گردوں کے فیل ہونے کے اسباب ،علامات ،علاج اور پرہیز !

(Akhtar Sardar, Kaswal)

کڈنی کے عالمی دن 12 مارچ کے حوالے سے مختصر ،جامع تحریر
انسانی جسم کا فلٹر۔گردہ !

پوری دنیا میں مارچ کی دوسری جمعرات کو ورلڈ کڈنی ڈے یعنی گردوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔ہر سال دنیا بھر میں 50 ہزار افراد گردوں کے فیل ہونے سے موت کے منہ میں جا رہے ہیں ۔پاکستان میں دو کروڑ کے قریب افراد گردوں کے مختلف امراض کا شکار ہیں ۔

اﷲ سبحان تعالیٰ نے انسان کو دو گردوں سے نوازا ہے ۔یہ اصل میں غدود ہوتے ہیں پسلیوں کے نیچے، پیٹ کی طرف، کمرمیں دائیں اور بائیں طرف واقع ہوتے ہیں ۔گردہ11 سینٹی میٹر لمبا،کم و بیش7 سینٹی میٹر چوڑا اور 2 یا 3 سینٹی میٹر موٹا ہوتا ہے ۔ہر گردہ میں 10 لاکھ سے زائد نالی دار غدود،نیفران،یا فلٹر(جھلی) ہوتے ہیں ،گردوں میں ایک اندازے کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران 1500 لیٹر خون گزرتا ہے ۔

گردوں کا کام جسم سے فاسد ،نقصان دہ،ضرورت سے زائد مادوں کو خارج کرنا ہے ۔گردے جسم میں پانی اور نمکیات کا توازن برقرار رکھتے ہیں ،مثلاََجسم میں کیلشیم ،پوٹاشیم ا ور فاسفورس کی مقدار کے علاوہ پانی اور دیگر نمکیات وغیرہ کا ایک حد تک جسم میں رہنا ضروری ہوتا ہے اس کی کمی و بیشی سے بہت امراض جنم لیتے ہیں ،انسان زندہ نہیں رہ سکتا ،گردوں کا کام ان مادوں ،نمکیات اور پانی میں توازن قائم رکھنا ہے ۔گردے جسم کے لیے ایسے بہت سے مفید ہارمون پیدا کرتے ہیں ،اگر یہ ہارمون جسم میں کم ہو جائیں تو خون کی کمی کی بیماری پیدا ہو جاتی ہے ۔

گردے فیل ہونے کی بہت سی وجوہا ت ہیں جن میں چند اہم درج ذیل ہیں ۔گردے کی جھلی کی سوزش،جھلی فلٹر یا نیفران کی ایک طرف فاسد مادے ہوتے ہیں دوسری طرف شفاف مادے جھلی کا کام فاسد مادوں کو فلٹرکرنا ہے ،یہ جھلی اگر کام نہ کرے ، کسی وجہ سے خراب ہو جائے تو اس کے ساتھ والی جھلیاں بھی خراب ہونا شروع ہو جاتیں ہیں جس سے گردہ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے ۔اس سے پیشاپ کے اندرچربی یا خون آنا شروع ہو جاتاہے گردہ فیل ہونے کی سب سے زیادہ وجہ جھلی کی سوزش ہی بنتی ہے ۔دوسری وجہ شوگر اور ہائی بلڈ پریشر ہے ،اگر شوگر کا مرض ہو تو اس کے عموماََ10 تا 15 سال کی مدت کے بعد گردوں کی خرابی کا شکار ہو جاتا ہے ۔اس لیے شوگر کے مریضوں کو بہت احتیاط کرنی چاہیے اور شوگر کنٹرول رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے ۔ اسی طرح بلڈ پریشر کی زیادتی کی وجہ سے بھی گردے خراب ہو جاتے ہیں ،بلڈ پریشر کے مریضوں کو اپنا بلڈ پریشر کنٹرول رکھنا بے حد ضروری ہے ایسا نہ کرنے سے گردوں کے ساتھ ساتھ دل کا دورہ اور فالج بھی ہو سکتا ہے ۔

موسم گرما میں جسم کو پانی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ،کم پانی پینے سے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے اور موسم سرما میں سردی کی وجہ سے کم پانی پیا جاتا ہے ،جس سے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے جو گردوں میں پتھری کا سبب بنتا ہے ،یہ پتھری پیشاب کے ذریعہ خارج نہیں ہو سکتی ،گرودوں کی جھلی میں زخم بنتے ہیں ،جو سوزش کا باعث بن جاتے ہیں جو رفتہ رفتہ گردوں کے فیل ہونے کی طرف لے جاتے ہیں ۔یعنی پانی کی کمی گردوں کے فیل ہونے کا تیسرا بڑا سبب ہے ۔جھلی کی سوزش ،شوگر،بلڈ پریشر،پانی کی کمی وغیرہ دیکھا جائے تو یہ سب پانی کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے علاوہ ازیں پانی کا صاف نہ ہونا بھی اس میں شامل ہے ۔

لیکن گردوں کے فیل ہونے کا ایک بہت اہم سبب عطائی حکیموں ،سنیاسیوں،کے کشتہ جات ،نامناسب نسخہ جات ،بھی وجہ بنتے ہیں ،بہت سے افراد "سدا جونی" حاصل کرنے کے چکر میں اپنے گردے ،جگران اشتہاری معالجوں کی دی ہوئی ادویات کی نذر کر چکے ہیں ۔

یہ تو مختصر ذکر گردوں کے فیل ہونے کی وجوہات کا تھا اسی طرح گردوں کے فیل ہونے کی اقسام بھی ہیں مثلاََ اچانک گردوں کا فیل ہو جانا ،اس کی وجہ شدید گرمی میں پانی کی شدید کمی ،خواتین میں زچگی کے دوران خون اور پانی کی کمی،ہائی بلڈ پریشرکا شدید دورہ اور سانپ کے کاٹ لینے اور بہت زیادہ مشقت کرنے وغیرہ سے اچانک گردے فیل ہو سکتے ہیں ۔ایک اہم نقطہ یہ بھی قابل توجہ ہے کہ شوگر ،ہائی بلڈ پریشر،جھلی کی سوز ش وغیرہ سے مریض کے گردے پہلے سے کمزور ہوتے ہیں اس پر ذرا سی اونچ نیچ ،مثلاََ ناموافق دواکھا لینا،بلڈ پریشر کا گر جانا یا بڑھ جانا،بہت زیادہ پسینے کا آ جا نا اس طرح کے حادثات سے وقتی طور پر اچانک گردے فیل ہو سکتے ہیں ۔گردوں کے فیل ہونے کی دوسری قسم ہے مستقل گردوں کی خرابی اس میں 50 فیصد تو گردے پہلے خراب ہوتے ہیں ،جن کے مناسب علاج ،پرہیزسے ان کو زیادہ دیر تک کارآمد رکھا جا سکتا ہے اور اگر ان کی دیکھ بھال نہ کی جائے تو رفتہ رفتہ گردے فیل ہو جاتے ہیں ۔

یہ بات بہت قابل توجہ ہے کہ جب تک گردے 80 یا 90 فیصد تک تباہ نہ ہو چکے ہوں اس سے پہلے مریض کو اس کا علم ہی نہیں ہوتا وہ اپنا روز مرہ کا کام کرتا رہتا ہے ،ایک گردہ ناکارہ بھی ہو جائے تو بھی دوسرا کام کرتا رہتا ہے ،اسی طرح یہ بات بھی توجہ چاہتی ہے کہ جب گردے ایک بار مکمل ناکارہ ہو جائیں تو کوئی دوائی یا علاج اس کو صحیح حالت میں نہیں لا سکتا ۔اس کا علاج پیوند کاری ہی ہے ۔

اگر کسی کو درج ذیل علامات میں سے کوئی علامت محسوس ہو تو اسے گردوں کے اسپیشلسٹ ڈاکٹر سے اپنا چیک اپ لازمی کروا لینا چاہیے ۔کھانے کی خواہش کا ختم ہو جانا ،یاداشت کی کمزوری ،متلی اور قے کا آنا ،چڑچراپن،تھکاوٹ کا محسوس ہونا ،چہرے کا رنگ پیلا ہونا ،خشک جلد،رات کو بار بار پیشاب آنا اور پیشاب میں رکاوٹ وغیرہ کا ہونا ،شوگر کا مرض ہونا،بلڈ پریشر کی کمی یا زیادتی کا ہونا وغیرہ
گردوں کی بیماری کا علاج اس کی اقسام اور سٹیج کے مطابق کیا جاتا ہے ۔عام طور پر 50 فیصد گردوں کے فیل ہونے کا سبب شوگر،بلڈ پریشر،گردوں کا انفیکشن وغیرہ بنتا ہے اگر ان کا علاج کیا جائے تو اس سے گردوں کو مزید خراب ہونے سے بچایا جا سکتا ہے ۔گردوں میں پتھری ہو تو اس کا علاج شعاعوں سے ،آپریشن سے ممکن ہے ،لیکن مکمل طور پر گردوں کے فیل ہونے کی صورت میں گردوں کی پیوندکاری ہی اس کا علاج ہے جس میں گردہ دینے والے اور لینے والے کا بلڈ گروپ ایک ہونا ضروری ہے گردہ دینے والے کاجتنا قریبی تعلق ہو گا اس کی پیوندکاری اتنی کامیاب ہو گی ۔

دردہ گردہ میں آدمی ایسے تڑپتا ہے جیسے مچھلی بناں پانی کے جب ایسا کسی کو درد ہو تو گردہ کے مقام پر فوراََ گرم پانی سے ٹکور کریں ،مولی کا نمک چٹائیں ، تمباکو کو ابال کر نیم گرم مقام درد پر باندھ دیں اور ڈاکٹر کے پاس مریض کو لے جائیں خیال رہے نیم حکیم کے پاس نہیں ۔الٹراساونڈ کروائیں ۔پھر ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق عمل کریں ۔

ایسی تمام غذائیں جن میں فولاد زیادہ پایا جاتا ہے ان سے پرہیز کریں مثلاََ گوشت،چاول،مکئی،وغیرہ اس کے علاوہ سگریٹ نوشی ،کولاکے مشروبات ،شراب نوشی،وغیرہ سے پرہیز کریں ۔موٹاپا،زیادہ دیر تک بیٹھے رہنا،ورزش نہ کرنے والے افراد پر دیگر امراض کی طرح گردوں کے فیل ہونے کے چانس زیادہ ہوتے ہیں ۔اس لیے صبح دو گلاس تازہ اور صاف پانی پینا ،ہلکی پھلکی ورزش کرنا،دن میں بھی پانی پینا ،کھانا کھانے کے فوراََبعد پانی نہ پینا چاہیے ،رات کو سونے سے گھنٹا بھر پہلے دو گلاس پانی پینا چاہیے ،قبض نہ ہونے دیں ،اسی طرح دیگر حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرنے سے بہت سی امراض سے بچا جا سکتا ہے۔مختصر صاف پانی کا زیادہ استعمال،ہر قسم کے نشہ سے پرہیز ،متوازن غذا،موٹاپے پر کنٹرول کرنے سے کافی حد تک اس مرض سے بچا جا سکتا ہے ۔
Disclaimer: All information is provided here only for general health education. Please consult your health physician regarding any treatment of health issues.
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
11 Mar, 2015 Total Views: 9030 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Akhtar Sardar Chaudhry Columnist Kassowal

Akhtar Sardar Chaudhry Columnist Kassowal
Press Reporter at Columnist at Kassowal
Attended Government High School Kassowal
Lives in Kassowal, Punja
.. View More

Read More Articles by Akhtar Sardar Chaudhry Columnist Kassowal: 444 Articles with 158108 views »
Reviews & Comments
اسلام وعلیکم
جناب میرے والد صاحب کا یہ مسئلہ ہے کہ ان کہ جسم میں سوزش ہو گئی ہے اور ان کا creatinine level 3.6 سے 2 ہو گیا ہے اور جسم سے سوزش نہیں جا رہی کوئی حل بتاؤ پلیز مہربانی ہو گی
By: Muzamal, Wazirabad on Nov, 10 2017
Reply Reply
0 Like
میرے دونوں گردوں میں پتھری ہے سی ایم ایچ سے علاج کروا رہا ہوں میدے میں درد رہتا ہے ڈاکٹر کو بھی بتایا ہے لیکن ختم نہیں ہو رہا
By: Faizan, Rawalpindi on Jul, 12 2017
Reply Reply
1 Like
اسلام و علیکم میرا نم محمد صبغت الہ ہے میرے خون میں کریٹںنںن لیول بڑھ کر20ھو گیا ھے علا ج بتائں مہربانی ہو گی
By: محمد صبغت الہ, ملتان on Apr, 23 2016
Reply Reply
3 Like
I missed part one regarding Kidney care If any one can me I will be grateful to him "mmtufail230@gmail.com"
By: Mirza M. Tufail, Abu Dhabi on Apr, 04 2015
Reply Reply
0 Like
امجد صاحب۔ ڈریں نہیں زندگی موت الله کے ھاتھ میں ھے۔ بس تھوڑی واک یا ورزش کر لیا کریں۔
By: mohsin, Islamabad on Apr, 02 2015
Reply Reply
0 Like
NICE BHAI JAAN BOHAT ACHAY
By: IMRAN PUNJABI, sahiwal on Mar, 25 2015
Reply Reply
0 Like
Main aik software engineer hn or ziada kaam beth kar hi krta hn takriban lagataar 10 ghantay bethna parta hai apka article parh k mje dar lgne lag gya hai
By: Ahmad, Lahore on Mar, 18 2015
Reply Reply
0 Like
Jazak Allah. Very informative article. May Allah bless you.
By: Abid Afzal, Lahore on Mar, 11 2015
Reply Reply
0 Like
thanks janab abid afzal sahib
By: Akhtar Sardar Chaudhary, Karachi on Mar, 13 2015
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB