ہزاروں سال پرانے فرعون کی باقیات دریافت

مصر میں ماہرین ِ آثار ِقدیمہ نے 3,600 برس پرانے ایک فرعون کی باقیات دریافت کی ہیں جو اس زمانے میں مصر پر حکمرانی کرتا تھا۔ سینیبکے نامی فرعون کا ڈھانچہ مصر میں قاہرہ سے لگ بھگ 500 کلومیٹر دور ایک علاقے میں دریافت ہوا۔

مصر میں آثار ِقدیمہ کے ادارے کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق یہ ڈھانچہ یونیورسٹی آف پینسلوینیا سے منسلک ماہرین نے دریافت کیا جو مصر میں حکومت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
 

image


مصری محکمہ ِ آثار ِ قدیمہ کے مطابق مصری فرعون سینیبکے کا نام پرانے شاہی پتھروں پر لکھا ہوا پایا گیا تھا۔

مصر کے محکمہ ِ آثار ِ قدیمہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے ساتھ جو تصاویر شائع کی گئی ہیں اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ جس تابوت میں مصری فرعون کی لاش موجود تھی وہ ٹوٹ پھوٹ چکا تھا۔

تابوت پتھر کا تھا اور تابوت کی دیواروں پر تصاویر بنائی گئی تھیں۔
 

image

ان تصویروں میں یہ دکھائی دیتا ہے کہ فرعون کی لاش کو سفید چادر پر ڈالا گیا تھا۔ بیان کے مطابق، ’فرعون کی لاش کو ممی میں ڈھالا گیا تھا مگر قدیم زمانے میں لاش چرانے والے چوروں نے لاش کو نکال لیا تھا۔ لاش کے ساتھ ایسا کوئی سامان نہیں برآمد ہوا جو کہ اس زمانے میں مصر میں فرعونوں کو دفناتے ہوئے رکھا جاتا تھا جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ فرعون کی لاش کو چرا لیا گیا تھا‘۔
YOU MAY ALSO LIKE:

The tomb of an unknown ruler has been discovered, which could help archaeologists find more lost Ancient Egyptian pharaohs. Experts identified the tomb of Senebkay by an inscription on the wall of his burial chamber, which was unearthed at the Abydos archaeological site, near the city of Sohag, Egypt.