نیند رات بھر کیوں نہیں آتی؟

(Zulfiqar Ali Bukhari, Islamabad)

بہت عرصہ ہوا کسی فلم میں ایک گیت سنا تھا جس میں ہیرو اپنے محبت کے اظہار کے ساتھ ساتھ نیند کے نہ آنے کا بھی شکوہ کرتا ہے ۔اُس وقت تو میں نے محض گیت سے لطف واندوز ہونا تھا تو ہو لیا تھا مگر اب زندگی کے ماہ و سال کے گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ آگاہی بھی حاصل ہوئی ہے کہ نیند نہ آنے بھی ایک بیماری ہے اور ہم میں اکثر اسکا شکار ہیں۔نیند کے حوالے سے ایک شعر اکثر میرے دماغ میں گونجتا رہتا ہے۔

کوئی امید بر نظر نہیں آتی،کوئی صورت نظر نہیں آتی
موت کا دن متعین ہے ،نیند رات بھر کیوں نہیں آتی

’’کیوں ‘‘ کے جواب میں بہت سی باتیں کہی جا سکتی ہے جس پر میں کچھ وجوبات آپ سے بیان بھی کروں گا لیکن فی الحال آپکو یہ بتانا چاہوں گا کہ انسومنیاInsomnia جس کامطلب ــ ’’نیند کا نہ آناہے‘‘ ایک ایسی بیماری ہے جو کہ دنیا کے تمام ترخطوں میں پائی جاتی ہے۔اس بیماری سے جڑے ہوئے تمام تر افراد نیند نہ آنے کے مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔دوسری طرف یہ بھی عجیب بات ہے کہ بعض افراد کو ضرورت سے زیادہ نیند آتی ہے اور وہ اپنی اس عادت کے باعث خود بھی پریشان رہتے ہیں اور اکثر ایسے افراد اپنے خاص دوستوں اور خاندان کے افراد سے صلواتیں سنتے رہتے ہیں۔لیکن دوسری طرف ایسے افراد کی بھی کمی نہیں ہے جو نیندنہ آنے کے مسئلے کا شکار ہوتے ہیں۔قدرت نے ہر چیز میں توازن رکھا ہے اس لئے کسی چیز کی زیادتی اچھی بات ہے نہ کسی چیز کی کمی۔اعتدال پسندی کا راستہ ہی بہترین ہے۔

عام طور پر مندرجہ ذیل وجوہات اس بیماری کی بنیادی وجہ ہوتے ہیں۔

جب ہم دفتری کام کاج یا گھریلو سرگرمیوں کو رات گئے تک جاری رکھنے لگیں۔
اپنی پریشانیوں اور زندگی کے مسائل پر حد سے زیادہ سوچنا شروع کردیں۔
کوئی پریشانی /مسئلہ صرف اپنی ذات تک محد ود کر لیں تو ذہنی خلفشار کی وجہ سے بھی نیند ہم سے دور ہوجاتی ہے۔
محبت میں ناکامی یا امتحان دینے کے بعد اپنے نتیجے کے بارے میں خوف کا شکار ہونا بھی نیند اُڑا دیتا ہے۔
فراغت کے سبب دن میں ضرورت سے زیادہ سونا یا پھر وقت بے وقت سونے کا عمل بھی نیند کی کمی کا سبب بنتا ہے۔
ذہنی خوف یا پریشانی یا پھر بُرے خواب جس سے ہم نیند سے جا گ اُٹھیں یہ بھی اس بیماری کی طرف لے جاتی ہے۔
بیماری یا کسی دیگر وجہ کی بنا پر رات کو بار بار جاگنا بھی اس بیماری کاسبب بن سکتا ہے۔
صبح سویرے جاگنے کی وجہ سے وقت پر نہ سونا یا دیر تک جاگ کر صبح کا انتظار کا عمل بھی اس بیماری میں ہمیں ملوث کر تا ہے۔
کسی بھی وجہ ،بیماری یا خوف کی وجہ سے ہم سونا نہ چاہ رہے ہوں تو بھی یہ بیماری ہمیں لاحق ہو سکتی ہے۔

انسومنیا کی بیماری اکثر انسان کے لئے زیادہ خطرناک ثابت نہیں ہوتی ہیں ، کیونکہ یہ مختلف عوامل کی بناء پر ہوتی ہے اور بسا اوقات کوشش یا علاج کی بدولت دور بھی ہوجاتی ہے۔ لیکن سب سے اہم دائمی انسومنیا کی بیماری ہے جو کہ ایک بار لاحق ہو جائے تو پھر ہمیشہ کے لئے ہمارے ساتھ رہتی ہے۔اس کی بنیادی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ کوئی فرد کسی بھی طرح کا نشہ کیفین،الکوحل اورنکوٹین جیسی چیزوں کا استعمال کرنے کا عادی ہو یا پھر رہ چکا ہو،کسی نفسیاتی مسئلے کا شکارہو اور پھر بھی کسی ماہرنفسیات کے پاس علاج کروانے نہ جائے،کوئی دکھ،ذہنی دباؤ جو ہمیں اندر سے پوری طرح خوش نہ ہونے دے رہا ہو،کام کی روٹین ایسی ہو کہ ہم بالکل یا ٹھیک سے سو نہ پا رہے ہوں،خوفناک خواب جو ہماری نیند حرام کر رہے ہوں،لیکن اس کے علاوہ جو سب سے اہم چیز اس بیماری کی جانب ہمیں لے کر جاتی ہے وہ ہے ہمارا کسی بھی بات کو سر پر سوار کر لینا ہے اورہر پل مسلسل اس کے بارے میں سوچنا ہے جو کہ رفتہ رفتہ ہمارے دماغ کے اعصاب کو متاثر کر تاہے اور ایک دن ایسا آتا ہے جب ہماری نیند بالکل ختم ہو جاتی ہے۔

اس بات سے تو ہم سب ہی بخوبی واقف ہیں کہ ہر کام میں اعتدال پسندی ہی بہترین عمل ہوتا ہے۔اس لئے اگر ہم اس بیماری سے دوررہنا چاہتے ہیں تو چند احتیاطی تدابیر پر ہمیں عمل کرنا ہوگا جو ہمیں ا س بیماری سے بہت حد تک دور رکھ سکتا ہے۔

ہر کام کا ایک وقت مقرر کر لیں اور کچھی بھی ہو اس سے زیادہ وقت کسی بھی چیز کے لئے وقف نہ کریں۔

رات کا کھانا سونے سے ہو سکے تو چند گھنٹے قبل کھا لیا کریں تاکہ معدہ پر وہ بوجھ نہ ڈالے اور آپ سکون کی نیند سو سکیں،ایسا نہ کرنے کی صورت میں معدے کھانے کو ہضم نہیں کر پائے گا اور وہ آپکے معدے پر بوجھ کا سبب بنے گا اور آپ سو نہیں پائیں گے۔

سونے سے قبل اگر آپ کسی ذہنی الجھن کا شکار ہیں یا پھر مزاج برہم ہیں تو کسی ایسی سرگرمی میں مشغول ہو جائیں جو آپکو خوشی دے جس سے آپ کے اعصاب پر سکون ہو سکیں تاکہ آپ بہترین نیند لے سکیں۔

اچھا بستر بھی ہماری نیند کے لئے بہت ضروری ہے ،آرام دہ بستر پر لیٹ کر ہی ہم پرسکون ہو کر سو سکتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اس وقت فضول سوچوں میں گم نہ ہو جائیں وگرنہ نیند ہم سے یوں ہی روٹھ سکتی ہے جیسے ہمارا محبوب ہمارے کسی خلاف توقع ردعمل سے خفا سا ہو جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انسان اپنی تمام تر پریشانیوں کو دماغ سے نکال کر کاغذ پر منتقل کر دے یعنی تمام تر پریشانیوں اور دکھ کو لکھ لیں تو کافی حد تک ہم ذہنی خلفشار ہونے سے بچ سکتے ہیں اور کام کاج کی فہرست بنا کر ہم اس بات سے کافی حد تک چھٹکارہ پاسکتے ہیں کہ اب ہمیں کیا کرنا ہے؟کیونکہ تحریر کی شکل میں ہمارے پاس ہمارے کام کاج کی تمام تر تفصیل سامنے ہوگی اور ہمیں زیادہ سوچنا نہیں پڑے گا۔

وقت کے ساتھ ساتھ ہماری نیند کی مقدار کم ہوتی رہتی ہے مگر ایک صحت مند شخص کے لئے تقریباََ آٹھ گھنٹے کی نیند بے حد ضروری ہے۔عموماََ عمررسیدہ افراد نیند کی کمی کا شکار ہوجاتے ہیں لیکن پھر بھی ضروری ہے جہاں تک ممکن ہو سکے وہ بھی مناسب حد تک اس کمی کو پورا کرتے رہیں۔انسومنیا کی بیمارہی ہو یا کوئی بھی دیگر بیماری ہو جب تک ہم اسے اہمیت نہیں دیتے ہیں وہ ہمارے لئے خطرناک ثابت ہوتی ہے،کوئی بھی بیماری ایسی نہیں ہے جس کا علاج قدرت نے نہ رکھا ہو،بس بات صرف یہ ہوتی ہے کہ ہم اس کے توڑ کا علاج کب شروع کرتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے سونے جاگنے بلکہ زندگی گزارنے کے لئے کسی ایک لائحہ عمل پر عمل پیرا ہوں تاکہ ہم پرسکون ہو کر زندگی گزر سکیں،یہ بات یہاں بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ جب بھی ہم فطرت کے خلاف جاتے ہیں تو ہمارے لئے بے پناہ مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔زندگی میں کچھ بھی ہو بڑے حوصلے اور ہمت سے کام لے کر انکا سامنا کرنا چاہیے اور ہر پل خوش رہنا چاہیے،قسمت میں لکھا اپنی جگہ درست ہے مگر انسان کو اپنی جانب سے ہر ممکن بہتری کی سعی کرنی چاہیے۔
Disclaimer: All information is provided here only for general health education. Please consult your health physician regarding any treatment of health issues.
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
20 Feb, 2014 Total Views: 3056 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do NOT preach, I only share what I learn and feel!

I'm an original, creative Thinker, Teacher
.. View More

Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 219 Articles with 120692 views »
Reviews & Comments
Bukhari Sahib! very nice & informatic Article .
By: Usman Zaib Durrani, Lahore on Dec, 20 2015
Reply Reply
0 Like
Thanks lot for appreciation.
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on Mar, 18 2017
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB