مذاکرہ بہ عنوان - نعتمیںاحتیاطی رویّے اور موضوع روایتیں

(Dr. Muhammed Husain Mushahid Razvi, Malegaon)

(آل انڈیا ریڈیو(آکاش وانی) جلگاؤں پر16 نومبر 2012ء کوجاوید انصاری صاحب کے ساتھ ڈاکٹر محمد حسین مشاہدرضوی کی

"نعت میں احتیاطی رویےاور موضوع روایتیں"عنوان کے تحت ہونے والی گفتگو کا تحریری روپ)

جاویدانصاری: سب سے پہلے تو آپ یہ بتائیںکہ نعت کسے کہتے ہیں اور نعت کی تعریف کیا ہے؟

مشاہدؔرضوی: یوں تو عام طور پر نعت اس نظم کو کہا جاتا ہے جسمیں اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف بیان کی جاتی ہے۔ویسےمیرے نزدیک ہر وہ ادب پارہ جو اپنے قاری یا سامع کو سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلمکی طرف متوجہ اور قریب کرے وہ نعت ہے چاہے وہ نظمیہ اظہار ہو یا نثری۔

جاویدانصاری: عموماً نظم کے فارم میں لکھاجانا والاکلام نعت کہلاتا ہے ، آپ نے نثر ی اظہار کو بھی نعت کہا ہے تو نثری نعت کےزمرے میں آپ کن کو شمار کرتے ہیں؟

مشاہدؔرضوی: نثری نعت کی سب سے بڑی اورعمدہ مثال قرآن کریمہے کہ جس میں جگہ جگہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر جمیل ملتا ہے کہیں آپ کومزمل ومدثر ، کہیں طٰہٰ و یٰسین، کہیں سراج منیر ، کہیں منذر و نذیر کہہ کر خطاب کیاگیا ہے ، آپ ﷺ کے شمائل و فضائل سے قرآن کریم کا ورق ورق معمورہے۔قرآن نہ صرف نثری نعت کا بہترین شاہ کار ہے بل کہ کامل و اکمل اور اولین درس گاہِنعت بھی ہے ناچیز نے اپنے ایک شعر میں کہا ہے کہ ؎

میں نے تفسیر قرآن میں سیرت سرور پڑھی

ہر ورق پر نقش ہے نعتِ شہنشاہ امم

ا س کے علاوہ باب فضائل کی حدیثیں اور سیرت کی کتابیںبھی نثری نعت کے نمونے قرار دیے جاسکتے ہیں ۔ وہ نعت جو نظم کے فارم میں لکھی جاتیہے اس میں بیان کیے جانے والے موضوعات تو قرآن و حدیث اور سیرت ہی سے ماخوذ ہوتے ہیں۔

جاویدانصاری: ماشاء اللہ ! بہت خوب ! آپ خود بھی نعتیہ شاعریکرتے ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ نعتیہ ادب پر آپ کو پی ایچ ڈی کا اعزازبھی حاصل ہے۔ کن امور نے آپ کو اس کام کی طرف راغب کیا؟

مشاہدؔرضوی: گھریلو ماحول کے سبب خصوصاً والدین کی تربیت سےبچپن ہی سے کانوں میں نعتیہ نغمات گونجتے رہے جن میں عموماً امام احمد رضا بریلوی ،علامہ حسن رضا بریلوی ،علامہ جمیلِ قادری، مفتیِ اعظم ہند ، مولانا سعید اعجاز کامٹوی، سید نظمی میاں مارہروی ، اجمل سلطان پوری ، بیکل اتساہی ،الطاف سلطان پوری اور کلیمشاہدوی وغیرہ کی نعتیں کثرت سے پڑھنے سننے میں آئیں۔ دسویں جماعت میں ناچیز نے اپنیزندگی کی پہلی نعت لکھی جو کہ امام احمدرضا بریلوی کی مشہور نعت… زہے عزت و اعتلاےمحمد (ﷺ) کی زمین پر ہے جس کا مطلع یوں ہے کہ ؎

ہے بہتر وظیفہ ثناے محمد (ﷺ)

خدا خود ہے مدحت سراے محمد (ﷺ)

اس کے بعد فضل الٰہی اور نبیِ کریم صلی اللہ علیہوسلم کے لطف خاص نے نعت گوئی کی طرف راغب کیا، ایم اے میں رہتے ہوئے NETنیشنل ایجوکیشنل ٹیلنٹ کے مشکل ترین امتحان میں جب کامیابی ملی تو پیایچ ڈی کا خیال جو پہلے ہی سے تھا مزید پختہ ہوا اور نعتیہ ادب سے چوں کہ بچپن ہی سےلگاو تھا لہٰذا یہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیضان ہے کہ تین سال کی قلیل مدتمیں مفتیِ اعظم علامہ مصطفی رضا نوری بریلوی کی نعتیہ شاعری پر محترمہ ڈاکٹر شرف النہارصاحبہکی نگرانی میں مراٹھواڑہ یونی ورسٹی اورنگ آباد سے ڈگری ایوارڈ ہوئی۔

جاویدانصاری: محترم! نعت جتنی مقدس اور پاکیزہصنف ہے اتنی ہی مشکل ترین بھی ۔ آپ کے خیال میں نعت نگار کے لیے سب سے اہم اور قابلتوجہ پہلو کیا ہے؟

مشاہدؔرضوی: نعت میں سب سے اہم اور قابل توجہپہلو عبد اور معبود کے فرق کو ملحوظ رکھنا ہے کہ کہیں اظہارِ عقیدت میں غلو تو نہیںہورہا ہے۔ ہماری اردو شاعری میں امام احمدرضا بریلوی نے جو ممتاز مقام حاصل کیا ہےوہ آفاقیت کا حامل ہے نعت سے متعلق انھیں کا قول سماعت کرتے چلیں لکھتے ہیں کہ:’’حقیقتاً نعت شریف لکھنا نہایت مشکل ہے،جس کو لوگ آسان سمجھتے ہیں اس میں تلوارکی دھار پر چلنا ہے اگر بڑھتا ہے تو الوہیت میں پہو نچ جاتاہے اور کمی کرتا ہے تو تنقیصہوتی ہے البتہ حمد آسان ہے کہ اس میں راستہ صاف ہے جتناچاہے بڑھ سکتا ہے، غرض ایکجانب اصلاً حد نہیں اور نعت شریف میں دونوں جانب سخت پابندی ہے۔‘‘

حضرت امام احمدرضا کے اس قول کی روشنی میں یہی کہاجاسکتا ہے کہ نعت اس ذات گرامی ﷺکی مدحت سرائی کانام ہے جس کاادب و احترام اللہ نےاپنے مقدس کلام میں جابجا فرمایا ہے ، اس لیے نعت نگار کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپناشہبازِ فکر اس وادی میں سنبھل سنبھل کر حد درجہ احتیاط کے ساتھ پرواز کرے اگر مبالغہہوا تو شرک ہوسکتا ہے اور کمی ہوئی تو شانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں توہینکی شمشیرِبے نیام شاعر کی گردن ناپ دے گی۔ اس لیے نعت لکھتے وقت بڑے محتاط رویے اورادب شناسی کی ضرورت ہے۔ موضوع کا تقدس شاعر کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ کسیخیال کو فنی پیکر دینے سے پہلے نپے تلے الفاظ میں حسن خطاب اور حسن بیان کے ساتھ اسےسوبار احتیاط کی چھلنی میں چھان لے ، یہاں بے ساختہ تیشۂ قلم چلا کر کچھ بھی نہیںلکھا جاسکتا نعت میں وہی لکھا جاسکتا ہے جو عبد و معبود کے فرق ، انبیاے کرام کے مقامو مرتبہ ، قرآن و حدیث سے ماخوذ مستند اور معتبر موضوعات ہوں ۔ نعت میں بے جاخیالآرائیوں، مبالغہ آمیزی ، افراط و تفریط اور موضوع ومن گھڑت روایتوں کی ذرہ بھر گنجایشنہیں۔ مختصر یہ کہ نعت ’’اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں‘‘سے عبارت ہے۔

ہماری اردو نعتیہ شاعری کا تنقیدی جائز ہ لینے کےبعد یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جہاں بیش تر شعرا نے نعت میں احتیاطی رویوں کو قائم رکھتے ہوئےمبالغہ آمیزی سے پاک شاعری کی ہے وہیں بعض کے یہاں غیر محتاط انداز بھی در آیا ہے۔

جاویدانصاری: جیسا کہ ابھی آپ نے کہا کہ بعض شاعروں کے یہاںغیر محتاط انداز بھی در آیا ہے ذرا ان کی نشان دہی کردیں تو بہتر ہوگا۔

مشاہدؔرضوی: جی ہاں! شرعی اعتبار سے قابل گرفت اور بعض موضوعروایتوں پر مبنی اشعار کا تجزیہ کرتے ہوئے بات آگے بڑھاتے ہیں۔ مشہور نعت گو شاعراستاذالاساتذہامیرؔ مینائی کے چند اشعار ملاحظہ ہوں ؎

ظاہر ہے لفظِ اَحد و احمدِ بے میم
بے میم ہوئے عین خدا احمدِ مختار

ظاہر ہے لفظِ ’’احد‘‘ حقیقت میں بے میم ہے یا لفظِ’’احمد ‘‘ سے میم کو جدا کردیں تو لفظ’’ احد‘‘ رہ جاتا ہے ۔ جس سے امیرؔ مینائی یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ’’ احد ‘‘ و’’احمد‘‘ ایک ہیں اور’’ احمدِ مختار‘‘ معاذاللہ ’’عین خدا‘‘ ہیں ۔ آپ مشکل سے یقین کریں گے کہ یہ امیرؔ مینائی جیسے ہوش مند شاعر کا شعر ہے۔ مزید دیکھیں ؎

قرآن ہے خورشید تو نجم صحیفے
اللہ گہر اور صدف احمدِ مختار

مصرعۂ ثانی شرعاً قابلِ گرفت اور لائقِ اعتراضہے،کیوں کہ صدف سے گہر (موتی) پیدا ہوتا ہے اورامیرؔ مینائی کے اس شعر کی روشنی میں حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم صدفہوئے اور اللہ تعالیٰ جل شانہٗ گہر تو غور فرمائیےکہ معنی و مفہوم کہاںسے کہاں تک جا پہنچا ہے ؟موصوف کے اس شعر سے بھی صَرفِ نظر نہیںکیا جاسکتاکہ ؎

طور کا جلوہ تھا جلوہ آپ کا

لن ترانی تھی صداے مصطفیٰ

شاعر کے نزدیک طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نےجو تجلی دیکھی تھی وہ جلوۂ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھا، اور لن ترانی بھی حضورصلی اللہ علیہ وسلم ہی نے کہا تھا(گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے پردے میں خودہی لن ترانی فرما رہے تھے، معاذ اللہ) یہ عقیدہ بھی توحیدکے یک سر منافی اور شرعاًنادرست ہے ۔ اسی طرح امیرؔ مینائی کا ہی ایکشعر دیکھیں ؎

طور وہ روضہ ہے ، میں صورتِ موسیٰ لیکن
اَرِ نی مُنہ سے نکالوں جو مزار آئے نظر

اس شعر میں موصوف کہہ رہے ہیں کہ روضۂ رسول صلیاللہ علیہ وسلم کوہِ طور ہے اور میں بہ صورتِ موسیٰ (علیہ السلام) … جب مجھے روضۂرسول صلی اللہ علیہ وسلم نظر آجائے گا تو میں ربِّ ارِنی کہوں گا۔ یہاں نبیِ کونینصلی اللہ علیہ وسلم کو ’’رب‘‘ کہنا نعت گوئی کا منصب نہیں بل کہ یہ آدابِ نعت اورلوازماتِ نعت سے بھٹک جانا ہے۔

میں نے جن اشعار کو بیان کیا ہے ان سے صاف ظاہرہوتا ہے کہ امیر ؔمینائی سے لغزشیں ہوئی ہیں کیوںکہ ان اشعار میںحضور احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات کا بیان الوہیت کی صفات سے متصفکرکے کیا گیا ہے جس سے اخذ ہونے والا مفہوم یہی بتاتا ہے کہ معاذ اللہ ثم معاذاللہحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خدا ہیں ۔جب کہ آقا ے کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نےاس بات کی سخت ممانعت فرمائی ہے کہ ہرگز ہرگز تم مجھ کو خدا نہ بناناچناںچہ ارشاد فرماتےہیں :

’’مجھے حد سے نہ بڑھاؤ جیسا کہ نصاریٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھکیا میںتو خدا کا بندہ اور اسکا رسول ہوں مجھے صرف خدا کا بندہ اور اسکا رسول ہی کہو۔‘‘

اس طرح کے معاملات مشہور اور عظیم نعت گو شاعر محسنؔ کاکوروی کے کلام میں بھی ملتے ہیں، آپ کا کلامملاحظہ ہو ؎

عینیت سے غیرِ رب کو رب سے
غیریتِ عین کو عرب سے

ذاتِ احمد تھی یا خدا تھا
سایا کیا میم تک جدا تھا

ان شعروں میں ’’احمد‘‘ کے ’’میم‘ ‘ کو ہٹا کر’’اَحد‘‘ اور ’’عرب‘‘ سے ’’عین‘‘ کو لفظ سے جدا کرکے ’’رب ‘‘ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔جنسے شرعی سقم مترشح ہوتا ہے۔

مشہور نعت گو حضرتکرامت علی شہیدیؔ کا ایک شعر سنیں ؎

خدا منہ چوم لیتا ہے شہیدیؔ کس محبت سے
زباں پر میرے جس دم نام آتا ہے محمد کا

یہ شعر عاشقِ رسول (ﷺ) حضرت شہیدی ؔکا سرکارِ دوعالمصلی اللہ علیہ وسلم کے تئیں والہانہ وارفتگی کا اشاریہ ہے ، جس کے پُرخلوص ہونے سےانکار محال ہے لیکن ’’منہ چومنا‘‘… ’’بوسا لینا‘‘ یہ سب انسانی افعال ہیں جن سے سبحانالسبوح و القدوس جل شانہٗ پاک و منزہ ہے۔ اسی طرح حضرت بیدمؔ شاہ وارثی کا یہ شعر بھی ملاحظہ کریں کہ بیدم ؔ شاہ وارثی آدابِ نعت اور لوزماتِ نعت اور تقاضاےنعت کی حدود سے کتنی آگے نکل گئے ہیں اس شعر کو کسی بھی طرح سے نعت کا عمدہ شعر قرارنہیں دیا جاسکتا ۔ اس قسم کی بے جا خیال آرائیوں کی نعت میں چنداں گنجایش نہیں ؎

عشق کی ابتدا بھی تم عشق کی انتہا بھی تم
رہنے دو راز کھل گیا بندے بھی تم خدا بھی تم

امیرؔ مینائی، کرامت علی شہیدیؔ، بیدمؔ شاہ وارثی اور محسنؔ کاکوروی جیسے اساتذۂ نعت کے علم و فضل پر ذرّہ بھر بھی شبہ نہیں کیاجاسکتا اور نہ ہی ان حضرات کے عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخلصانہ تہہ داریوں کونشانۂ تنقید بنایا جاسکتا ہے۔اردو نعت گوئی کے فروغ و ارتقا اور استحکام میں ان کیخدمات یقینا آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں ان حضرات سے جوشِ عقیدت میں جو شرعیلغزشیں واقع ہوئی ہیں اگر وہ ان سے باخبر ہوجاتے تو ایسے مضامین کو اپنے کلام سے خارجکردیتے۔

عصرِ حاضرکے نعتیہ منظر نامے پر جو شعرا نعت کےمیدان میں اپنی فکری جولانیاں دکھا رہے ہیں اُن میں بھی کچھ کے کلام میں قابلِ گرفتموضوعات در آئے ہیں۔ مشہور نعت گو شاعر جناب اعظم چشتی کے اشعار بہ طورِ مثال سماعتکریں جنھوں نے حزم و احتیاط کی شرط کو برقرار نہ رکھتے ہوئے شاعری کی ہے ؎

انسانیت کو بخشی وہ معراج آپ نے
ہر آدمی سمجھنے لگا ہے ، خدا ہوں میں

عبد و معبود میں ہے نسبتِ تام
ہے محمد بھی احمدِ بے میم

عقل کہتی ہے مثلُنا کہیے
عشق بے تاب ہے خدا کہیے

آگئی سامنے آنکھوں کے اللہ کی صورت
آئے سرکار جو اللہ کی برہاں بن کر
(اعظم چشتی: نیرِ اعظم ، صفحاتِ متفرقہ)

ان اشعار میں عبد و معبود اور الوہیت و رسالت کےفرق کو ملحوظ نہ رکھتے ہوئے شرکیہ مضامین قلم بند ہوئے ہیں ان اشعار میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کوبندہ بھی اور خدا بھی بتایا گیا ہے جو کسی بھی لحاظ سے صحیح نہیںہے۔نعت گوئی میں حزم و احتیاط اور لغزشوں پر مبنی جن اشعار کی مثالیں میں نے دی ہیںان سے مقصود بزرگ نعت گو شعرا پر نشترِ تنقید چلانا نہیں ہے بل کہ اس محاکمہ سے مجھےاس خیال کو مزید تقویت پہنچانا ہے کہ یقینا نعت کے پلِ صراط پر چلنا نہایت مشکل کامہے ، اورنعت گوئی ’’اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کاکام نہیں ‘‘ سے عبارت ہے ۔

میدانِ نعت میں ان احتیاطی رویوں کے ساتھ متن اورلفظوں کے انتخاب میں بھی غایت درجہ توجہ کی ضرورت ہے۔ نعت میں انھیں مضامین کو نظمکیا جانا چاہیے جو مستند اور قرآن و حدیث کے متقاضی ہیں اور روایت و درایت کے اصولوںسے پایۂ ثبوت تک پہنچتے ہیں ۔ بابِ فضائل میں ضعیف روایتیں بھی قابل قبول ہیں۔ لیکنموضوعات اور من گھڑت واقعات و قصص اور روایتوں کو جلیل القدر محدثین و محققین اور علماےمحتاطین کے نزدیک کسی بھی قسم کا مقامِ اعتبار حاصل نہیں ہے۔ واضح ہونا چاہیے کہ نعتگوئی میں موضوع اور من گھڑت روایتوں کو بیان کرنا نعت گوئی کے اصولوں کے یک سر منافیہے۔ نعت نگار کے لیے ضروری ہے کہ وہ نعت گوئی سے پہلے صرف نعتیہ شاعری ہی نہیں بل کہمستند روایتوں پر مشتمل سیرتِ طیبہ کی کتب و رسائل کا بھی گہرائی سے مطالعہ کرے ۔

مشہور ناقد و شاعراحساندانشؔ اپنے شاگردوں کو مشورہ دیا کرتے تھے کہ:

’’صرف شاعری کا مطالعہ کافی نہیں ہے، اچھا اور ستھرا شعر کہنے کے لیے نثریادب بھی پڑھنا ضروری ہے ۔‘‘

میرے خیال میں تونعتیہ اشعار قلم بند کرنے کے لیےتو نثری ادب کی شرط کے ساتھ ساتھ دینی ادب کی شرط بھی لگانی ضروری ہے ۔چناں چہ نعتگو کو چاہیے کہ وہ سیرت و مغازی ، تاریخِ اسلام ، حیاتِ طیبہ ، اور فضائلِ سیدُ الانامصلی اللہ علیہ وسلم پر لکھی گئی مستند نثری کتب کا بھی مطالعہ کرے ۔ موضوع اور من گھڑتروایتوں پر مشتمل میلاد ناموں،معراج ناموں، مواعظ، خطبات اور حکایات سے دور رہے تاکہاس کاکلام ہر قسم کی بے اعتدالی ، بے راہ روی اور شرعی اسقام سے پاک و مبرا بن سکے۔ بلاتردد ہر قسم کے زباں زدِ خاص وعام غیر ثقہ اور وضعی مضامین،جعلی حکایات اور واقعاتکو نعت میں منظوم کرتے رہنا یہ کسی بھی طرح سے لائقِ تحسین نہیں ۔ ہاں! یہ بات بھیتسلیم ہے کہ دورِ متاخرین و متوسطین کے شعرا کا ماخذ عموماً سنی سنائی روایتوں اورغیر مستند واقعات و حکایات پر مشتمل کتابیں تھیں اور جن کے صحیح و سقیم کا اندازہ لگانابہ ہر کیف ! ایک مشکل امر تھا۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بعض علماے اعلام نے روایت و درایتکے اصولوں پر جانچ پرکھ کر ایسی جملہ موضوع روایتوں کو اپنی کتب و رسائل میں جمع کردیاہے۔ اردو نعتیہ شاعری میں کثرت سے نظم کیے جانے والے بعض ایسے مضامین کو اجمالاً سماعتکریں۔

شبِ معراج میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کےنعلین شریف سمیت عرشِ معلا پر تشریف لے جانے سے متعلق ایک روایت کو نعت گو شعرا نےکافی نظم کیا ہے ؛ اس کے مفہوم سے پہلے چند مشہور شعرا کے اشعار ملاحظہ کریں ؎

نعلینِ پا سے عرشِ معلا کو ہے شرَف
روح الامیں ہے غاشیہ بردارِ مصطفی
(بیدمؔ وارثی)

سُن کے جسکے نام کو جھک جائے عقیدت کی جبیں
جس کی نعلین کہ اتری نہ سرِ عرشِ بریں
(ادیبؔ راے پوری)

اس واقعہ کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ جب سرکارِ دوعالمصلی اللہ علیہ وسلم نے عرشِ الٰہی کی طرف عروج فرمایا تو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کےپیشِ نظر جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا گیا تھا :

’’اے موسیٰ بے شک میں تیرا رب ہوں تو تُو اپنے جوتےاتار ڈال، بے شک تُو پاک جنگل طویٰ میں ہے۔‘‘(3)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نعلین اتارنے کاقصد فرمایا ؛ لیکن ارشاد ہوا :

یا محمد! لا تخلع نعلیک لتشرک السمآء بھما۔ ترجمہ: اے محمد! تم اپنے نعلین نہ اتارو تاکہآسمان ان سے شرف حاصل کرے ۔

سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلینِ مقدسکی فضیلت و عظمت پر لکھی جانے والی علامہ احمد المقری التلمسانی رحمۃ اللہ علیہ نےاپنی مشہور و معروف کتاب ’’فتح المتعال فی مدح النعال ‘‘ اورعلامہ رضی الدین قزوینیاور محمد بن عبدالباقی زرقانی علیہم الرحمۃ نے ’’شرح مواہب اللدنیہ ‘‘میں زور دے کروضاحت کی ہے کہ یہ قصہ مکمل طور پر موضوع ہے۔

امامِ نعت گویا ںامام احمدرضا محدث بریلوی سے بھی اس روایت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے بھیاس کو جھوٹ اور موضوع قرار دیا ،احکامِ شریعت صفحہ ۱۶۵ پر سوال و جواب موجود ہے۔

اسی طرح مدینے کو یثرب کہنے کے لیے حدیث میں ممانعت آئی ہے ۔ بہت سےشعرا نے یثرب کو مدینہ لکھا ہے ، اس سے بھی بچنا ضروری ہے۔اور بھی بہت سارے موضوع واقعاتاور روایتوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے جسے نعت میں بیان کردیا جارہا ہے لیکن وقت اسکی اجازت نہیں دیتا ۔ تفصیل کے لیے اس موضوع پر ناچیز کا کتابچہ میری ویب سائٹ پر پڑھاجاسکتا ہے۔

جاویدانصاری: ماشاء اللہ! بے شک آپ نے جن باتوں کی طرف اشاراکیا ہے ان پر ہمارے نعت گو شاعروں کو توجہ مبذول کرنا ضروری ہے، محترم ذرا یہ بھی بتاتےچلیں کہ عصری منظر نامے پر نعت نگاری کا اندازاوررفتار کیسی ہے؟

مشاہدؔرضوی: عصری منظر نامے پر تو نعت نگاری بے پناہ مقبول ہے۔آج کے شعرا نت نئی تراکیب اور لفظیات ، متنوع بحروں اور خود تراشیدہ زمینوں میں نعتیہکلام لکھ رہے ہیں ، دنیا کے تقریباً ہر خطے میں بلالحاظ رنگ و نسل اور مذہب وملت نعتگوئی مسلسل جاری ہے ، نعت شاعری کے جملہ فارم مثلاً غزل ، مثنوی ، رباعی ، قطعہ ، قصیدہ،ثلاثی، مربع، مسدس، مخمس ، دوہا ، کہہ مکرنی، چھند ، چوپائی ، سانیٹ ، ہائیکو، ترائیلے،ماہیے وغیرہ وغیرہ اصناف میں لکھی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکیسویں صدی کونعت گوئیکی صدی خیال کیا جارہا ہے۔

جاویدانصاری: نعتیہ ادب کے حوالے سے آپ کی کوئی تصنیف منظر عام پر آئی ہو تو ان کےنام بتائیں۔

مشاہدؔرضوی: نعتیہ دیوان لمعات بخشش، صنعتِ تشطیر پر مبنی تشطیراتبخشش ۱۲۰ اشعار پر نعتیہ تشطیرات، اقلیم نعت کا معتبر سفیر - سید نظمی مارہروی،ان کے علاوہ آن لائن کتابیں کو نعتیہ ادب کے حوالے سے ہیں ان کے نام یوں ہیں۔ نعتکی خوشبو گھر گھر پھیلے، نعت میں حزم و احتیاط اور موضوع روایتیں ، درود و سلام رضامع فرہنگ، حسن رضا بریلوی کی نعتیہ شاعری، محدث اعظم ہند - شخصیت اور نعتیہ شاعری،بلبل بستان مدینہ - علامہ اختررضا بریلوی، مولانا سعیداعجاز کامٹوی کی سعادت افروزنعتیہ و سلامیہ شاعری، … ان کے علاوہ پی ایچ ڈی کا مقالہ او رمختلف نعتیہ مجموعوں پیشلفظ و تاثرات الگ ہیں۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
16 Nov, 2013 Total Views: 516 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammed Husain Mushahi Razvi



Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi

Date of Birth 01/06/1979
Diploma in Education M.A. UGC-NET + Ph.D. Topic of Ph.D
"Mufti e A
.. View More

Read More Articles by Dr. Muhammed Husain Mushahi Razvi: 409 Articles with 140372 views »
Reviews & Comments
امیر مینائی صاحب کے تعلق سے جو اشعار ذکر ہوئے اگر اسکا حوالہ دیدیں تو زیادہ صحیح ہوگا
By: Mohammed shakeeb, Bangalore on May, 18 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB