سٹیلائٹ٬ تصاویر میں لاپتہ جہاز کا ممکنہ سراغ

چینی حکومت کی ویب سائٹ پر جاری کی جانے والی سٹیلائٹ تصاویر سے ملائیشیا کے لاپتہ جہاز ایم ایچ 370 کے ممکنہ ملبے سے متعلق مزید شواہد ملے ہیں۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ان تصاویر میں جنوبی چین کے سمندر میں بڑے حجم کے تین اجسام کو تیرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم اس سے پہلے جہاز کے ممکنہ ملبے کے بارے میں ملنے والی اطلاعات غلط ثابت ہوئی تھیں۔
 

image


چین کی جانب رواں یہ جہاز سنیچر کو لاپتہ ہوا جس میں 239 افراد سوار تھے۔

یہ تصاویر اتوار کو جہاز کے لاپتہ ہونے کے ایک دن بعد کی ہیں تاہم انہیں بدھ کو چین کی ایک سرکاری ویب سائٹ پر شائع کیا گیا ہے۔

تصاویر کے ساتھ ان کے مقام کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جس کے مطابق یہ جنوبی چین کے پانیوں میں ملائشیا کے مشرق میں ویتنام کے جنوبی ساحل کے قریب دیکھے گئے۔

چین کے سرکاری خبررساں ادارے ژنہوا کے مطابق تصاویر میں دیکھی جانے والی سب سے بڑی چیز کا حجم 24 میٹر لمبا اور 22 میٹر چوڑا ہے۔

دریں اثناء ملائیشیا کے حکام نے بتایا کہ ملائیشیا ائیر لائنز کے لاپتہ ہونے والے جہاز کے آخری رابطے کی ریکارڈنگ سے معلوم ہوتا ہے کہ رابطہ منقطع ہونے سے قبل جہاز پر سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملائیشین ائیر کنٹرول کے پیغام کے جواب میں ایم ایچ 370 سے ’سب ٹھیک ہے، راجر دیٹ‘ کا آخری ریڈیو پیغام موصول ہوا۔

جہاز کی تلاش کا عمل جزیرہ نما کے دونوں جانب وسیع تر کر دیا گیا ہے۔
 

image

ملائشیا کی فضائی فوج کے سربراہ نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن کے مطابق اس جہاز کے مغرب میں آبنائے ملاکا میں ہونے کے نشان ملے تھے۔

اس جہاز نے کوالالمپور سے پرواز بھری تھی اور اسے جنوبی چین کے سمندر سے ہوتے ہوئے جنوبی ویتنام کے اوپر پرواز کرتے ہوئے چین جانا تھا۔ یہ پرواز کے ایک گھنٹے بعد لاپتہ ہو گیا اور اس دوران کسی پریشانی یا خرابی کے کوئی سگنل نہیں ملے۔

ملائیشیا ایئر لائنز کے اس طیارے کو تلاش کے عمل میں اب بھارت جاپان اور برونائی بھی شامل ہو گئے ہیں۔

ملائیشیا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ملائیشیا کے وزیر ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ لاپتہ طیارے ایم ایچ 370 کی تلاشی کی مہم میں اب اور زیادہ ماہرین کو شامل کیا جائے گا تاکہ شہری اور فوجی اعداد و شمار کا صحیح طریقے سے تجزیہ کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا، ہم بھی ہار نہیں مانیں گے۔ طیارے میں سوار مسافروں کے اہل خانہ سے ہمارا یہ وعدہ ہے۔‘

تلاشی مہم کا دائرہ بڑھا دیا گیا ہے۔ طیارے کی تلاش کرنے کے لئے اس مہم میں 42 جہاز اور 39 ہوائی جہاز لگے ہوئے ہیں ساتھ ہی، اب سمندر میں تلاش کا دائرہ کار تقریباً 27 ہزار نوٹیكل میل بڑھا دیا گیا ہے۔

ملائیشیا ایئر لائنز کی پرواز نمبر ایم -370 کا لاپتہ طیارے ہفتے کی صبح کوالالمپور سے بیجنگ کے لئے روانہ ہوا تھا. لاپتہ ہونے کے پہلے ملائیشیا اور جنوبی ویت نام کے درمیان لینڈ کی خلیج سے قریب 35،000 فٹ کی اونچائی پر حکام کے ساتھ آخری رابطہ ہوا تھا.

اس سے قبل ملائیشیا کی فضائیہ کے سربراہ نے اس بیان کی تردید کی ہے کہ ملائیشیا کی فضائی کمپنی کا لاپتہ ہونے والا مسافر طیارہ اپنے متعین کردہ راستے سے ہٹ کر آبنائے ملکّا کی جانب پرواز کر رہا تھا۔

رود ضالی داؤد نے کہا کہ مقامی میڈیا میں شائع ہونے والی اطلاعات درست نہیں ہیں تاہم اس بات کا امکان ضرور ہے کہ طیارے نے اپنا راستہ واپسی کے لیے تبدیل کیا ہو۔

مقامی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ملائیشیا کی فضائیہ نے کہا تھا کہ ریڈار سے حاصل ہونے والی معلومات سے پتہ چلا ہے کہ سنیچر کو لاپتہ ہونے والے ملائیشیا ائیر لائن کے مسافر طیارے نے اپنے مقررہ راستے سے ہٹ کر مغرب کی جانب رخ کیا تھا۔ ان کے مطابق مسافر بردار طیارے کا شہری ہوا بازی کے ادارے سے آخری رابطہ ملائیشیا اور ویتنام کے درمیان ہوا تھا تاہم فضائی فوج کے ذرائع نے بتایا تھا کہ ریکارڈ سے پتہ چلا ہے کہ جہاز نے مڑنا شروع کر دیا تھا اور غالباً اس کا رخ جزیرہ نما مالے کی جانب تھا۔
 

image

یہ جہاز ملائیشیا سے پرواز کرنے کے ایک گھنٹے بعد لاپتہ ہو گیا تھا اور چار روز سے جاری بین الملکی تلاش کے دوران سمندر میں کہیں بھی کوئی ملبہ نہیں ملا۔

ادھر ویتنام میں حکام کا کہنا ہے کہ ملائیشیا سے مخصوص معلومات کے حصول تک وہ طیارے کی تلاش کے حوالے سے سرگرمیاں کم کر رہے ہیں۔

اس سے قبل طیارے کے تصدیق شدہ آخری مقام کے حوالے سے متضاد رپورٹیں سامنے آئیں تھیں۔

اس سے قبل ملائشیا کی پولیس نے بتایا تھا کہ لاپتہ مسافر جہاز پر جو شخص چوری شدہ پاسپورٹ پر سفر کر رہا تھا وہ ایرانی تھا اور اس کا کسی دہشت گرد تنظیم کے ساتھ تعلق نہیں تھا۔
YOU MAY ALSO LIKE:

Satellite images of possible debris from the missing Malaysia Airlines flight MH370 have been released on a Chinese government website. The three images show what appear to be large, floating objects in the South China Sea. Previous sightings of possible debris have proved fruitless.