جس نے غبار راہ کو بخشاف روغ وادی سینا

(محمدشارب ضیاء رحمانی, NEW DELHI )

رسول اکرم ﷺکی ولادت جس ماہ مبارک میں ہوئی وہ ربیع الاول ہے جس کامعنیٰ ہے،َ بہارکاپہلامہینہ۔ یعنی آپ ﷺکی پیدائش سے عالم میں ایک بہارآگئی ۔دوسرے لفظوں میں کہہ لیجئے کہ انسانیت کے ختم ہوجانے کے بعدظلم وتشددکی تاریک فضاؤں کے اندرماہ ربیع الاول میں ہی ایک بااخلاق ،باکرداراورصالح معاشرہ کی بنیاد’’ایک نیرتاباں‘‘ کے ظہورسے رکھی گئی ۔جس کے لئے مہ وآفتاب کی نگاہیں منتظرتھیں۔ ولادت مقدسہ کے ساتھ ہیِ منیٰ کی وادی،َ مروَہ کے سنگریزے ،قبیس کی چوٹیاں،اورمیدان عرفات، نورکی جھلکیوں میں جھم جھم کررہے تھے،طائران خوشنواکی چہکاروں سے تمام فضانغمہ زاربن گئی، چہرۂ مبارک سے ہلکاہلکانورچھنَ رہاتھاجوچاندنی سے زیادہ دل کش اورنظرنوازتھا۔عبدالمطلب فرط مسرت سے پھولے نہ سمائے ، رخ انورکا دیدارکیاتوآنکھیں نظارہ کرتے کرتے سیرنہ ہوئیں،سفیدی میں سرخی ملی ہوئی رنگت ،دل میں گھَرکرجانے والی حسین وسیاہ آنکھیں،کُشادہ پیشانی۔سب کچھ حسن وجمال کی معراج اوردلکشی ورعنائی کامنتہائے کمال۔عبدالمطلب زبانِ حال سے کہہ رہے تھے ۔’’وہ آئے گھرمیں ہمارے خداکی قدرت ہے کبھی ہم ان کوکبھی اپنے گھرکودیکھتے ہیں‘‘۔ اب توانسانیت کی تاریخ کاآخری اورسب سے روشن ورق الٹنے کے لئے قدرت کے ہاتھ جنبش میں آگئے تھے ،گمراہی کی جان لبوں پہ تھی کہ آفتاب رسالت طلوع ہوچکاتھا،ہدایت کاچشمہ پھوٹنے والاتھا اورفکرونظراورضمیروباطن کاعظیم انقلاب پیداہونے والاتھاجس نے صالح تمدن اورپاکیزہ معاشرہ کی بنیادڈالی اورربع مسکون پرچھائی ہوئی جہالت اورکفروشرک کی اندھیری رات کاخاتمہ کردیا۔کشف الدجیٰ بجمالہ۔

آپ ﷺکی ولادت بابرکت اس بات کااعلان تھی کہ حضرت ابراہیمؑ کے دین کونئی زندگی ملنے والی ہے اوران کی اُس دعاء کے پوراہونے کاوقت آچکاہے جوانہوں نے تعمیرخانہ کعبہ کے بعدمانگی تھی (آیت )ربناوابعث فیھم (الیٰ آخرہ )’’ اے میرے رب!آپ میری اولادمیں سے ایک رسول کوبھیجئے،جس کے تین کام ہوں،تلاوتِ آیات،تعلیمِ کتاب وحکمت اورتزکیہء نفوس‘‘ ۔نیز حضرت عیسیؑ ٰ کی یہ بشارت بھی پوری ہونے والی ہے’’یاتی من بعدی اسمہ احمد ’’میرے بعدایک نبی آئے گاجس کانام احمدہوگا‘‘۔چنانچہ نبی آخرالزماں کی بعثت کے لئے ایک مناسب جگہ کاانتخاب کیاگیاجسے جغرافیائی اعتبارسے بھی مرکزیت حاصل ہے اور حضرت ابراہیم سے ایک خاص نسبت بھی ۔اس مقدس مقام میں آپ کومبعوث فرماکر بتایاگیاکہ محمدﷺعالمی نبی ہیں۔ساتھ ہی اسراء میں مسجدحرام سے بیت المقدس تک کی سیرکرائی گئی کہ یہ تمام امم سابقہ کے نبی ہیں،دونوں قبلوں کے امام ہیں اورانبیاء کی امامت کراکے بتایادگیاکہ ان تمام انبیاء سابقہ کی امتوں کوبھی ان کی امامت تسلیم کرنی ہوگی ۔ بعدازخدابزرگ توئی ایں قصہ مختصر۔

آپﷺ کی ذات کاپوری دنیاپراحسان عظیم ہے۔دنیائے ضلالت میں ہدایت کاچراغ روشن کرنا،سیرت نبوی کاوہ شاندارکارنامہ ہے جس کی مثال دنیانہیں لاسکتی ۔ عقائدوافکار،عبادات ومعاملات ،اَخلاق وعادات،تہذیب وکردارغرض تمام شعبہ ہائے زندگی میں آپ کی سیرتِ طیبہ ساری دنیاکے لئے کافی اورنمونہ عمل ہے۔چنانچہ نبی امیﷺکے ساتھ آنے والے اس عالمگیرمذہب نے عرب کے جاہل وناخواندہ ماحول کویکایک سب سے شائستہ ،سب سے زیادہ بااخلاق ،سب سے زیادہ متمدن اورساری دنیاکااستاذورہبربناکرثابت کردیاکہ ان تمام محیرالعقول انقلاب کاسبب اسلامی تعلیم کے سواکچھ بھی نہیں ہے۔جس سے ہرملک،ہرزمانہ میں فیضیاب ہواجاسکتاہے،نیزیہ بھی کہ دنیاکے تمام ہادی اورتمام انبیاء اپنی اپنی قوموں کے لئے جس قدرتعلیمات اورہدایت نامے لے کرآئے تھے وہ سب کے سب اصولی طورپرآپﷺکے قلب اطہرپہ نازل ہونے والی کتاب میں موجودہیں اورنبی آخرالزماں ﷺکی ذات جامع جمیع کمالات نبویہ وانسانیہ ہے۔آنچہ خوباں ہمہ دارندتوتنہاداری۔

نمونہ اورآئیڈیل بنانے کے لئے اس چیزکی ضرورت پڑتی ہے جوہرطرح سے کامل ومکمل ہو،یہ شرف صرف پیغمبراسلامﷺکوحاصل ہے کہ آپ کی زندگی اورآپ کی سیرت،جامعیت وکاملیت کے ساتھ بہترین نمونہ ہے جس کی شہادت، قرآنی آیات دیتی ہیں ۔قدرت نے آپﷺکوانسان کامل بناکربھیجاتھاچنانچہ ایسے انسان کوسیرت وصورت اورظاہروباطن کے اعتبارسے خوبی وکمال کاجامع ہوناہی چاہئے تھااورآپ اس کے صحیح مصداق تھے۔فروغِ ماہ بھی دیکھا،نمودِگلشن بھی تمہارے سامنے کس کاچراغ جلتاہے؟۔آپ کے لئے حسن وجمال کی شرح وتفسیرکے لئے سارے استعارے ناتمام ،اورادھورے ہیں،آپ کی ذات کویہ تشبیہ،مماثلت اوراستعارات چھوبھی نہیں سکتے۔رخ مصطفی ہے وہ آئینہ کہ اب ایسادوسراآئینہ نہ ہماری بزمِ خیال میں ،نہ دکانِ آئینہ سازمیں۔جہاں پر ان استعارات و تشبیہات کی انتہاہوتی ہے وہیں سے محمدﷺکے جمال وکمال کی ابتداء ہوتی ہے۔محمدﷺآپ اپناجواب ہیں۔دونوں جہاں آئینہ دکھلاکے رہ گئے لاناپڑاتمہیں کو،تمہار ی مثال میں۔

ولادت مقدسہ کے چالیس سال کے بعدوہ دن بھی آتاہے کہ غارِحرامیں جب آپ کے استغراق کی کیفیت کونہایت بے چینی کے ساتھ کسی پیغام کاانتظارتھاکہ اچانک جبرئیل امین،رسول امین کے پاس خداکاپیغام لے کرحاضرہوئے۔اس وقت کانقشہ کیسے کھینچاجاسکتاہے اورکون کھنیچ سکتاہے کہ وحیِ الٰہی کی کیفیت ،مہبطِ وحی کے سوااورکسے معلوم ہوسکتی ہے ۔یہی وہ عالم الوریٰ ہے جہاں یقین اورصرف یقین کے چراغوں کی روشنی میں صراطِ مستقیم کودیکھاجاسکتاہے جس منظرکوبیان کرنے کے لئے الفاظ ساتھ چھوڑدیتے ہیں۔ان روحانی کیفیات اورغیبی اسرارپریقین کے لئے کسی سائنس داں کادماغ نہیں، ابوبکرصدیقؓ،علی مرتضیٰؓ اوربلال حبشیؓ کاقلب چاہئے۔ اس مرحلہ کے بعدمکہ کی گلیوں میں امین وصادق کہلانے والے، مریض دنیاکے لئے اترکرحراسے سوئے قوم آتے ہیں اورایک نسخہ کیمیاساتھ لاکرکواکب پرستی اورعقول عشرہ کے طلسموں کوتوڑڈالتے ہیں۔ کیانظرتھی جس نے مردوں کومسیحاکردیا۔

ہدایت اورتعلیم کاسب سے کارگراسلوب یہ ہے کہ صرف زبان سے ہی کہہ کرنہ چھوڑدیاجائے بلکہ جن چیزوں کی تعلیم دینی ہوان کاعملی نمونہ بن کربھی لوگوں کے سامنے آیاجائے،کیونکہ انسان ،کانوں کے ذریعہ کم اورآنکھوں سے زیادہ سیکھتاہے اسلام کے پیغمبراورقائداعظم ﷺکایہی دستورتھاکہ کبھی کوئی نصیحت آپﷺ کی زبان سے نہیں سنی گئی مگرآپﷺنے ان پرپہلے عمل کرکے دکھایا،یادِالٰہی کی ترغیب دی توپہلے خود’’دل بہ یار،دست بہ کار‘‘کامصداق بن گئے،نمازکی نصیحت فرمائی تواپنایہ عالم بنالیاکہ کھڑ ے کھڑ ے پاؤں سوج جاتے ،سجدہ اتنالمباہوتاکہ ایسالگتاکہ اب سرہی نہیں اٹھائیں گے،روزہ کایہ عالم کہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ روزہ رکھنے پرآتے تومعلوم ہوتاکہ اب کبھی افطارہی نہیں فرمائیں گے۔اسی طرح معاملات کے باب میں بھی ۔اگرکوئی باپ ہے توفاطمہؓ کے والدکی زندگی کاجائزہ لے ،اگرکوئی شوہرہے توخدیجہؓ ،عائشہؓ کے شوہرکی زندگی کامطالعہ کرے ،اگرسربراہ ہے تومسجدنبوی میں بیٹھ کرحکومت کرنے والے کی سیرت کامطالعہ کرے ،کوئی فاتحِ زمانہ ہے توفتحِ مکہ میں فاتحِ اعظم کے حسنِ سلوک کودیکھے جنہوں نے اپنے دشمن کومعاف ہی نہیں کیابلکہ دشمن کے گھرکوبھی دارالامان بنادیا۔انسانیت کی پوری تاریخ ،عفوودرگذرکی اس مثال سے خالی ہے ۔سلام اس پہ کہ جس نے دشمن کوحیاتِ جاوداں دے دی سلام اس پر،بوسفیاں کوجس نے اماں دے دی سلام اس پہ کہ اسرارِمحبت جس نے سمجھائے سلام اس پرکہ جس نے زخم کھاکرپھول برسائے ۔غرض کہ آپ ﷺکی ذات سارے عالم کے لئے رحمت ہے،آپ میں انسانی زندگی کی ساری حیثیتیں جمع تھیں ،آپ ﷺکی حیثیت ایک انسان ،ایک باپ ،ایک شوہر،ایک دوست ،ایک تاجر،ایک افسر،ایک حاکم ،ایک سپہ سالار،ایک بادشاہ ،ایک استاذ ،ایک واعظ ،ایک مرشداوران سب سے الگ ایک کامل ومکمل پیغمبرکی نظرآتی ہے اور آپ ﷺکاطرزِعمل اورآپ کی پوری زندگی ساری انسانیت کے لئے اورہمیشہ کے لئے آئیڈیل اورنمونہ ہے’’یقیناتمہارے لئے اللہ کے رسول ﷺکی زندگی میں بہترین نمونہ ہے‘‘(پ۲۸،حشر)۔

اسلام ،خوداپنے پیغمبرﷺکواپنی کتاب کاعملی نمونہ بناکرپیش کرتاہے ،تمام ادیانِ عالم میں یہ شرف پیغمبراسلامﷺکوہی حاصل ہے کہ وہ تعلیم اوراصول کے ساتھ ساتھ اپنے عمل اوراپنی مثال پیش کرتے ہیں،نمازکاطریقہ اس طرح سکھاتے ہیں صلوکمارایتمونی اصلی تم اس طرح نمازپڑھوجس طرح مجھے پڑھتے دیکھتے ہو،بیوی اوربچوں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم ان الفاظ میں دیتے ہیں،خیرکم خیرکم لاھلہ واناخیرکم لاھلی تم میں سب سے اچھاوہ ہے جواپنی بیوی بچوں کے لئے اچھاہواورمیں اپنے اہل وعیال کے لئے تم سب سے اچھاہوں۔ذرااحجۃ الوداع کے مجمع میں چلئے!آخری حج کے موقعہ پرزبانِ نبوت سے آخری پیغام سنایاجارہاہے،رہنمااصول بتائے جارہے ہیں،عرب کے باطل رسوم ورواج اورنہ ختم ہونے والی لڑائیوں کاسلسلہ توڑاجارہاہے ،مگردیکھئے !تعلیم کے ساتھ ساتھ ذاتی نظیراورعملی مثال بھی ہرقدم پرپیش کی جارہی ہے۔ فرمایا!آج عرب کے تمام انتقامی خون باطل کئے گئے اورسب سے پہلے میں اپنے خاندان کاخون معاف کرتاہوں،ایامِ جاہلیت کے تمام سودی لین دین اورکاروبارآج ختم کئے گئے اورسب سے پہلے میں اپنے چچاعباس بن عبدالمطلب کاسودمعاف کرتاہوں۔گویاآپ نے وہی کیاجوقرآن نے بتایا،آپ نے انہی احکام کی تشریح فرمائی جوقرآن میں بیان کئے گئے ۔وماینطق عن الھوی،ٰ ان ھوالاوحی یوحیٰ ۔محمدﷺاپنی مرضی سے کچھ نہیں بولتے وہ وہی بولتے ہیں جو’’وحی ‘‘ہوتی ہے ۔حضرت عائشہؓ سے پوچھاگیاآپ ﷺکااخلاق کیساتھا، جواب دیا’’تم نے قرآن نہیں پڑھا؟کان خلقہ القرآن آپ کی سیرت ہی قرآن ہے اورآپ کی پوری سیرت طیبہ، قرآن کی آئینہ داراورقرآن کی عملی تشریح ہے۔نگاہِ عشق ومستی میں وہی اول ،وہی آخر وہی قرآں ،وہی فرقاں، وہی یسٓ ،وہی طٰہ۔

اس عالم رنگ وبومیں ’’انسان کامل ‘‘بس صرف ایک ہی پیداہوا،جس پرحسن وخوبی اورکمال وبلندی کی انتہاء ہوگئی ۔اب اس دنیامیں جس کسی کوبھی عروج نصیب ہوگااورابدی کامیابی ملے گی وہ اسی ’’انسان کاملﷺ‘‘کے اسوۂ حسنہ کی پرچھائیوں میں ہی ملے گی۔ دنیانے بہت ڈھونڈامحمدکاجواب ثانی توبڑی چیزہے ،سایہ نہ ملا۔

یہ خصوصیت بھی آپ ﷺ کوہی حاصل ہے کہ آپﷺکے وصال کے بعدبھی آپ کے پیام اوراسوۂ حسنہ کوزوال وفناسے محفوظ کردیاگیاہے،مقدس زندگی کی ایک ایک ادا،آپ ﷺکاایک ایک عمل،ایک ایک فرمان چودہ سالوں سے آج تک محفوظ ہے ۔جس طرح قرآن مقدس کی حفاظت کی ذمہ داری اسے نازل کرنے والے کی طرف سے لی گئی اسی طرح بیانِ قرآن،معانیِ قرآن ،شرحِ قرآن ،تفسیرِقرآن اورحاملِ قرآن کی ایک ایک اداکی حفاظت کاانتظام بھی قدرتی طورپہ کیاگیاچنانچہ آپﷺکاایک ایک عمل اسی طرح زندہ ہے جس طرح مکہ ومدینہ ،بدر واحد ،طائف وحنین ،خندق وتبوک میں جاری و نافذتھا۔ستاروں کے چراغ اورآفتاب کی قندیلیں بجھ سکتی ہیں،چراغِ مصطفوی سے شرارِبولہبی کی ستیزہ کاری ،توجاری رہی ہے اوررہے گی مگرمحمدﷺ،ہدایت کے جس چراغ کولے کرآئے تھے وہ بجھ نہیں سکتا،یہ چراغ توسداآندھیوں کی گودمیں جلاہے ۔

لیکن یہ ایک افسوس ناک پہلوہے کہ جوذاتِ گرامی ہماری ہدایت کے لئے آئی تھی آج ہم نے اس کے دیئے ہوئے سبق کوبھلادیا، ہم صرف محبتِ رسول ﷺکے دعوی ٰ کوہی اپنی نجات کے لئے کافی سمجھ بیٹھے ہیں،ولادتِ نبوی یاوفاتِ نبوی کے موقع پر مجلسیں توآبادہوتی ہیں،لیکن عمل سے عاری ،محفلیں گلدستوں سےُ پررونق ہیں لیکن آہ!اعمالِ حسنہ کاپھولُ مرجھاگیاہے،کاش !ہماری محفلیں خالی ہوتیں لیکن ہمارے اعمال کاپھول نہ مرجھاتا،ہمارے دل وہ پتھرنہ ہوتے جن پرکسی بارش کااثرنہیں ہوتا۔ یہ دعوت ،یہ پکارتوان آہوں کادھواں مانگتی ہیں جن کی لٹیں صرف زبان سے نہیں،قلب کی گہرائیوں سے نکلیں چنانچہ کسی کے لئے جائزنہیں کہ محبتِ رسولﷺ کامدعی ہوجب تک کہ اسوۂ حسنہ کواپنانمونہء عمل نہ بنالے۔

جس طرح بنی اسرائیل کوان کی بداعمالی اوربداعتقادی کی وجہ سے ہزاروں سال کی عظمت ،فضیلت اورنعمت سے محروم کیاگیااسی طرح اگرہم نے اس نعمت عظمیٰ کی قدرنہ کی جوہمیں ہادی عالم ﷺکی غلامی کی شکل میں ملی ہے اور اس حبل متین کوچھوڑدیاجس کانزول قلب امین پرہواتھاتوہم بھی محروم وخاسرہوجائیں گے کیونکہ زمین کی خلافت کے لئے’’ آمنواوعملوالصّٰلحٰت،’’عبادی الصلحون‘‘کی شرط لگائی گئی ہے ،خداکی زمین گندگی کے لئے نہیں ہے وہ ایسے بندوں کوچن لیتاہے جواسے اپنی بداعمالیوں سے پاک رکھیں اوراس کے محبوبﷺکے سچے وفادارکہلاسکیں۔
کی محمدسے وفاتونے توہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیزہے کیالوح وقلم تیرے ہیں
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
03 Jan, 2015 Total Views: 297 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Md Sharib Zia Rahmani

Read More Articles by Md Sharib Zia Rahmani: 43 Articles with 14115 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB