Hamaeiweb.com
 
میڈیا: بڑھتی ہوئی فحاشی
(Saleem Ullah Shiakh, Karachi)

ہمارے میڈیا پر فحاشی اور عریانی دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔اگر چہ کئی درد مند لوگ اس حوالے سے مراسلات، کالمز اور مضامین لکھتے رہتے ہیں لیکن متعلقہ اداروں اور وزرات اطلاعات و نشریات پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ باقاعدہ منصوبے کے تحت معاشرے میں یہ ثقافتی اور میڈیائی دہشت گردی پھیلائی جارہی ہے تاکہ لوگ اس میں مگن رہیں اور مسائل کی طرف ان کی توجہ کم رہے۔ پہلے تو ہمارے نجی چینلز بھارتی چینلز کی صرف نقالی کرتے تھے لیکن اب بھارتی چینلز کے پروگرام باقاعدہ دکھائے جارہے ہیں،اور کوئی یہ پوچھنے والا نہیں ہے کہ ایسا کیوں کیا جارہا۔

ایک طرف جہاں یہ بھارتی فحش چینلز ہیں وہیں اشتہارات بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ اگر کوئی فرد یہ چاہے کہ وہ ان عریاں چینلز سے بچتے ہوئے اپنی فیملی کے ساتھ کوئی اسپورٹس یا نیوز چینل ہی دیکھ لے تو اس کام سے روکنے کے لیے اشتہارات ہی کافی ہیں۔ ہم پہلے بھی اپنے ایک مضمون میں ان اشتہارات کے حوالے سے بات کرچکے ہیں لیکن معاملہ مزید بڑھتا جارہا ہے اور جس طرح بھارتی چینلز کے پورے پورے پروگرام دکھائے جارہے ہیں اسی طرح اب اشتہاری کمپنیوں نے بھی یہ کام شروع کردیا ہےکہ یہاں کوئی اشتہار تیار کرنے کے بجائے باہر کے بنے بنائے اشتہار یہاں چلائے جاتے ہیں اس حوالے سے میں ایک اشتہار کی مثال دونگا، ایک آئسکریم کا اشتہار آج کل ہمارے ٹی وی چینلز پر چلایا جارہا ہے وہ کسی بھی طرح ہمارے معاشرے اور ثقافت سے مطابقت نہیں رکھتا ہے،اس اشتہار میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ ایک نوجوان راستے میں ایک جیپ جس میں دو نوجوان لڑکے اور ایک لڑکی موجود ہیں ان سے لفٹ مانگتا ہے لیکن وہ اس کا مذاق اڑاتے ہوئے گزر جاتے ہیں، آگے جاکر وہ ایک بار یا شاپ پر رکتے ہیں تو مذکورہ نوجوان بھی وہاں پہنچ کر اشتہار میں دکھائی گئی آئسکریم کھاتا ہے اور انعام میں ایک ہیوی بائیک جیت کر باہر نکلتا ہے تو جیپ میں موجود لڑکی اپنے ساتھیوں کو چھوڑ کر اس نوجوان کے ساتھ بائیک پر بیٹھ کر چلی جاتی ہےاور جیپ والے دونوں نوجوان ہاتھ ملتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔اس اشتہار کا تجزیہ کیا جائے تو یہ سمجھ نہیں آتا کہ یہ آئسکریم کا اشتہار ہے، ہیوی بائیک کا اشتہار ہے یا مغربی ابلیسی تہذیب کا اشتہار ہے۔ جہاں اسی طرح لڑکے اور لڑکیاں آپس میں ناجائز دوستاناں رکھتے ہیں اور جب چاہے اپنے بوائے فرینڈ تبدیل کرتے ہیں۔یہ اشتہار نوجوانوں کے جذبات کو بھڑکا کر انہیں گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔

اسی طرح ایک اور بے ہودہ اشتہار ایک موبائل کمپنی کا ہے جس میں ایک ڈیڑہ منٹ تک ایک لڑکی کو جھومتے، گاتے، ناچتے، مدہوش ہوتے ہوئے دکھایا جاتا ہے اور آخر کے چند سیکنڈ میں ایک معروف کمپنی کا موبائل بھی دکھا دیا جاتا ہے تاکہ فارمیلیٹی پوری ہوسکے کہ یہ موبائل کا اشتہار ہے کسی لڑکی کا نہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ ایک موبائل سے لڑکی کے ڈانس کا کیا تعلق ہے؟

آخر میں ہم بات کریں گے کہ ایک معروف مشروب کی! اس کا اشتہار بھی آج کل کافی زو و شور سے دکھایا جارہا ہے ( بررررر والا ) اس اشتہار میں یہ سبق دیا جارہا ہے کہ اب اس برانڈ کے مشروب کے لیے نام لینے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ فحش انداز میں سینے کو تھرکایا جائے تو آپ کا مقصد پورا ہوجائے گا۔ اس اشتہار میں مزید کیا کہا جائے کہ کہتے ہوئے شرم آتی ہے۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ جو لوگ اس فحاشی کے سیلاب سے بچنا چاہیں تو وہ چاہنے کے باوجود نہیں بچ سکتے ہیں کہ اب اشتہارات ہی فحاشی پھیلا رہے ہیں۔ اگر لوگ اپنے گھروں سے ڈش اور کیبل نکال دیں تو یہ بھی مسئلے کا حل نہیں ہے کیوں کہ اب تو پی ٹی وی بھی اس دوڑ میں آگے آگے ہے اور مذکورہ اشتہارات تو پی ٹی وی پر بھی چلائے جارہے ہیں۔ اس لیے ہماری ارباب اختیار سے یہی اپیل ہے کہ اس جانب توجہ دی جائے اور سرکاری و نجی ٹی وی چینلز کو پابند کیا جائے کہ وہ ہمارے معاشرے اور ثقافت اور ہماری اقدار کے مطابق پروگرامات اور اشتہارات بنائیں۔اور بھارتی اور مغربی ابلیسی تہذیب کے پرچار سے گریز کیا جائے۔
Rate it:
Total Views: 799
About the Author: Saleem Ullah Shaikh

Simple person, Simple thinking, simple cause
System of ALLAH on the land of ALLAH
رب کی دھرتی پر رب کا نظام
.. View More

Visit 412 more Articles by Saleem Ullah Shaikh »
Share Comments Share Comments
Email to a Friend
Print Article Print Article
Read Article in Image
Reviews & Comments Reviews & Comments
Assalamoalekom, ap sab k kheyalat perh k bas yeh hi samjh ati hai k , ab waqt hai pakke irade aur azm ka , k hr woh cheeez zindagi se door krni hai jis se sirf nuksaan ka indesha hai, ham sab ko burri baat pe dukh hota hai, magr ham uss ki khatir kia ikdaam krte hein, iss cheez ko dekhne ki zarorat hai, jin k yeh khwab hain k hukomat kuch kare gi tu un ko ihmakoon ki jannat se niklna ho ho ga jald az jald. apne marre bagheer jannat nahi milti. apne gharoon mein dish aur cable ka istemaal check kareen, bachoon aur jawanoo k internet ki masrofiyat pe nazar rakhe. aur kis umr mein bache ya bachi ko mobile ki zarorat hai. Allah ham ko itna waqat de k ham deen ko b samjheen na k hr hr drame k tym khana, namaz, aur dosre zarori kaam choor k beth raheen. AMEEN
By: miss kiani, Oslo Norway on Oct, 13 2010
Reply Reply
0 Like
You pointed out true, lekin ap yahood o nasara aur indian kafiron ko kiya comment kar rahai hain sab se pehle to dushman apnai ander talash karain jo be intaha munafiq hain aur wo apnai ap ko momin kehtai hain aur ye kaam kisee sorat mai nehi rukwana chahtai. jo khud to namaz zaroor partai hain lekin unko ap ki namaz parnai se khof maloom hota hai Allah ki Qasam.
By: Khan, karachi on Sep, 13 2010
Reply Reply
0 Like
Dear Friend,
We spend so many rupees on advertisement for sell,if we spend these rupees on the quaility of product and sell the product on low rate, our sell will be increase due to good quaility and low rate, but we want to show ourself, YA ALLAH PLEASE HELP US
By: munawar niazi, Chiniot on Aug, 28 2010
Reply Reply
0 Like
govt . should try to bann this shamelessness..
By: Ahmeduddin , karachi on Aug, 27 2010
Reply Reply
0 Like
اصل حقیقت یہ ہے کہ ہمارا دشمن جس کوشش میں صدیوں سے لگا ہوا تھا وہ اس میں مکمل کامیاب ہوچکا ہے۔ (اور اللہ تو چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے۔ اور جو لوگ اپنی خواہشات کی پیروی کرنے والے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھے رستے سے بھٹک کر دور جا پڑو)النسآء27۔ یہ انبیاء ورسل کے قاتل یہ خباثتوں کا محور پلید یہودی اور نصرانی یہ ہی تو چاہتے تھے۔ لیکن اس سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ ہمارا نام نہاد روشن خیال طبقہ اسے مولویوں کی پرانی سوچ قرار دیتا ہے- افسوس صد افسوس۔
By: H.MAF Salfi (MBA), Rahim yar khan on Feb, 04 2010
Reply Reply
0 Like
جناب سلیم صاحب، سلامِ مسنون، آج یہود و ہنود و نصاریٰ اپنی بےہودہ ثقافت کے ذریعہ ہمارے گھروں میں نہ صرف نقب زنی کر کے داخل ہوچکے ہیں بلکہ ہماری دینی غیرت و حمیت کو بھی سخت امتحان میں ڈال چکے ہیں۔ اس وقت میڈیا کا جن اپنی بوتل سے نکل کر جو تماشے دکھا رہا ہے ان تماش بینوں میں ہماری نئی نسلوں کے شجر باثمر ہیں اور اگر مستقبل میں بھی میڈیا اپنی ‘عریانی صلاحیتیوں کے جوہر‘ دکھاتا رہا تو میں پورے وثوق کے ساتھ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ پھر ان خزاں رسیدہ درختوں سے ٹھنڈی چھاؤں کی اور مستقبل کی معماری کی توقع نہ رکھئے گا۔ آج بیہودہ اشتہارات میں مجھے تو صرف‘اشتہا‘ ہی نظر آتی ہے۔ لیکن ہمیں اس پر کلام کرنے سے بہتر اس کے سدباب کے لئے زیادہ سے زیادہ اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ خدارا۔۔۔۔۔ فحاشی کی بھڑکتی ہوئی آگ میں اپنی نسلوں کو جھلسنے سے بچائیں۔۔
By: Muhammad Inam Ul Mustafa Azmi, Karachi on Nov, 08 2009
Reply Reply
0 Like
اسلام عیکم سلیم صاحب آپ کا آرٹیکل پڑھا آپ نے بالکل درست فرمایا ہے واقعی ٹی وی پر بیہودہ قسم کے اشتہارات کی بھرمار نے بہت پریشان کیا ہوا ہے میں بھی اس موضوع پر لکھنا چاہتی تھی اور آپ نے پہل کردی شکریہ ایک بات اور ان اشتہارات کے علاوہ کچھ اشتہارات ایسے ہیں جن کو دیکھ کر بہت کراہت محوس ہوتی ہے مثلاً باتھہ روم کلینر کیڑے مکوڑے کے اشتہار اور بہت سی ایسی باتیں جو پردے میں تھیں اب کھلے عام پردہ سکرین پر دکھائی جاتی ہیں اور بچوں تک کو ان پوشیدہ باتوں کا پتہ چل گیا ہے الله آپ کو اور لکھنے کی ہمت دے اور خوش رکھے آمین
By: nighatara, lahore on Jun, 30 2009
Reply Reply
0 Like
salam bhai ap nay jo bhi kaha ha sahi kha ha maray apnay ghar may chutay bhai bhi har waqt tv kay agay rhatay hain ghar main kisi ki bath nahi suntay samaj nahi ata kya kiya jaye kasay ruka jay kasay bataya jay ya sab har waqt acha nahi ha namaz or ALLAH ki koi bat nahi karta moive bas kya hoga samaj say bhar ha or ya message jo bhi paray ap gahr main apnay bachon ko tv waghera say ziada say ziada door rakhen.thanks
By: tariq, connecticut in u s a on Jun, 26 2009
Reply Reply
0 Like

تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا

جہاں میں جس تمدن کی بنیاد سرمایہ داری ہے


By: Najeeb Ur Rehman, Lahore on Jun, 25 2009
Reply Reply
0 Like
aap nay bilkul sahi likha hay,but is k ilawa bhi bohat say Add aisay hain jin k baray main aap likh bhi nahi saktay k un k baray main baat kartay hoay bhi Sharam aati hay
By: Huma, Islamabad on Jun, 25 2009
Reply Reply
0 Like
واقعی سلیم بھائی بالکل بجا لکھا آپ نے۔ اشہارات کی دوڑ ایسے مکروہ انداز میں جاری ہے کہ ایک سے بڑھ کر ایک اشتہاری مہم فحاشی کی دوڑ میں دوسروں کو پیچھے چھوڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اور حقیقت امر یہی ہے کہ سکون کے ساتھ کوئی پروگرام دیکھنا محال ہوگیا ہے کیونکہ درمیان میں بیہودہ قسم کے اشہارات آجاتے ہیں اور جتنی دیر میں ریموٹ ڈھونڈ کر چینل چینج کرنے کی کوشش کی جائے اتنی دیر میں وہ اشتہار ہمارا مذاق اڑاتا ختم ہو جاتا ہے۔ پہلے ہم مخصوص چینلز پر کوئی پروگرام دیکھتے ہوئے محتاط رہتے تھے مگر اب تو شازونادر کوئی چینل چھوڑ کر باقی کے تمام چینل عریانی و فحاشی سے بھرپور اشتہارات دکھانے میں مصروف ہیں۔ ۔ واقعی ایک مشروب پی کر بربربربربر کی آواز نکالتے ہوئے سینے کو تھرکانے والے اشہتار دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ یہ کسی پروڈکٹ کا اشتہار ہے بلکہ لگتا ہے -------------- چلیں جانے دیں سنسر ہو جائے گا۔ بس بھائی حالات ہر سطح پر خراب سے خراب ہی محسوس ہو رہے ہیں اور دل کڑھتا ہے اور جو دل چاہتا ہے وہ ہر درد مند دل رکھنے والے کو خوب معلوم ہوگا مگر مگر کیا کریں بس سے باہر ہے۔ مگر کم از کم ہم برے کو برا کہہ کر اپنے ساتھ تو ایمانداری کر سکتے ہیں۔ اور جہاں تک کسی کے بس میں ہو وہ کوشش کرتا رہے انشاللہ رب تعالیٰ کی طرف سے بڑا اجر منتظر ہے۔ اللہ ہماری کوششوں کو قبول فرمائے آمین۔
By: M. Furqan Khan, karachi on Jun, 25 2009
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Select Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Recent Entertainment Articles

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
Breaking Bad - The Outstanding Drama I Have Ever Seen
Function of Media Management in Advertising
Effects of Yellow Journalism
Veena Malik Gives Birth to Baby Boy 'Abram'
Jeeto Pakistan Passes & Online Registration Process

 Search Articles [Urdu/English]
Urdu keyboard
English     Urdu - اردو

Article Categories
Politics (15079) سیاست
Society and Culture (7909) معاشرہ اور ثقافت
Religion (6357) مذہب
Literature & Humor (2031) ادب و مزاح
Other/Miscellaneous (1998) متفرق
Education (1500) تعلیم
Health (1055) صحت
Famous Personalities (946) مشہور شخصیات
Science & Technology (889) سائنس / ٹیکنالوجی
True Stories (416) سچی کہانیاں
Sports (323) کھیل
Books Intro (319) تعارفِ کتب
Novel (263) افسانہ
Poetry (242) شعر و شاعری
Kids Corner (223) بچوں کی دنیا
Entertainment (211) انٹرٹینمنٹ
Travel & Tourism (173) سیر و سیاحت
Career (162) کیریر
Arts (44) ہنر
اہم خبریں
More News
Samaa TV Live at Hamariweb.com

Recently Commented Most Commented
More On Hamariweb
News Home
Latest News
Student News
Science & Technology
Sports
Entertainment
World News
Dictionary
English Urdu Dictionary
Arabic Urdu Dictionary
Spanish Urdu Dictionary
Hindi Urdu Dictionary
French Urdu Dictionary
German Urdu Dictionary
Cricket
Live Cricket
Cricket Highlights
Dream Team
Player Profiles
Sports News
Sports Games
Mobiles
Mobile Phones
Ringtones
Mobile Games
Mobile Softwares
SMS Messages
Web2SMS
Directories
Web Directory
Edu Directory
Important Phone No.
Postal Codes
Country Codes
City Codes
Islam
Online Audio Quran
Quran Recitation
Online Naats
Islamic Names
Islamic Articles
Islamic Wallpapers
Finance
Biz News
Stock Exchanges
Business Directory
Forex Rates
Gold Rates
Prize Bonds
Classifieds
Jobs in Pakistan
House For Sale
Furniture For Sale
Mobiles for Sale
Bikes For Sale
Cars For Sale
Articles
Politics
Society and Culture
Religion
Other/Miscellaneous
Literature & Humor
Education
Poetry
Love / Romantic
Sad
General
Life
Religious
Humorous
Other Sections
Urdu Search
My Report
Food & Recipes
Blogs
Forum
Academic Results

Career Counseling
Weather Updates
Free Softwares
Desktop Wallpapers
Greeting Cards
Urdu Editor
About us | Contact Us | Feedback | Advertising | Privacy Policy | Site Map | Jobs @ Hamariweb
Copyright © 2014 HamariWeb.com All Rights Reserved.
X
Post Article