صدقۂ فطر کے احکام ومسائل

(Muhammad Najeeb Qasmi, )

بسم اﷲ الرحمن الرحیم
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن، وَالصَّلاۃُ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِیْم ِوَعَلٰی آلِہِ وَاَصْحَابِہِ اَجْمَعِیْن۔

زکاۃ کی دو قسمیں ہیں: زکاۃ المال: یعنی مال کی زکاۃ جو مال کی ایک خاص مقدار پر فرض ہے۔ زکاۃ الفطر: یعنی بدن کی زکاۃ، اس کو صدقۂ فطر کہا جاتا ہے۔

صدقۂ فطر کیا ہے: فطر کے معنی روزہ کھولنے یا روزہ نہ رکھنے کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں اُس صدقہ کا نام صدقۂ فطر ہے جو ماہ رمضان کے ختم ہونے پر روزہ کھل جانے کی خوشی اور شکریہ کے طور پر ادا کیا جاتا ہے، نیز صدقۂ فطر رمضان کی کوتاہیوں اور غلطیوں کا کفارہ بھی بنتا ہے، جیسا کہ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا : (زَکَاۃُ الْفِطْرِ طُہْرَۃٌ لِّلصَّائِمِ مِنَ اللَّغوِ وَالرَّفثِ وَطُعْمَۃٌ لِّلْمَسَاکِین) صدقۂ فطر روزہ دار کی بے کار بات اور فحش گوئی سے روزے کو پاک کرنے کے لئے اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ (ابو داود ح ۱۶۰۶، ابن ماجہ ح ۱۸۷۲)
صدقۂ فطر مقرر ہونے کی وجہ: عید الفطر میں صدقہ اِس واسطے مقرر کیا گیا ہے کہ اِس میں روزہ داروں کے لئے گناہوں سے پاکیزگی اور اُن کے روزوں کی تکمیل ہے۔ نیز مالداروں کے گھروں میں تو اُس روز عید ہوتی ہے، مختلف قسم کے پکوان پکتے ہیں، اچھے کپڑے پہنے جاتے ہیں، جبکہ غریبوں کے گھروں میں بوجہ غربت اسی طرح روزہ کی شکل موجود ہوتی ہے، لہذا اﷲ تعالیٰ نے مالدار اور اچھے کھاتے پیتے لوگوں پر لازم ٹھہرایا کہ غریبوں کو عید سے پہلے صدقۂ فطر دے دیں تاکہ وہ بھی خوشیوں میں شریک ہو سکیں، وہ بھی اچھا کھا پی سکیں اور اچھا پہن سکیں۔

صدقۂ فطر کا وجوب: متعدد احادیث سے صدقۂ فطر کا وجوب ثابت ہے، اختصار کے مد نظر تین احادیث پر اکتفاء کررہا ہوں:

٭٭ حضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے صدقۂ فطر مسلمانوں پر واجب قرار دیا ہے خواہ وہ غلام ہو یا آزاد، مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا۔ (بخاری ومسلم)
٭٭ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺنے رمضان کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ اپنے روزوں کا صدقہ نکالو۔ (ابوداود)
٭٭ اسی طرح حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے مکہ مکرمہ کی گلیوں میں ایک منادی کو اعلان کرنے کے لئے بھیجا کہ صدقۂ فطر ہر مسلمان پر واجب ہے خواہ مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام، چھوٹا ہو یا بڑا۔ (ترمذی)

صدقۂ فطر کس پر واجب ہے: حضور اکرم کے اقوال کی روشنی میں امام ابوحنیفہؒ کی رائے کے مطابق جو مسلمان اتنا مالدار ہو کہ ضروریات سے زائد اُس کے پاس اُتنی قیمت کا مال واسباب موجود ہو جتنی قیمت پر زکاۃ واجب ہوتی ہے تو اُس پر عید الفطر کے دن صدقۂ فطر واجب ہوگا، چاہے وہ مال واسباب تجارت کے لئے ہو یا نہ ہو، چاہے اُس پر سال گزرے یا نہیں۔ غرضیکہ صدقۂ فطر کے وجوب کے لئے زکاۃ کے فرض ہونے کی تمام شرائط کا پایا جانا ضروری نہیں ہے۔ دیگر علماء کے نزدیک صدقۂ فطر کے وجوب کے لئے نصاب زکاۃ کا مالک ہونا بھی شرط نہیں ہے یعنی جس کے پاس ایک دن اور ایک رات سے زائد کی خوراک اپنے اور زیر کفالت لوگوں کے لئے ہو تو وہ اپنی طرف سے اور اپنے اہل وعیال کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرے۔

صدقۂ فطر کے واجب ہونے کا وقت:عید الفطر کے دن صبح ہوتے ہی یہ صدقہ واجب ہوجاتا ہے۔ لہذا جو شخص صبح ہونے سے پہلے ہی انتقال کرگیا تو اُس پر صدقۂ فطر واجب نہیں ہوا اور جو بچہ صبح سے پہلے پیدا ہوا تو اُس کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کیا جائے گا۔

صدقۂ فطر کی ادائیگی کا وقت: صدقۂ فطر کی ادائیگی کا اصل وقت عید الفطر کے دن نماز ِ عید سے پہلے ہے البتہ رمضان کے آخر میں کسی بھی وقت ادا کیا جاسکتا ہے۔ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے حکم دیا کہ صدقۂ فطر نماز کے لئے جانے سے قبل ادا کردیا جائے۔ (بخاری ح ۱۵۰۹ ومسلم ح ۲۲۸۵) حضرت نافع ؒ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما گھر کے چھوٹے بڑے تمام افراد کی طرف سے صدقۂ فطر دیتے تھے حتی کہ میرے بیٹوں کی طرف سے بھی دیتے تھے اور عیدالفطر سے ایک یا دو دن پہلے ہی ادا کردیتے تھے۔ (بخاری ح ۱۵۱۱)

نمازِ عید الفطر کی ادائیگی تک صدقۂ فطر ادا نہ کرنے کی صورت میں نماز ِ عید کے بعد بھی قضا کے طور پر دے سکتے ہیں لیکن اتنی تاخیر کرنا بالکل مناسب نہیں ہے کیونکہ اِس سے صدقۂ فطر کا مقصود ومطلوب ہی فوت ہوجا تا ہے۔ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما کی حدیث کے الفاظ ہیں کہ جس نے اسے نماز عید سے پہلے ادا کردیا تو یہ قابل قبول زکاۃ (صدقۂ فطر) ہوگی اور جس نے نماز کے بعد اسے ادا کیا تو وہ صرف صدقات میں سے ایک صدقہ ہی ہے۔ (ابوداود ح ۱۶۰۶) لہذا نماز عید سے قبل ہی صدقۂ فطر ادا کریں۔
صدقۂ فطر کی مقدار: کھجور اور کشمش کو صدقۂ فطر میں دینے کی صورت میں علماء امت کا اتفاق ہے کہ اس میں ایک صاع (نبی اکرم ﷺکے زمانہ کا ایک پیمانہ) صدقۂ فطر ادا کرنا ہے البتہ گیہوں کو صدقۂ فطر میں دینے کی صورت میں اس کی مقدار کے متعلق علماء امت میں زمانۂ قدیم سے اختلاف چلا آرہا ہے۔ اکثر علماء کی رائے ہے کہ گیہوں میں آدھا صاع صدقۂ فطر میں ادا کیا جائے۔ حضرت عثمان، حضرت ابوہریرہ، حضرت جابر، حضرت عبد اﷲ بن عباس، حضرت عبد اﷲ بن زبیر اور حضرت اسماء رضی اﷲ عنہم سے صحیح سندوں کے ساتھ گیہوں میں آدھا صاع مروی ہے۔ ہندوستان وپاکستان کے علماء بھی مندرجہ ذیل احادیث کی روشنی میں فرماتے ہیں کہ صدقۂ فطر میں گیہوں آدھا صاع ہے، یہی رائے مشہور ومعروف تابعی حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کی بھی ہے۔

صدقۂ فطر میں آدھا صاع گیہوں کے دلائل :
٭ حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم جَو یا کھجور یا کشمش سے ایک صاع صدقۂ فطر دیا کرتے تھے یہاں تک کہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگوں نے گیہوں سے صدقۂ فطر نکالنے کے سلسلہ میں ان سے گفتگو کی تو آپ نے فرمایا کہ گیہوں سے صدقۂ فطر میں آدھا صاع دیا جائے، چنانچہ لوگوں نے اسی کو معمول بنا لیا۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم) ۔ ریاض الصالحین کے مصنف اور صحیح مسلم کی سب سے زیادہ مشہور ومعروف شرح لکھنے والے امام نووی ؒ نے صحیح مسلم کی شرح میں تحریر کیا ہے کہ اسی حدیث کی بنیا د پر حضرت امام ابوحنیفہ ؒ اور دیگر فقہاء نے گیہوں سے آدھے صاع کا فیصلہ کیا ہے۔
٭ نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: گیہوں کے ایک صاع سے دو آدمیوں کا صدقۂ فطر ادا کرو۔ کھجور اور جو کے ایک صاع سے ایک آدمی کا صدقۂ فطر ادا کرو۔ (دار قطنی، مسند احمد)
٭ حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے صدقۂ فطر میں ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو ضروری قرار دی۔ صحابۂ کرام نے گیہوں کے آدھے صاع کو اس کے برابر قرار دیا۔ (بخاری ومسلم)
٭ حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ صدقۂ فطر ہر چھوٹے بڑے اور آزاد و غلام پر گیہوں کا آدھا صاع اور کھجور وجو کا ایک صاع ضروری ہے۔ (اخرجہ عبدالرزاق )
٭ حضرت اسماء رضی اﷲ عنہا صدقۂ فطر میں گیہوں کا آدھا صاع اور کھجور وجو کا ایک صاع ادا کرتی تھیں۔ (اخرجہ ابن ابی شیبہ)

وضاحت: صحیح بخاری وصحیح مسلم میں حدیث ہے کہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا کہ صدقۂ فطر میں ایک صاع جو یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع کشمش یا ایک صاع پنیر یا ایک صاع کھانے کی اشیاء سے دیا جائے اور کھانے کی اشیاء سے مراد جو یا کھجور یا پنیر یا کشمش ہے جیساکہ اس حدیث کے خود راوی صحابی رسول حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ نے حدیث کے آخر میں وضاحت کی ہے۔ لیکن اس میں کسی بھی جگہ گیہوں کا تذکرہ نہیں ہے، غرضیکہ نبی اکرم ﷺکے اقوال میں کسی بھی جگہ مذکور نہیں ہے کہ گیہوں سے ایک صاع دیا جائے، ہاں حدیث کی ہر مشہور ومعروف کتاب حتی کہ صحیح بخاری وصحیح مسلم میں موجود ہے کہ صدقۂ فطر میں گیہوں دینے کی صورت میں صحابۂ کرام آدھا صاع(یعنی تقریباً پونے دو کیلوگرام) گیہوں دیا کرتے تھے جیساکہ مندرجہ بالا احادیث میں مذکور ہے۔

٭ اکثر علماء کے قول کے مطابق جو یا کھجور یا کشمش کا ایک صاع (تقریباً ساڑھے تین کیلو) یا گیہوں کا نصف صاع (تقریباً پونے دو کیلو ) یا اسکی قیمت صدقۂ فطر میں ادا کرنی چاہئے لیکن اختلاف سے قطع نظر اگر کسی کو اﷲ تعالیٰ نے وسعت دی ہے اور وہ گیہوں سے بھی ایک صاع یا اس کی قیمت دینا چاہتا ہے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے۔

کیا غلہ واناج کے بدلے قیمت دی جاسکتی ہے؟
حضرت امام ابوحنیفہؒ، حضرت امام بخاریؒ، حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ، حضرت حسن بصریؒ،علماء احناف اور دیگر محدثین وفقہاء وعلماء نے تحریر کیا ہے کہ غلہ واناج کی قیمت بھی صدقۂ فطر میں دی جاسکتی ہے۔ زمانہ کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے اب تقریباً تمام ہی مکاتب فکر کا اتفاق ہے کہ عصر حاضر میں غلہ واناج کے بدلے قیمت بھی دی جاسکتی ہے۔ صدقۂ فطر میں گیہوں کی قیمت دینے والے حضرات تقریباً پونے دو کیلو گیہوں کی قیمت بازار کے بھاؤ کے اعتبار سے ادا کریں اور جو مالدار حضرات کھجور یا کشمش سے صدقۂ فطر ادا کرنا چاہیں تو وہ ایک صاع یعنی تقریباً ساڑھے تین کیلو کی قیمت ادا کریں، اس میں غریبوں کا فائدہ ہے۔

صدقۂ فطر کے مستحق کون ہیں؟
صدقۂ فطر غریب وفقیر مساکین کو دیا جائے، جیسا کہ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما کی حدیث میں گزرا (طُعْمَۃٌ لِّلْمَسَاکِین)۔
صدقۂ فطر دوسرے شہر یا دوسرے ملک بھیجا جاسکتا ہے:
ایک شہر سے دوسرے شہر میں صدقۂ فطر بھیجنا مکروہ ہے (یعنی جہاں آپ رہ رہے ہیں مثلاًریاض میں تو وہیں صدقۂ فطر ادا کریں)۔ ہاں اگر دوسرے شہر یا دوسرے ملک مثلاً پاکستان اور ہندوستان میں غریب رشتہ دار رہتے ہیں یا وہاں کے لوگ زیادہ مستحق ہیں تو اُن کو بھیج دیا تو مکروہ نہیں ہے۔

صدقۂ فطر سے متعلق چند مسائل:
٭٭ ایک آدمی کا صدقۂ فطر کئی فقیروں کو اور کئی آدمیوں کا صدقۂ فطر ایک فقیر کو دیا جاسکتا ہے۔
٭٭ جس شخص نے کسی وجہ سے رمضان المبارک کے روزے نہیں رکھے اُسے بھی صدقۂ فطر ادا کرنا چاہئے۔
٭٭ آجکل جو نوکر چاکر اجرت پر کام کرتے ہیں ان کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا مالک پر واجب نہیں ہے۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
25 Jul, 2014 Total Views: 267 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Muhammad Najeeb Qasmi

Read More Articles by Muhammad Najeeb Qasmi: 18 Articles with 9203 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB