اردو ہے جس کا نام

(maqsood hasni, kasur)

تحقیق کاروں کی تحقیقی کاوشوں کو نظر انداز کرنا‘ انھیں یکسر مسترد کر دینا یا پھر ان کی تحسین نہ کرنا ناانصافی کے مترادف ہے۔ وہ اپنی ان تحقیقی کوششوں کے حوالہ سے آنے والوں کے لیے تلاش کی ایک سنہری لکیر ہیں۔ انسان ابتدا سے کاءنات کے سربستہ رازوں کو کھوجنے اور تلاشنے میں مصروف ہے اور کھوج کے سمندر میں سے کچھ ناکچھ ضرور نکال لاتا ہے۔ تمام تر کوششوں کے باوجود حتمی نتاءج ابھی تک انسان کے ہاتھ نہیں لگ سکے۔ اس طرح دوبارہ تلاش re- search ریسرچ کے عمل میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ ریسرچ کا عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک نئے سراغ ملنا ختم نہیں ہو جاتے۔

ہمارے ہاں خصوصا تعلیم کو ترقی دینے کے حوالہ سےہیشہ رولا ڈالا جاتا رہا ہے لیکن عملی طور پر تعلیم کو مشکل بلکہ نامکن ترین بنانے کی کوشش کی گئ ہے اور میں اس پر گفتگو کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔ جامعات میں زیادہ تر جعلی کام ہوا ہے۔ نقالوں کو اعلی درجے کی اسناد دی گئ ہیں۔ سرکاری دفاتر کی طرح اپنا بندہ ہے‘ اصطلاح کو رواج ملا ہے۔ اگر کہیں اصلی کام ہوا ہے تو وہ پرانی الماریوں کی زینت بنا ہے۔ اسے عملی شکل دینے کی کوشش منفی صفر رہی ہے۔

زبان سے محبت کا میرے سمیت ہر کوئ دعوی کرتا ہے لیکن پناہ انگریزی کے چرنوں میں لیتا ہے۔ اردو زبان کی ابتدا وغرہ کے حوالہ سے پہلے سے کہی گئ باتوں کو لفظوں کی ہیر پھیر کے ساتھ دہرایا جاتا ہے۔ تعلیم اور تحیقق میں کچھ نہ ہونے کا واضح ثبوت یہ ہے کہ پاکستان نے ترقی نہیں کی۔ بحرانوں میں ہر چند اضافہ ہی ہوا ہے۔ کوئ کہتا ہے یہ بلبن کے عہد کی پیداوار ہے۔ کسی کے نزدیک یہ مغلیہ عہد کا کارنامہ ہے۔ کسی کے نزدیک یہ ہند آریائ زبان ہے۔ آریہ بلبن کے عہد میں ہندوستان میں نہیں آءے۔ آریہ3200 سے 3500 ہندستان میں آءے۔ کیا اس سے پہلے لوگ گونگے تھے؛ کوئ بولی نہیں بولتے تھے؟ ان کی کوئ مرکزی زبان نہ تھی؟ وہ کسی ناکسی زبان میں بات چیت کرتے ہوں گے۔ کوئ ناکوئ مرکزی بولی ضرور رہی ہو گی۔
آخر وہ کون زبان تھی؟

یہ سوال بڑی اہمیت رکھتا ہے اور اس کا جواب کھوجنا بڑاہی ضروری ہے۔ آج تک مسلہ حل نہیں ہو سکا اور روز اول کی دہلیز پر کھڑا ہے۔
گویا ابھی تک کوئ لفظ ہند کی جڑ تک نہیں پہنچ سکا۔
یہ لفظ حامی ہے اور کہیں باہر سے نہیں آیا بلکہ یہاں سے باہر مختلف مفاہیم میں برامد ہوا ہے۔
ہند حضرت نوح کے پوتے یعنی حضرت حام کے بیٹے کا نام تھا اور وہ برصعیر میں اقامت رکھتے تھے۔ اسی طرح ستان لاحقہ فارسی سے نہیں ہے۔ یہ لفظ سنتان تھا اور اسی سے لاحقہ ستان بہت بعد میں وجود پذیر ہوا۔ اصل لفظ ہند+سنتان تھا۔ اسی سےہندوستان بنا۔ لفظ ہند کے روپ ہندو‘ ہندی‘ ہندوی‘ ہندوستان‘ ہندوستانی وغیرہ مستعمل ہوتے گءے تاہم زبان کا آغاز حضرت ہند بن حام بن نوح سے نہیں ہوا ہاں دوسرے ناموں کی طرح ہندی ہندوی رواج میں آیا۔ یہ زبان حضرت ہند بن حام بن نوح سے پہلے بھی لوگوں کی زبان تھی اور یہ سلسلہ اماں حوا والے آدم سے بھی پہلے تک جاتا ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس زبان کو کئ نام ملتے رہے اور یہ زبانوں میں ایسی کوئ نئ بات نہیں۔ لفظ اردو ہو سکتا ہے ترکی یا انگریزی سے وارد ہوا ہو۔ استاد غالب نے اپنی اردو شاعری میں اسے ریختہ ہی کہا ہے۔ اردو شاعری کے مشاعرے کے لیے لفظ مراختہ عام بول چال میں تھا۔

یہ غلط فہمی یقین میں بدل گئ ہے کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے۔ یہ غلط فہمی کارستانی انگریز کی ہے۔ وہ اہل ہند کا اتفاق ختم کرنا چاہتا تھا۔ زبان کی تقسیم سے بڑھ کوئ کارگر ہتھیار نہ تھا۔ وہ کامیاب بھی رہا۔ ہم اہل ہند اس کی چال میں گءے اور آج تک توتے کی طرح رٹ رہے ہیں کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے۔ تقسیم کے حوالہ سے یہی پنجابی کے ساتھ ہوا۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ زبان اسی کی ہے جو اسے استعمال میں لاتا ہے۔ زبان کا کوئ علاقہ کوئ نسل یا رنگ نہیں ہوتا۔ زبان ان تمام چیزوں سے بالاتر ہے۔ زبان شخص سے نتھی ہے اور وہ اس کی انگلی پکڑ کر چلتی ہے۔ باور رہنا چاہءے یہ انسان کی ضرورت ہے لیکن انسان زبان کی ضرورت ہے۔ زبان شخص کی مرضی اور منشا کے بغیر ایک قدم نہیں چلتی۔ اسے تو اس کے آلات نطق اور معاون آلت نطق کے قدموں کو بوسہ دینا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں کیا مغرب کے غیر انگریزی ممالک انگریزی استعمال میں لاتے ہیں۔ انگریزی ان کی انگلی پکڑ کر چلتی ہے۔ انکریزی کے استعمال کے حوالہ سے انھیں انگریز کہا جاءے گا‘ بالکل نہیں۔ اردو بھگوت گیتا ملتی ہے باءبل اور اس سے متعلق لٹریچر ملتا ہے۔ کیا یہ سب غیراسلامی اردو ہے۔ رومن میں لکھی گئ تحریروں کو کوئ بھی انگریزی ماننے کے لیے تیار نہیں ہو سکتا۔

زبان کےاستغمال میں لانے کا ڈھنگ طور طریقہ لہجہ انداز مزاج ماحول نظریہ اصول معاش و معاشرت وغیرہ الگ سے ہو سکتے ہیں۔ مونث مذکر واحد جمع کے اطوار مختلف ہو سکتے ہیں۔ کیا ان باتوں کو دیکھ کر اردو زبان کو الگ الگ خانوں میں بانٹا جا سکتا ہے؟

اس زبان میں مختلف اسلامی مذہبوں کا لٹریچر موجود ہے۔ کیا اس حوالہ سے دہابی اردو بریلوی اردو شعیہ اردو دیوبندی اردو ندوی اردو خانوں میں بانٹا جا سکتا ہے؟

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
04 Dec, 2013 Total Views: 145 Print Article Print
About the Author: maqsood hasni

Read More Articles by maqsood hasni: 170 Articles with 28573 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Urdu hai jiska Naam - Find latest Urdu articles & Columns at Hamariweb.com. Read Urdu hai jiska Naam and other miscellaneous Articles and Columns in Urdu & English. You can search this page as Urdu hai jiska Naam.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB