارادہ کرلے تو پھر دنیا کی کوئی بھی مشکل اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی- لیاری پاکستان کے سب بڑے شہر کراچی کا وہ علاقہ ہے جو ایک طویل مدت گینگ وار کا شکار رہا ہے لیکن گزشتہ روز اس علاقے کی ایک رہائشی طالبہ عائشہ نے انٹرس کامرس کے سالانہ امتحانات برائے 2015 میں سیکنڈ پوزیشن حاصل کر کے نہ صرف اس بات کو ثابت کیا کہ مسائل کیسے بھی ہوں انسان جب کچھ کرنے کا ارادہ کر لیے تو وہ اپنا مقصد حاصل کر ہی لیتا ہے بلکہ ان طلبا کے لیے بھی ایک مثال قائم کردی جو ہمیشہ مسائل کا رونا روتے رہتے ہیں- گزشتہ روز کراچی انٹرمیڈیٹ بورڈ نے کامرس کے ریگولر اور پرائیوٹ کے سالانہ امتحانات برائے 2015 کے نتائح کا اعلان کیا- اور اس موقع پر بورڈ کی جانب سے ان امتحانات کے پوزیشن ہولڈز کے اعزاز میں تقریب بھی منعقد کی- ہماری ویب نے ان پوزیشن ہولڈر سے خصوصی بات چیت کی جس میں لیاری کی طالبہ عائشہ بھی شامل ہیں- آئیے آپ کو ٹاپ تھری پوزیشن ہولڈرز سے ہونے والی بات چیت کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں-

سب سے پہلے ہم بات کریں گے کامرس کے سالانہ امتحانات میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی خوش نصیب طالبہ اقراﺀ حنیف سے- اقرا حنیف نے 1100 میں سے 930 نمبر لے اے ون گریڈ اپنے نام کیا-
 


ہماری ویب: کالج کا نام؟
اقراﺀ حنیف= انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایجوکیشن-

ہماری ویب: پوزیشن حاصل کرنے پر کیا احساسات ہیں؟
اقراﺀ حنیف= اﷲ کا لاکھ لاکھ شکر ہے- بہت زیادہ اچھا محسوس کر رہی ہوں اور اتنی خوشی ہو رہی ہے کہ بیان نہیں کرسکتی-

ہماری ویب: کیا اس سے قبل بھی آپ نے کسی کلاس میں پوزیشن حاصل کی ہے؟
اقراﺀ حنیف= اسکول اور کالج میں میری ہمیشہ پوزیشن ہی آتی تھی-

ہماری ویب: آپ نے کامرس کا ہی انتخاب کیوں کیا؟
اقراﺀ حنیف= پہلی بات یہ کہ میری اس مضمون میں دلچسپی ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ میرے والد ایک بینکر ہیں اور میں ان سے متاثر ہوں-

ہماری ویب: پچھلے چند سالوں سے زیادہ تر طالبعلم کامرس کا انتخاب کر رہے ہیں٬ آپ کے خیال میں اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟
اقراﺀ حنیف= آج کل ترقی کی راہ کا ایک ذریعہ بزنس بھی ہے کیونکہ ملک کی ترقی کا انحصار بزنس پر ہی ہوتا ہے- اس کے علاوہ یہ ایک وسیع فیلڈ بھی ہے اسی وجہ سے زیادہ تر طالبعلم کامرس کا انتخاب کر رہے ہیں-

ہماری ویب: آپ کے والدین کیا کرتے ہیں؟
اقراﺀ حنیف= میرے والد بینکر ہیں جبکہ والدہ ہاؤس وائف-

ہماری ویب: آپ کی نظر میں ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟
اقراﺀ حنیف= ویسے تو بہت سے مسائل ہیں لیکن ہمارے ملک کا سب بڑا مسئلہ کرپشن ہے-

ہماری ویب: اگر آپ کو ایک دن کے لیے وزیر اعظم بنا دیا جائے تو پہلا کام کیا کریں گے؟
اقراﺀ حنیف= تعلیم کے شعبے پر توجہ دوں گی-

ہماری ویب: تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے حکومت کو کیا اقدامات کرنے چاہیے؟
اقراﺀ حنیف= سرکاری کالجوں کے نظام کو بہتر بنانے چاہیے اور ان کے معاملے میں سختی سے کام لینا چاہیے- سرکاری کالجوں طالبعلم ہے تو استاد نہیں یا استاد ہے تو طالبعلم نہیں٬ اس کلچر کو ختم کردینا چاہیے- اس کے علاوہ ایسا طالبعلم جو پڑھنا چاہتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے-

ہماری ویب : سپریم کورٹ کی جانب سے ملک بھر میں اردو نافذ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں- آپ اس اقدام کے بارے میں کیا کہتی ہیں؟
اقراﺀ حنیف= اردو ہماری قومی زبان ہے اور ہمیں ضرور اس کا استعمال کرنا چاہیے لیکن چونکہ ابھی ہم ترقی کررہے اس لیے ہمیں بین الاقوامی سطح پر نمائندگی کے لیے باقی زبانیں بھی آنی چاہئیں-

ہماری ویب: آپ دوسرے طالبعلموں کو تعلیم میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے لیے کیا پیغام دیں گیں؟
اقراﺀ حنیف= پڑھیں٬ سمجھیں اور آگے بڑھیں- اپنے ملک کے لیے کچھ کریں صرف باہر جانے کی خواہش نہ رکھیں بلکہ یہاں رہ کر یہاں کی مشکلات کا سامنا کریں- اس کے علاوہ پڑھائی پر توجہ دیں اور منفی سرگرمیاں ترک کردیں-

اب ہم بات کریں گے اس خوش قسمت طالبہ عائشہ سے جس نے لیاری جیسے پسماندہ اور گینگ وار سے متاثرہ علاقے میں رہتے ہوئے بھی کامیابی حاصل کی اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا- عائشہ نے 1100 میں سے 925 نمبر لیے اور سیکنڈ پوزیشن حاصل کی-
 


ہماری ویب: کالج کا نام؟
عائشہ= کے ایم اے گرلز ڈگری کالج-

ہماری ویب: پوزیشن حاصل کرنے پر کیا احساسات ہیں؟
عائشہ= بہت زیادہ خوشی ہورہی ہے٬ اﷲ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے نوازا ہے- ہزاروں میں ایک میں تھی جسے اﷲ نے اس پوزیشن کے لیے چنا- کامیابی کے حصول کے لیے میری فیملی اور میرے اساتذہ کا مکمل سپورٹ میرے ساتھ تھا-

ہماری ویب: کیا اس سے قبل بھی آپ نے کسی کلاس میں پوزیشن حاصل کی ہے؟
عائشہ= فرسٹ میں میری پورے کراچی میں پہلی پوزیشن تھی- اس کے علاوہ اسکول کی سطح پر بھی میں ہمیشہ ٹاپ تھری پوزیشن میں سے ہی کوئی پوزیشن حاصل کرتی تھی-

ہماری ویب: کیا کالج روزانہ جاتی تھیں؟
عائشہ= جی ہاں روزانہ جاتی تھی لیکن اگر کسی وجہ سے غیر حاضر ہو بھی جاتی تو ہمارے کالج میں اجازت تھی کہ آپ اساتذہ سے گزشتہ روز کا لیکچر حاصل کرسکتے ہیں-
ہماری ویب: کیا کوچنگ بھی جوائن کیا ہے؟

ہماری ویب: آپ نے کامرس کا ہی انتخاب کیوں کیا؟
عائشہ= بنیادی طور پر میں ڈاکٹر بننا چاہتی تھی کیونکہ میں نے میٹرک بھی سائنس سے ہی کیا تھا لیکن میرے علاقے لیاری کے حالات ایسے تھے کہ میری والدہ نے مجھے ایریا سے باہر کسی اور کالج میں جانے کی اجازت نہیں دی- مجبوراً مجھے لیاری کے ہی کالج میں کامرس میں داخلہ لینا پڑا- لیکن کالج میں اساتذہ نے ایسے پرکشش انداز میں کامرس کی تعلیم دی کہ میں نے اسی میں پوزیشن حاصل کرلی-

ہماری ویب: اگر آپ کو ایک دن کے لیے وزیر اعظم بنا دیا جائے تو پہلا کام کیا کریں گے؟
عائشہ= پہلے بنا کر تو دیکھیں پھر معلوم ہوگا کہ میں کرتی کیا ہوں-

ہماری ویب: تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے حکومت کو کیا اقدامات کرنے چاہیے؟
عائشہ= حکومت کو چاہیے کہ پورے ملک میں یکساں نظامِ تعلیم رائج کرے- امیر کے لیے الگ اور غریب کے لیے الگ نظام نہیں ہونا چاہیے-

ہماری ویب: آپ کے خیال میں مستقبل میں کامرس کی فیلڈ کا کیا اسکوپ ہے؟
عائشہ= بہت زیادہ اسکوپ ہے- ہر باہر جاتے ہیں اور وہاں سے چھوثی چیز سے لے کر بڑی چیز خریدتے ہیں تو ہر چیز کا تعلق کامرس سے ہے- پیسے کے بغیر دنیا نہیں چلتی تو ہم کیسے چل سکتے ہیں- اس لیے ہمیں کامرس کے بارے میں ضرور معلومات ہونی چاہیے-

ہماری ویب : سپریم کورٹ کی جانب سے ملک بھر میں اردو نافذ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں- آپ اس اقدام کے بارے میں کیا کہتی ہیں؟
عائشہ= اردو ہماری قومی زبان ہے اور ہم نے اردو ہی کی وجہ سے آزادی حاصل کی تھی- لیکن ہم نے اسے پیچھے چھوڑ دیا ہے اور بین الاقوامی زبان کے پیچھے دوڑے چلے جارہے ہیں- اگر ہم دونوں زبانوں کو ایک ساتھ لے کر بھی چلیں تو بڑی بات ہے- ہم نہیں چاہتے کہ ہم پیچھے رہ جائیں جبکہ انگریزی زبان بنیادی ضرورت بن چکی ہے- ہمیں چاہیے کہ قومی سطح پر اردو اور بین الاقوامی تعلقات کے لیے انگریزی استعمال کریں-

آخر میں ہم بات کریں گے کامرس میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ ماہا لاکھانی سے- ماہا نے 1100 میں سے 924 نمبر لیے اور اے ون گریڈ حاصل کیا-
 


ہماری ویب: کالج کا نام؟
ماہا لاکھانی= انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایجوکیشن-

ہماری ویب: پوزیشن حاصل کرنے پر کیا احساسات ہیں؟
ماہا لاکھانی= میں نے اور میرے اساتذہ نے بہت محنت کی تھی اس لیے پوزیشن آنے کی امید تھی- آج مجھے اپنی محنت کا صلہ مل گیا ہے اسی وجہ سے میں بہت خوش ہوں-

ہماری ویب: کیا اس سے قبل بھی آپ نے کسی کلاس میں پوزیشن حاصل کی ہے؟
ماہا لاکھانی= نہیں میری پوزیشن پہلی بار آئی ہے-

ہماری ویب: کیا کالج روزانہ جاتی تھیں؟
ماہا لاکھانی= جی ہاں ہمارے کالج میں بہت سختی تھی اس لیے روزانہ جانا پڑتا تھا=

ہماری ویب: کیا کوچنگ بھی جوائن کیا ہے؟
ماہا لاکھانی= نہیں کوچنگ کبھی جوائن نہیں کیا-

ہماری ویب: کیا آپ بورڈ کے نتائج سے مطمئین ہیں؟
ماہا لاکھانی= جی ہاں اپنے نتائج کے حوالے سے تو میں بالکل مطمئین ہوں-

ہماری ویب: پچھلے چند سالوں سے زیادہ تر طالبعلم کامرس کا انتخاب کر رہے ہیں٬ آپ کے خیال میں اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟
ماہا لاکھانی= کامرس کی فیلڈ میں بہت زیادہ اسکوپ ہے٬ آپ اس میں بہت آگے تک جاسکتے ہیں- اسی وجہ سے یقیناً اس مضمون کا انتخاب بھی پھر زیادہ لوگ کریں گے-

ہماری ویب: آپ کے والدین کیا کرتے ہیں؟
ماہا لاکھانی= میرے والد کا ایکسپورٹ کا بزنس ہے جبکہ میری والدہ ہاؤس وائف ہیں-

ہماری ویب: آپ کی نظر میں ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟
ماہا لاکھانی= ہمارے ہاں پرائمری لیول سے ہی تعلیم پر توجہ نہیں دی جاتی- اس کے علاوہ ہمارے ملک کے نوجوانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ جس ملک سے تعلق رکھتے ہیں انہیں اس کے لیے اپنی خدمات بھی پیش کرنی ہیں-

ہماری ویب : سپریم کورٹ کی جانب سے ملک بھر میں اردو نافذ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں- آپ اس اقدام کے بارے میں کیا کہتی ہیں؟
ماہا لاکھانی= ہمیں اپنی اردو زبان کو ضرور فروغ دینا چاہیے اور بولتے ہوئے بالکل شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے لیکن بین الاقوامی سطح پر رابطوں کے لیے دیگر زبانیں بھی آنی چاہئیں- صرف اردو آنا بھی درست نہیں ہے-
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
10 Sep, 2015 Total Views: 4059 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Larkian aaj kal parhne me ziadah dilchaspi leti hain jab ke larke aaj kal maa baap par burden ban gaye hain sobah se rat tak khiyali polao pakate rahte hain aur aankhen kholte hi karor pati ban jana chahte hain jab ke aysa kabhi hua hai na hoga jo hoga allah talah ki marzi se hoga larkon ko parhne ki taraf tawajjah deni chayye waqt zaya nahi karni chayye gaya waqt phir hath aata nahi
By: mahfuzurrehman, Karachi on Jan, 22 2016
Reply Reply
0 Like
Alhamdulillah hum bhi pass ho gaye A one na sahi A grade se hi Kamyabi hasil karli... but board ka result buhat bura tha... 23260 students ka fail ho jana lamhe fikaria hai...
By: saba, karachi... on Sep, 13 2015
Reply Reply
0 Like
Students parhenge tu pass karenge jis ne parha woh pas hoye fikar ki koi bat nahi mehnat karen payenge
By: mahfuzurrehman, Karachi on Jan, 22 2016
0 Like
great yar
By: azeem, lahore on Sep, 11 2015
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Hamariweb has conducted special interviews of Position holder students of Inter Commerce of Board of Intermediate Education Karachi (BIEK). Iqra Hanif, Aisha and Maha Lakhani are the brilliant students who secured first, second and third position respectively. Position holders shared their feelings on success, about their future plans, their teachers, education system, parents and their time table.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB