چینی اور بلٹ پروف گاڑیاں

(Mudassar Faizi, Lahore)

اطلاعات کے وفاقی وزیر اور گلگت بلتستان کے نامزد گورنر جناب قمر الزمان کائرہ نے آصف زرداری کے بطور صدر پاکستان پہلا سال مکمل ہونے پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عوام کو مشورہ یا شاید حکم دیا ہے کہ عوام چینی نہ خریدے، چینی کے نرخ خود بخود کم ہوجائیں گے۔ عوام و خواص جانتے ہیں کہ کائرہ صاحب جب بھی بات کرتے ہیں بڑی ناپ تول کے کرتے ہیں اور ان کی اس بات میں یقیناً بہت وزن ہے کہ اگر عوام چینی خریدنا ہی بند کر دیں تو اس کے نرخ یقیناً کم ہو جائیں گے بلکہ شاید مفت میں بھی ملنا شروع ہوجائے، کائرہ صاحب کا ایک صائب مشورہ ہے جس کی ہر پاکستانی تعریف کرنے پر مجبور ہے۔ کائرہ صاحب نے یہ مشورہ فی البدیہہ نہیں دیا بلکہ اس کے پیچھے ایک پوری سوچ کار فرما اور عوام کی بھلائی کا وہ جذبہ ہے جس پر موجودہ حکومت کم و بیش ڈیڑھ سال سے اور زرداری صاحب ایک سال سے عمل کررہے ہیں۔ ڈاکٹرز اکثر و بیشتر یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ چینی کا استعمال صحت کے لئے مضر ہے، ڈاکٹرز کے بقول چینی استعمال کرنے سے دیگر بیماریوں کے ساتھ ساتھ شوگر کا موذی مرض لاحق ہونے کا شدید خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ آپ خود ہی سوچئے کہ جس عوام کے پاس آٹا اور چینی خریدنے کے لئے دھیلا بھی نہ ہو اور جو عوام یوٹیلٹی سٹور کھلنے سے 6/7 گھنٹے پہلے ہی اس کے دروازے کے سامنے لائن بنانے پر مجبور ہو، جس عوام کے بوڑھے اور خواتین روز ذلیل بھی ہوں اور دھوپ اور گرمی کی شدت کی وجہ سے مریں بھی اس عوام کو اگر شوگر جیسی امیرانہ مرض لگ گئی تو ان کا کیا بنے گا؟ وہ علاج معالجے کے لئے کاروباری ڈاکٹرز کی فیسیں اور ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنیوں کے لئے بھاری رقوم کہاں سے لائیں گے؟ چنانچہ اگر عوام کو بیماریوں سے بچنا ہے، اگر انہیں چینی کی لمبی لمبی لائنوں اور اپنی تذلیل سے بچنا ہے، اگر انہیں شوگر مل مالکان اور ذخیرہ اندوزوں کی بلیک میلنگ سے بچنا ہے تو انہیں چاہئے کہ اپنے کائرہ صاحب کی نصیحت کو پلے باندھ لیں اور اس پر پورے زور سے عمل پیرا ہوں، کائرہ صاحب بھی خوش، حکومت بھی خوش اور عوام بھی!

ہم بھی اسی طرح کا ایک مشورہ جناب کائرہ صاحب کو بالخصوص اور حکومت کو بالعموم مفت میں دینا چاہتے ہیں۔ آجکل یہ بحث بڑی شدو مد کے ساتھ جاری ہے کہ حکومت اپنے وزراء اور اہم کارندوں کے لئے تقریباً ڈیڑھ ارب روپے کے ”حقیر“ زر سے بلٹ پروف گاڑیاں خرید رہی ہے۔ بلٹ پروف گاڑیوں کی بیٹھے بٹھائے کیا ضرورت پڑ گئی جو حکومت اتنی بے چین ہے؟ ضرورت اس لئے پڑی کہ ابھی چند روز پہلے ایک وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا جس میں ان کا ڈرائیور اسی وقت جاں بحق ہوگیا جبکہ گن مین کچھ روز ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں گرفتار رہ کر جان کی بازی ہار گیا لیکن اللہ کی قدرت ہے کہ حامد سعید کاظمی صاحب اس حملہ میں زخمی تو ہوئے لیکن شکر ہے کہ بچ گئے! چونکہ دیگر کچھ وزراء کو بھی ایسے ہی حملوں کی دھمکیاں مل چکی ہیں اس لئے حکومت نے ضروری خیال کیا کہ وزراء کی حفاظت کے نقطہ نظر سے فوری طور پر بلٹ پروف گاڑیاں حاصل کر لی جائیں تاکہ وہ آرام اور سکون سے حکومتی امور سرانجام دے سکیں اور کائرہ صاحب کی طرح انمول قسم کے مشورے عوام کو بہم پہنچا سکیں۔ بات یہ سوچنے والی ہے کہ وزراء کو جان سے مارنے کی دھمکیاں کون دے رہا ہے؟ انہیں جانوں کا خطرہ کیوں اور کس سے ہے؟ کیا عوام کی وجہ سے انہیں دھمکیاں مل رہی ہیں یا وجہ کوئی اور ہے؟ جہاں تک عوام کا تعلق ہے تو اللہ کا شکر ہے کہ کسی حکومتی عہدیدار نے پاکستان کے عوام کے لئے آج تک کوئی ایسی حرکت نہیں کی جس کی بناء پر انہیں دھمکیوں سے نوازا گیا ہو! اگر وزراء اور دیگر حکومتی شخصیات کو ایسی دھمکیاں مل رہی ہیں تو وہ امریکہ بہادر کی خدمت کی وجہ سے ہیں۔ ہماری سابقہ مشرفی حکومت اور موجودہ ”زورداری“ حکومت امریکہ کی خدمت مفت میں تو سرانجام نہیں دے رہی، سابقہ حکومت کے کرتا دھرتوں نے بھی امریکہ سے اس کام کی بڑی بھرپور قسم کی ”فیس“ اور ”اجرت“ وصول کی ہے اور موجودہ حکومت بھی کررہی ہے۔ جب امریکہ کی خدمت کا معاوضہ حکومت وصول کرتی ہے اور اس سے عوام کو کچھ حاصل نہیں ہوتا تو یہ وزراء اس ”حق الخدمت“ سے اپنے لئے گاڑیاں کیوں نہیں خریدتے؟ یعنی مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق یہ خرچہ بھی عوام کی جیبوں پر ڈاکہ مار کر اور ان کے خون پسینے کی کمائی جو وہ ٹیکسوں کی مد میں حکومت کو دیتے ہیں سے وصول کرکے پورا کیا جائے گا! وہ لوگ جن کو چینی نہ خریدنے کے مشورے سر عام دئے جا رہے ہیں، ان کے انسانی حقوق کو مسخ کرتے ہوئے ان کے پیسوں سے بلٹ پروف گاڑیاں وہ لوگ خرید رہے ہیں جن کو دھمکیاں کسی اور کی خدمت اور شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری کے عوض میں مل رہی ہیں۔ اگر وزراء کو اپنی جان کا اتنا ہی خطرہ ہے تو گھر بیٹھ جائیں یا دیگر طریقوں سے عوام کو لوٹ لیں، یہ کام کرنے کے بعد ان میں اور ڈاکوﺅں میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟ وہ ایسے پنگے ہی کیوں لیتے ہیں کہ جس میں جان کا خطرہ ہو، آخر اتنی دولت کا کوئی کیا کرسکتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ کیا بلٹ پروف گاڑیوں کے استعمال سے موت کا خطرہ ختم ہوجائے گا؟ کیا کسی کے پاس اپنی زندگی کے ایک سیکنڈ کی بھی گارنٹی ہے، اگر ان کا ایمان ہے کہ موت کا وقت مقرر ہے تو بلٹ پروف گاڑیاں آخر کس لئے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وزراء کو دھمکیاں اور ان پر حملے بلٹ پروف گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں کروا رہی ہوں تاکہ ان سے ایسی گاڑیاں خریدی جاسکیں۔ ویسے جس کسی نے بھی بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کا مشورہ دیا ہے اس کا اپنا بھی کمیشن لازمی ہونا چاہئے، کچھ لوگ تو کہہ رہے ہیں کہ ایسا مشورہ یقیناً محکمہ داخلہ کے سربراہ نے ہی دیا ہوگا کیونکہ بقول شخصے وہ ان کاموں کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ اس بات پر پوری قوم شکر کا سجدہ بجا لائے کہ رینٹل پاور پلانٹس کی طرح گاڑیاں کرائے پر نہیں لی جارہیں ورنہ دو سال بعد پتہ چلتا کہ جتنا کرایہ دیا جاچکا ہے اس میں تو اس سے دوگنا گاڑیاں خریدی جاسکتیں تھیں۔

عوام سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ تو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ بجائے بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کے وزراء کو چاہئے کہ وہ بکتر بند گاڑیاں استعمال کریں اور اپنی حفاظت کے لئے پولیس کے کمانڈوز کی بجائے ”بلیک واٹر“ کے کمانڈوز کی خدمات حاصل کرلیں۔ آخر حکومت بھی تو ”بلیک واٹر“ کو اتنی سہولیات فراہم کررہی ہے تو ان کا بھی فرض بنتا ہے کہ اپنے آدمیوں کی حفاظت کا کچھ خاطر خواہ بندوبست کریں، یہاں تک کہ حکومت نے تو ان کی تفریح طبع کے لئے اسلام آباد اور راولپنڈی پولیس کے جوانوں کو ان سے مار کھانے کا بھی حکم صادر کر رکھا ہے۔ ظاہر ہے ابھی انہیں یہاں اپنا نیٹ ورک بنانا ہے اس لئے وہ فوری طور پر عوام کی دھلائی نہیں کرسکتے لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھر کے بیٹھ جائیں، ایسا کرنے سے کہیں ان کی مار دھاڑ کی صلاحیتوں کو زنگ نہ لگ جائے اس لئے پولیس کے جوانوں کو ان سے ”پھینٹی“ لگوانے کا خصوصی انتظام کیا گیا تاکہ وہ اپنے ہاتھ پیر کھول سکیں! آخر وہ یہاں ہماری حکومت اور وزراء کی مدد کے لئے تو تشریف لائے ہیں۔ مختصر بات یہ ہے کہ عوام چینی مت خریدیں تاکہ اس کی قیمت کنٹرول کی جاسکے اور حکومت پنگے نہ لے تاکہ اس پر حملے کنٹرول ہوسکیں۔ آجکل کا پنگا یہ ہے کہ وزراء گھروں سے باہر نکلیں اور عوام کی مزید ابتری کے لئے امریکہ بہادر کی خدمات سرانجام دیں۔ بہتر یہی ہے کہ عوام کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے ورنہ جب ایک ہجوم اپنے ہاتھوں سے بلٹ پروف اور بکتر بند گاڑیوں کو روک لے گا، ان کی ونڈ سکرینوں پر کیچڑ مل دیا جائے گا تو ایسے وزراء کے لئے عوام کا ”چھترول“ بھی کسی خود کش حملے سے کم نہیں ہوگا۔ وہ وقت عنقریب آنے والا ہے کیونکہ عوام کی قوت خرید اور قوت برداشت دن بدن کم ہورہی ہے، کیا حکومت وہ وقت آنے سے پہلے سمجھداری کا ثبوت دے گی، یہ حکومت کو ہی سوچنا ہے....!
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
11 Sep, 2009 Total Views: 309 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Mudassar Faizi

Read More Articles by Mudassar Faizi: 209 Articles with 96260 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Nice post, Pakistani gariya bhi kisi sai km nhi,
By: Alina, Islamabad on Mar, 20 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB