تصوف کیا ہے؟ فکر ِ رضا کے آئینے میں

(Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi, Malegaon)

آج کل بے شرع ، جاہل اور نام نہادصوفیوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا چلا جارہا ہے ۔ ایسے افراد اونچی ٹوپی اور اپنے ہاتھ کی انگلیوں میں سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کئی کئی انگوٹھیاں پہنے ، زلفیں بڑھائے ، شہر شہر، قریہ قریہ لوگوں کو نہ صرف مرید بناتے پھر رہے ہیں ۔بل کہ پے در پے خلافت پہ خلافت تقسیم کررہے ہیں ۔ وہ سادہ لوح مسلمان جنہیں علومِ اسلامی سے ذرہ بھر بھی دل چسپی نہیں ۔ اِن نام نہاد صوفیوں کی ظاہری شکل و صورت اور پُرتصنع وجاہت سے مرعوب ہوکر ان کے دامِ تزویر میں پھنس کر بربادی کے دہانے لگتے جارہے ہیں ۔ اگر خلافت بانٹنے والے اور خلافت یافتہ افراد پر طائرانہ نگاہ ڈالیں تو سمجھ میں آئے گا کہ یہ وہ افراد ہیں جنہیں نہ تو شریعت کی ’’ش‘‘ میں جو تین نقطے ہیں اس سے آشنائی ہے اور نہ ہی وہ طریقت کی ’’طا‘‘ سے واقف ہیں۔ ان جاہل افراد کا تصوف سے ذرہ بھربھی واسطہ نہیں ہے۔ ان کی جاہلانہ اور غیر شرعی حرکات و سکنات کو دیکھ کر وہ حضرات جنہیں بیعت و ارشاد ، خلافت و اجازت، ریاضت و مجاہد ہ اور تصوف و معرفت کے رموز واسرار کے بارے میں چنداں واقفیت نہیں ہوتی وہ براہ راست تصوف ہی سے متنفر ہوتے چلے جارہے ہیںاور تصوف کو دوسرے مذاہب سے آئی ہوئی چیز سمجھ کر اسے مسترد کررہے ہیں ۔ لہٰذا ایسے وقت میں تصوف کیا ہے؟ اس تعلق سے خامہ فرسائی ضروری ہوجاتی ہے۔

عصر حاضر کے ان نام نہاد صوفیوں کی جاہلانہ اور غیر شرع حرکتوں کو دیکھتے ہوئے حضور سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویری (وفات ۴۶۵ھ) کی تحریر پُرتنویر کو پیش کرنا غیر مناسب نہ ہوگا کہ حضرت داتا علیہ الرحمہ نے ان نام نہاد صوفیوں کی کتنی صحیح اور سچی تصویر کشی کی ہے کہ ان لوگوںنے: ’’ خواہشات کا نام شریعت، حُبِّ جاہ کانام عزت ، تکبر کا نام علم ، ریا کاری کا نام تقویٰ ، دل میں کینہ چھپانے کا نام حلم ، مجادلہ کانام مناظرہ ، محاربہ و بے وقوفی کا نام عظمت ، نفاق کا نام وفاق ، آرزو کا نام زہد ، ہذیانِ طبع کا نام معرفت ، نفسانیت کا نام محبت ، الحاد کا نام فقر ، انکارِ وجود کا نام صفوۃ ، بے دینی و زندقہ کانام فنا اور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو چھوڑنے کا نام طریقت رکھ لیا ہے ۔‘‘ (کشف المحجوب ص ۳۳، اردو ترجمہ)

یہ بات ذہن نشین رہ کہ نہ صرف ہمارے عہد میں ایسے جاہل صوفیہ پید اہوگئے ہیں بل کہ اکثر و بیش تر ادوار میں ایسے بے علم صوفیوں کا سیلِ رواں اسلام کو نقصان پہنچاتا رہا ہے ۔ مگر ان کے فاسد نظریات اور غلط خیالات کی دھجیاں بکھیرنے والے مقدس علماے حق بھی جلوہ فرما رہے ہیں۔ جنہوں نے کتب و رسائل تصنیف فرماکر اور تزکیہ و طہارت کی روحانی محفلیں سجاکر ایسے جہلا کے باطل نظریات سے ہمیں روشناس کرایا ہے۔

امام احمد رضا بریلوی (وفات ۱۳۴۰ھ) کے دور میں بھی ایسے صوفیوں کاجھکڑ چل رہا تھا۔ چناں چہ آپ کی بارگاہِ عبقری میں ایک صاحب نے سوال ارسال کیا جس کے جواب میں امام اہل سنت قدس سرہٗ نے ایک مبارک رسالہ بہ نام ’’ مقال عرفا بہ اعزاز شرع و علما‘‘ سنہ ہجری ۱۳۲۷ میں تصنیف فرمایا۔ زیرِ نظر مضمون میں تصوف کا اجمالی تعارف امام اہل سنت قدس سرہٗ کے اسی رسالے کو مآخذ بنا کر پیش خدمت ہے ۔

قارئین کرام سے التماس ہے کہ اس مضمون کو بہ غور پڑھیں اور جاہل صوفیوں سے خود کو دور رکھتے ہوئے دوسروں کو بھی ان سے بچنے کی تلقین کریں ۔ نیزخداے وحدہٗ لاشریک سے دعا ہے کہ وہ تمام اہل ایمان کو ان جاہل صوفیوں کے شر سے محفوظ و مامون رکھتے ہوئے تصوف و معرفت کے اصل حقائق و معارف کا کماحقہٗ عرفان بخشے ۔ (آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم)

عارف باللہ سیدی عبدالوہاب شعرانی فرماتے ہیں : ’’ تصوف کیا ہے ؟ بس احکامِ شریعت پر بندہ کے عمل کا خلاصہ ہے ‘‘ (طبقات الشافعیۃ الکبریٰ ص ۴، بہ حوالہ : مقال عرفا ص ۳۰، مطبوعہ رضا اکیڈمی ، ممبئی)

سیدی عبداللہ محمد بن خفیف ضبی فرماتے ہیں کہ :’’ تصوف اس کانام ہے کہ دل صاف کیا جائے اور شریعت میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہو۔‘‘ ( طبقات کبریٰ للامام الشعرانی ص ۱۸ ،بہ حوالہ : مقال عرفا ص ۱۲، مطبوعہ رضا اکیڈمی ، ممبئی)

تصوف طریقت ہی کا دوسرانام ہے اور طریقت اس راہِ خدا کانام جو خداوند قدوس تک پہنچانے والی ہو۔ اب خدا تک پہنچانے والی راہ کون سی ہے؟ اسے ہم سردارِ اولیا حضور سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ بالرضا السرمدی کی مقدس ترین زبان سے سنتے ہیں :’’ اللہ عزوجل کی طرف سب سے قریب تر راستہ قانونِ بندگی کو لازم پکڑنا اور شریعت کی گرہ تھامے رہنا ہے ۔‘‘ ( بہجۃ الاسرار ص ۵۰، بہ حوالہ : مقال عرفا ص۶۱، مطبوعہ رضا اکیڈمی ، ممبئی)

ہر صوفیِ کامل، ولایت کے درجہ پر فائز ہوتا ہے اور ہر ولی ، صوفیِ کامل ضرور ہوتا ہے ۔ ولی کون ہے؟ اس کی تعریف میں بھی بہت سے اقوال ہیں ۔ لیکن سرچشمۂ ہدایت قرآن کریم ارشاد فرماتا ہے :آیت کا مفہوم:’’( اولیا اللہ ) وہ ہیں جو ایمان اور تقویٰ کے کمال سے سرفراز ہوں ۔ ‘‘دوسری بات یہ ہے کہ ولایت کے لیے کرامت لازم ہے ۔ کرامت دو طرح کی ہے ایک وہ جس میں کسی دھوکہ کا دخل نہیں ہوسکتا ۔ دوسری وہ جس میں استدراج اور شعبدہ کا شبہ ہوسکتا ہے ۔ تو اصل کرامت وہی ہے جو شبہ سے پاک ہو۔ اسی لیے حضور سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ بالرضا السرمدی فرماتے ہیں کہ :’’ ولی کی کرامت یہ ہے کہ اس کا ہرفعل نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے قانون پر ٹھیک اترے۔‘‘( بہجۃ الاسرار ص ۳۹، بہ حوالہ : مقال عرفا ص۱۵، مطبوعہ رضا اکیڈمی ، ممبئی)

علماے باطن کے ان ارشاداتِ عالیہ کی روشنی میں تصوف ، صاحبِ تصوف ، کرامت اور ولی کا اجمالی نقشہ ذہن میں آجاتا ہے کہ اصل تصوف تصفیۂ قلب اور اتباعِ شریعت ہے ۔ حقیقی اور اعلیٰ کرامت شریعت پر استقامت ہے۔ سچاصوفی اور ولی وہی ہوگا جو سیدالکونین صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و پیروی میں سچا ہوگا۔ تصوف کے اس اجمالی تعارف کو ذہن میں رکھ کر آج کل کے نام نہاد صوفی بننے والے افراد کا جائزہ لیاجائے تو یہ افراد شریعت او ر اتباعِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوسوں دور دکھائی دیتے ہیں ۔ جب ان کے سامنے شریعت مطہرہ کاذکرِ جمیل نکلتا ہے تو یہ طریقت کو شریعت سے جدا بتاتے ہیں ۔ جب کہ علماے ربانیین کے ارشادات و اقوال سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ جو جتنا زیادہ شریعت اور سیدالکونین صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور اتباع کرے گا۔ وہ اتنا ہی اللہ عزوجل سے قریب ترین ہوگا اور اس کا دل صاف و شفاف ہوگا ۔ مختصر یہ کہ صفائیِ قلب اور مصطفی جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا نام ہی ’’تصوف ‘‘ ہے۔ شریعت منبع ہے اور طریقت اس سے نکلا ہوا دریا ، کہ دریا کو ہمیشہ منبع کی احتیاج و ضرورت ہوتی ہے ۔ لہٰذا صوفی اسے ہی کہا جائے گا جو سنتِ رسول صلی اللہ علیہ پر کامل و اکمل طور پر عمل کرتا ہو اور اس کا دل بھی تمام تر آلایشوں سے پاک و صاف ہو۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
27 Nov, 2012 Total Views: 2237 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammed Husain Mushahi Razvi



Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi

Date of Birth 01/06/1979
Diploma in Education M.A. UGC-NET + Ph.D. Topic of Ph.D
"Mufti e A
.. View More

Read More Articles by Dr. Muhammed Husain Mushahi Razvi: 409 Articles with 141400 views »
Reviews & Comments
محترم ساتھیو چند پہلے میں نے جناب کامران عظیمی صاحب کے سامنے ایک خود ساختہ کا تزکیہ نفس کا طریقہ پیش کیا تھا اور ان سے دریافت کیا تھا کہ یہ بتادیں کہ یہ طریقہ سنت نبوی کے مطابق ہے کہ نہیں۔ یہ میں جانتا ہوں کہ وہ صاحب یہ بخوبی جانتے ہیں اس طریقہ کا تعلق اسلامی شریعت سے قطعا نہیں ہے۔ مگر مجھے ہٹ دھرمی کا طعنہ دینے والے دراصل خود ہی اس ہٹ دھرمی کا شکار ہو کر صحیع بات کو تسلیم کرنے سے معذور ہیں
پہلے قران کریم کریم سے رجوع کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ قران ہماری عورتوں کو اس بارے میں کیا حکم دیتا ہے۔
يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ قُل لِّاَزۡوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ وَنِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ يُدۡنِيۡنَ عَلَيۡهِنَّ مِنۡ جَلَابِيۡبِهِنَّؕ ذٰلِكَ اَدۡنٰٓى اَنۡ يُّعۡرَفۡنَ فَلَا يُؤۡذَيۡنَؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا‏ ﴿۵۹﴾
اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی چادروں کے پلو اپنے اوپر لٹکا لیا کریں یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے کہ وہ پہچان لی جائيں اور ستائی نہ جائیں اللہ غفور و رحیم ہے ( سورہ الاحزاب 59)
یہ ہے ساتھیو پردہ کی اہمین قران کی رو سے۔ اور یہ بھی آپ سب جانتے ہیں کہ ہمارے دین میں محرم کون ہے اور نا محرم کون۔ یہاں میں آپ کی خدمت میں ایک ایسے محرم کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جسے شریعت نے تو محرم قرار نہیں دیا مگر طریقت کے قانوں شریعت کی رو سے یہ رشتہ بھی ایک محرم کا ہے۔

کتاب کا نام " کلام المرغوب ترجمہ کشف المحجوب ص۔ 255-256 مصنف علی ہجویری صاحب)
" حتیٰ کہ ایک بار حضرت احمد خضرویہ (امیر بلخ) کو حضرت با یزید بسطامی کی ‌زیارت کا شوق ہوا۔ ان کی بیوی حضرت فاطمہ بھی حضرت بایزید کے دربار میں ہمراہ حاضر آئیں۔ جب دونوں حضرت بایزید کے سامنے آگئے تو حضرت فاطمہ نے نقاب ہٹا دیا اور حضرت با یزید سے بے حجابانہ گفتگو شرو‏ع کر دی۔ حضرت احمد خضرویہ کو ان کی اس حرکت پر تعجب ہوا اور غیرت زوجیت آپ پر مستولی ہوئی۔ فرمانے لگے جس بے حجابی سے تم با یزید سے باتیں کر رہی ہو مجھے اس کی وجہ بھی معلوم ہونی چاہیے۔ حضرت فاطمہ نے فرمایا کہ تم محرم طبعیت ہو اور بایزید محرم طریقت۔

دوستو بات سمجھ میں آئ کہ نہیں۔ احمد خضرویہ تو فاطمہ کا شریعی شوہر اور با یزید بسطامی اس کا طریقت میں شوہر۔ اب کوئ ان سے پوچھے کہ آپ اس شریعت کے پابند ہیں جو کہ ہمارے نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آۓ یا اس طریقت پر جس کہ ایک باپردہ خاتون کو نا محرم کے سامنے بے پردہ کردے
By: Baber Tanweer, Karachi on Feb, 14 2013
Reply Reply
0 Like
مسٹر بابر تنویر ،

اتباع سنت لفظی جکھاو سے نہیں بلکہ عمل سے ثابت ہوتا ہے ، دوسرے یہ کہ اگر ہر شخص دین اسلام پر خود کو اتھارٹی سمجھنے لگ جائے تو امت شیرازہ میں بکھر جائے گی۔ قرآن پاک میں اللہ عزوجل ہمیں نیک لوگوں کا راستہ ھدایت پانے کے لئے ارشاد فرماتا ہے۔ جبکہ دین کے علم اور معرفت اسلام کے لئے اہل علم کی جانب قدم بڑھانے کا حکم دیتا ہے۔

نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات کی سمجھ اولیائے امت کو کسی بھی چودھویں صدی کے نام نہاد مُلا یا توحیدی سے زیادہ تھی۔ لہذا اپنی ناقص آراء کو اسلاف پر نشتر چلانے مین استعمال نہ کیجئے۔ بایزید بسطامی و دیگر بزرگان دین جیسا علم و تقوی تو لاو۔ لفاطی ھیر پھیر سے ھدایت نہیں ملتی۔
By: Kamran Azeemi, Karachi on Jan, 12 2013
Reply Reply
2 Like
محترم جناب کامران عظیمی صاحب، لگتا ہے کہ آپ نے یہ کمنٹس اپنے سامنے آينہ رکھ کر تحریر کیۓ ہیں۔ کیونکہ یہ تمام کمنٹس آپ ہی کہ ذات مقدسہ پر صادق آتے ہیں۔ اب کچھ ہی دیر پہلے تو آپ مجھ سے گفتگو جاری نہ رکھتے کا اعلان کر رہے تھے اور پھر دوبارہ تبصرہ آور ہوگۓ۔
1- آپ نے درست فرمایا کہ اتبا‏ع سنت الفاظ سے نہیں عمل سے ابھی میں نے آپ کی خدمت میں خود ساختہ اولیاء اللہ کا صرف ایک ہی عمل اور قول پیش کیا ہے۔ مجھے صرف یہ بتا دیجیۓ کہ کیا یہ اتبا‏ع سنت کی نشانی ہے۔
2- اولیاء اللہ کون ہین ان کی مکمل تفصیل بندے نے قران کریم فرقان حمید کی روشنی میں پیش کر دی ہے۔ اس پر کوئ اعتراض ہو تو بتائیے۔
3- آپ بات با یزید بسطامی کے حوالے سے کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں۔ شوہر تو بیوی کے لیۓ شریعت کی رو سے محرم ہے۔ اسے دوسرے الفاظ مین محرم شریعت کہہ سکتے ہیں۔ مجھے یہ بتا دیجیۓ کہ یہ محرم طریقت کیا ہوتا ہے۔
آپ کو جواب کا انتظار رہے گا
By: Baber Tanweer, Karachi on Jan, 13 2013
0 Like
محترم بابر بھائی ،
جزاک اللہ
شمع حق وہی اندھیروں میں جلاتے ہیں
جو اتباع مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹ جاتے ہیں۔
میرے دل سے دعا ہے اللہ آپ کی سعی اپنی بارگاہ میں قبول کرے۔ آمین۔
By: tariq mehmood, Karachi on Dec, 27 2012
Reply Reply
0 Like
برادر عزیز طارق محمود السلام علیکم آپ کی کمنٹس کا شکریہ۔ بھائی اتباع قران و سنت ہی میرا نصب العین ہے۔ بھائی کامران عظیمی اور عبد العظیم سے میرا اختلاف بھی اسی اتباع کتاب و سنت کے حوالے سے ہے۔ اللہ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرماۓ اور ہم سب کی خطاؤں کو معاف فرماۓ۔ بھائی میری ترجیح تو ہمیشہ سے ہماری ویب ہی رہی ہے۔ مگر اس کے علاوہ بھی چند ایک دوسری سائٹس ہیں جہاں پر میں باقاعدہ حاضری دیتا ہوں۔ اکر ممکن ہو تو urduvb.com پر رجسٹرہو جائیں وہاں آپ کو بہت سے صحیع العقیدہ بھائی ملیں گے۔ رجسٹر ہوتے وقت میرا ریفرنس دے دیجۓ گا۔
والسلام اخوک فی اللہ
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 29 2012
0 Like
جناب عبدالعظیم صاحب، محترم یہاں بات ہو رہی ہے۔ تصوف کی اور وسیلہ کا دکھڑا لے کر بیٹھ گۓ۔ اور وسیلہ کے بارے میں آپ حضرات سے پہلے بھی گفتگو ہو چکی ہے۔ آپ نے اس بارے میں ایک ضعیف حدیث تحریر کی ہے۔ آئیے اس بارے میں قران سے رہ نمائ حاصل کرتے ہیں۔
فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ ۖ وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ ﴿٣٦﴾ فَتَلَقَّىٰ آدَمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴿٣٧﴾قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا ۖ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَن تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿٣٨﴾۔
لیکن شیطان نے ان کو بہکا کر وہاں سے نکلوا ہی دیا اور ہم نے کہہ دیا کہ اتر جاؤ! تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور ایک وقت مقرر تک تمہارے لئے زمین میں ٹھہرنا اور فائده اٹھانا ہے (36) (حضرت) آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے چند باتیں سیکھ لیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، بےشک وہی توبہ قبول کرنے واﻻ اور رحم کرنے واﻻ ہے (37)ہم نے کہا تم سب یہاں سے چلے جاؤ، جب کبھی تمہارے پاس میری ہدایت پہنچے تو اس کی تابعداری کرنے والوں پر کوئی خوف وغم نہیں (38) ۔
جب آدم حضرت آدم سے لغزش ہوگئ تو ان آیات کے مطابق اللہ تعالی نے انہیں معافی کے الفاظ تعلیم فرماۓ۔ اور وہ کون سے الفاظ تھے اس بارے میں سورہ اعراف میں تفصیل درج ہے۔

فَدَلَّاهُمَا بِغُرُورٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ ۖ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَن تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِينٌ ﴿٢٢﴾قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴿٢٣﴾ قَالَ اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ ﴿٢٤﴾۔
سو ان دونوں کو فریب سے نیچے لے آیا پس ان دونوں نے جب درخت کو چکھا دونوں کی شرمگاہیں ایک دوسرے کے روبرو بے پرده ہوگئیں اور دونوں اپنے اوپر جنت کے پتے جوڑ جوڑ کر رکھنے لگے اور ان کے رب نے ان کو پکارا کیا میں تم دونوں کو اس درخت سے منع نہ کرچکا تھا اور یہ نہ کہہ چکا کہ شیطان تمہارا صریح دشمن ہے؟ (22)دونوں نے کہا اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہوجائیں گے (23) حق تعالیٰ نے فرمایا کہ نیچے ایسی حالت میں جاؤ کہ تم باہم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے اور تمہارے واسطے زمین میں رہنے کی جگہ ہے اور نفع حاصل کرنا ہے ایک وقت تک (24)
آیت نمبر 23 میں دعا کے الفاظ ذکر ہیں جن کے ذریعے حضرت آدم نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں معافی کی التجا کی۔ اور پھر اگلی ہی آیت میں اللہ تعالی نے انہیں زمین پر اترنے کا حکم دے دیا۔
ان آیات کی رو سے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے دعا مانگنی والی روایت غلط ثابت ہوتی ہے۔
ایک اور بات پر غور کر لیجیۓ۔ یہ آیات تو اس حقیقت کو ظاہر کر رہی ہیں کہ دعا کے الفاظ اللہ تعالی نے سکھاۓ اور آپ کی روایت تو یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ حضرت آدم کا اپنا اجتہاد تھا۔ جبھی تو اللہ تعالی نے ان سے آپ صلی اللہ کے وسیلے سے دعا مانگنے کی وجہ دریافت کی۔ امید ہے کہ بات آپ کی سمجھ میں آگئ ہوگی۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 25 2012
Reply Reply
0 Like
ان کمنٹس کو دوبارہ پوسٹ کرنے پر معذرت خواہ ہوں۔ دراصل پچھلی پوسٹ دو دن پہلے روانہ کی تھی مگر اس پوسٹ کے بھیجنے تک وہ یہاں پر ظاہر نہیں ہوئ تھی۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 26 2012
0 Like
جناب عبد الغظیم صاحب مجھے آپ سے دلی ہمدردی ہے۔ الحمد للہ آپ کے دامن میں تصوف کے دفاع کے لیۓ کوئی ٹھوس دلائل نہیں ہیں۔ اور انشاء اللہ آپ میرے اٹھائے گۓ سوالوں کا جواب نہیں دے سکیں گے۔ موضوع یہاں تصوف ہے اور آپ کو اور کچھ نہیں سوجھا تو وسیلہ پر ہی لکھنے بیٹھ گۓ۔ آپ کی پیش کی گئی ضعیف روایت پر میرے خیال میں آپ حضرات سے پہلے بھی گفتگو ہو چکی ہے۔ آیۓ اس بارے میں قران سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔
سورہ بقرہ آیت نمبر 35 اور 36
وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَـٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ ﴿٣٥﴾ فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ ۖ وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ ﴿٣٦﴾۔
ور ہم نے کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چاہو بے روک ٹوک کھاؤ (پیو) لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے (35) پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس (عیش ونشاط) میں تھے، اس سے ان کو نکلوا دیا۔ تب ہم نے حکم دیا کہ (بہشت بریں سے) چلے جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور معاش (مقرر کر دیا گیا) ہے (36)۔

آپ کی پیش کردہ روایت کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے دعا مانگنا حضرت آدم کا اپنا اجتہاد تھا۔ جبھی تو اللہ تعالی نے ان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے دعا مانگنے کا سبب دریافت کیا۔ لیکن اس بات کو سورہ بقرہ کی آيت نمبر 36 غلط ثابت کرتی ہے۔
فَتَلَقَّىٰ آدَمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴿٣٧﴾
پھر آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے (اور معافی مانگی) تو اس نے ان کا قصور معاف کر دیا بے شک وہ معاف کرنے والا (اور) صاحبِ رحم ہے (37)۔
اور وہ کون سے الفاظ تھے جو کہ اللہ تعالی نے حضرت آدم کو سکھائے تھے۔ آئیے پھر قران سے رہنمائ حاصل کرتے ہیں۔
سورہ اعراف کی آيت نمبر 22 ،23اور24 دیکھیۓ
فَدَلَّاهُمَا بِغُرُورٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ ۖ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَن تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِينٌ ﴿٢٢﴾۔قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴿٢٣﴾ قَالَ اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ ﴿٢٤﴾۔
غرض (مردود نے) دھوکہ دے کر ان کو (معصیت کی طرف) کھینچ ہی لیا جب انہوں نے اس درخت (کے پھل) کو کھا لیا تو ان کی ستر کی چیزیں کھل گئیں اور وہ بہشت کے (درختوں کے) پتے توڑ توڑ کر اپنے اوپر چپکانے لگے اور (ستر چھپانے لگے) تب ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت (کے پاس جانے) سے منع نہیں کیا تھا اور جتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے (22)۔دونوں عرض کرنے لگے کہ پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہو جائیں گے (23) (خدا نے) فرمایا (تم سب بہشت سے) اتر جاؤ (اب سے) تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے ایک وقت (خاص) تک زمین پر ٹھکانہ اور (زندگی کا) سامان (کر دیا گیا) ہے (24)۔
اگر اللہ تعالی نے تھوڑی سی بھی عقل دی ہے تو ذرا فرما لیجیۓ۔ سورہ بقرہ میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ ہم نے آپ کو الفاظ سکھائے جن کے ذریعۓ حضرت آدم نے دعا مانگی اور پھر سورہ اعراف آیت نمبر 22 میں اللہ تعالی نے اس دعا کے الفاظ کا بھی ذکر کردیا اور پھر اللہ تعالی نے انہیں ژمین پر اترنے کا حکم دے دیا۔
اس بات سے تو آپ اتفاق کریں گے کہ اللہ تعالی کا فرمان کبھی غلط نہیں ہو سکتا۔ لہذا یہ ثابت ہوا کہ آپ کی روایت ہی غلط ہے۔
باقی باتوں کا جواب انشاء اللہ جلد ہی دوں گا۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 23 2012
Reply Reply
0 Like
612 / 64. عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي الله عنه، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : لَمَّا أَذْنَبَ آدَمُ عليه السلام الذَّنْبَ الَّذِي أَذْنَبَهُ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَي الْعَرْشِ فَقَالَ : أَسَأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ صلي الله عليه وآله وسلم إِلَّا غَفَرْتَ لِي فَأَوْحَي اﷲُ إِلَيْهِ : وَمَا مُحَمَّدٌ؟ وَمَنْ مُحَمَّدٌ؟ فَقَالَ : تَبَارَکَ اسْمُکَ، لَمَّا خَلَقْتَنِي رَفَعْتُ رَأْسِي إِلَي عَرْشِکَ فَرَأَيْتُ فِيْهِ مَکْتُوْبًا : لَا إِلَهَ إِلَّا اﷲُ، مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اﷲِ، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَعْظَمَ عِنْدَکَ قَدْرًا مِمَّنْ جَعَلْتَ اسْمَهُ مَعَ اسْمِکَ، فَأَوْحَي اﷲُ عزوجل إِلَيْهِ : يَا آدَمُ، إِنَّهُ آخِرُ النَّبِيِيْنَ مِنْ ذُرِّيَتِکَ، وَإِنَّ أُمَّتَهُ آخِرُ الْأُمَمِ مِنْ ذُرِّيَتِکَ، وَلَوْلَاهُ يَا آدَمُ مَا خَلَقْتُکَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

الحديث رقم 64 : أخرجه الطبراني في المعجم الصغير، 2 / 182، الرقم : 992، وفي المعجم الأوسط، 6 / 313، الرقم : 6502، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 / 253، والسيوطي في جامع الأحاديث، 11 / 94.

’’حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب حضرت آدم علیہ السلام سے لغزش سرزد ہوئی تو انہوں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور عرض گزار ہوئے : (یا اﷲ!) اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا تو میں (تیرے محبوب) محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں (کہ تو مجھے معاف فرما دے) تو اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی۔ محمد مصطفیٰ کون ہیں؟ پس حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا : (اے مولا!) تیرا نام پاک ہے جب تو نے مجھے پیدا کیا تو میں نے اپنا سر تیرے عرش کی طرف اٹھایا وہاں میں نے ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ لکھا ہوا دیکھا لہٰذا میں جان گیا کہ یہ ضرور کوئی بڑی ہستی ہے جس کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ ملایا ہے پس اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی : ’’اے آدم! وہ (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیری نسل میں سے آخری نبی ہیں اور ان کی امت بھی تیری نسل کی آخری امت ہو گی اور اگر وہ نہ ہوتے تو میں تجھے بھی پیدا نہ کرتا۔‘‘
By: azeem, rwp on Dec, 21 2012
Reply Reply
0 Like
آخری بات ، جب آپ یا آپ کی قبیل کے دیگر افراد منہ کھول کھول کر اولیاءاللہ پر کفر و شرک کے فتوی کی توپ چلائیں ۔۔۔۔۔۔ تو آپ لوگوں کے لئے رب تعالی کی بارگاہ میں دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ وہ ہی آپ کو ھدایت عطا فرمائے۔ ورنہ آپ جیسے افراد کے شر سے تمام اہل اسلام کو محفوظ رکھے۔
---------------------------------------------------------------------------------------------------------------
جی جناب کامران عظیمی صاحب آپ نے مجھ پر اوالیاء اللہ سے دشمنی کا بہتان بھی لگا دیا۔ محترم عرض ہے کہ قران پاک میں اولیاء اللہ کی نشانیاں نہایت مفصل انداز میں بیان کر دی گئیں ہیں اور الحمدللہ ان تمام خصوصیات کے حامل انسان یقینا اولیاء اللہ ہیں۔ اور میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ میں یا آپ یا کوئ شخص بذات خود یہ دعوی نہیں کرسکتا کہ وہ ولی اللہ ہے۔ اس بات کو صرف اور صرف اللہ تعالی عزوجل جانتے ہیں کون اس ذات باری تعالی کے کتنا نزدیک ہے۔ اور جو شخص داڑھی منڈانے کو تزکیہ نفس جانے آپ اسے بھی ولی اللہ کہیں تو بھائ میری بھی آپ کے لیۓ دعا ہے کہ وہ آپ کو ھدایت دے۔ اور ایسے نظریات کے شر سے تمام مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔ آمین!
آج آپ مجھے ایک بات جواب دیے دیجیۓ کہ کوہ قاف کو کتنے بیلوں نے سینگوں پر اٹھایا ہوا ہے۔ یہ میرا نہیں ایک مشہور زمانہ ولی کا دعوی ہے۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 19 2012
Reply Reply
0 Like
محترم جناب کامران عضیمی صاحب بھائی آپ اب بھی اپنی روش پر قا‏‏ئم ہیں، سب سے پہلے یہ بتا دیجیۓ کہ یہ سلف کا سلسلہ کب سے شروع ہوتا ہے۔
دوسری بات یہ کہ اگر آپ تزکیہ نفس کے میرے پیش کردہ طریقے کو شریعت کے مطابق سمجھتے ہیں تو یہ شریعت آپ ہی کو مبارک ہو۔
میں نے آپ کی خدمت میں ابن عربی کے چند اشعار پیش کیۓ تھے لیجیۓ ان کا اردو ترجمہ بھی پیش خدمت ہے۔

آج سے پہلے میں اپنے دین کا انکار کرتا تھا، جب میرا دین اس کے دین کے مطابق نہ تھا
اب میرا دل ہر تصویر کا آئینہ بن گیا ہے، وہ ہرنوں کی چراگاہ بھی ہے اور راہبوں کا دیر بھی
وہی کعبہ ہے اور صنم خانہ بھی، وہی تورا‏ت بھی ہے وہی قران بھی
میں محبت کے دین کا تابعدار ہوں، خواہ وہ کہیں بھی ملے،محبت ہی میرا دین ہے اور ایمان ہے

مجھے ذرا یہ بتا دیجیۓ کا کیا یہ ہمارے پیار نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی تعلیمات ہیں۔ اگر ہیں تو ثابت کیجیۓ ورنہ ان باطل عقائد سے توبہ کجییۓ۔
میں پھر آپ دونوں حضرات سے درخواست کرتا ہوں کے میرے کمنٹس میں اگر کوئ بات خلاف شریعت ہو تو اس کی نشاندھی کجییۓ۔ اور انشاء اللہ میں تصوف کو خلاف شریعت ثابت کرنے کے لیۓ تمام حوالہ جات صوفیاء کی کتابوں سے ہی دوں گا۔ دو حوالہ جات میں آپ کی خدمت میں پیش کرچکا ہوں۔ باقی کا انتظار کیجیۓ۔انشاء اللہ۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 19 2012
Reply Reply
0 Like
الحمد للہ جن لوگوں کے پاس دلائل کا جواب نہ ہو وہ اسی طرح جان چھڑایا کرتے ہیں جس طرح کامران اور عبد العظیم صاحب نے اپنے کمنٹس میں چھڑائ ہے۔ دوستو اگر آپ کے پاس میرے دلائل کا جواب ہے تو براۓ مہربانی دیجیۓ۔ ذاتی کمنٹس آپ کی اپنی یتیمی ظاہر کر رہے ہیں۔ مجھے تصوف کی الف ب کے بجاے قران و سنت کی اتباع ہی کافی ہے۔ آج آپ کی خدمت میں ابن عربی کے اشعار
حوالہ جات کے ساتھ پیش کر رہا ہوں۔ عربی میں ہیں۔ اگر ہو سکے تو ان عربی اشعار کا اردو ترجمہ پیش کر دیں۔

لقد كنت قبل اليوم أنكر صاحبي اِذ لم يكن ديني الا دينه داني
لقد صار قلبي كل صورة فمرعى لغزلان و دير لرهبان
و بيت الأوثان و كعبة طائف وألواح توراة و مصحف قران
ادين بدين الحب اني توجهت وكائبة فالدين ديني و ايماني
(ذخائر الاخلاق شرح ترجمان الاشواق ص 39 مصنف ابن عربی)


آخر میں موڈریٹر صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ جو کچھ میں نے اپنے پچھلے کمنٹس میں لکھا تھا وہ کامران عظیمی کی خامہ فرسائ کا ایک منطقی رد عمل تھا۔ بہر حال
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 18 2012
Reply Reply
0 Like
بابر تنویر صاحب ،

آپ اپنے زعم میں جو بھی رہیں ہم صرف اتنا کہنا چاہیں گے کہ جو شخص اولیاء اللہ پر کفر و شرک کا فتوی چسپاں کرنے کے خواہشمند ہو اس سے تحقیقی گفتگو عبث ہے۔ کیونکہ آپ جیسے لوگ صرف اپنی ذہنی استعداد پر ہی بھروسہ کرتے ہیں جبکہ ہم اسلاف کی تعلیمات کو اسلام کا روشن باب سمجھتے ہیں۔ ہمارے نزدیک چونکہ ہمارے اسلاف زہد و تقوی میں کہیں بلند پایا مقام پر فائز تھے لہذا تحریر و تقریر میں اسلاف سے رہنمائی ہمارا نصب العین ہے۔

پھر چونکہ ہمارے اسلاف یعنی تمام آئمہ ، محدثین ، مفسرین وغیرہم نے قران و صاحب قرآن کے فرمودات کو ہم سے بہتر جانا لہذا ان اسلاف کی تعلیمات صرف اور صرف اسلام ہی ہے۔ اور چونکہ یہ خود بھی صراط مستقیم پر رہے لہذا ان سے محبت و عقیدت بھی ہمارے ایمان کا اہم حصہ ہے۔

آخری بات ، جب آپ یا آپ کی قبیل کے دیگر افراد منہ کھول کھول کر اولیاءاللہ پر کفر و شرک کے فتوی کی توپ چلائیں ۔۔۔۔۔۔ تو آپ لوگوں کے لئے رب تعالی کی بارگاہ میں دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ وہ ہی آپ کو ھدایت عطا فرمائے۔ ورنہ آپ جیسے افراد کے شر سے تمام اہل اسلام کو محفوظ رکھے۔

اگر اسے جان چھڑانا کہتے ہیں تو ۔۔۔۔۔۔ ایسے ہی سہی ۔۔۔۔۔ کیونکہ ہمارے نزدیک گفتگو بے علم سے تو ہوسکتی ہے مگر بے ادب سے نہیں ۔۔۔۔
By: Kamran Azeemi, Karachi on Dec, 19 2012
0 Like
قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ہر علم والے کے اوپر ایک علم والا ہے۔

کیا سمجھ میں آتا ہے اسکے بعد؟

مجھے تو ایک بات سمجھ آتی ہے کہ کون ہے وہ بندہ خدا کہ جس کو اس آیت پاک کی روشنی میں تمام علوم کا پتہ اور عطا کیا گیا ہے کہ جسکی نشاندہی یہ آیت پاک کر رہی ہے کہ ہر علم والے کے اوپر ایک علم والا ہے؛ کہ تمام قسم کے علوم والے اکھٹے ہو بھی جائیں تو اس بات کو پہنچ ہی نہیں سکتے جیسا کہ؛

احادیث پاک میں ہے نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

١- میں (محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم) علم کا شہر ہوں اور حضرت علی (کرم الله وجہ) اس کا دروازہ ہیں۔

٢- جس نے مجھے (محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم) اپنا آقا مانا ، حضرت علی (کرم الله وجہ) کو بھی اپنا آقا مانے یا جس کا میں (محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم) مولا (آقا) ہوں ، حضرت علی (کرم الله وجہ) اسکے مولا (آقا) ہیں۔

کیا سمجھ میں آتا ہے اسکے بعد؟

باقی آپ خود ہی اپنے عربی کے لکھے شعر کا ترجمہ لکھ دیں میرے میں تو اتنا علم نہیں ہے کہ جتنا آپکے پاس ہے!
By: azeem, rwp on Dec, 19 2012
0 Like
تصوف میں تزکیہ نفس کی بہت اہمیت ہے۔ میں امام غزالی کی تصنیف احیاء العلوم سے ایک عبارت کا ترجمہ نقل کر رہا ہوں۔ اور اس بہت بڑے صوفی نام حذف کر رہا ہوں جس سے تزکیہ نفس کا یہ طریقہ ایجاد کیا تاکہ ہماری ویب کو اسے آن لائن کرنے میں کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
۔ ____________کا طریقہ کار))) آپ کا ایک مرید 30 سال بعد آپ کی خدمت میں رہا۔ وہ رات کو کبھی نہ سوتا اور نہ ہی کبھی روزہ چھوڑتا تھا مگر باطنی علوم اس منکشف نہ ہوتے تھے۔ آخر تنگ آ کر حضرت شیخ سے اس بات کی شکایت کی تو ---------- نے فرمایا " تم تین سو سال تک بھی لگے رہو تو یہ علم حاصل نہ کر سکو گے" مرید نے پوچھا " اس کا کوئ علاج ؟ فرمایا "علاج تو ہے مگر تم کر نہ سکوگے" جب مرید نے اصرار کیا تو آپ نے علاج بتلایا کہ " اپنی داڑھی اور سر منڈا دو ، گودڑی پہن لو۔ باداموں کا ایک کشکول ہاتھ میں لے کر اپنے گرد بچوں کو جمع کرو اور کہو کہ جو مجھے ایک گھونسہ مارے گا اس ایک بادام دوں گا۔ اسی طرح گلی گلی پھرو" مرید نے کہا " سبحان اللہ کیا علاج ہے" بایزید نے کہا " تیرا سبحان اللہ کہنا بھی شرک ہے۔ کیونکہ تو یہ کلمہ اپنی پاکیزگی بیان کرنے کے لیۓ کہہ رہا ہے" مرید نے کہا مجھ سے یہ علاج نہین ہوسکتا۔ کوئ اور علاج بتلایۓ" ------------ نے کہا " اگر یہ علاج نہیں کرسکتا تو تیرا کوئ علاج نہین ( احیاء العلوم ص358 ج 4 مصنف امام غزالی)
آپ سے درخواست ہے کہ مجھے یہ بتا دیجیۓ کا کیا آپ تزکہ نفس کے اس طریقہ کار سے متفق ہیں یا نہیں۔۔ اور آپ کی خدمت میں اس طریقہ کار میں خلاف شریعت امور کی وضاحت بھی کردوں۔
نمبر ایک رات کو کبھی نہ سونا۔ ہمیشہ روزے سے رہنا، داڑھی کا منڈانا اور پھر سب سے بڑا ستم یہ کہ سبحان اللہ کو شرک کہنا۔
ایک بات عرض کردوں کے مجھے اپنے کمنٹس میں بہت احتیاط کرنی پڑتی ہے کیونکہ میں ہماری ویب کے لیۓ کسی بھی مشکل کا باعث نہیں بننا چاہتا۔ ورنہ جو کچھ میں نے دیکھا اور تصوف کی کتابوں میں پڑھا ہے۔ وہ ان صوفیوں پر کفر کی فتوی لگانے کا لیۓ کافی ہے۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 16 2012
Reply Reply
0 Like
مسٹر بابر تنویر ،

بڑھے بوڑھے کہہ گئے ہیں کہ ہاتھیوں کی غذا چونٹیوں کو نہیں دی جاسکتی۔ جب آپ تصوف کی الف ب سے واقف ہی نہیں تو اتنے مستند انداز میں گفتگو کا بیڑا کیوں اٹھائے پھرتے ہیں۔

آپ مونٹیسری سے باہر آجائیں تا کہ ماسٹر کی ڈگری کی طرف شروعات ہوسکے۔

آپ کے نزدیک ریا کاری سے اعمال پر کیا ضرب پڑتی ہے۔ ؟؟؟

ویسے ہماری ویب کی اتنی پرواہ نہ کریں کیوں کہ جو لوگ “اولیاءاللہ“ سے عداوت رکھیں انھیں ہماری ویب سے ہمدردی کا بھی کوئی حق نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کے نزدیک بایزید بسطامی و امام غزالی کافر ہوتے ہونگے ۔۔۔۔۔۔۔ مگر آپ ان کی پاؤں کی گرد بھی نہیں کہ ہمارے لئے وہ بھی قابل احترام ہے۔ اور آپ کا تو شمار ہی کیا۔
By: Kamran Azeemi, Karachi on Dec, 17 2012
1 Like
جن کو رہے جنت و انعام درکار تو پھر کیا بات کی جائے۔ اور جن کو تلاش حق ہو درکار تو پھر نہ رہتا ہے دوزخ کا ڈر اور نہ ہی جنت کا شوق تو پھر کیا رہ جاتا ہے اہل فقر کے پاس ماسوائے “پاک رب کی رضا کے“،!

آپ لوگ کبھی باقی کتابیں پڑھنے کے علاوہ حضرت بابا بلھے شاہ رحمتہ الله علیہ اور حضرت سلطان باہو رحمتہ الله علیہ کے کلام بھی پڑھ لیا کریں کہ شاید زندگی کی وجہ اور بزرگی کا علم کا پتہ چل سکے! اور بال کی کھال ادھیڑنے اور فتوے جیسے بیان دینے کے بجائے پاک رب کی رضا تلاش کرنے کا سوچیں عبادات تو باقی مخلوقات بھی کرتی ہیں اپنے اپنے انداز و زباں میں! اور پاک رب تو سب جانتا ہے۔

میں نے بات کی حق کی تلاش کے نشاں کی کہ جسکی تفصیل یا وضاحت صرف و صرف قرآن پاک سے کی ہے اور آپ حضرات اپنے رخ میں کوئی خامی یا خم نہیں دیکھنا چاہ رہے میرے لیئے جو معلومات قرآن پاک سے ملیں وہ بیان کیں مگر آپ لوگ اسی چیز کو اپنے انداز میں دیکھنے و پرکھنے کا سبق دینا چاہتے ہیں توپھر قائم رہیں اسی پر کہ شاید جنت کی کامیابی آپ کے حق میں آ جائے۔ امین۔

(چلیں اولیاء الله کو تو مانا کہ ہوتے ہیں مگر کسطرح، جیسے آپ کی اپنی نظر میں)-
By: azeem, rwp on Dec, 17 2012
0 Like
محترم جناب عبد العظیم صاحب۔ بھائ آگے بات ضرور چلیے گی مگر پہلے بھائ طارق محمود کے 3 دسمبر کو اٹھاۓ گۓ سوال کا جواب تو دے دیجیۓ۔
اس کے بعد میں نے اپنی پوسٹ میں اولیاء اللہ کی نمایاں خصوصیات قران کریم کی آیات کی روشنی میں پیش کیں تھیں۔ آپ مجھے بتا دیجیۓ کہ وہ باتیں درست ہیں اور اگر نہیں تو وضاحت کیجیۓ کہ ان میں کیا بات غلط ہے۔
تیسری بات میں نے آپ سے لفظ تصوف کی تفصیل بتانے کی درخواست کی ہے۔ مجھے بتا دیجیۓ کہ کیا تصوف کس زبان کا لفظ ہے اور محھے یہ بھی بتا دیجیۓ کہ کیا نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کسی مسلمان کو صوفی یا ولی اللہ کہا جاتا تھا۔
ایک اور بات آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ صحیح مسلم کے دیباچے میں لفظ "صالحین" کی اصطلاح استعمال ہوئ ہے کہ ان کی زبانوں سے جھوٹ بلا ارادہ نکل جاتا ہے چاہے ان کا ارادہ جھوٹ بولنے کا نہ بھی ہو۔ یہ بتائیۓ کہ یہ صالحین کون لوگ تھے۔
بھائ آپ کا میرے اور بھائ طارق محمود پر ذاتی تبصرے کا شکریہ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں جنت میں بھی اسی طرح ایک دوسرے کا اور اپنے انعام یافتہ لوگوں کا ساتھی بناۓ۔
آمین۔ یا رب العالمین
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلًا ﴿٣٠﴾ أُولَـٰئِكَ لَهُمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٍ وَيَلْبَسُونَ ثِيَابًا خُضْرًا مِّن سُندُسٍ وَإِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِينَ فِيهَا عَلَى الْأَرَائِكِ ۚ نِعْمَ الثَّوَابُ وَحَسُنَتْ مُرْتَفَقًا ﴿٣١﴾۔
(اور) جو ایمان لائے اور کام بھی نیک کرتے رہے تو ہم نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے (30) ایسے لوگوں کے لئے ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن میں ان کے (محلوں کے) نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان کو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ باریک دیبا اور اطلس کے سبز کپڑے پہنا کریں گے (اور) تختوں پر تکیئے لگا کر بیٹھا کریں گے۔ (کیا) خوب بدلہ اور (کیا) خوب آرام گاہ ہے (31)۔
یہ سورہ کہف کی آیات ہیں۔ میرے رب نے ایمان لانے اور نیک اعمال کرنے والوں کو جنت کی بشارت دی ہے۔
کسی گوہر نایاب کے تلاش آپ کو مبارک ہو۔ میری تو دعا ہے کہ وہ مجھے ایمان کے ساتھ نیک اعمال کی توفیق دے اور میرے اچھے اعمال کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما کر مجھے کامیاب لوگوں میں شامل فرما دے۔ آمین!
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 16 2012
Reply Reply
0 Like
سورہ یونس کی اور اس موضوع کی حامل 12 آیات کے بارے میں میں نے آپ کی خدمت میں اس سے پہلے مکمل تفصیل فراہم کر دی ہے۔ براے مہربانی مجھے بتائیے کہ اس میں کیا بات غلط ہے۔
آخر میں ایک بات اور بتا دیجیے کہ تصوف کس زبان کا لفظ ہے اور نبئ کریم کی حیات مبارکہ تصوف اور صوفی کی اصطلاح کن لوگوں کے لیۓ استعمال ہوتی تھی۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 12 2012
Reply Reply
0 Like
محترم بابر بھائی،
اب عظیم صاحب پہلے کی طرح پھر رفوچکر ہو جائیں گے۔
حق آگیا اور باطل مٹ گیا اور باطل ہے ہی مٹنے والا
By: tariq mehmood, Karachi on Dec, 13 2012
0 Like
سورہ انباء کی آیت نمبر 37 اور 38 کا ترجمہ ملا کر پڑھیۓ۔
وہ جو رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے رحمن کہ اس سے بات کرنے کا اختیار نہ رکھیں گے (37) جس دن جبریل کھڑا ہوگا اور سب فرشتے پرا باندھے (صفیں بنائے) کوئی نہ بول سکے گا مگر جسے رحمن نے اذن دیا اور اس نے ٹھیک بات کہی (38)
بھائ یہان بات روز محشر کی ہو رہی ہے۔ اور آپ نے اپنے ترجمے میں مستقبل کا صیغہ استعمال کرنے کے بجاۓ ماضی کا صیغہ استعمال کرکے آیت کی معنوی تحریف کردی
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 12 2012
Reply Reply
0 Like
میں نے ترجمہ خود نہیں بلکہ آن لائن عرفان القرآن سے لیا ہے آپ خود بھی دیکھ سکتے ہیں۔ باقی جیسے جیسے وقت ملتا جائے گا گفتگو چلتی رہے گی ویسے آپ لوگوں کی جوڑی بڑی اچھی چل رہی ہے۔ سدا آباد رہیں۔
By: azeem, rwp on Dec, 14 2012
0 Like
محترم آپ سورہ ق کی آیت نمبر 37 کے ساتھ ساتھ آيت نمبر 36 کا ترجمہ بھی پیش کردیتے تاکہ بات مکمل ہو جاتی۔ لیجیۓ میں پیش کردیتا ہوں۔

ہم ان سے پہلے بہت سی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں جو ان سے بہت زیادہ طاقتور تھیں اور دنیا کے ملکوں کو انہوں نے چھان مارا تھا پھر کیا وہ کوئی جائے پناہ پا سکے؟ (36) اِس تاریخ میں عبرت کا سبق ہے ہر اس شخص کے لیے جو دل رکھتا ہو، یا جو توجہ سے بات کو سنے
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 12 2012
Reply Reply
0 Like
ترجمہ آیت پاک)الْفَتْح(: 10. (اے حبیب!) بیشک جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اﷲ ہی سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر (آپ کے ہاتھ کی صورت میں) اﷲ کا ہاتھ ہے۔ پھر جس شخص نے بیعت کو توڑا تو اس کے توڑنے کا وبال اس کی اپنی جان پر ہوگا اور جس نے (اس) بات کو پورا کیا جس (کے پورا کرنے) پر اس نے اﷲ سے عہد کیا تھا تو وہ عنقریب اسے بہت بڑا اجر عطا فرمائے گاo

بات آپ سے بعیت کی ہو رہی ہے۔ ذرا بتائیۓ کہ یہ کس بات کی بیعت تھی
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 12 2012
Reply Reply
0 Like
اسی نے تمہارے لئے دین کا وہی رستہ مقرر کیا جس (کے اختیار کرنے کا) نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی (اے محمدﷺ) ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے اور جس کا ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا (وہ یہ) کہ دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا۔ جس چیز کی طرف تم مشرکوں کو بلاتے ہو وہ ان کو دشوار گزرتی ہے۔ الله جس کو چاہتا ہے اپنی بارگاہ کا برگزیدہ کرلیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرے اسے اپنی طرف رستہ دکھا دیتا ہے (13)
یہاں بھی اللہ تعالی انبیاء اور ایمان والوں کی خصوصیات بیان فرما رہا ہے۔
اور یہ اسی سیدھے راستے کی دعا ہم سورہ فاتحہ میں مانگا کرتے ہیں
اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ﴿٦﴾ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ﴿٧﴾
اے اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔ ان لوگوں کا راستہ جن پر تو اپنا فضل و کرم نازل کرتا رہا نہ کہ ان لوگوں کا جن پر تیرا غضب نازل ہوا
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 12 2012
Reply Reply
0 Like
بھلا جس شخص کا سینہ خدا نے اسلام کے لئے کھول دیا ہو اور وہ اپنے پروردگار کی طرف سے روشنی پر ہو (تو کیا وہ سخت دل کافر کی طرح ہوسکتا ہے) پس ان پر افسوس ہے جن کے دل خدا کی یاد سے سخت ہو رہے ہیں۔ اور یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں (22) خدا نے نہایت اچھی باتیں نازل فرمائی ہیں (یعنی) کتاب (جس کی آیتیں باہم) ملتی جلتی (ہیں) اور دہرائی جاتی (ہیں) جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے بدن کے (اس سے) رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ پھر ان کے بدن اور دل نرم (ہو کر) خدا کی یاد کی طرف (متوجہ) ہوجاتے ہیں۔ یہی خدا کی ہدایت ہے وہ اس سے جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور جس کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں (23)
محترم عبدالعظیم صاحب یہاں اللہ تعالی مؤمنین اور مشرکین کا ذکر کررہا ہے۔ مؤمن کا سینہ اللہ تعالی کشادہ کردیتے ہیں اور وہ دین کی روشنی حاصل یعنی ہدایت حاصل کر لیتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں مشرکین گمراہی کے اندھیروں میں گر جاتے ہیں۔ اور اللہ جس کو گمراہ کر دے پھر اس کو ہدایت کی روشنی حاصل نہین ہوسکتی۔ قران کریم میں ہدایت یافتہ اور کامیاب لوگوں کو مؤمن کہا گيا ہے۔ صوفی نہیں۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 12 2012
Reply Reply
0 Like
محترم جناب عبد العظیم صاحب اگلی آیت آپ نے سورہ طہ کی آیت نمبر 109 پیش کی ہے۔ ایک سیدھی سی بات آپ کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ یہ روز محشر کی بات ہو رہی ہے۔ اس دنیا کی نہیں۔ وہاں اللہ تعالی کی اجازت کے بعیر کوئ بھی کسی کی سفارش نہ کر سکے گا۔ اس سے دنیا میں کسی کی ذات کا وسیلہ اختیار کرنا ہر گز ثابت نہیں ہوتا۔
اس آیت کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔
اس روز (کسی کی) سفارش کچھ فائدہ نہ دے گی مگر اس شخص کی جسے خدا اجازت دے اور اس کی بات کو پسند فرمائے (109)
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 12 2012
Reply Reply
0 Like
محترم جناب عبد العظیم صاحب بھائ بات یہ ہے کہ آپ نے چند قرانی آیات ضرور پیش کیں تھیں مگر میرے نزدیک ان آیات کا تعلق اس موضوع سے نہیں تھا۔ مگر پھر بھی میں اس بارے میں مختصر کچھ عرض کردیتا ہوں۔
سب سے پہلے تو آپ نے وسیلہ کے بارے میں دو آیات پیش کیں اس بارے میں آپ سب حضرات سے پہلے بھی گفتگو ہو چکی ہے۔ بہرحال ابن کثیر سے ان آیات کی تفسیر آپ کی خدمت میں پیش کردیتا ہوں۔
سورہ مائدہ کی آيت نمبر 35 سے 37 تک کی تفسیر کچھ اسطرح ہے۔
اللہ تعالی نے اپنے مومن بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ تقوی اختیار کریں، تقوے کو جب اطاعت الہی کے ساتھ ملا لیا جاۓ تو پھر اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ ان تمام امور کو ترک کردیا جاۓ جن سے اللہ تعالی نے منع کیا اور جنہیں اس نے حرام قرار دیا ہے۔ اور اس کے بعد فرمایا
‎ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ اور اس کا قرب تلاش کرتے رہو۔ آمام سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے، انہوں نے طلحہ سے، انہوں نے عطاء سے روایت بیان کی ہے کہ وسیلے کے معنی قربت کے ہیں- مجاہد، ابو وائل، حسن، قتادہ، عبداللہ بن کثیر، سدی، ابن زید اور کئ ایک دیگر ائمہ تفسیر کا بھی یہی قول ہے۔ (تفسیر طبری308-309/6)۔ امام قتادہ فرماتے ہیں کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کی اطاعت بجا لاکر اور اس کی خوشنودی کے عمل سر انجام دے کر اس کا قرب حاصل کرو۔ آیصا 309/6۔
امام ابن زید نے اس کی تائید میں اس آیت کریمہ کو بھی پڑھا۔ اولَـٰئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ یہ لوگ جن کو اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ خود اپنے پروردگار کے ہاں ذریعہ (قرب) تلاش کرتے رہتے ہیں۔ ایضا 309/6۔
محترم جناب عبد العظیم صاحب یہ ہے ان آیات کی اصل تفسیر۔ اس سے اللہ کے بارگاہ میں حاضری یا دعا میں کسی ہستی کی ذات کا وسیلہ اختیار کرنا ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر ان آیات کے نزول کے بعد آپ کو صحیح احادیث سے کوئ ایک بھی دعا ایسی نہ ملتی جو کہ ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاب کے وسیلے کے بغیر مانگی گئ ہوتی۔ اس پر آپ کی راۓ کا منتظر ہوں۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 12 2012
Reply Reply
0 Like
محترم بابر صاحب۔

آپکی نظر و سوچ میں وسیلے کی تلاش کی ضرورت نہیں پڑتی لیکن قرآن پاک تو حکم ارشاد کر رہا ہے اور آپ اس نسخہ کیمیا کو سمجھنے و تحقیق سے عاری لگتے ہیں اور طارق صاحب بھی یہی کہے چلے جا رہے ہیں۔ اور نیچے تو آپ حضرات نے واضع لکھا اور مانا ہے کہ آپکو کسی خضر (علیہ سلام) کی تلاش کی ضرورت ہی نہیں تو پھر گوہر نایاب کو کیا سمجھیں گیں؟ (قرب الہی کیا چیز ہے اہل قرابت کون لوگ ہیں, روز محشر نور کے ممبروں پے کون لوگ جلوہ افرز ہوں گے کہ جن پے شہدا اور نبی رشک کریں گیں اور پاک رب سے ان کی تعریف یا پہچان دریافت کریں گیں تو بات بڑھے گی کہ اہل قرابت کون لوگ ہیں کہ جن پے کوئی خوف نہ ہو گا اور نہیں وہ غمگین ہوں گے).....

اس پے سب کا ایمان ہے کہ قرآن پاک روز آخر تک رہنمائی کر رہا ہے کہ جو بھی بات ارشاد ہوئی ہے آنے والے ہر زمانے کے لیئے رہنمائی ہی رہنمائی اسی کلام پاک میں ہے۔ کیا یہ ایمان رکھتے ہیں؟

میرا تو ایمان ہے اس بات پر- اسی پاک کلام میں تو تمام انبیاء علیہم الصلوت والسلام اجمعین کا ذکر اور انکی زندگیوں کے اذکار تو مفصل ہونے چاہیئے تھے کیونکہ قرآن پاک تو سب سے آخر میں ہمارے پیارے نبی پاک خاتم الانبیاء، رحمتہ اللعالمین، محبوب رب، نور مجسم حضرت محمد مصطفیٰ صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا تھا اور سلسلہ نبوت بھی آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر آکر اختتام پزیر ہوا ہے! کیا ایسی ہی بات ہے نا؟ و لیکن پاک کلام میں صرف انبیاء علیہم الصلوت والسلام اجمعین کا ذکر اور انکی زندگیوں کا کچھ ذکر ملتا ہے,,,, تو یہاں یہ بات سمجھ آنی چاہیئے نہ کہ ان تمام انبیاء علیہم الصلوت والسلام اجمعین کی فہرست میں سے صرف چند کا ذکر پاک ہمارے پاک رب واحدہ لاشریک نے تا قیامت بلند فرما دیا ہے, کیا ایسا ہی ہے نہ؟ یا آپکی رائے مختلف ہے؟

اب جو چند واقعات انہی پاک بندوں کی زندگیوں سے منسلک ہیں پاک کلام میں بڑے ہی واضع ہیں; جیسا کہ:-

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کا واقعہ قرآن مجید کی سورہ کہف میں تفصیلاً درج ہے جسکی رو سے حضرت موسیٰ علیہ السلام صرف صاحب شریعت پیغمبر ہونے کی عکاسی کر رہے ہیں جبکہ حضرت خضر علیہ السلام صاحب حقیقت اولیاالله کا آئینہ ہیں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا دوران سفر بار بار حضرت خضر علیہ السلام کے اعمال و حرکات کو ٹوکنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اگر رب تعالیٰ جل شانہ نہ چاہے تو کوئی پیغمبر بھی بیک وقت دونوں علوم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ تو پھر بھلا ایک عام آدمی کیسے دعویٰ کر سکتا ہے کہ علم صرف اسی کے پاس ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ہر علم والے کے اوپر ایک علم والا ہے۔ یہاں ایک بات یاد رہے کہ اس واقعہ سے خدانخواستہ حضرت موسی علیہ السلام کلیم الله کی شان اقدس کو کم کرنا ہرگز مقصود نہیں بلکہ الله رب العالمین نے خود حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حضرت خضر علیہ السلام کی طرف روانہ کیا۔ جس کا ذکر سورہ کہف میں موجود ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام فرما رہے ہیں اگر مجھے سالوں سال بھی حضرت خضر علیہ السلام کی تلاش میں چلنا پڑا تو میں چلوں گا۔

اسی واقعہ میں انتہائی اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ جب حضرت خضر علیہ السلام نے تمام واقعات کی تفصیل بیان کر دی تو فرمایا کہ میں نے جو کچھ کیا اپنے رب کے حکم سے کیا تو دونوں پاک ہستیوں نے اپنے راستے جدا کر لیے جس کا تعین پہلے ہی طے ہو چکا تھا۔

(دونوں علوم کیا ہیں:- دینی علوم یا علوم معرفت الہی دو طرح کے ہیں۔ دونوں علوم دراصل ایک ہی ہیں اور الله رب العالمین کے عطا کردہ ہیں۔ ایک علم شریعت یعنی ظاہری احکامات و حدود کا متعین ہونا اور ضابطہ حیات۔

دوسرا علم حقیقت اور معرفت ( طریقت، تصوف یا فقر) یعنی باطنی علم۔ باطنی علم اور معرفت ( طریقت، تصوف یا فقر) وہ علم ہے جس سے کہ انسان کا مرکز و محور حد درجہ کی باطنی پاکیزگی نفس اور اخلاص نیت سے (ریاکاری و دکھلاوے کی عبادات سے مبرا ہو کر) اپنے رب تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنا ہے اور اپنی نفسانی خواہشات اور شیطانی وسوسوں کو خدا بنانے کی بجائے یا شیطانی اعمال اپنا کر اپنے نفس اور شیطان کو خوش کرنے کی بجائے صرف اور صرف راضی بالرضا ہو کر الله تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا کی خاطر اپنی ذات کے غرور و تکبر سے بچ کر انتہائی عاجزی و انکساری سے اپنی اصلاح کر کے دوسروں کو اصلاح کا موقع فراہم کرنے کے لیے مشعل راہ بننا ہے۔

دونوں ظاہری و باطنی علوم (علم شریعت اور علم حقیقت، طریقت یا تصوف) برحق ہیں اور دونوں علوم کا محور و مرکز رب تعالیٰ کی ذات اقدس ہے۔ دونوں کی منزل ایک ہے۔ جیسا کہ علامہ اقبال نے فرمایا:
علم ہے ابن الکتاب
اور عشق ہے ام الکتاب

جیسا کہ دونوں علوم الله رب العالمین ہی کے عطا کردہ ہیں اور ایک ہی ہیں مگر دونوں کا انداز و طریقہ ضرور الگ الگ ہو سکتا ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کا واقعہ قرآن مجید کی سورہ کہف میں تفصیلاً درج ہے جسکی رو سے حضرت موسیٰ علیہ السلام صرف صاحب شریعت پیغمبر ہونے کی عکاسی کر رہے ہیں جبکہ حضرت خضر علیہ السلام صاحب حقیقت اولیاالله کا آئینہ ہیں۔ "
"یہ دو بارہ لکھا ہے تاکہ کوئی ابہام نہ رہے", ............)

وہ علم کیسا علم ہے کہ جسکے بارے نبی آخرالزماں رحمتہ اللعالمین صلی الله علیہ وآلہ وسلم کیا فرما رہے ہیں:

نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

١- میں (محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم) علم کا شہر ہوں اور حضرت علی (کرم الله وجہ) اس کا دروازہ ہیں۔

٢- جس نے مجھے (محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم) اپنا آقا مانا ، حضرت علی (کرم الله وجہ) کو بھی اپنا آقا مانے یا جس کا میں (محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم) مولا (آقا) ہوں ، حضرت علی (کرم الله وجہ) اسکے مولا (آقا) ہیں۔

نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ایک اور موقع پر):-

١) حسن و حسین (علیہ الصلوتھ و السلام) جنت کے سردار ہیں۔

٢) میں (محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم ) حسین (علیہ السلام) سے ہوں اور حسین (علیہ السلام) مجھ (صلی الله علیہ وآلہ وسلم ) سے ہے۔

اسی طرح, قرآن کریم میں تخلیق حضرت آدم علیہ السلام کے بعد کئی ادوار میں انبیائے کرام اور اولیائے کرام کا ذکر اکٹھے ایک ساتھ ایک ہی دور یا زمانے میں ملتا ہے۔ جیسا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں ایک صاحب ( جنہیں کتاب کا علم عطا کیا گیا تھا) کا ذکر ہے جو کہ پلک جھپکتے ہی ملکہ سبا کا تخت حاضر کر دیتے ہیں۔ دوسرے موقع پر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام (جنہیں الله تعالیٰ نے اپنی رحمت سے علم لدنی ، یعنی قدرتی علم عطا فرمایا تھا) کا اکٹھے سفر کرنا، ظاہر ہے یہ ایک ہی زمانے میں ہوا۔۔ اور بعض اوقات ایک نبی پاک کے وصال سے دوسرے نبی پاک کی بعثت کے درمیانی وقفہ میں لوگوں کی رشد و ہدایت پر فائز ہونا یعنی حضرت ذوالقرنین علیہ السلام کا ایک سرکش قوم پر نگران اور ہادی مقر ہونا اور اصحاب کہف کے واقعات کا ذکر ملتا ہے۔

یعنی یہاں جو نظام سمجھ آ سکتا ہے وہ یہی ہے کہ پاک رب نے جو بندہ خاص چنا ہوا ہوتا ہے اپنے اپنے زمانے میں اسی کی پہچان و تلاش کے واسطے پاک کلام میں واضع رءنمائی مل رہی ہے اور جو جانتے بوجھتے یا لا علمی کا اظہار کر ے زندگی ععبادات یا کم عبادات کے ساتھ گذار کر کے چلا جاتا ہے تو اسکے ذمے کیا باقی رہ جاتا ہے ما سوائے پیشیمانی اور ناکامی کے مگر جو نیت بالکل صاف رکھتا ہے اور فضل و کرم کی آس کھتا ہے و پھر ایک نہ ایک دن پاک رب کسی نہ کسی طرح اپنے چنے ہوئے بندہ خاص کے در تک پہنچا دیتا ہے اور باقی کا سفر اب وہ بندہ جانے اور اسکا پاک رب!
By: azeem, rwp on Dec, 14 2012
0 Like
آپ تمام حضرات ذرا دوبارہ غور سے قرآن پاک کی آیات کے ترجمے پڑھیں جو اوپر و نیچے دیئے ہوئے ہیں تو معاملہ مزید واضع ہو جائے گا کہ ولی الله کون ہوتا ہے اپنے زمانے میں اور اذن کیا چیز ہوتی ہے، یعنی پاک رب کے چنے ہوئے خاص بندے کی شان کیسی نرالی ہوتی ہے۔

آپ لوگ کافی پڑھے لکھے ہیں اور قارئین بھی خود سے ان آیات پاک کے تراجم پڑھ کر حقیقی ولی کی پہچان کر سکتے ہیں کہ ولی الله ہوتا کون ہے نہ کہ ہر کوئی کہ عبادات کے فضائل پے چلنے والا ہو وہ تو پھر دور حاضر یعنی چوھدویوں صدی کا ملا تو پھر سب س بڑا ولی الله ہوا کہ نہ؟

عبادات کی اصل پہچان چاہتے ہو تو پھر ڈھونڈو دور حاضر کے خضر (علیہ سلام) اگر نصیب میں ہوا تو نا، اور اگر نصیب میں ہوا تو پھر اس بزرگ ہستی کی جوتیاں اٹھانا سیکھیں (اگر واقعی عجز و انکساری کی منزل پہچاننا چاہتے ہو) کہ شاید کچھ سمجھ میں آ نا شروع ہو-

احکمات و عبادات تو مسلمانوں کو کیا پوری دنیا کے لوگوں کو پتہ ہیں، یہ جو سالانہ حج ہوتا ہے تو کس خاطر ہوتا ہے؟ سوائے حاضری کے اور بھی بہت سارے کام کہ جن مں سب سےبڑا کام پی دنیا تک کے لیئے پیغام جاتا ہے کہ “مسلمان ایک پاک رب کو مانتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں جو وری دنیا کا مالک ہے،،،، کیا ایسا نہیں ہو رہا ہے ہر سال کے حج میں اور یہ ایک واسطہ ہے رب کی واحدانیت کی پہچان کا تمام دنیا ک لیئے“، اور جس ہستی کو اس پاک رب نے چن کر ہدایت کی خاطر سب پے فوقی دے دی کہ جس میں تمام مخلوقات آتی ہیں جو جسطرح چاہے ہدایت پائے بالخصوص مسلمانوں میں تو بڑے بڑے عبادات و سفید پوش بھی ہیں لیکن وہ چنی ہوئی ہستی کی ادا ہی نرالی ہوتی ہے،،،، تو ڈھونڈیں رب کی رضا کہ جس کا پہلا قدم اس ہستی کی تلاش مقصود ہے،،،، گھر بیٹھ کر یا مساجد میں جا کر نمازیں پڑھنا بہت ہی آسان ہے اگر واقعی نماز جاننا چاہتے ہیں تو ڈھونڈھیں اس گوہر نایاب کو کہ جس پے کل جہاں کا رب راضی ہے۔ (آسان کام نہیں ہے ساری زندگی چاہیے ، ساری زندگی)-

پاک رب سب پے فضل کرے۔ امین۔
By: azeem, rwp on Dec, 11 2012
Reply Reply
0 Like
محترم عظیم صاحب،
اس سے قبل بھی آپ سے اس بارے میں بات ہو چکی ہے اور اپ نے وہاں خاموشی اختیار کر لی تھی اب یہاں پھر لوگوں کو الجھانے کی کوشش کر رہے ہیں بابر بھائی نے قرآن سے ثابت کر دیا ہے کہ اللہ کے ولی کون ہوتے ہیں اپ کو زحمت کر نے کی ضرورت نہیں ہے۔
By: tariq mehmood, Karachi on Dec, 12 2012
0 Like
محترم اب آپ بے ربط باتیں کرنا شروع ہوگۓ ہیں۔ اللہ کا حقیق ولی کون ہے یہ بات صرف اور صرف اللہ تعالٰی ہی جانتے ہیں۔ ہمیں تو اللہ تعالٰی نے اپنی بندگی کے لیۓ پیدا فرمایا۔ اور ہمارے قران اور نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ کی شکل میں مکمل ضابطہ حیات فراہم کردیا ہے۔ اور اس میں تصوف کا نام و نشان بھی نہیں ملتا۔
بھائی عبادت اور عبد کی اصل پہچان کے لیے قران اور سنت ہی کافی ہیں۔ ہمیں کسی خضر کی تلاش کی ضرورت نہیں
ہمیں آخرت میں کامیابی کے لیۓ اللہ تعالٰی نے ایمان لانے کے لیۓ اور صالح اعمال کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح نماز روزے اور حچ کو ہمارے لیۓ فرض کیا ہے۔ ہمیں کسی اور گوہر نایاب کو ڈھونڈنے کا حکم نہیں دیا۔ اور آپ اپنی پوری زندگی اس کی تلاش میں سرگرداں ہونے کے بجاۓ قران و سنت کو مضبوطی سے پکڑ لیجیۓ۔ انشاء اللہ آخرت میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اللہ مجھے اور تمام مسلمانوں کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے
By: Baber Tanweer, Karachi on Dec, 12 2012
0 Like
Displaying results 1-20 (of 24)
Page:1 - 2First « Back · Next » Last
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB