پاکستانی درخواست قبول٬ توہین آمیز ٹوئیٹس بلاک

مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئیٹر نے رواں ماہ پاکستان کی ٹویٹس یا ٹوئٹر اکاؤنٹ بلاک کرنے کی پانچ درخواستیں قبول کرتے ہوئے توہین آمیز ٹوئیٹس بلاک کردی ہیں۔

ان درخواستوں میں حکومتِ پاکستان نے مبینہ طور پر مذہب کی توہین کرنے والے بلاگروں کے اکاؤنٹ بلاک کرنے اور توہین مذہب کے زمرے میں آنے والی ٹویٹس اور سرچ کو روکنے کے لیے کہا تھا۔
 

image


یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سماجی رابطے کی مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ نے 2012 میں جاری ہونے والی اپنی نئی پالیسی کے تحت کسی ملک کی درخواست پر کسی صارف کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو بلاک کیا ہے۔

یہ پانچ درخواستیں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے ایک اہلکار عبدالباطن کی جانب سے مئی میں ٹوئٹر کو بھیجی گئی تھیں اور ان میں مخصوص اکاؤنٹس، ٹویٹس اور سرچز کو روکنے کا کہا گیا تھا۔

ان تمام اکاؤنٹس، ٹویٹس اور سرچز میں مبینہ طور پر مذہب یا رسالت کی توہین کی گئی تھی۔

اس سے قبل پاکستان نے مئی 2012 میں کچھ گھنٹوں کے لیے ملک میں ٹوئٹر تک رسائی اس وقت چکا ہے جب فیس بک پر پیغمبرِ اسلام کی تصاویر بنانے کا ایک مقابلے کا انعقاد کیا گیا تھا۔
 

image

پاکستان میں ٹوئٹر استعمال کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جن میں سیاست دان، کرکٹ کے کھلاڑی اور مشہور شخصیات بھی شامل ہیں۔
YOU MAY ALSO LIKE:

At least five times this month, a Pakistani bureaucrat who works from a colonial-era barracks in Karachi, just down the street from the former home of his country’s secularist founder, Mohammed Ali Jinnah, asked Twitter to shield his compatriots from exposure to accounts, tweets or searches of the social network that he described as “blasphemous” or “unethical.”