Hamaeiweb.com
 
(tariq mahmood, Karachi)

Rate it:
Total Views: 1152
About the Author: tariq mehmood

Visit 13 Other Articles by tariq mehmood »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Share Comments Share Comments
Email to a Friend
Print Article Print Article
Read Article in Text
Reviews & Comments Reviews & Comments
احمد صاحب، اپ کے اعتراضات کے جواب پیش خدمت ہیں،
اور اپ کے پہلے اعتراض کا جواب
اس سلسلے میں سب سے پہلے تو مضمون کی تیسری سطر میں لکھا
"شرک جس میں آج موجودہ مسلمان مبتلا ہے اس کو مدلل بیان کر رہا ہوں"
تو کیا یہاں آج کے موجودہ "مسلمان" کا "شرک" میں مبتلا ہونے کا بیان بطور تنبیہ تھا یا کچھ اور؟ چونکہ پہلی مرتبہ لکھا، لہذا تنبیہ ہی ہونا چاہئے۔ اور ویسے بھی اگر بطور تنبیہ نہ ہوتا تو پھر انہیں آج کے موجودہ "مسلمان" کیوں کہتے؟ چنانچہ ظاہر تر یہ ہے کہ یہاں بطور تنبیہ ہی مراد ہے۔

تو اس عبارت میں اپ نے یہ ثابت کیا ہے کہ اس جگہ میں نے پہلی بار تنبیہ کے طور پر ایک بار مشرک کو مسلمان کہ دیا ہے اور اس پر اپ کا دل کتنا خوش ہوا ہو گا کہ اگلی بار اپنے ایک اور جگہ پر مسلمان مشرک کا لفظ نکل لیا مگر جناب اس دل کو تھام کر رکھیں کیوں کے اپ اپنی اسی تحریر میں اس کو اعتراض مانے سے انکاری ہیں کہ اپ کا اعترا ض اس پر نہیں ہے پیش کر دیتا ہوں
لیکن میرے اعتراضات کا جواب دینے سے پہلے کم از کم یہ تو ثابت کیجئے کہ میرا اعتراض ایمان لانے کے بعد شرک میں مبتلا ہونے پر تھا۔ خدمت عالیہ میں یہ درخواست ایک سے زائد مرتبہ پہلے بھی پیش کی جا چکی، لیکن مجال ہے کان پر جوں تک رینگی ہو، بلکہ جناب آج بھی پوری ڈھٹائی سے اپنی ہی ہٹ پر قائم ہیں۔ تو عرض یہ ہے کہ جو میرااعتراض ہی نہیں، اس پر خامہ فرسائی فرمانا اور اپنی "علمی جاہلیت" کے جوہر دکھاتے ہوئے جواب عنایت کرنے کا دعویٰ کرنا دیوانے کی بڑ سے زیادہ بھلا کیا حیثیت رکھتا ہے۔

تو جب اپ کا اعترا ض اس پر ہے ہی نہیں تو پھر اس کو پیش کرنے کی وجہ کیا ہے
تو اگر یہ اعتراض ہی نہیں ہے تو پہلی پر تنبیہ کرنا صرف مسلمان مشرک کی عبارت ہوئی اور وہ میں نے ایک ہی بار استعمال کیا ہے کیونکہ اس لے پہلے والی عبارت کو تو اپ اعتراض ہی نہیں مانتے ہیں اور جہاں تک تعلق ہے میرے کمنٹس میں اس کو استمال کرنے کا تو جناب میں نے کمنٹ میں بھی مضمون کے حوالے سے لکھا ہیں جن عبارت پر اپ نے اعتراض کیا ہے کمنٹس میں انہی پر بحث ہوئی ہے اور وہاں میں نے صرف دہرانے کے لئے لکھا ہے اس کی اصل تو مضمون میں موجود ہے اور اپ کا اعتراض میرے مضمون پر تھا کمنٹس تو بعد میں آئے تھے اگر میں کمنٹس نہ کرتا تو تنبیہ ایک ہی بار ہوتی اور وہی اصل ہے فوٹو کاپی اگر دس بھی کرلی جائے مگر اصل ایک ہی رہتے ہے اور میں نے جو لکھا ہے وہ مضمون میں ہے نہ کہ کمنٹس میں اور اپ نے میرے مضمون پر ہی پیلی بار اعتراض کیا تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو .

اور اگر اپ کی یہ بات مان لی جائے تو پھر اپ کے اس بیان کا کیا کریں
اگر سمجھ میں نہیں آیا تو دوبارہ پڑھ لیجئے

"ایمان لانے کے بعد شرک میں مبتلا ہونے کی عبارت صحیح نہیں"
یہ اپ کی ٢٤ فروری کا تبصرہ ہے جس میں اپ نے میری اس عبارت پر اعتراض اٹھایا ہے
ایک بیان پر قائم رہے تو اس کے بعد بات اگے کریں گے اگر اپ کرنا چاہے .

اپ کا تبصرہ میرے کمنٹس پر یہ تھا

سبحان اللہ رب العرش العظیم۔ سمجھ میں نہیں آتا جناب کہاں بیٹھ کر ان معاملات پر غور و خوض فرماتے ہیں جس کے نتیجے میں ایسے ایسے نادر نکتے سامنے آتے ہیں جن کے بارے میں نہ کسی نے کبھی سنا نہ کہیں پڑھا۔ یعنی کبھی تو مشرکین کا "ایمان" اور اس کا ان کے حق میں مفید ہونا ثابت فرمانے پر تل جاتے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ مشرک انکاری نہیں ہوتا بلکہ صرف کافر انکاری ہوتا ہے، اور اب یہ سمجھانے کی کوشش فرما رہے ہیں کہ منافق شرک نہیں کرتا۔
کیا اس راز سے پردہ اٹھانے کی زحمت گوارا فرمائیں گے کہ اس دعوے کا مآخذ کیا ہے کہ "منافق شرک نہیں کرتا"۔
کیا یہ بات نص قرآنی میں وارد ہوئی؟
یا احادیث مبارکہ میں اس کا تذکرہ آیا؟
یا آثار صحابہ میں منقول ہوا؟
یا مجتہدین، مفسرین، شارحین، یا علمائے کرام کے کسی طبقے نے اس بات کو بیان کیا؟
یا پھر یہ بھی جناب کےبھیجے کی زرخیزی کا نتیجہ ہے کہ منافق کو شرک سے پاک و مبریٰ قرار دے ڈالا؟
اس پر لطف بیان (کہ منافق شرک نہیں کرتا) پر میں ایک حوالے کی طرف بھی توجہ دلانا چاہوں گا، جسے دیکھ کر یقیناً جناب کو روحانی مسرت حاصل ہو گی۔ حوالہ ہے آپ کے معتمد و معتبر مفسر جناب ابن کثیر کی تفسیر ابن کثیر کا۔ اور آیت کریمہ بھی وہی جسے خود جناب نے پیش فرمایا، یعنی سورہ یوسف کی آیت ۱۰۶ جس کے تحت حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول بطور استدلال نقل کیا۔ اسی قولِ ابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بالکل پہلے دیکھئے جناب ابن کثیر کیا فرماتے ہیں
"اسی طرح اس آیت کے تحت میں منافقین بھی داخل ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔"

احمد صاحب اپ کو کچھ یاد کروانا چاہتا ہوں سب سے پہلے جناب نے ہی شاہ ولی الله کے قول کے تحت یہ لکھا تھا کہ یہ مشرک نہیں منافق ہیں جب میں نے شاہ ولی الله کا قول پیش کیا تھا تو پہلے اپ ہی اس عقیدے پر قائم تھے میں تو جناب ہی کے عقیدے کی ترویج کر رہا تھا کہ منافق شرک نہیں کر سکتا ہے
اپ کے عبارت پیش ہے


یہاں بھی جناب کو لفظ "امت" نے دھوکے میں ڈال دیا اور بغیر سوچے سمجھے حضرت شاہ صاحب کے قول کو اپنے حق میں دلیل سمجھ بیٹھے۔ حالانکہ یہاں واضح طور پر لکھا ہے "منافقین" امت محمدیہ۔
تو جناب اپ منافقین کو شرک کرنے والا مانتے ہیں تو جناب کا اس عبارت کو لکھنے کا مقصد بتا دیں اگر منافق شرک کر سکتا ہے تو پھر شاہ ولی الله ان مشرکوں کو امت محمدیہ کیوں فرما رہے ہیں اگر مشرک ہے تو امت محمدیہ نہیں ہو سکتے اور اگر امت محمدیہ ہیں تو شرک میں مبتلا ہو کر امت محمدیہ نہیں رہ سکتے ہیں تو اپ شاہ ولی الله کو کیا کہیں گے امت کے اتنے بارے مفکر غلط لکھ گے اور اپ صحیح .
اور اگر اپ اپنے اسی بیان پر قائم ہے کہ منافق شرک نہیں کر سکتا ہے تو پھر آج اس تبدیلی کی پر توبہ کریں گے اور اپنے قول سے رجوع کریں گے یا نہیں
تو اپ پڑھنے والوں پر اپ کی قابلیت ظاہر ہو چکی ہو گی اور وہ اپ کی قابلیت پر عش عش کر رہے ہوں گے اپ ذرا دوسری بات کی طرف چلیں


اور جب اپ یہ قول دکھا چکے ہیں کہ "



اپ نے لکھا ہے "پہلے دیکھئے جناب ابن کثیر کیا فرماتے ہیں
"اسی طرح اس آیت کے تحت میں منافقین بھی داخل ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔"

تو امت کے اتنے بڑے مفسر یہ فرما رہے ہیں کہ منافقین بھی اس میں داخل ہیں تو کیا آج منافقین ختم ہو گئے اپ کے مطابق یہ آیت تو صرف مشرکین عرب کے لئے نازل ہوئی تھی جبکہ اس کے تحت منافقین بھی شامل ہیں تو اس تفسیر کے مطابق بھی شاہ ولی الله درست فرما رہے ہیں منافقین امت محمدیہ منافقین جو شرک بھی کرتے ہیں تو اور وہ امت محمدیہ بھی ہیں تو جناب یہ ان دو بڑے مفسرین اور مفکرین کی بھی رائے ہے میرے خیال سے اپ اپ ان کے بارے میں کیا عرض کریں گے یہ اپ سے قارئین پوچھیں گے کیا خیال ہے اور آج یہ جو منافقں امت محمدیہ شرک میں مبتلا ہے یہ اس سے بدتر شرک ہے جو مشرکین عرب کر رہے تھے وہ بھی توحید ربوبیت کے قائل تھے اور آج کی اس امت کی اکثریت بھی صرف توحید ربوبیت کی قائل ہے اور الوییت (عبادات ) میں الله کے ساتھ شریک کرتی ہے
آخر میں ایک جملہ جس سے شاید اپ بات سمجھ جائیں " احمد یہ کام نہ کرو مسلمان ہو کر مشرک بنتے ہو " مگر احمد نہ مانا اس کے بعد مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں اپ خود سمجھدار ہیں .

اخر میں قارئین سے مخاطب ہو کر عرض کرتا ہوں شرک کو پہچانیں یہ ایمان کا برباد کرنے والا ہے اور ایسے لوگوں سے بچیں جو اولیاء اللہ کے نام پر ان کو اپنا مشکل کشا اور حاجت روا مان کر اللہ کا شریک بناتے ہیں اللہ تمام مسلمانوں کو شرک جیسے فتنے سے بچائے۔ آمین
By: tariq mehmood, Karachi on Oct, 18 2013
Reply Reply
0 Like
محترم بابر بھائی، میں بھی منتظر ہوں انشاء اللہ ملاقات ہو گی۔
By: tariq mehmood, Karachi on May, 19 2013
Reply Reply
0 Like
آخر میں میری تحریر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں

"آپ کے اس انتہائی غائب عقل اعتراض کا جواب میں بہت ہی مختصر طور پر دینا چاہتا ہوں جناب اطلاع کے لئے عرض ہے کہ مشرک اور منافق میں دنیاوی لحاظ سے بہت فرق ہے شاہ ولی اللہ نے ان کو منافقین کہا ہے یعنی دوغلا مشرک ہو کر مسلمان ہونے کا دعوا کرنا اس لحاظ سے دوغلے ہیں جبکہ اپ ان کو منافقین بامعنی اصطلاح سمجھ رہے ہیں اور منافقین کو دنیا میں کلمہ پڑھنے کے باوجود اسلام سے خارج کر رہے ہیں اور میں جن کو مشرک کہہ رہا ہیں ان کا مشرک ہونا ثابت بھی کیا ہے جبکہ اپ تو جن کو دائرہ اسلام سے خارج کر رہے ہیں ان کو دلائل سے کسی طرح بھی دائرہ اسلام سے خارج نہیں کر سکتے ہیں اس لئے میں عرض کر رہا ہوں مشرک اور منافق دو الگ چیزیں ہے اپ ان کو ملا کر اپ مجھے نہیں اپنے اپ کو غائب دماغ ثابت کر چکے ہیں تو اب میرا سوال پھر سے آپ کے لئے پیش ہے،
اپ ایک کلمہ گو کو کس آلے کے تحت اس کے ایمان کو چیک کر رہے ہیں کہ اس کو کلمہ پڑھنے کے بعد بھی دائرہ اسلام سے خارج کر رہے ہیں ؟
امید ہے اپ کو اپنے اعتراض کا جواب مل گیا ہے گا (ویسے تو میں کئی بار دے چکا ہوں اپ کے پاس بیھجا نہیں تو کیا کیا جاسکتا ہے) اور اپ میرے سوال کا جواب عنایت کریں گے کہ کلمہ گو کس طرح اسلام سے خارج ہو جاتا ہے حالانکہ وہ شرک نہیں کرتا ہے صرف منافق ہے"۔

سب سے پہلے تو یہ "غائب عقل اعتراض" لکھ کر جناب نے جو اردو ادب پر احسان فرمایا، وہ قابل داد ہے۔
اس کے بعد صرف اتنا عرض کروں گا کہ اس محولہ بالا اعتراض کا جواب میں دے چکا ہوں، یعنی وہی، ایک مرتبہ 03 مارچ کو اور پھر 17 مارچ کو مکرر، لہذا جب تک میرے ان جوابات کا علمی طور پر ردّ نہیں کیا جاتا یا دلائل کے ذریعے ان کے نقائص کو ثابت نہیں کیا جاتا، ایک تیسرا جواب دینے کی نہ مجھے کوئی حاجت اور نہ اس کی کوئی وجہ۔ اب آپ چاہیں تو اپنی عقل، جس پر شاید آپ کو بڑا مان ہے، کی مدد سے میرے جواب کو ردّ فرمائیں، اور چاہیں تو اپنے سوال کو "کاپی پیسٹ" کرتے رہیں، مرضی آپ کی، فیصلہ قارئین کا۔ میں اپنی ذمہ داری پوری کر چکا۔ البتہ آپ نے اس نکتے پر ایک نئی بات فرمائی ہے جس پر قارئین کی توجہ دلانا چاہوں گا تا کہ جہاں لوگ مجھ جیسوں کی غائب دماغی پر مطلع ہوئے، وہیں انہیں یہ بھی معلوم ہو جائے کہ آپ کے پاس جو "بھیجا" ہے وہ عقل و شعور سے کس قدر بھرپور ہے، یعنی فہم و فراست گویا ابل ابل کر باہر گری جا رہی ہے۔

میں نے جو عبارت نقل کی اس میں جناب نے بڑے عالمانہ انداز میں مشرک اور منافق کا فرق بیان فرمایا ہے اور پھر آخری سطر میں فرماتے ہیں

"کلمہ گو کس طرح اسلام سے خارج ہو جاتا ہے حالانکہ وہ شرک نہیں کرتا ہے صرف منافق ہے"

سبحان اللہ رب العرش العظیم۔ سمجھ میں نہیں آتا جناب کہاں بیٹھ کر ان معاملات پر غور و خوض فرماتے ہیں جس کے نتیجے میں ایسے ایسے نادر نکتے سامنے آتے ہیں جن کے بارے میں نہ کسی نے کبھی سنا نہ کہیں پڑھا۔ یعنی کبھی تو مشرکین کا "ایمان" اور اس کا ان کے حق میں مفید ہونا ثابت فرمانے پر تل جاتے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ مشرک انکاری نہیں ہوتا بلکہ صرف کافر انکاری ہوتا ہے، اور اب یہ سمجھانے کی کوشش فرما رہے ہیں کہ منافق شرک نہیں کرتا۔
کیا اس راز سے پردہ اٹھانے کی زحمت گوارا فرمائیں گے کہ اس دعوے کا مآخذ کیا ہے کہ "منافق شرک نہیں کرتا"۔
کیا یہ بات نص قرآنی میں وارد ہوئی؟
یا احادیث مبارکہ میں اس کا تذکرہ آیا؟
یا آثار صحابہ میں منقول ہوا؟
یا مجتہدین، مفسرین، شارحین، یا علمائے کرام کے کسی طبقے نے اس بات کو بیان کیا؟
یا پھر یہ بھی جناب کےبھیجے کی زرخیزی کا نتیجہ ہے کہ منافق کو شرک سے پاک و مبریٰ قرار دے ڈالا؟
اس پر لطف بیان (کہ منافق شرک نہیں کرتا) پر میں ایک حوالے کی طرف بھی توجہ دلانا چاہوں گا، جسے دیکھ کر یقیناً جناب کو روحانی مسرت حاصل ہو گی۔ حوالہ ہے آپ کے معتمد و معتبر مفسر جناب ابن کثیر کی تفسیر ابن کثیر کا۔ اور آیت کریمہ بھی وہی جسے خود جناب نے پیش فرمایا، یعنی سورہ یوسف کی آیت ۱۰۶ جس کے تحت حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول بطور استدلال نقل کیا۔ اسی قولِ ابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بالکل پہلے دیکھئے جناب ابن کثیر کیا فرماتے ہیں
"اسی طرح اس آیت کے تحت میں منافقین بھی داخل ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔"
کیوں جناب! لطف آیا؟ یاد رہے کہ میں نے صرف ابن کثیر کا قول نقل کیا ہے، اسے میرا نظریہ قرار دے کر وضاحتیں طلب کرنے نہ بیٹھ جائیے گا۔ اس کے علاوہ نہ تو مجھ سے یہ وضاحت طلب کیجئے گا کہ یہاں منافقین کا لفظ اصطلاحی طور پر وارد ہوا ہے یا پھر لغوی طور پر، اور نہ یہ پوچھیے گا کہ میرے پاس وہ کون سا آلہ تھا جس کے ذریعے میں نے منافقین کے ایمان کو جانچ کر انہیں اس آیت کے تحت داخل کر دیا؟ کیونکہ میں محض ناقل ہوں، قائل تو جناب کے معتمد جناب ابن کثیر ہیں۔ لہذا آپ جانیں اور عماد الدین ابن کثیر۔

میری گزارش تو صرف اتنی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو واقعی "بھیجا" عطا کیا ہے، اور کیا ہی خوب عطا کیا ہے، تو کبھی کبھار اس کا استعمال بھی کر لیا کیجئے، یا پھر عمر عزیز کا پیمانہ بھر جانے پر اس کا اچار ڈالیے گا؟ مزید یہ کہ اگر انہی گل فشانیوں کا نام "حاضر دماغی" ہے، تو اللہ ہمیں غائب دماغ ہی رہنے دے، ہم ایسے ہی بھلے۔

اور آخری فقرہ جو لکھا کہ
"جواب ملے گا یا بھاگ جائیں گے"۔
تو گزشتہ صورتحال کو مدنظر اور موجودہ تحریر کو ملحوظ رکھنے کے بعد میں نہیں سمجھتا کہ اس مسخرے پن کا الگ سے جواب دینے کی مجھے کوئی حاجت ہے۔
وما علینا الاالبلاغ۔
By: Ahmad, Lahore on May, 01 2013
Reply Reply
0 Like
اس کے بعد سورہ یوسف کی آیت کے تحت ابن کثیر کے نقل کردہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول پر جناب نے ایک "نئے" انداز میں میرے اعتراض کا جواب دینے کی کوشش فرمائی ہے۔ اس پر سب سے پہلی بات یہ کہ جب تک اپنے ایک اختراعی اعتراض کا انتساب میری جانب دلیل سے ثابت نہ کر دیں، اس جواب کی کوئی حیثیت نہیں، لیکن جواب اتنا شاندار ہے کہ اس کا کچھ تجزیہ پیش کرنا سمجھ لیجئے میری مجبوری ہے۔ ملاحظہ فرمائیے، میری ایک تحریر کا کچھ حصہ نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں

"تو جناب ایک بار تنبیہ کرنے کے لئے کسی مسلمان کو مشرک کہا جا سکتا ہے اپ کہ اس قول سے یہی ثابت ہوتا ہے تو جناب اب اپ مجھے بتا دو “کلمہ گو مشرک مسلمان“ جو میں نے شروع میں کہا ہے اس کے علاوہ کتنی جگہ کہا ہے اگر ایک سے ذیادہ جگہ کہا ہے تو میں غلطی پر ہو اور اگر نہیں کہا تو پھر میرا موقف بھی یہی ہے جو اپ نے لکھا ہے کہ تنبیہ کے لئے ایک بار کہہ دیا گیا ہے اس کے بعد اگر وہ اس عقیدہ پر قائم ہیں تو ان کو میں نے کلمہ گو مشرک کہا ہے اور اگر قائم نہیں رہے تو وہ مسلمان ہیں اور یہ میں اپ کو پہلے بھی لکھ چکا ہو مگر اس بار ذرا مختلف اور آسان طریقے سے پیش کیا ہے تاکہ اپ کی سمجھ آ جائے (مگر اس کا چانس نہیں ہے)"

پہلی بات۔ جناب کے دعوے کے مطابق میرے قول سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کسی "مسلمان" کو تنبیہ کرنے کے لئے "مشرک" کہا جا سکتا ہے۔ اچھا جی؟ لیکن ذرا یہ تو بتائیے کہ یہ "ایک بار" کی قید کس منطق، فلسفے یا اصول کی روشنی میں جناب نے لگائی؟ اور پھر خود اپنی اس ساختہ منطق کی کس قدر پیروی فرمائی؟ میں نے جنابِ حذیفہ کے قول کو تنبیہی قرار دیا تھا، اور یہ ایک فقرہ استفہامیہ تھا، اور اس قبیل کے اقوال کا مفاد کیا ہوتا ہے، آپ جیسے لوگوں کے سامنے اس پر بحث کرنے کا تو کوئی فائدہ ہی نہیں، لیکن بہرحال اس سے کسی "مسلمان" کو "ایک" بار "مشرک" کہے جانے کا اصول وضع کرنا خالصتاً جناب کا ذاتی اجتہاد ہے، میرا موقف ہرگز نہیں۔
پھر بھی آپ کے اجتہادی قول کا جائزہ لینے کے لیے کچھ دیر کے لیے آپ کے اس خودساختہ اصول کو تسلیم کر لیتے ہیں کہ محض تنبیہ کے طور پر کسی "مسلمان" کو "ایک" مرتبہ "مشرک" کہا جا سکتا ہے۔ آپ کا استفسار ہے کہ شروع میں آپ نے جو "کلمہ گو مشرک مسلمان" کہا ہے، اس کے علاوہ کتنی جگہ کہا ہے؟ اگر ایک سے زیادہ مرتبہ کہا ہو تو آپ غلطی پر ہیں، ورنہ ثابت ہو جائے گا کہ ایک مرتبہ کہنا بطور تنبیہ تھا، اس کے بعد بھی اگر وہ اپنے عقیدے پر قائم رہیں، تو وہ کلمہ گو مشرک، ورنہ مسلمان۔
یعنی دیکھنا یہ ہے کہ جناب نے اپنی تحریر میں یہ تنبیہ کتنی مرتبہ فرمائی؟

اس سلسلے میں سب سے پہلے تو مضمون کی تیسری سطر میں لکھا
"شرک جس میں آج موجودہ مسلمان مبتلا ہے اس کو مدلل بیان کر رہا ہوں"
تو کیا یہاں آج کے موجودہ "مسلمان" کا "شرک" میں مبتلا ہونے کا بیان بطور تنبیہ تھا یا کچھ اور؟ چونکہ پہلی مرتبہ لکھا، لہذا تنبیہ ہی ہونا چاہئے۔ اور ویسے بھی اگر بطور تنبیہ نہ ہوتا تو پھر انہیں آج کے موجودہ "مسلمان" کیوں کہتے؟ چنانچہ ظاہر تر یہ ہے کہ یہاں بطور تنبیہ ہی مراد ہے۔

لیکن اس کے چند سطر بعد ہی دوبارہ لکھا کہ
"ہمارا اج کا گلمہ گو مشرک مسلمان بھائی بھی یہی عقائد رکھتا ہے"
یہ کیا جناب؟ یہاں دوسری مرتبہ بھی کلمہ گو کے ساتھ "مسلمان" اور "مشرک" دونوں لکھ دیا۔ تو یہاں بطور تنبیہ کیسے ہو گیا؟ کیونکہ بطور تنبیہ تو صرف "ایک" مرتبہ کہنا تھا، اور وہ اس سے پہلے لکھ چکے۔ تو اگر بعد از تنبیہ بھی مذکورہ لوگ اپنے عقیدے پر قائم رہے، تو ایسے لوگوں کو "مسلمان بھائی" کہنا آخر کیونکر جائز ہو گیا؟ اور اگر باز آ گئے تو پھر مشرک کیوں کہلائے؟

یہی نہیں، بلکہ اس کے بعد 10 جنوری کی اپنی تحریر میں لکھا
"کلمہ گو مشرک کی کہنے سے میری مراد یہ ہے کہ اللہ کو ماننے کے بعد اس کے ساتھ شریک کریں گے جیسا آج ہمارے کچھ مسلمان کر رہے ہیں"۔
واللہ۔ اب اسے کیا کہا جائے؟ جب مضمون میں تنبیہ کی جا چکی، اور مذکورہ لوگ باوجود تنبیہ کے شرک میں مبتلا رہے، تو ان کو "آج ہمارے کچھ مسلمان" کیوں فرمایا جا رہا ہے؟ حالانکہ دوسری طرف اس بات کا بھی بار بار دعوی کیا جا چکا کہ جناب انہیں "مشرک ہی" سمجھتے ہیں۔ اب اس عقدے کو کون حل کرے گا؟

کیا معاملہ ختم ہوا؟ ابھی کہاں۔ ذرا چار دن کے بعد 14 جنوری کی تحریر بھی ملاحظہ ہو، جس میں فرمایا
"ایمان کے ساتھ اللہ کا شرک کرنے والا کہنا کوئی غلط نہیں ہے"
اللہ کا شرک کرنے والا تو قرار دے دیا، لیکن یہ "ایمان کے ساتھ" کی کیا شرح فرمائی جائے گی؟ یعنی اللہ کے ساتھ شرک بھی ہو رہا ہے، اور "ساتھ ہی" ایمان بھی چل رہا ہے۔ اور یہاں تو کوئی تصریح نہیں کہ ایسا صرف "ایک" مرتبہ کہنا غلط نہیں ہے، اور نہ ہی یہ کہنا کوئی پہلی مرتبہ تھا۔
اس پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ جناب ایسے لوگوں کو سمجھتے تو "مشرک ہی" ہیں، لہذا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اگر ساتھ "ایمان" بھی لکھ دیا؟ ایمان اور شرک کا اجتماع کوئی محال تھوڑا ہی ہوتا ہے؟ حضرت حذیفہ و حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم و ابن کثیر و شاہ ولی اللہ وغیرہم کے نزدیک تو (خاکم بدہن) محال نہیں۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ۔

ذرا توقف، کہ عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔ 16 جنوری کے یہ الفاظ بھی قابل مطالعہ ہیں کہ

"میں نے ایک مضمون لکھا ہے جس میں یہ ثابت ہے کہ آج مسلمانوں کی کافی تعداد شرک میں مبتلا ہے"

تو جناب یہ جن لوگوں کی کافی تعداد شرک میں مبتلا ہے، تو کیا یہ "مسلمانوں" کی ہے؟ اب یہاں شرک میں مبتلا ہونا بطور تنبیہ تو نہیں کہا ہو گا،کیونکہ وہ تو صرف ایک ہی مرتبہ کہنا جائز تھا جو آغاذ مضمون میں کہہ چکے۔ لیکن جب باوجود تنبیہ ایک کثیر تعداد ہنوز شرک میں مبتلا ہے، تو اسے "مسلمانوں" کی تعداد قرار دینا کس اصول کی روشنی میں ثابت کیا جائے گا؟ کیا اب بھی یہی کہا جائے گا کہ جناب ہم سمجھتے تو انہیں "مشرک ہی" ہیں "مسلمان" صرف کہتے ہیں۔ لیکن ایسی صورت میں "ایک" مرتبہ کہنے کے اصول کی مخالفت تو پھر بھی ثابت ہو رہی ہے۔ ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیے۔

ویسے تو کافی ہوا، لیکن چلتے چلتے آخر میں ایک حوالہ اور دیکھتے جاتے ہیں۔ 2 مارچ کو فرماتے ہیں

"آپ تو مسلمان کو مسلمان نہیں مان رہے اور میں تو صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ آج کا مسلمان شرک میں مبتلا ہے"

وضاحت درکار ہے کہ یہاں جو "شرک میں مبتلا" ہونے کا فرمایا تو یہ بطور تنبیہ تو ہرگز نہیں کہا ہو گا، کیونکہ اس کے کہنے کا اختیار تو ایک ہی مرتبہ تفویض ہوا تھا، جو پہلے ہی استعمال کیا جا چکا۔ اور اب یہ جو "آج کا مسلمان" بقول جناب کے شرک میں مبتلا ہے، یعنی بعد از تنبیہ، تو پھر آخر یہ "آج کا مسلمان" کیونکر کہلائے گا؟ جبکہ جناب اسے "مشرک ہی" سمجھتے ہیں؟

دعویٰ یہ تھا کہ ایک مرتبہ بطور تنبیہ "مسلمان" کو "مشرک" کہا جا سکتا ہے، اس کے بعد اپنے عقیدے کی روشنی میں یا تو وہ مسلمان کہلائے گا، یا پھر مشرک، لہذا اگر جناب نے ایک سے زائد مرتبہ اس کے خلاف کہا ہو تو حضرت غلطی پر ہیں۔ عرض یہ ہے کہ اوپر بطور نمونہ چھ عدد حوالے جناب کی اپنی تحاریر سے پیش کیے گئے۔ لیکن غلطی تسلیم کرنا چونکہ سرشت میں شامل ہی نہیں (بلکہ غلطی کا تسلیم کر لینا شاید جناب کے نزدیک شرک اکبر سے بھی بڑھ کر گناہ ہے) کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اپنے ایک غلط نظریے سے رجوع کر کے آغاذ ہی میں اس بحث کو ختم کر دیا ہوتا، اور اسے صحیح ثابت کرنے کی ناکام کوشش میں آج تک یوں ایڑیاں نہ رگڑ رہے ہوتے۔ لہذا اب دیکھنا یہ ہے کہ عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی غلطی تسلیم کرنے جیسی جو واہیات پیشکش فرمائی اس سے مکرنے کے لیے اب کون سا نیا بہانہ تراشا جاتا ہے۔

دوسری بات۔ اس عجیب و غریب منطق (کہ ایک مرتبہ بطور تنبیہ کسی مسلمان کو مشرک کہا جا سکتا ہے) کی مضحکہ خیزی اور لغویت ایک اور طرح سے ملاحظہ فرمائیے۔ بالفرض اس فلسفے کو تسلیم کر لیا جائے کہ کسی مسلمان کو بطور تنبیہ ایک مرتبہ مشرک کہا جا سکتا ہے، لیکن اگر اس تنبیہ کے باوجود وہ کسی شرکیہ عقیدے پر قائم رہے، تو پھر اسے مشرک کہنا اور سمجھنا درست ہو گا، تب بھی شاید جناب یہ بات بھول گئے کہ ایسی صورت میں جس کو تنبیہ کرنا مقصود ہو، اس کا اس تنبیہ پر مطلع ہونا ضروری ہو گا۔ ورنہ کسی کو غائبانہ طور پر یوں تنبیہ کرنا کہ اسے اطلاع ہی نہ ہو، یا کسی حاضر شخص کو دل ہی دل میں تنبیہ کر دینے سے متنبہ کرنے والا بری الذمہ نہیں ہو جائے گا۔
اب دعوی یہ ہے کہ جناب نے صرف ایک مرتبہ بطور تنبیہ "مشرک مسلمان" کا لفظ استعمال کیا، اس کے بعد ہر جگہ مشرک یا پھر کلمہ گو مشرک وغیرہ ہی لکھا (حالانکہ اس دعوے کا بطلان ابھی حوالہ جات کے ذریعے ثابت ہو چکا)۔ اس پر ہم یہ پوچھنے کی جسارت کرتے ہیں کہ جناب نے یہ لفظ بطور تنبیہ اپنے مضمون میں تحریر فرمایا، اور پھر اسی مضمون میں آگے چل کر مذکورہ لوگوں کو کلمہ گو مشرک بھی قرار دیا، تو وضاحت فرمائی جائے کہ متعلقہ لوگوں کو اس تنبیہ کا علم کب ہوا؟ کیونکہ مضمون تو تمام کا تمام ایک ہی مرتبہ چھپ کر سامنے آیا۔ چنانچہ جب لوگوں تک یہ تنبیہ پہنچ ہی نہ پائی تو پھر جناب نے انہیں مشرک کس بناء پر قرار دے ڈالا؟ اگر فرمائیں کہ ان لوگوں کے حالات سے پہلے ہی واقفیت حاصل تھی، اور جانتے تھے کہ انہیں پہلے بھی اس قسم کی تنبیہ کی جا چکی ہے لیکن وہ باز نہیں آتے، تو پھر جناب نے اس تنبیہ کو دہرایا کیوں؟ کیونکہ اصول یہ اختراع فرمایا تھا کہ بطور تنبیہ صرف ایک ہی مرتبہ کسی "مسلمان" کو "مشرک" کہا جا سکتا ہے، اس کے بعد نہیں۔ امید کرتا ہوں کہ ہم ناسمجھوں اور ناواقفوں کی راہنمائی کے لیے اس نادر روزگار مسٔلے پر کچھ روشنی ڈالی جائے گی۔
By: Ahmad, Lahore on May, 01 2013
Reply Reply
0 Like
لیجئے قارئین! ایک ماہ سے کچھ زائد عرصہ کی سوچ بچار، گیان دھیان، علمی ریاضت، ذہنی مشقت، جہد مسلسل اور تحقیق بے مثل کا حاصل و ثمر ایک اور اعجوبہ روزگار تحریر آپ کی نظروں کے سامنے ہے۔ اس "خالص علمی شاہکار" کو ملاحظہ کرنے کے بعد اگر کوئی شخص صاحبِ تحریر کو جہل مرکب قرار دیتا ہے، تو بھلا کیا غلط کرتا ہے؟ اگر میری اس بات سے اتفاق نہ ہو تو چند گزارشات ملاحظہ فرمائیں۔

آغاذ گفتگو میں جناب نے میری تحریر کا ایک حصہ نقل کرنے کے بعد اس پر کچھ یوں تبصرہ کیا ہے

"میری علمی جاہلیت تو خیر اپ کیا ثابت کریں گے اپنی رہی سہی بھی گواں چکے ہیں آپ کہہ رہے ہیں میرے سوال کا جواب اپ دے چکے ہیں تو آپ ہی کی بات دہرا رہا ہوں اپ اپنے تئیں کچھ بھی کہہ دیں وہ جواب ہو جائے گا کیا، افسوس صد افسوس اپ اس کو جواب کہہ رہے ہیں تو سو بسم اللہ اپ کا بھیجا ھے کچھ بھی سمجھے"

طارق صاحب! سب سے پہلے تو میں اعتراف کرتا ہوں اور آپ سے اتفاق بھی کرتا ہوں کہ میں ناچیز واقعی جناب کی علمی جاہلیت ثابت کرنے کا اہل نہیں ہوں۔ کیونکہ میرے ناقص علم کے مطابق "جاہلیت" صرف "جاہلیت" ہوتی ہے، اور "علمی جاہلیت" نامی کسی شے سے میں واقف ہی نہیں، اور جس چیز سے میں واقف نہیں، اسے ثابت بھلا کس طرح کر سکتا ہوں۔ لہذا میں نے جو کچھ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، وہ آپ کی "جہالت" ہے، نہ کہ "علمی جاہلیت"۔
اس کے بعد عرض یہ ہے کہ جو کچھ آپ نے اس کے بعد لکھا، اس طرح کی اندھی، کھوکھلی، بلا دلیل تنقید تو کوئی بھی جاہل، مجنون، بدحواس اور نابالغ ذہن کا مالک شخص، کسی پر بھی کر سکتا ہے۔ اگر واقعی آپ کو اپنی قابلیت پر بھروسہ ہے تو میرے دیے گئے جواب کا علمی طور پر ردّ کرتے ہوئے دلائل کے ذریعے اس کا ناقص ہونا ثابت کریں، خالی خولی اظہار افسوس کر دینا یا محض مخالف ہی کی بات کو دہرا دینا (بغیر اپنی دلیل پیش کیے) اپنے کسی بیوقوف معتقد کی ہمدردی یا جھوٹی تعریف حاصل کرنے میں تو معاون ہو سکتا ہے، میدان دلیل میں اس قسم کی "ہَا و ہُو" کسی کام نہیں آیا کرتی۔ تو تھوڑا سا حوصلہ کیجئے اور میرے جواب یا استدلال کا غیر صحیح ہونا ثابت کیجئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر اس کی اہلیت رکھتے ہیں تو۔

مزید لکھا ہے
"تو اپ میرے اعتراض کو فضول کہہ رہے ہیں اور دو بار جواب بھی دے چکے ہیں یعنی اپ کی نظر میں ایک کلمہ گو مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دینا ایک معمولی کام ہے (العیاذ باللہ) جناب اپ کے لئے یہ معمولی ہو سکتا ہے میرے لیے نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ "

لفظ "یعنی" کے بعد جو کچھ لکھا وہ جناب کا ذاتی ہذیان ہے، میرے جواب سے اس قسم کی کوئی بات ہرگز ثابت نہیں ہوتی۔ اگر ہوتی ہے تو ذرا ہمت کر کے اس کی دلیل پیش فرمائیں۔ اور اگر اپنی تمام تر "علمی جاہلیت" کے باوجود ایسا نہ کر سکیں، تو اپنے گزشتہ اکاذیب کے میزان میں ایک کذبِ صریح کا اور اضافہ فرما لیں۔ کہیے، کیا کیجئے گا؟

مزید لکھا
"اور اپ کو اعتراض ہے میں اپ کے اعتراضات کا جواب نہیں دے رہا جس طرح اپ کہتے ہیں کہ میں دو بار جواب دے چکا ہوں اسی طرح میں بھی اپ کے اعتراضات کے جواب دے چکا ہوں مگر وہی بات ہے اپ اس کو تسلیم نہیں کرتے بالکل اسی طرح میں بھی اپ کے جواب کو تسلیم نہیں کرتا ہوں"

تو کیا آپ کے بقول میرے تمام اعتراضات کے جوابات دیے جا چکے؟اگر ایسا ہی ہے تو جناب ابھی 24 مارچ کو تو فرما رہے تھے

"پہلے میرا جواب پھر آپ کے جواب میں دوں گا میں بھاگنے والا نہیں ہوں یہ آپ جانتے ہیں"۔

تو یہ کن جوابات کے عنایت فرمانے کا ذکر تھا؟ کیا 24 مارچ کا بیان جھوٹا تھا یا پھر یہ آخری بات جھوٹ ہے؟ کیا کچھ خبر ہے کہ ابھی تک کتنے سوالات کا جواب اور کتنے بہتانات کا ثبوت فراہم کرنا جناب کے ذمہ ہے؟ یا پھر گزشتہ کی طرح یہاں بھی مجھے ہی ایک نیا سوالنامہ مرتب کرنا پڑے گا؟ بہرحال، کم از کم اتنا تو ضرور بتا دیجیے کہ 24 مارچ کو جن سوالوں کے جواب دینے کی خوشخبری سنائی جا رہی تھی وہ کتنے ہیں اور کون کون سے؟ یا پھر یہ بھی محض شیخی بگھارنے کے لیے ایک ڈینگ ماری تھی؟

اور یہ بھی عجیب شگوفہ بیان فرمایا کہ جس طرح میں آپ کے جوابات کو تسلیم نہیں کرتا، بالکل اسی طرح میرے جوابات کو تسلیم کرنے سے جناب کو انکار ہے۔ گزارش یہ ہے کہ اس ناچیز کی کوشش تو یہی رہی ہے کہ مخالف کے کسی دیے گئے جواب کو دلیل کے ذریعے ہی ردّ کیا جائے اور اس سلسلے میں اس بات کو بھی ہمیشہ ملحوظ رکھا ہے کہ جواب الجواب میں اپنے اعتراض کی ممکنہ حد تک وضاحت کر دی جائے۔ اس کے باوجود اگر کہیں تشنگی باقی ہو تو صرف نشاندہی کر دیئےک، "مزاج پرسی" میں جو کمی رہ گئی، بفضل الٰہی اسے پورا کرنے کی حتی الامکان کوشش کی جائے گی۔
دوسری طرف جناب نے میرے جوابات کو تسلیم کرنے سے جو انکار کیا، اس پر نہ کوئی دلیل نہ ان جوابات میں موجود نقائص کی نشاندہی۔ بلکہ کچھ لکھا تو صرف یہ کہ جی ہم تسلیم نہیں کرتے۔سبحان اللہ۔ اب "میں نہ مانوں" کا علاج تو شاید حکیم لقمان کے پاس بھی نہ تھا، میری تو حیثیت ہی کیا۔ پھر بھی اگر قارئین کرام اس "حربے" سے متاثر ہو کر جناب کے حق میں فیصلہ دینا چاہیں تو انہیں اختیار ہے۔ اور جناب کے (بغیر علمی تردید کیے) محض تسلیم نہ کرنے کی مجھے رتّی بھر بھی پروا نہیں۔

لیکن اس کے ساتھ ہی لکھا ہے
"مگر میں اپ کے اعتراضات کا ایک بار پھر جواب نئے انداز سے دے رہا ہوں مگر اپ کو بھی میرے اعتراض کا جواب دینے ہو گا
آپ کا اعتراض ایمان لانے کے بعد شرک میں مبتلا ہیں
کلمہ گو مشرک مسلمان"

کسی شاعر نے کچھ یوں کہا تھا کہ "اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سِوا"۔ کچھ ترمیم کے ساتھ میں کہتا ہوں کہ جناب "اور بھی ہتھکنڈے ہیں زمانے میں جھوٹ کے سوا"۔ لیکن یہاں تو گمان ہوتا ہے کہ شاید سارا دھندا ہی جھوٹ پر چلتا ہے۔
گستاخی معاف، لیکن میرے اعتراضات کا جواب دینے سے پہلے کم از کم یہ تو ثابت کیجئے کہ میرا اعتراض ایمان لانے کے بعد شرک میں مبتلا ہونے پر تھا۔ خدمت عالیہ میں یہ درخواست ایک سے زائد مرتبہ پہلے بھی پیش کی جا چکی، لیکن مجال ہے کان پر جوں تک رینگی ہو، بلکہ جناب آج بھی پوری ڈھٹائی سے اپنی ہی ہٹ پر قائم ہیں۔ تو عرض یہ ہے کہ جو میرااعتراض ہی نہیں، اس پر خامہ فرسائی فرمانا اور اپنی "علمی جاہلیت" کے جوہر دکھاتے ہوئے جواب عنایت کرنے کا دعویٰ کرنا دیوانے کی بڑ سے زیادہ بھلا کیا حیثیت رکھتا ہے۔ اور اس سب کے باوجود مخالف سے اپنے جواب کو تسلیم کر لینے کا مطالبہ کرنا تو نِرا جنون ہی کہلا سکتا ہے۔
By: Ahmad, Lahore on May, 01 2013
Reply Reply
0 Like
احمد صاحب،
اپ نے لکھا ہے “میں پہلے ہی اپنی غلطی تسلیم کر چکا ہوں اور آئند کوشش کروں گا کہ کسی "غلط" شخص کو "صحیح" مشورہ دینے جیسی غلطی دوبارہ نہ کروں۔ البتہ یہ بات ذہن نشین کر لیجئے کہ نہ تو مجھے آپ کے مردے کی کوئی فکر ہے، اور نہ ہی آپ کے غم میں "ہلکان" ہونے کا کوئی سوال ہے۔ میرا مقصد صرف آپ کی "جعلی علمیت" کا پردہ چاک کرنا تھا، جو الحمد للہ کافی حد تک ہو چکا۔ مجھے یقین ہے کہ اس کالم کے تحت ہونے والی بحث کو پڑھنے کے بعد کوئی بھی شخص، جس کی عقل سلامت ہو، آپ کے مکر و فریب کا شکار نہیں ہونے پائے گا۔

دل کے بھلانے کو احمد یہ خیال اچھا ہے،
میری علمی جاہلیت تو خیر اپ کیا ثابت کریں گے اپنی رہی سہی بھی گواں چکے ہیں آپ کہہ رہے ہیں میرے سوال کا جواب اپ دے چکے ہیں تو آپ ہی کی بات دہرا رہا ہوں اپ اپنے تئیں کچھ بھی کہہ دیں وہ جواب ہو جائے گا کیا، افسوس صد افسوس اپ اس کو جواب کہہ رہے ہیں تو سو بسم اللہ اپ کا بھیجا ھے کچھ بھی سمجھے
اپ ذرا اصل نقطہ کی جانب آتے ہیں،
آپ کے بے تکے اعتراض کا جواب ایک مرتبہ نہیں بلکہ کم از کم دو مرتبہ پوری وضاحت اور تفصیل کے ساتھ دے چکا ہوں، پہلے 03 مارچ کو اور پھر 17 مارچ کو مکرر، لیکن آپ آج بھی یہی ہانک رہے ہیں کہ جواب دو۔ حضرت صاحب، میں اندھے کو راستہ "بتا" تو سکتا ہوں "دکھا" نہیں سکتا۔ اور جو نابینا ہونے کے ساتھ ساتھ فاتر العقل بھی ہو، اسے تو سمجھا بھی نہیں سکتا۔
تو اپ میرے اعتراض کو فضول کہہ رہے ہیں اور دو بار جواب بھی دے چکے ہیں یعنی اپ کی نظر میں ایک کلمہ گو مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دینا ایک معمولی کام ہے (العیاذ باللہ) جناب اپ کے لئے یہ معمولی ہو سکتا ہے میرے لیے نہیں ہے اور اپ کو اعتراض ہے میں اپ کے اعتراضات کا جواب نہیں دے رہا جس طرح اپ کہتے ہیں کہ میں دو بار جواب دے چکا ہوں اسی طرح میں بھی اپ کے اعتراضات کے جواب دے چکا ہوں مگر وہی بات ہے اپ اس کو تسلیم نہیں کرتے بالکل اسی طرح میں بھی اپ کے جواب کو تسلیم نہیں کرتا ہوں مگر میں اپ کے اعتراضات کا ایک بار پھر جواب نئے انداز سے دے رہا ہوں مگر اپ کو بھی میرے اعتراض کا جواب دینے ہو گا
اپ کا اعتراض ایمان لانے کے بعد شرک میں مبتلا ہیں
کلمہ گو مشرک مسلمان
اس کے لئے میں نے ایک آیت پیش کی تھی سورہ یوسف ١٠٦ اور جس کے تحت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا قول پیش کیا تھا کہ انہوں نے ایک مسلمان کو یہ کہاکہ ایمان لانے کے بعد مشرک بنتے ہیں یعنی ایک مسلمان پر یہ آیت پڑھی اور اپ کے بقول یہ ایک تنبیہ قول تھا اس کے بعد اس نے اگر یہ کام چھوڑ دیا تو وہ مسلمان اور اگر اسی کام پر لگا رہا تو مشرک ہو گیا اس کے بعد اس کو مسلمان نہیں کہا جاسکتا ہے آپ کی بات صحیح ہے (اگر اب اپ اس سے انکار نہ کریں)
تو جناب ایک بار تنبیہ کرنے کے لئے کسی مسلمان کو مشرک کہا جا سکتا ہے اپ کہ اس قول سے یہی ثابت ہوتا ہے تو جناب اب اپ مجھے بتا دو “کلمہ گو مشرک مسلمان“ جو میں نے شروع میں کہا ہے اس کے علاوہ کتنی جگہ کہا ہے اگر ایک سے ذیادہ جگہ کہا ہے تو میں غلطی پر ہو اور اگر نہیں کہا تو پھر میرا موقف بھی یہی ہے جو اپ نے لکھا ہے کہ تنبیہ کے لئے ایک بار کہہ دیا گیا ہے اس کے بعد اگر وہ اس عقیدہ پر قائم ہیں تو ان کو میں نے کلمہ گو مشرک کہا ہے اور اگر قائم نہیں رہے تو وہ مسلمان ہیں اور یہ میں اپ کو پہلے بھی لکھ چکا ہو مگر اس بار ذرا مختلف اور آسان طریقے سے پیش کیا ہے تاکہ اپ کی سمجھ آ جائے (مگر اس کا چانس نہیں ہے)
تو اپ کے اعتراضات کا جواب میں نے نئے انداز سے دینے کی کوشش کی ہے(وتوفیق باللہ)
اپ لکھتے ہیں یعنی وہ لوگ جو بقول طارق صاحب، اپنے گمان میں خود کو مسلمان کہیں، کلمہ گوئی کا دعویٰ کریں، اور وہ بھی محض دوسروں کو دھوکہ دینے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے تئیں خود کو سچا مومن گمان کرتے ہوئے اور شرک کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے، انہیں تو طارق صاحب "مشرک ہی" مانیں، جبکہ مجھ پر یہ اعتراض کہ میں ایسے شخص کو مسلمان ماننے سے انکار کرتا ہوں جس کے مسلمانی کے دعوے کو طارق صاحب خود جھوٹا تسلیم کر چکے (دوغلا پن قرار دے کر)۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
اپ کے اس انتہائی فضول اور غائب عقل اعتراض کا جواب میں بہت ہی مختصر طور پر دینا چاہتا ہوں جناب اطلاع کے لئے عرض ہے کہ مشرک اور منافق میں دنیاوی لحاظ سے بہت فرق ہے شاہ ولی اللہ نے ان کو منافقین کہا ہے یعنی دوغلا مشرک ہو کر مسلمان ہونے کا دعوا کرنا اس لحاظ سے دوغلے ہیں جبکہ اپ ان کو منافقین بامعنی اصطلاح سمجھ رہے ہیں اور منافقین کو دنیا میں کلمہ پڑھنے کے باوجود اسلام سے خارج کر رہے ہیں اور میں جن کو مشرک کہہ رہا ہیں ان کا مشرک ہونا ثابت بھی کیا ہے جبکہ اپ تو جن کو دائرہ اسلام سے خارج کر رہے ہیں ان کو دلائل سے کسی طرح بھی دائرہ اسلام سے خارج نہیں کر سکتے ہیں اس لئے میں عرض کر رہا ہوں مشرک اور منافق دو الگ چیزیں ہے اپ ان کو ملا کر اپ مجھے نہیں اپنے اپ کو غائب دماغ ثابت کر چکے ہیں تو اب میرا سوال پھر سے آپ کے لئے پیش ہے،
اپ ایک کلمہ گو کو کس آلے کے تحت اس کے ایمان کو چیک کر رہے ہیں کہ اس کو کلمہ پڑھنے کے بعد بھی دائرہ اسلام سے خارج کر رہے ہیں ؟
امید ہے اپ کو اپنے اعتراض کا جواب مل گیا ہے گا (ویسے تو میں کئی بار دے چکا ہوں اپ کے پاس بیھجا نہیں تو کیا کیا جاسکتا ہے) اور اپ میرے سوال کا جواب عنایت کریں گے کہ کلمہ گو کس طرح اسلام سے خارج ہو جاتا ہے حالانکہ وہ شرک نہیں کرتا ہے صرف منافق ہے۔
جواب ملے گا یا بھاگ جائیں گے۔
By: tariq mehmood, Karachi on Apr, 28 2013
Reply Reply
0 Like
جزاک اللہ خیرا و احسن الجزاء۔ بھائ طارق محمود۔
چند دن کے لیۓ پاکستان آیا تھا۔ صرف دو دن کراچی ٹھرا اس کے بعد پھر مسلسل سفر میں رہا ۔ جون یا جولائ میں ان شاء اللہ دوبارہ آنے کا پروگرام ہے۔ کوشش کروں گا کہ ملنے کی کوئ سبیل نکل آۓ۔
By: Baber Tanweer, Karachi on May, 01 2013
0 Like
طارق صاحب! میں پہلے ہی اپنی غلطی تسلیم کر چکا ہوں اور آئند کوشش کروں گا کہ کسی "غلط" شخص کو "صحیح" مشورہ دینے جیسی غلطی دوبارہ نہ کروں۔ البتہ یہ بات ذہن نشین کر لیجئے کہ نہ تو مجھے آپ کے مردے کی کوئی فکر ہے، اور نہ ہی آپ کے غم میں "ہلکان" ہونے کا کوئی سوال ہے۔ میرا مقصد صرف آپ کی "جعلی علمیت" کا پردہ چاک کرنا تھا، جو الحمد للہ کافی حد تک ہو چکا۔ مجھے یقین ہے کہ اس کالم کے تحت ہونے والی بحث کو پڑھنے کے بعد کوئی بھی شخص، جس کی عقل سلامت ہو، آپ کے مکر و فریب کا شکار نہیں ہونے پائے گا۔
جہاں تک آپ کے اس دعوے کا تعلق ہے کہ آپ اللہ کو کارساز اور مددگار مانتے ہیں، تو عرض یہ ہے کہ جو شخص واقعی اللہ تعالیٰ کو اپنا کارساز اور مددگار سمجھتا ہو، وہ ایسی بے حیائی و ڈھٹائی سے جھوٹ اور خیانت کا ارتکاب کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا جس پر آپ تسلسل سے عمل درآمد کرتے چلے آ رہے ہیں۔ خیر، آپ کی آپ جانیں۔

آپ کے اس آخری تبصرے سے ایک بات تو واضح ہو گئی کہ آپ میرے سوالات کا جواب کبھی نہیں دیں گے بلکہ محض اپنی ہی ہانکتے رہیں گے۔ جیسا کہ اس مرتبہ بھی آپ نے اپنے لغو اعتراض کو دہرانے کے سوا کچھ بھی نہیں کیا۔ آپ نے میری اس عبارت کو دوبارہ نقل کیا ہے کہ

"ظاہر سی بات ہے جو شخص مسلمانی کا جھوٹا دعویٰ کرے گا، اسے محض اس دعوے کی بناء پر تو مسلمان تسلیم نہیں کر لیا جائے گا۔ اور اس کی منافقت یا دوغلا پن اس معاملے میں اس کے کسی کام کا نہیں"

اس پر لکھتے ہیں

"ایسا تو نہیں ہے کہ میں نے آپ کی ملازمت اختیار کی ہے آپ پوچھے جاؤ اور میں جواب دیتا رہوں کچھ دو گے تو کچھ ملے گا تو پہلے میرا جواب تو دو اتنی بڑی بات آپ ایسے ہی ہضم کر جانا چاھتے ہو پہلے یہ نقطہ واضح کرو اس کو بعد میں بھی یہاں ہوں اور آپ بھی یہاں ہو جواب تو چلتے رہیں گے"

طارق صاحب! نئے نئے چٹکلے چھوڑنے کے بجائے اپنے اوپر وارد ہونے والے اعتراضات کا جواب دینے کی کچھ کوشش کیجئے۔ محض خالی خولی دعوے کرنے سے آپ کو کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔ اس گفتگو کو ملاحظہ کرنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ میں آپ کے بے تکے اعتراض کا جواب ایک مرتبہ نہیں بلکہ کم از کم دو مرتبہ پوری وضاحت اور تفصیل کے ساتھ دے چکا ہوں، پہلے 03 مارچ کو اور پھر 17 مارچ کو مکرر، لیکن آپ آج بھی یہی ہانک رہے ہیں کہ جواب دو۔ حضرت صاحب، میں اندھے کو راستہ "بتا" تو سکتا ہوں "دکھا" نہیں سکتا۔ اور جو نابینا ہونے کے ساتھ ساتھ فاتر العقل بھی ہو، اسے تو سمجھا بھی نہیں سکتا۔ مطلب یہ کہ جس صلاحیت سے خود ربّ ذولجلال نے آپ کو محروم رکھا ہے، اس میں میں مسکین آپ کے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اگر کچھ قابلیت کا دعویٰ ہے تو بجائے اپنے سوال کو بار بار کاپی پیسٹ کرنے کے، میرے دیے گئے جوابات کو دلائل کے ذریعے غلط ثابت کر دیجئے، ان جوابات کا سرے سے انکار کر دینا (کہ جواب دیے ہی نہیں گئے) محض اندھے پن کی دلیل ہے۔

آخر میں قارئین کرام کی خدمت میں ایک دلچسپ نکتہ پیش کرتا ہوں۔ طارق صاحب نے میری ایک ادھوری عبارت پیش کرنے کے بعد مجھ پر اعتراض کیا ہے کہ ایک"کلمہ گو مسلمان" (چاہے وہ دھوکہ دینے کے لیے ہی اسلام میں داخل کیوں نہ ہوا ہو) کو میں مسلمان ماننے پر تیار نہیں۔ طارق صاحب کا یہ الزام کس حد تک درست ہے، اس کا اندازہ تو میرے گزشتہ دیے گئے جوابات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے، یہاں میں صرف قارئین کی خدمت میں طارق صاحب کا اپنا نظریہ پیش کرتا ہوں۔ میں نے 13 جنوری کو طارق صاحب کی خود ساختہ اصطلاح "مشرک مسلمان" پر اعتراض کرتے ہوئے لکھا تھا

"آپ کا یہ استدلال بھی ناقابل فہم ہے۔ یعنی ایک شخص کا شرک آپ کے نزدیک ثابت ہے، اور آپ کی نظر میں وہ مشرک ہے۔ لیکن دوسری طرف مسٔلہ یہ ہے کہ وہ اپنے اس شرک کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ تو کیا اس کا حل یہ ہے کہ اسے "مشرک مسلمان" کا لقب دے دیا جائے، اور یوں اپنے تئیں دونوں تقاضے پورے کر دیے جائیں؟ یعنی آپ کے دعوے کے مطابق وہ مشرک قرار پائے، اور اپنے دعوے کے مطابق مسلمان بھی رہے۔ فیا للعجب"۔

اس اعتراض کا جواب طارق صاحب نے 14 جنوری کو ان الفاظ میں دیا

"محترم احمد صاحب، میں ان کو مشرک ہی مانتا ہوں مگر وہ اپنے گمان کے مطابق خود کو مسلمان کہتے ہیں اس میں میرا کیا قصور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ "

دیکھا آپ نے؟ یعنی وہ لوگ جو بقول طارق صاحب، اپنے گمان میں خود کو مسلمان کہیں، کلمہ گوئی کا دعویٰ کریں، اور وہ بھی محض دوسروں کو دھوکہ دینے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے تئیں خود کو سچا مومن گمان کرتے ہوئے اور شرک کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے، انہیں تو طارق صاحب "مشرک ہی" مانیں، جبکہ مجھ پر یہ اعتراض کہ میں ایسے شخص کو مسلمان ماننے سے انکار کرتا ہوں جس کے مسلمانی کے دعوے کو طارق صاحب خود جھوٹا تسلیم کر چکے (دوغلا پن قرار دے کر)۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
اب قارئین خود ہی فیصلہ فرما لیں کہ جس شخص کی دماغی حالت اس حد تک بگڑ چکی ہو کہ اس مخبوط الحواس کو خود اپنے ہی نظریات کی کچھ خبر نہ ہو، اس کی کسی بات کا اعتبار کرنا کون عقلمند قبول کرے گا۔
وما علینا الا لبلاغ۔
By: Ahmad, Lahore on Mar, 25 2013
Reply Reply
0 Like
طارق صاحب! میں پہلے ہی اپنی غلطی تسلیم کر چکا ہوں اور آئند کوشش کروں گا کہ کسی "غلط" شخص کو "صحیح" مشورہ دینے جیسی غلطی دوبارہ نہ کروں۔ البتہ یہ بات ذہن نشین کر لیجئے کہ نہ تو مجھے آپ کے مردے کی کوئی فکر ہے، اور نہ ہی آپ کے غم میں "ہلکان" ہونے کا کوئی سوال ہے۔ میرا مقصد صرف آپ کی "جعلی علمیت" کا پردہ چاک کرنا تھا، جو الحمد للہ کافی حد تک ہو چکا۔ مجھے یقین ہے کہ اس کالم کے تحت ہونے والی بحث کو پڑھنے کے بعد کوئی بھی شخص، جس کی عقل سلامت ہو، آپ کے مکر و فریب کا شکار نہیں ہونے پائے گا۔
جہاں تک آپ کے اس دعوے کا تعلق ہے کہ آپ اللہ کو کارساز اور مددگار مانتے ہیں، تو عرض یہ ہے کہ جو شخص واقعی اللہ تعالیٰ کو اپنا کارساز اور مددگار سمجھتا ہو، وہ ایسی بے حیائی و ڈھٹائی سے جھوٹ اور خیانت کا ارتکاب کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا جس پر آپ تسلسل سے عمل درآمد کرتے چلے آ رہے ہیں۔ خیر، آپ کی آپ جانیں۔

آپ کے اس آخری تبصرے سے ایک بات تو واضح ہو گئی کہ آپ میرے سوالات کا جواب کبھی نہیں دیں گے بلکہ محض اپنی ہی ہانکتے رہیں گے۔ جیسا کہ اس مرتبہ بھی آپ نے اپنے لغو اعتراض کو دہرانے کے سوا کچھ بھی نہیں کیا۔ آپ نے میری اس عبارت کو دوبارہ نقل کیا ہے کہ

"ظاہر سی بات ہے جو شخص مسلمانی کا جھوٹا دعویٰ کرے گا، اسے محض اس دعوے کی بناء پر تو مسلمان تسلیم نہیں کر لیا جائے گا۔ اور اس کی منافقت یا دوغلا پن اس معاملے میں اس کے کسی کام کا نہیں"

اس پر لکھتے ہیں

"ایسا تو نہیں ہے کہ میں نے آپ کی ملازمت اختیار کی ہے آپ پوچھے جاؤ اور میں جواب دیتا رہوں کچھ دو گے تو کچھ ملے گا تو پہلے میرا جواب تو دو اتنی بڑی بات آپ ایسے ہی ہضم کر جانا چاھتے ہو پہلے یہ نقطہ واضح کرو اس کو بعد میں بھی یہاں ہوں اور آپ بھی یہاں ہو جواب تو چلتے رہیں گے"

طارق صاحب! نئے نئے چٹکلے چھوڑنے کے بجائے اپنے اوپر وارد ہونے والے اعتراضات کا جواب دینے کی کچھ کوشش کیجئے۔ محض خالی خولی دعوے کرنے سے آپ کو کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔ اس گفتگو کو ملاحظہ کرنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ میں آپ کے بے تکے اعتراض کا جواب ایک مرتبہ نہیں بلکہ کم از کم دو مرتبہ پوری وضاحت اور تفصیل کے ساتھ دے چکا ہوں، پہلے 03 مارچ کو اور پھر 17 مارچ کو مکرر، لیکن آپ آج بھی یہی ہانک رہے ہیں کہ جواب دو۔ حضرت صاحب، میں اندھے کو راستہ "بتا" تو سکتا ہوں "دکھا" نہیں سکتا۔ اور جو نابینا ہونے کے ساتھ ساتھ فاتر العقل بھی ہو، اسے تو سمجھا بھی نہیں سکتا۔ مطلب یہ کہ جس صلاحیت سے خود ربّ ذولجلال نے آپ کو محروم رکھا ہے، اس میں میں مسکین آپ کے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اگر کچھ قابلیت کا دعویٰ ہے تو بجائے اپنے سوال کو بار بار کاپی پیسٹ کرنے کے، میرے دیے گئے جوابات کو دلائل کے ذریعے غلط ثابت کر دیجئے، ان جوابات کا سرے سے انکار کر دینا (کہ جواب دیے ہی نہیں گئے) محض اندھے پن کی دلیل ہے۔

آخر میں قارئین کرام کی خدمت میں ایک دلچسپ نکتہ پیش کرتا ہوں۔ طارق صاحب نے میری ایک ادھوری عبارت پیش کرنے کے بعد مجھ پر اعتراض کیا ہے کہ ایک"کلمہ گو مسلمان" (چاہے وہ دھوکہ دینے کے لیے ہی اسلام میں داخل کیوں نہ ہوا ہو) کو میں مسلمان ماننے پر تیار نہیں۔ طارق صاحب کا یہ الزام کس حد تک درست ہے، اس کا اندازہ تو میرے گزشتہ دیے گئے جوابات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے، یہاں میں صرف قارئین کی خدمت میں طارق صاحب کا اپنا نظریہ پیش کرتا ہوں۔ میں نے 13 جنوری کو طارق صاحب کی خود ساختہ اصطلاح "مشرک مسلمان" پر اعتراض کرتے ہوئے لکھا تھا

"آپ کا یہ استدلال بھی ناقابل فہم ہے۔ یعنی ایک شخص کا شرک آپ کے نزدیک ثابت ہے، اور آپ کی نظر میں وہ مشرک ہے۔ لیکن دوسری طرف مسٔلہ یہ ہے کہ وہ اپنے اس شرک کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ تو کیا اس کا حل یہ ہے کہ اسے "مشرک مسلمان" کا لقب دے دیا جائے، اور یوں اپنے تئیں دونوں تقاضے پورے کر دیے جائیں؟ یعنی آپ کے دعوے کے مطابق وہ مشرک قرار پائے، اور اپنے دعوے کے مطابق مسلمان بھی رہے۔ فیا للعجب"۔

اس اعتراض کا جواب طارق صاحب نے 14 جنوری کو ان الفاظ میں دیا

"محترم احمد صاحب، میں ان کو مشرک ہی مانتا ہوں مگر وہ اپنے گمان کے مطابق خود کو مسلمان کہتے ہیں اس میں میرا کیا قصور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ "

دیکھا آپ نے؟ یعنی وہ لوگ جو بقول طارق صاحب، اپنے گمان میں خود کو مسلمان کہیں، کلمہ گوئی کا دعویٰ کریں، اور وہ بھی محض دوسروں کو دھوکہ دینے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے تئیں خود کو سچا مومن گمان کرتے ہوئے اور شرک کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے، انہیں تو طارق صاحب "مشرک ہی" مانیں، جبکہ مجھ پر یہ اعتراض کہ میں ایسے شخص کو مسلمان ماننے سے انکار کرتا ہوں جس کے مسلمانی کے دعوے کو طارق صاحب خود جھوٹا تسلیم کر چکے (دوغلا پن قرار دے کر)۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
اب قارئین خود ہی فیصلہ فرما لیں کہ جس شخص کی دماغی حالت اس حد تک بگڑ چکی ہو کہ اس مخبوط الحواس کو خود اپنے ہی نظریات کی کچھ خبر نہ ہو، اس کی کسی بات کا اعتبار کرنا کون عقلمند قبول کرے گا۔
وما علینا الا لبلاغ۔
By: Ahmad, Lahore on Mar, 25 2013
Reply Reply
0 Like
Ahmed Bahi Salam! Allah aapko Ajrey Azeem Atta farmaey aur aapki in Kaawisho ko apni baragah mein Qabool farmey. aur iss k sabab ham sab k Eemaan ki ta dam-e-Marg Hifazat Farmaey. Aameen.
By: Mujtaba, Karachi on Mar, 20 2013
Reply Reply
0 Like
نہایت ہی محترم مجتبیٰ بھائی! وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ
عرصے بعد آپ کا تبصرہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ امید ہے آپ ہر طرح خیریت سے ہوں گے۔

میرے بھائی، پہلے میں بھی یہی سمجھتا تھا کہ شاید میں پتھروں یا دیواروں سے سر پھوڑ رہا ہوں، لیکن پھر میرا یہ خیال غلط ثابت ہوا، کیونکہ پتھر پر بھی تسلسل سے پانی گرتا رہے، اگرچہ قطرہ قطرہ ہی سہی، تو اس میں سوراخ ہو جاتا ہے، لیکن میرا پالا اس مرتبہ جس مخلوق سے پڑا ہے، اس پر کسی بھی چیز کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ یعنی آپ کی دوسری بات ہی درست ہے، کہ یہ مہر لگے دل ہیں، ایسی مہر جس سے دیکھنے، سننے، سمجھنے کی صلاحیت مکمل طور پر سلب ہو جاتی ہے اور ہلاکت و گمراہی انسان کا مقدر ٹھہرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسی حالت سے اپنی پناہ میں رکھے۔

کذب بیانی جن لوگوں کا طرہ امتیاز ہو، مکر و فریب جن کی فطرت میں شامل ہو، تحریف و تخریب جن کے لیے باعث تفاخر ہو، افتراء پردازی جن کا معمول ہو، اپنی بات سے مکرنا جن کی عادت مستمرہ ہو، عقلیں جن کی گھن زدہ ہوں، حافظے جن کے دیمک کھا چکی ہو، اور طرفہ یہ کہ اس سب کے باوجود دعوے شریعت کی ٹھیکیداری کے کرتے ہوں، تو اس قبیل کے لوگوں کا دلائل کے ذریعے قائل ہونا ایک امرِ محال ہے۔ لہذا میں پہلے بھی کئی مرتبہ اس بات کی وضاحت کر چکا ہوں کہ میری اس کاوش کا مقصد ان لوگوں کو قائل کرنا نہیں، بلکہ ان کے فتنے اور شر کی نشاندہی کرنا ہے۔ اور میرا کوئی ایک بھی بھائی یا بہن اگر اس کاوش کی بدولت ان کے شر سے محفوظ ہو جائے، تو مجھے میری محنت کا پھل مل جائے گا۔ بس یہی سوچ کر انتہائی مصروفیات کے باوجود کچھ وقت اس کام میں صرف کر لیا کرتا ہوں، حالانکہ اس قسم کے لوگوں سے بحث کرنے میں جو ذہنی کوفت ہوتی ہے، اس کا اندازہ صرف وہی شخص لگا سکتا ہے جو خود ایے کسی تلخ تجربے سے گزرا ہو۔

دعا فرمائیے اللہ تعالیٰ ہمت و استقامت عطا فرمائے اور تمام شریروں کے شر سے اپنی حفاظت میں رکھے۔ اللہ تعالیٰ آپ کا بھی حامی و ناصر ہو۔ والسلام مع الاکرام۔
By: Ahmad, Lahore on Mar, 19 2013
Reply Reply
0 Like
جزاک اللہ ۔۔۔۔
By: Kamran Azeemi, Karachi on Mar, 20 2013
0 Like
Ahmed Bhai Salam! Aap q Patharo se Sar Takra rahey hein. Jin ko Qloob par Allah Mohar laga de wo Aankho se Andhy aur Kano se Behrey ho jatey hein aur Eemaan nahi la saktey Chahey kitni hi Nishaniya dikhai jaein. mgr aap ne Maa Shaa Allah Bohat Dandan Shikan Jawabaat deye hein Allah Ham sabko Eemaan par sabit qadmi atta farmary.
By: mujtaba, Karachi on Mar, 18 2013
Reply Reply
0 Like
طارق محمود صاحب
سب سے پہلے تو آپ کو مشورہ دینے پر میں انتہائی شرمندہ ہوں، اور کوشش کروں گا کہ آئندہ اپنے مشورے اپنے پاس ہی رکھوں۔ کیونکہ جب آپ خود ہی اپنا مردہ بھاری کرنے پر تلے ہیں تو پھر مجھ جیسوں کے مشورے بھلا آپ کے کس کام کے۔ لہذا آپ ایسی نصیحتوں پر کان دھرے بغیر اپنی "حرکتوں" پر ڈٹے رہئے۔

اگرچہ کسی غیر سنجیدہ، غیر حاضر دماغ اور کاذب کی ہر بات کا جواب دینا کچھ ضروری نہیں، لیکن مسٔلہ یہ ہے کہ جواب نہ ملنے پر آپ کو یہ وہم لاحق ہو جاتا ہے کہ شاید مخالف آپ کے بے تکے اعتراضات سے کنی کترا رہا ہے اور آپ خوامخواہ شیخیاں بگھارنے لگتے ہیں اور مزید شر پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، لہذا بادل ناخواستہ کچھ معروضات پیش کر دیتا ہوں۔

آپ نے پہلے ہی پیرے میں لکھا ہے
"میں نے ایک سادہ سا جملہ کہا تھا کہ ایمان لانے کے بعد شرک میں مبتلا ہے اور وہ ایمان مشرکین عرب کی مانند ہے یعنی توحید ربوبیت جس کو ابن عباس رضی اللہ عنہ اور دیگر اقوال سے میں نے ثابت کر دیا ہے اور وہ ایک نشاندہی کے لئے جملہ کہا گیا ہے جس میں صرف یہ باور کرایا ہے کہ آج امت محمدیہ کی اکثریت شرک میں مبتلا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ "

اب آپ کو کس طرح سمجھایا جائے کہ "ایمان لانے کے بعد شرک میں مبتلا ہونے" کے جملے پر تو میں نے اعتراض کیا ہی نہیں تھا، اور نہ ہی یہ ہماری اختلافی بحث کا بنیادی نکتہ ہے، اور اس بات کی متعدد بار وضاحت بھی کی جا چکی۔ لہذا دو ہی باتیں ہیں
یا تو یہ کہ آج تک کی طویل بحث کے باوجود آپ واقعی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ میرا اعتراض ہے کس بات پر؟
یا پھر یہ کہ آپ جان بوجھ کر بھولپن کی اداکاری کرتے ہوئےبحث کو غلط سمت میں موڑنے کی ناکام کوشش فرما رہے ہیں۔
اگر پہلی بات درست ہے تو یہ انتہائی درجے کی جہالت کہلائے گی، اور اگر دوسری بات صحیح ہے تو اسے صریح فریب کاری کہا جائے گا۔ اور آپ کی سیرت و کردار کا جتنا مشاہدہ میں نے اب تک کیا ہے، اس کی روشنی میں بلا تردد کہا جا سکتا ہے کہ یہ دونوں ہی صورتیں ممکن ہیں۔ براہ مہربانی آپ خود ہی اس راز سے پردہ اٹھا دیجئے کہ لوگ دونوں میں سے کس بات کو درست سمجھیں؟ یا پھر دونوں ہی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اور یہ جو آپ نے لکھا کہ مجھے سمجھ نہیں آئے گی، کیونکہ اس سے میں خود مشرک ثابت ہو رہا ہوں، تو میں ایک مرتبہ پھر آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ اس کالم کے تحت میری صرف ایک عبارت ایسی بتا دیجئے جس کی بناء پر میں "مشرک" ثابت ہو رہا ہوں۔ غیرت ایمانی یا خدا خوفی کا واسطہ اس لیے نہیں دوں گا کہ اس قسم کی خصوصیات سے آپ یکسر عاری ہیں، لہذا صرف اتنا کہنے پر اکتفاء کرتا ہوں کہ اگر آپ کر سکتے ہیں تو اپنے اس تازہ بہتان کو درست ثابت کر کے دکھا دیجئے، ورنہ آپ کے خوشامدی تو اب بھی آپ کے جھوٹے قصیدے پڑھنے سے باز نہیں آئیں گے ۔

اور رہی بات برا ماننے کی، تو جناب آپ جیسوں کی بات کی حیثیت ہی کیا ہے جو برا مانا جائے؟ البتہ آپ کی باتیں پڑھ کر بعض اوقات ہنسی ضرور آ جاتی ہے۔

دوسرے یہ کہ قول ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں تو ابھی چند دن قبل ہی آپ نے اپنے استدلال پر باقاعدہ معذرت پیش کی تھی، لیکن آج پھر سے اسی قول کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ آپ نے "ایمان لانے کے بعد شرک میں مبتلا ہونا" اور اس ایمان کا مشرکین کے ایمان کی مانند ہونا قول ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے "ثابت" کیا تھا۔ تو جناب پھر آپ کی اس گزشتہ معذرت کو کیا سمجھا جائے؟ طارق صاحب!
کبھی تو اپنی کہی ہوئی بات پر کچھ دیر قائم رہنے کی غلطی کر لیا کیجئے۔ کیا آپ کے نزدیک اپنے ہی اگلے ہوئے کو واپس نگلنا بالکل بھی باعث کراہت نہیں؟ گھن آتی ہے آپ کی اس قسم کی حرکتوں پر۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔

قطع نظر اس بات کے کہ آپ نے یہ قول اپنی کس اختراعی اصطلاح یا عبارت کے حق میں پیش کیا تھا، آج بھی آپ کا یہ نیا استدلال آخر ہے کیا؟ بقول آپ کے
آج امت کی اکثریت ایمان لانے کے بعد شرک میں مبتلا ہے۔
ان کا ایمان مشرکین عرب کے ایمان کی مانند ہے، یعنی توحید ربوبیت۔
اس بات کو آپ نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول سے ثابت کیا ہے۔

اس پر سوال یہ ہے کہ کیا آپ ابوجہل و ابو لہب اور ان جیسے دیگر مشرکین کو "ایمان لانے کے بعد شرک کرنے والے" سمجھتے ہیں؟ اگر سمجھتے ہیں تو ان کے "ایمان لانے" کی وضاحت تو کیجئے۔ اور اگر نہیں سمجھتے، تو پھر یہاں کون سی مماثلت ہے جسے آپ ثابت کرنے کی بات کر رہے ہیں؟ اور آج کے لوگوں کے "ایمان" کو مشرکین کے "ایمان" کے "مانند" قرار دے رہے ہیں؟
مزید یہ کہ کیا آپ کے نزدیک مشرکین عرب کے "توحید ربوبیت" کے بارے میں نظریات درست تھے؟ اگر آپ کا جواب اثبات میں ہو تو اس پر سوال ہے کہ کیا آپ "توحید" اور "ربوبیت" کے مفاہیم سے آگاہ بھی ہیں؟ اور اگر آپ واقعی مشرکین کے بارے میں یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ ان کا "ایمان" بقول آپ کے "توحید ربوبیت" کی حد تک درست تھا (عیاذاً باللہ)تو کیا آپ ابوجہل و ابو لہب اور دیگر مشرکین عرب کو "مشرک مسلمان" کہہ کر صرف مخاطب کرنے، یا محض بطور نشاندہی ایسا کہنے کو جائز سمجھتے ہیں؟
اگر جائز سمجھتے ہیں تو یہاں بیان کر دیجئے
اور اگر ناجائز سمجھتے ہیں تو اس کی وجہ بیان کیجئے، کیونکہ جب بقول آپ کے، فریقین کے "ایمان" اور "شرک" میں مماثلت ہے، یعنی آج کے "مشرکین" کا "ایمان" مشرکین عرب کے "ایمان" کے "مانند" ہے تو پھر دونوں کا حکم بھی ایک جیسا ہونا چاہئے۔ یعنی جس طرح یہ "مشرک مسلمان" اسی طرح وہ بھی "مشرک مسلمان"۔
تو یہ ہے آپ کے غلیظ نظریات کی حقیقت جن کو ثابت کرنے میں آپ ہلکان ہوئے جا رہے ہیں۔

اس کے بعد آپ نے ایک مرتبہ پھر سے منافقین کی بحث چھیڑی ہے جو کئی سطروں پر محیط ہے، لیکن اس میں کوئی نئی بات نہیں کی، بلکہ وہی گزشتہ کی بے تکی باتیں دہرائی ہیں جن کا جواب میں پہلے ہی عرض کر چکا۔ بہرحال اگر آپ کی تشفی ابھی تک نہیں ہو سکی تو مزید کچھ عرض کر دیتا ہوں۔ اصل میں اس نکتے پر گفتگو کا باعث آپ ہی کا پیش کردہ شاہ صاحب کا ایک قول تھا (یعنی شاہ ولی اللہ صاحب، جنہیں آپ نے معتبر شخصیت قرار دیا تھا، جبکہ آپ کے ایک "برادر محترم" نے انہیں شاہ صاحب کو ایک دوسرے کالم میں "مشرک" قرار دے ڈالا ہے، اور اس بات پر آپ نے اب تک اپنے بھائی صاحب کی تعریف و توصیف بھی نہیں فرمائی، حالانکہ وہ تو آپ کی خوشامد میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔ بھلا ایسی بھی کیا بیوفائی) اس مذکورہ قول میں "منافقین امت محمدیہ" کے الفاظ موجود تھے۔ ان الفاظ کی تشریح کرتے ہوئے آپ نے اپنی 9 فروری کی تحریر میں لکھا تھا

"شاہ ولی اللہ نے یہاں کوئی شرعی اصطلاح میں اس لفظ کااستعمال نہیں کیا بلکہ یہاں یہ لفظ لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی (دوغلے) تو شاہ ولی اللہ کی منافق سے یہاں مراد ہے کہ “اسلام کی بنیاد توحید پر ہے اور آج اس کی علم بردار امت مسلمہ ہے اور اس کے یہ منافقین(دوغلے) اللہ پر ایمان کا دعوا کرنے والے اس کی توحید کو مان کر بھی اس کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں دعوا امت محمدیہ کا اور کام مشرکوں والے یہ منافقت(دوغلا پن) ہے جس کو انہوں نے منافقت سے تعبیر کیا ہے مگر اپ تو مسٹر اصطلاح ہیں ہر جملے میں اصطلاح لے کر کود پڑتے ہیں تو شاہ ولی اللہ کی منافقین سے مراد دوغلے ہیں جو دعوا امت محمدیہ کا کرتے ہیں مگر شرک یہود اور نصارا کی طرح کرتے ہیں سمجھے یا نہیں"۔

اس کے دو ہی دن بعد 11 فروری کو آپ کے اسی بیان کا جواب دیتے ہوئے میں نے لکھا تھا
"اب اگر آپ کی بیان کردہ توجیح کو درست مان لیا جائے کہ یہاں منافق سے شاہ صاحب کی مراد ان لوگوں کا دوغلا پن ہے، کہ دعوی تو مسلمانی کا کرتے ہیں لیکن کام مشرکوں والے، تو اس سے آپ کو حاصل کیا ہو گا؟"
اور اس کے کچھ بعد میں نے یہ عبارت لکھی تھی
" ظاہر سی بات ہے جو شخص مسلمانی کا جھوٹا دعوی کرے گا، اسے محض اس دعوے کی بناء پر تو مسلمان تسلیم نہیں کر لیا جائے گا۔ اور اس کی منافقت یا دوغلا پن اس معاملے میں اس کے کسی کام کا نہیں"۔

یہاں آپ نے میری تحریر کا آخری حصہ تو نقل کیا، لیکن اس سے پہلے والی بات کو جان بوجھ کر ہضم کر گئے جس میں صاف وضاحت تھی کہ میں نے تو آپ ہی کی پیش کردہ توجیح کو قبول کرنے کے بعد لکھا تھا کہ یہاں لفظ "منافقین" کا استعمال لغوی طور پر لیا جائے، یعنی "دوغلا پن" تو اس سے بھی آپ کا اختراعی موقف ثابت نہیں ہوتا۔ اسی لیے یہی الفاظ "منافقت یا دوغلا پن" میری تحریر کے اس حصے میں بھی موجود ہیں جو آپ نے نقل کی۔ لیکن اپنی طرف سے ہوشیاری کا ثبوت دیتے ہوئے آپ نے اسے دوسری جانب منطبق کرنے کی کوشش کی۔ لہذا اب اچانک ہی آپ "حقیقی" منافقین کا راگ الاپنے لگے، اور کبھی آپ کو گنہگار مسلمان (جن کی مختلف علامات کا ذکر احادیث میں ملتا ہے اور انہیں بھی منافق قرار دیا گیا ہے) یاد آنے لگے تو کبھی آپ عبداللہ بن ابی کے ہجر میں آہیں بھرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ ان میں سے کسی کے بارے میں بھی میں نے کوئی کلام نہیں کیا، بلکہ میرا تبصرہ تو انہیں لوگوں کے بارے میں تھا جن کا ذکر شاہ صاحب نے کیا اور اس کی تشریح خود آپ نے پیش کی، اور اسی تشریح کی روشنی میں وہ عبارت میں نے لکھی جسے آپ نے نقل کیا ہے۔ اور یہ وہی لوگ ہیں جن کے ایمان کی خود آپ پہلے نفی کر چکے ہیں۔

میں نے پہلے بھی گزارش کی تھی کہ لوگ آپ کی طرح احمق نہیں ہیں کہ اس طرح کے ڈھکوسلوں میں آ جائیں گے، لہذا آپ اپنے الفاظ کے یہ کرتب اپنے ہمنواؤں کے سامنے دکھا کر داد وصول کیجئے گا، یہاں آپ کی دال نہیں گلنے والی۔

آخری عرض یہ کہ آپ کے "برادر محترم" کی آپ کو کی گئی نصیحت کے جواب میں جس خدشے کا اظہار میں نے کیا تھا، اسے آپ نے درست ثابت کر دیا، کئی دن غائب رہنے کے بعد یہ گھسی پٹی دلیلیں دہرا کر۔ حالانکہ میں تو اپنے طور پر "خس کم جہاں پاک" کہہ کر مطمئن ہو چکا تھا۔ اور چلتے چلتے یہ بھی بتا دیجئے کہ میرے گزشتہ اور اس تحریر میں موجود سوالات کا جواب دینے کی زحمت فرمائیں گے یا پھر ہمیشہ کی طرح اپنی ہی ہانکتے رہیں گے؟
By: Ahmad, Lahore on Mar, 17 2013
Reply Reply
0 Like
Salam Ahmad Bhai Damt Barkatu hum ul Alia.
Allah ap ko Kher o abad rakhe Ap ne jis tarha Har Mor par in logon ka taqub kia aur kia hi khub kia.Is par ap ko teh dil se mubarak bad dete hain.Allah ap ko donon jahan main shad o abad rakhe.Ameen.
BHai Log mera khayal hai ye log manen ge kabhi nahi kun ky in ki 2 ent ki majjid tabah hojaegi.Akhir harba in ka bhagna ya khalid mehmod ki tarhan jan chorana hi hoga. Are tariq sahab kam az kam khalid mehmod se hi aqal lelo jo ap ko samjhate rehte hai.Tariq sahab ab ap samjh gaen honge mere ahmed ko nazar andaz karne ki waja? kub ajeeb tareen log hai Na khbi mane hain na kabhi mane ge ye qasam in hon ne purani khai hai aur isi par qaim hain.Allah in ko hidayat de.Aur Ahmed bhai Ap ko istiqamat aur waqt main barkat de.Ameen
By: Nouman Kk, Tandho Alahyar on Apr, 06 2013
0 Like
احمد صاحب،
شکر ہے اپ نے میری کوئی بات تو مانی کہ اپ آئندہ مجھے مشورہ نہیں دیں گے میرے مردے کو چھوڑیں اپنی فکر کریں بدعتی کا انجام احادیث میں واضح موجود ہے اس لیے میرے غم میں اپن آپ ہلکان نہ کریں میرا اللہ میرا کار ساز اور مدد گار ہے میں اللہ کے علاوہ کسی کو اپنا مددگار نہیں مانتا ہوں“ فکر تو وہ کریں جو ہر جگہ سر ٹیکتے ہیں
میرے گزشتہ اور اس تحریر میں موجود سوالات کا جواب دینے کی زحمت فرمائیں گے یا پھر ہمیشہ کی طرح اپنی ہی ہانکتے رہیں گے
میں بھی یہی کہتا ہوں پہلے میرا جواب تو دیں کہ ہر کلمہ گو کہ جو اپ نے اسلام سے خارج کر دیا ہے اس کا جواب عنایت کریں میرا جواب دیا نہیں اپنے کے لیے پریشان ہیں
پہلے میرا جواب پھر آپ کے جواب میں دوں گا میں بھاگنے والا نہیں ہوں یہ آپ جانتے ہیں
میرا سوال یہ ہے
“ ظاہر سی بات ہے جو شخص مسلمانی کا جھوٹا دعویٰ کرے گا، اسے محض اس دعوے کی بناء پر تو مسلمان تسلیم نہیں کر لیا جائے گا۔ اور اس کی منافقت یا دوغلا پن اس معاملے میں اس کے کسی کام کا نہیں“
تو ایک کلمہ گو کو مسمان ماننے پر تیار نہیں ہیں اس کی دلیل پیش کر دیں آپ نے کھا کہ میں نے اپ کی اس سے پہلے والی بات ہضم کر دی ہے تو جناب کو بتا دوں میرا اختلاف اپ کی اسی بات سے ہے کہ مسلمان کو اسلام سے خارج اپ کس بنا پر کر رہے ہیں جبکہ یہ کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا انہوں نے بھی کلمہ گو چاہے وہ دھوکا دینے کے لیے اسلام میں داخل ہوا ہو اس کے کلمہ کا اعتبار کیا ہے تو اپ اس کہ کس طرح خارج کر رہے ہیں پہلے میرے سوال کا جواب دو اس کے بعد اپنی بین بجانا مطلب اپنا جواب لینا
ایسا تو نہیں ہے کہ میں نے آپ کی ملازمت اختیار کی ہے آپ پوچھے جاؤ اور میں جواب دیتا رہوں کچھ دو گے تو کچھ ملے گا تو پہلے میرا جواب تو دو اتنی بڑی بات آپ ایسے ہی ہضم کر جانا چاھتے ہو پہلے یہ نقطہ واضح کرو اس کو بعد میں بھی یہاں ہوں اور آپ بھی یہاں ہو جواب تو چلتے رہیں گے
By: tariq mehmood, Karachi on Mar, 24 2013
0 Like
احمد صاحب،
اپنے بے بھیجے کے مشورے اپ اپنے پاس ہی رکھیں کیونکہ آپ کو سمجھ نہیں آئے گی میں نے ایک سادہ سا جملہ کہا تھا کہ ایمان لانے کے بعد شرک میں مبتلا ہے اور وہ ایمان مشرکین عرب کی مانند ہے یعنی توحید ربوبیت جس کو ابن عباس رضی اللہ عنہ اور دیگر اقوال سے میں نے ثابت کر دیا ہے اور وہ ایک نشاندہی کے لئے جملہ کہا گیا ہے جس میں صرف یہ باور کرایا ہے کہ آج امت محمدیہ کی اکثریت شرک میں مبتلا ہے مگر خیر اپ کو سمجھ نہیں آئے گی کیونکہ اس سے آپ خود مشرک ثابت ہو رہے ہیں آئینہ ان کو دیکھایا تو برا مان گئے
ہماری بات ابھی اس نقطے پر ہو رہی ہے کہ اپ نے یہ جملہ ادا کیا ہے “ظاہر سی بات ہے جو شخص مسلمانی کا جھوٹا دعویٰ کرے گا، اسے محض اس دعوے کی بناء پر تو مسلمان تسلیم نہیں کر لیا جائے گا۔ اور اس کی منافقت یا دوغلا پن اس معاملے میں اس کے کسی کام کا نہیں“
یہ اپ کا جملہ ہے شاہ ولی اللہ کا نہیں ان کا موقف میں واضح کر چکا ہوں کہ یہاں انہوں نے اصطلاحی طور پر منافق کا لفظ استعمال نہیں کیا ہے بلکہ لغوی طور پر کیا ہے اور چوں کہ آپ مسٹر اصطلاح ہے اس لئے ہر لفظ کو اصطلاح ہی سمجھتے ہیں جس کا اظہار میں پہلے ہی کر چکا توحید کے دعوے دار جب شرک جیسی گندے جرم کا ارتکاب کریں گے تو ان کو منافق ہی کہا جائے گا یعنی دم توحید کا بھریں اور مبتلا شرک میں ہے اس کو مناففت کہتے ہیں احمد صاحب مگر اپ کے سر میں تو کچھ ہے ہی نہیں سمجھ کیا آئی گی تو شاہ ولی اللہ کا موقف واضح ہے میں صرف آپ سے اس جملہ کے بارے میں پوچھ رہا ہوں کہ ایک کلمہ گو جس کے دل کا حال آپ نے اپنے کسی بہترین قسم کے آلے سے جان لیا اور پھر اس کو دعوے “ کلمہ گوئی“ کو جھوٹا مان کر مسلمان ہونے سے انکار کر دیا کیا کہنے آپ کے ،
عبداللہ بن ابی کو بھول گئے اس کی نماز جنازہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی تھی(بخاری) تو جناب آپ کے مطابق تو اس کا کلمہ پڑھنا اس کو مسلمان ہی تسلیم نہیں کرواتا ہے تو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کافر کی نماز جنازہ پڑھا دی،
جناب کچھ سوچا تھا یہ بولنے سے پہلے یا بس بول دیا تھا تو جناب احمد صاحب اس کا جواب عنایت کر دیں جب دھوکا دینے والے کو مسلمان تسلیم نہیں کیا جاسکتا تو پھر عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیونکر پڑھائی تھی تو میرا سوال بالکل واضح ہے کہ آپ کس طرح ایک کلمہ گو کو مسلمان تسلیم نہ کرنے سے انکار کر رہے ہو چاہے اس نے دھوکا دینے ہی کے لئے کلمہ پڑھا ہو اور اس آلے کا بھی بتائیں گا جس کے ذریعہ آپ دلوں میں چھپے ہوئے ایمان کا پتا لگا لیتے ہیں۔
اور مجھے معلوم ہے آپ اس کا جواب بھی ضرور دو گے اسی وجہ سے جواب کا منتظر طارق محمود۔
By: tariq mehmood, Karachi on Mar, 16 2013
Reply Reply
0 Like
ahmad bahi ALLAH pak Ap ko jaza ata farmae .AP na Apna farz pora kia .Ahmad bahi ALLAH pak ap ko is koshish ka AJAR ata farmae.musalman ko mushrik kehna he gumrahi ke bari dalil ha.
By: ALI, karachi on Mar, 04 2013
Reply Reply
0 Like
بہت بہت شکریہ علی بھائی۔ اللہ تعالیٰ ہر خوش عقیدہ مسلمان کو صراط مستقیم پر قائم رکھے اور گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکنے سے بچائے۔
دعاؤں کی عاجزانہ درخواست ہے۔
By: Ahmad, Lahore on Mar, 05 2013
0 Like
طارق محمود صاحب!
آپ نے اپنے نظریات کی ترویج کے لیے ایک کالم لکھا جس میں موجود ایک نکتے پر میں نے اعتراض وارد کیا اور اس پر آپ سے وضاحت چاہی۔ قریب ڈیڑھ ماہ کی سعی لاحاصل کے بعد آپ فرماتے ہیں کہ گزشتہ تمام تر گفتگو کو بالائے طاق رکھ کر پہلے میں آپ کی بات کا جواب دوں اس کے بعد دیگر امور پر بات ہو گی۔ بہت خوب۔ اپنی طرف سے کافی سمجھدار بننے کی کوشش کی ہے آپ نے۔

لیکن معاف کیجئے گا، یہاں آپ کا کوئی فرمائشی پروگرام نہیں چل رہا بلکہ ایک اختلافی نکتے پر بحث ہو رہی ہے جس میں آپ کو اپنے ایک بیان کردہ نظریے کا دفاع کرنا ہے۔ اگر تو آپ کے پاس کہنے کے لئے کچھ نہیں بچا تو بیشک دم سادھ کر بیٹھے رہئے، مجھے کوئی اعتراض نہیں، لیکن اس طرح بےجاء شرطیں عائد کرنے کا آپ کے پاس کوئی استحقاق نہیں۔

بہرحال یہ جو آپ نے کہا کہ
"سب باتیں اس کے بعد ہوں گی کیونکہ آپ تقریبا ایک ماہ سے مجھ سے اس بنیادی بات پر نبرد آزما ہیں کہ ایمان لانے کے بعد شرک میں مبتلا کی عبارت صحیح نہیں ہے"

تو اس پر میں یہی کہتا ہوں کہ جی ہاں، باقی سب باتیں بعد میں ہوں گی، پہلے آپ اپنے اس دعوے کو ثابت کریں کہ میں آپ سے اس بات پر نبرد آزما ہوں کہ "ایمان لانے کے بعد شرک میں مبتلا ہونے کی عبارت صحیح نہیں"۔

اگر سمجھ میں نہیں آیا تو دوبارہ پڑھ لیجئے

"ایمان لانے کے بعد شرک میں مبتلا ہونے کی عبارت صحیح نہیں"

اگر اب بھی سمجھ میں نہیں آیا تو لیجئے، ایک مرتبہ پھر سے پڑھ لیجئے

"ایمان لانے کے بعد شرک میں مبتلا ہونے کی عبارت صحیح نہیں"

بالفرض اگر اب بھی سمجھ میں نہیں آیا تو اس عبارت کو مسلسل پڑھتے رہیے، اس وقت تک، جب تک یہ آپ کو پوری طرح سمجھ میں نہ آ جائے۔ اور جب سمجھ میں آ جائے تو پھر ایڑی سے لے کر چوٹی تک کا سارا زور لگا کر یہ ثابت کر دیجئے گا کہ میں آپ سے اس بات پر نبرد آزما ہوں کہ

"ایمان لانے کے بعد شرک میں مبتلا ہونے کی عبارت صحیح نہیں"

اور اگر آپ یہ بات ثابت نہ کر سکیں، جو کہ آپ کبھی نہ کر سکیں گے، تو پھر مزید باتیں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ جس شخص کو ڈیڑھ ماہ کی مغز ماری کے باوجود آج تک یہی خبر نہیں ہو سکی کہ اصل نکتہ بحث ہے کیا، ایسے شخص کے لیے زیادہ موزوں یہی ہے کہ مزید اپنی مٹی پلید کروانے کےبجائے خاموشی اختیار کر لے۔ باقی آپ کی مرضی۔
By: Ahmad, Lahore on Feb, 25 2013
Reply Reply
0 Like
طارق صاحب!
آخر آپ کو کس "عقلمند" نے یہ مشورہ دیا ہے کہ آپ مذہبی موضوعات، بالخصوص عقائد سے متعلقہ ابحاث میں حصہ لیں؟ وہ جو کوئی بھی ہے، آپ کا ہمدرد ہرگز نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ آپ کی ذہنی استعداد اس بات کی متحمل ہرگز نہیں کہ آپ ان معاملات میں خامہ فرسائی کریں۔ دوسروں پر نہ سہی، کچھ خود پر ہی رحم کھا لیجئے اور اپنے نامہ اعمال کو مزید سیاہ کرنے سے باز آ جائیے۔
لیکن نصیحت بھی تو عقل والوں ہی کو فائدہ دیتی ہے۔

بہرحال، اپنے آخری تبصرے پر میرے جواب نہ آنے پر اگر آپ کو کوئی خوش فہمی ہو رہی ہے، تو میں اسے دور کیے دیتا ہوں۔

آپ نے مجھ پر اعتراض کرتے ہوئے لکھا ہے
"آپ جس بات پر مجھ سے ڈیڑھ ماہ سے نبرد آزما ہیں وہ اپ خود کہہ چکے ایک لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہنے والے کو مسلمان نہ مان کر تو جب خود اسی بات کا ارتکاب کر چکے تو پھر مجھ سے سوال کیسا پہلے اپنا گریبان تو صاف کرو پھر مجھ پر الزام لگانا آپ تو مسلمان کو مسلمان نہیں مان رہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ "

اور اپنا جو نظریہ آپ نے بیان کیا ہے، وہ یہ ہے
"اور میں تو صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ آج کا مسلمان شرک میں مبتلا ہے"
اورپھر آپ دعوی کرتے ہیں کہ مجھے بھی آپ کی اس بات کا اقرار ہے، جس کی دلیل میں آپ میرا یہ قول لائے ہیں
"مسلمان کا شرک میں مبتلا ہونا محال نہیں ہے"

میں مکرر عرض کر دوں کہ آپ ہمیشہ کی طرح اپنے اس صریح کذب و بہتان کو بھی کسی طرح ثابت نہیں کر سکتے کہ میں نے کسی مسلمان کے مسلمان ہونے کا انکار کیا ہے۔ اور یہ جو دلیل آپ نے پیش کی، تو یہ آپ کی کوڑھ مغزی کی ایک اور عمدہ مثال ہے، یا پھر آپ کا کوئی نیا دجل۔ کیونکہ میں نے اس کے ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ اگر بالفرض کوئی مسلمان شرک میں مبتلا ہو جائے، جو کہ ناصرف عقلی طور پر ممکن ہے بلکہ اس کے وقوع کی متعدد مثالیں بھی موجود ہیں، تو اس ابتلاء میں پڑنے کے بعد بھی اسے بدستور مسلمان نہیں قرار دیا جائے گا، بلکہ اپنے ارتداد کی وجہ سے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔ تو کہاں مسلمان کو مسلمان نہ سمجھنا، اور کہاں ایک شخص کے ارتداد کے بعد بھی اسے مسلمان قرار دیتے رہنا۔ گویا آپ کے دھرم میں کسی شخص کو شرک میں مبتلا ہو جانے کے بد بھی مسلمان ہی کہا جائے گا۔

اور یہی ہے وہ اختلافی نکتہ جس پر اب تک بحث جاری ہے، اور آپ آج تک اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہیں، حالانکہ ہر صاحب فہم پر آپ کے نظریے کا بطلان روز روشن کی طرح واضح ہے۔

اس کےبعد آپ نے اپنی عادت کے مطابق چند ڈینگیں ماری ہیں، جن سے قطع نظر کرتے ہوئے میں آپ کے پچھلے تبصرےمیں شامل اہم نکات کا جواب پیش کر دیتا ہوں، جس کے بارے میں آپ کو گمان ہوا کہ شاید میں نے اس سے کنی کترانے کی کوشش کی ہے۔

آپ لکھتے ہیں
"تو میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کے پاس وہ کون سا آلہ ہے جس کی بنا پر آپ دنیا میں یہ طے کرتے ہو کہ یہ منافق ہے اور اس کو دنیامیں مسلمان تسلیم نہیں کرتے ہیں اس عظیم ایجاد کے بارے میں ہمیں بھی بتائیں"

طارق صاحب! اگر عقل سے بھر بھی کام لیا ہوتا تو اس شوخ بیانی کی نوبت نہ آتی۔ میرا تبصرہ آپ ہی کے پیش کردہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کے قول پر تھا جس میں "منافقین امت محمدیہ" کے الفاظ موجود تھے۔ اور اس پر میں نے لکھا تھا

"ظاہر سی بات ہے جو شخص مسلمانی کا جھوٹا دعوی کرے گا، اسے محض اس دعوے کی بناء پر تو مسلمان تسلیم نہیں کر لیا جائے گا۔ اور اس کی منافقت یا دوغلا پن اس معاملے میں اس کے کسی کام کا نہیں"

اسی پر آپ نے کہا ہے نا کہ میں منافق کو دنیا میں مسلمان تسلیم نہیں کرتا۔ بہت خوب۔ لیکن اس قول کے تحت آپ نے خود کیا لکھا تھا، یہ آپ کو بالکل یاد نہیں ہو گا۔ آئیے میں بتاتا ہوں۔ آپ نے لکھا تھا

"شاہ ولی اللہ کی منافقین سے مراد دوغلے ہیں جو دعویٰ امت محمدیہ کا کرتے ہیں مگر شرک یہود اور نصارا کی طرح کرتے ہیں سمجھے یا نہیں"۔

جی حضرت!! میں تو سمجھ گیا، لیکن یہ بتائیں کہ کیا آپ کو خود اپنے ہی کہے کی کچھ سمجھ ہے یا نہیں؟ یقیناً نہیں ہے۔ اگر کہیں کہ ہے، تو ذرا اس بات کی وضاحت کیجئے کہ کیا آپ یہود و نصاریٰ کی طرح شرک کرنے والوں کو "مسلمان" ہی سمجھتے ہیں؟ یا پھر شاہ ولی اللہ صاحب کا مدعا یہ ہے؟ اور اگر ایسا نہیں ہے، تو پھر مجھ پر اعتراض کیوں؟ اور شاہ صاحب کا یہ قول تو آپ ہی ڈھونڈ کر لائے تھے نا؟ تو پھر سوال مجھ سے کیوں؟ بلکہ یہ تو آپ کو شاہ صاحب سے پوچھنا چاہئے تھاکہ ان کے پاس وہ کون سا پیمانہ تھا جس کی مدد سے انہوں نے "امت محمدیہ" کے لوگوں کے نظریات کو پرکھ کر ان پر "منافقت" کا حکم جاری کر دیا؟ اور آپ نے ان کے اس جاری کردہ حکم کو ناصرف آنکھیں بند کر کے قبول کر لیا، بلکہ اپنے حق میں بطور دلیل پیش بھی فرما دیا۔ مزید یہ بھی بتائیے گا کہ آپ شاہ صاحب کی اس عظیم ایجاد کے بارے میں جانتے تھے یا نہیں، جس کی مدد سے انہوں نے امت محمدیہ پر "منافقت" کا حکم لگایا؟ اگر جانتے تھے، تو پھر اب بھولے ناتھ کیوں بن رہے ہیں؟ اور اگر نہیں جانتے، تو پھر ایک ایسے قول کو بطور دلیل کیوں لے کر آئے جس کے مفہوم سے آپ خود واقف نہیں؟ کیا اسے حماقت کے علاوہ کچھ اور نام دیا جا سکتا ہے؟

اور پھر اپنے بےڈھنگے اعتراض کو تقویت دینے کی کوشش میں تو آپ نے کمال ہی کر دیا۔ لکھتے ہیں
"احمد صاحب، منافق کو دنیا میں مسلمان ہی تصور کیا جاتا ہے چاہے وہ مسلمانوں کو دھوکا دینے یا کسی عملی کمزوری کی وجہ سے منافق قرار پائے"۔
اور
"تو منافق دنیا میں مسلمان ہی شمار ہوتا ہے مگر آخرت میں اس کا پردہ چاک ہوتا ہے"۔
اس کے بعد آپ جھوٹ، خیانت، وعدہ خلافی اور دیگر علامات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ان تمام خصائل کے حامل افراد کو بھی حدیث میں منافق قرار دیا گیا ہے، اور اس پر آپ پوچھتے ہیں
"تو کیا آپ ان سب کو دائرہ اسلام میں داخل ہونے والا تسلیم نہیں کرتے یا دوسرے معنی میں آپ ان کے دعوے پر ان کو مسلمان تسلیم نہیں کریں گے"
اور مزید لکھتے ہیں
"آپ نے تو مسلمانوں کی کثیر تعداد کو دائرہ اسلام میں داخل ہی نہیں کیا ہے کیونکہ آپ کے مطابق منافق کا دعویٰ آپ کے نزدیک ناقابل تسلیم ہے جب کہ سلف سے لے کر خلف تک اس بات پر متفق ہیں کہ منافق پر دنیا میں مسلمان کے احکام لاگو ہوں گے مگر آپ کسی کو بھی مسلمان ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں"

کند ذہنی کی بھی حد ہوتی ہے طارق صاحب۔ کیا ہماری گفتگو ان لوگوں کے بارے میں ہو رہی تھی جن کی علامات آپ نے بیان کیں؟ مثلاً جھوٹ بولنا، خیانت کرنا، وعدہ خلافی کرنا، نماز میں سستی کرنا وغیرہ؟ کیا شاہ ولی اللہ دہلوی صاحب کے قول میں انہیں علامات کے حامل "منافقین" کا ذکر تھا؟ آپ کو یاد دلاتا چلوں کہ آپ نے شاہ صاحب کا قول اپنی اصطلاح "مشرک مسلمان" اور اپنی عبارات مثل "شرک جس میں آج مسلمان مبتلا ہیں" جیسی عبارات کے حق میں پیش کیا تھا۔اور آپ خود شاہ صاحب کے قول کی تشریح کرتے ہوئے لکھ چکے کہ

"شاہ ولی اللہ کی منافقین سے مراد دوغلے ہیں جو دعویٰ امت محمدیہ کا کرتے ہیں مگر شرک یہود اور نصارا کی طرح کرتے ہیں سمجھے یا نہیں"۔

لیکن اب آپ اس کو جھوٹ، خیانت، وعدہ خلافی وغیرہ کی طرف موڑ رہے ہیں۔
اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی۔
کیوں جناب! کیا آپ کے نزدیک جھوٹ بولنے، خیانت کرنے، وعدہ خلافی کرنے، نماز میں سستی کرنے جیسے اعمال اور یہود و نصاریٰ کی طرح شرک کرنےمیں کوئی فرق نہیں؟ اگر کہیں کہ کوئی فرق نہیں، تو میں کہوں گا کہ آپ کی یہ خانہ ساز شریعت آپ کو مبارک ہو۔ اور اگر کہیں کہ فرق ہے، تو پھر یہ بتا دیجئے کہ ایک ایسی دلیل کا پیش کرنا، جس کو آپ کے دعوے سے کوئی تعلق ہی نہیں، اسے جہالت و سفاہت کے علاوہ کیا کہا جائے گا؟

باقی رہا ابن کثیر کے قول کے تحت آپ کا یہ کہنا کہ "منافق دنیا میں مسلمان ہی شمار ہوتا ہے مگر آخرت میں اس کا پردہ چاک ہوتا ہے"
تو میں آپ کو یاد دلا دوں کہ آغاذ بحث میں اس بات کا اظہار آپ صراحت کے ساتھ کر چکے کہ آپ جن لوگوں کے بارے میں محوِ گفتگو ہیں ان سب کو آپ مشرکین ہی سمجھتے ہیں، اور ان کے ساتھ کسی مسلمان کے نکاح یا ان کی نماز جنازہ تک پڑھنے کے حامی نہیں۔ دیکھئے اپنی 16 جنوری کی تحریر۔ لہذا آج آپ کا موضوع سے ہٹ کر گنہگار مسلمانوں کی بحث چھیڑنا لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ لیکن یاد رکھیے، لوگ آپ کی طرح احمق نہیں ہیں کہ اتنی آسانی سے اس طرح کے دھوکے میں آ جائیں۔

جہاں تک تعلق ہے آپ کے اس دعوے کا کہ آپ بھاگنے والوں میں سے نہیں ہیں، تو یہ بات آپ کی بالکل درست ہے۔ کیونکہ بھاگتے وہ ہیں جنہیں برسر محفل اپنی ذلت پر کوئی ملال ہو۔ جبکہ آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو خود اپنی ہی رسوائی پر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ تو لگے رہئے۔
اور رہا میرے سوالوں کا جواب دینا، تو یہ بھی محض دیوانے کی بڑ ہے۔ جس بات کی نوبت آج تک نہ آ سکی، آگے اس کی کیا امید رکھی جا سکتی ہے۔ البتہ اگر اس طرح بے پر کی اڑانے کو آپ "جواب" سمجھتے ہیں، تو پھر آپ کا دعویٰ درست ہو سکتا ہے۔
By: Ahmad, Lahore on Mar, 03 2013
0 Like
احمد صاحب، مجھے اندازہ تھا اس پر ٹال مٹول ہی آئے گا اپ جس بات پر مجھے سے ڈیرہ ماہ سے نبرد آزما ہیں وہ اپ خود کہہ چکے “ایک لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کہنے والے کو مسلمان نہ مان کر تو جب خود اسی بات کا ارتکاب کر چکے تو پھر مجھ سے سوال کیسا پہلے اپنا گریبان تو صاف کرو پھر مجھ پر الزام لگانا آپ تو مسلمان کو مسلمان نہیں مان رہے اور میں تو صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ آج کا مسلمان شرک میں مبتلا ہے “ جس کا آپ بھی اقرار کر چکے کہ مسلمان کا شرک میں مبتلا ہونا محال نہیں ہے تو جب اس کی طرف کوئی نشاندہی کرے تو وہ غلط کہہ رہا ہے“ اور اپ کسی کلمہ گو کو مسلمان ہی نہ مانو وہ آپ کے لئے کہنا جائز ہے کیونکہ آپ ایک ایسے مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں جو خود چاہے کچھ بھی کہتا پھرے مگر کوئی صحیح بات بھی کہے تو کافر کا فتویٰ فورا حاضر ہے تو بات گھمانے سے بھتر ہے کہ مجھ پر جو غلط بات آپ لگانے میں مصروف تھے جب خود نے اس سے کہیں زیادہ اونچی بات کر دی تو اب اس سے کنی کترنے کی کوشش کر دی ہے مگر میں اس طرح سے آُ پ کو چھوڑنے والا نہیں ہوں میں آُپ سے جواب لے کر رہوں گا کہ ایک کلمہ گو کو آپ مسلمان تسلیم نہیں کر رہے جبکہ سلف میں سے کسی نے اس قسم کی بات نہیں کی ہے اب آپ کی باری آئی تو بھاگنے لگے جناب باتیں نہیں جواب دو۔
آُ پ کی تحریر میں ہر دفعہ پیش کروں گا آپ نے یہ لکھا ہے “ ظاہر سی بات ہے جو شخص مسلمانی کا جھوٹا دعویٰ کرے گا، اسے محض اس دعوے کی بناء پر تو مسلمان تسلیم نہیں کر لیا جائے گا۔ اور اس کی منافقت یا دوغلا پن اس معاملے میں اس کے کسی کام کا نہیں“
اب آپ اس کا جواب مجھے دیں اور فکر نہ کریں آپ تو جانتے ہیں میں بھاگنے والوں میں سے نہیں ہوں اس لئے اطمینان رکھیں آپ کے تمام سوالوں کا میں جواب ضرور دوں گا مگر پہلے یہ نقطہ واضع کریں کہ اتنی بڑی تعداد مسلمانوں کی موجود ہے اور آپ ان کو مسلمان ماننے کو تیار نہیں ہے۔ جواب عنایت فرمائے احمد صاحب کل قیامات کے دن یہ سب اپنا کلمہ لے کر اپ کے سامنے آ گئے تو کیا جواب دیں گے۔ اس لئے بہتر ہیں ابھی بول دیں جی مجھ سے غلطی ہو گئی۔
By: tariq mehmood, Karachi on Mar, 02 2013
0 Like
اس کے بعد آپ اپنی اور میری تحریروں کے چند ٹکڑے نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں
"تو اب آپ نے اس حدیث کے لوگوں کو جو شرک میں مبتلا ہونے والے تھے ان کو پیدا ہونے سے قبل ہی شرک میں مبتلا بھی کر دیا اب شاید نظر آ گیا ہو گا آگے چلیں"۔
طارق صاحب! میری نظر الحمد للہ بالکل ٹھیک ہے۔ لیکن مجھے بتائیں کہ آپ کی بے بصیرتی اور کوڑھ مغزی کی شکایت کس سے کی جائے۔ کیا آپ میں اتنی بھی قابلیت نہیں کہ "امکان" اور "وقوع" کے مابین فرق کر سکیں؟ آخر میری تحریر کے کس حصے سے آپ کو یہ سمجھ آئی کہ "میں نے ان مذکورہ لوگوں کو پیدا ہونے سے پہلے ہی شرک میں مبتلا کر دیا"؟ گزارش یہ ہے کہ اگر آپ لوگوں کو ہنسانا ہی چاہتے ہیں تو مذہب کے بجائے ادب و مزاح کے سیکشن میں تشریف لے جائیے، امید ہے وہاں آپ کو کافی پذیرائی ملے گی۔ یہاں کیوں خوامخواہ وقت ضائع کر رہے ہیں۔

اس کے بعد آپ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول پر فضول گوئی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ (معاذ اللہ) میری قابلیت صحابی سے بڑھ گئی۔ اللہ تعالیٰ ایسی سوچ سے اپنی پناہ میں رکھے۔ بات صرف اتنی ہے جناب کہ یہاں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول سے جو کچھ آپ نے استنباط کیا میں نے اس پر اعتراض وارد کیا تھا۔ چنانچہ سوال یہاں میری یا آپ کی قابلیت پر ہے، نہ کہ صحابی رسول کی۔
ملاحظہ کیجئے، آپ نے لکھا ہے کہ مجھے ان کے قول میں موجود "تنبیہ" نظر آ گئی لیکن آپ کی عبارت (شرک جس میں آج موجودہ مسلمان مبتلا ہے) میں موجود اطلاع اور نشاندہی نظر نہیں آ رہی۔ تو آئیے اس تنبیہ اور آپ کی اطلاع کے مابین فرق کا کچھ جائزہ لیتے ہیں
اگر حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کو دیکھا جائے تو اس میں مذکور شخص دو حال سے خالی نہیں، یا تو اس نے اس تنبیہ کے بعد اپنے اس عمل کو چھوڑ دیا، یا پھر اس میں ہنوز مبتلا رہا۔ اگر چھوڑ دیا، تو اسے مسلمان کہیں گے نہ کہ مشرک، اور اگر وہ اپنے فعل پر قائم رہے تو اسے مشرک کہا جائے گا نہ کہ مسلمان۔ یعنی وہ شخص یا تو مشرک ہو گا، یا پھر مسلمان۔ یہ نہیں کہ ایمان "کے ساتھ" شرک میں بھی مبتلا رہے۔

دوسری طرف آپ جن عقائد کو شرکیہ قرار دے کر ان کے حاملین کے بارے میں محو گفتگو ہیں، وہ تو بقول آپ کے اپنے عقائد پر مسلسل قائم ہیں اور اس بات کی آپ باقاعدہ "خبر" یا "اطلاع" عنایت فرما رہے ہیں۔ اب اگر ان کے مذکورہ عقائد پر شرک صادق نہیں آتا تو انہیں مشرک نہیں بلکہ مسلمان کہا جائے گا، اور اگر ان کا شرک ثابت ہو جائے تو پھر انہیں مسلمان نہیں بلکہ مشرک کہا جائے گا۔ نہ کہ "شرک میں مبتلا مسلمان" کیونکہ شرک کا مرتکب ہونے اور اس پر قائم رہنے کے بعد کوئی بھی شخص مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں رہتا اور نہ ہی ایسے کو مسلمان کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے۔ اور یہ اتنی عام فہم بات ہے، جس کا انکار سوائے ضد اور ہٹ دھرمی کے ممکن نہیں۔
اور میرے اس فقرے پر کہ "کسی مسلمان کا شرک میں مبتلا ہو جانا محال نہیں" پر جو آپ نے سوال وارد کیا کہ "تو جب شرک میں پڑ گیا تو اس کو مسلمان کیوں کہہ رہے ہیں" تو عرض یہ ہے کہ یہاں بھی کسی مسلمان کے شرک میں مبتلا ہونے کے صرف"امکان" کا ذکر ہے، اور جب تک اس سے شرک "واقع" نہیں ہوتا، اسے مسلمان ہی کہا جائے گا، یہ نہیں کہ محض امکان پر نظر کرتے ہوئے اسے مشرک قرار دے دیا جائے۔ اب اس میں کون سی ایسی مشکل بات ہے جو سمجھ میں نہ آئے؟

اس کے بعد آپ کو ایک مرتبہ پھر حدیث ابوداؤد یاد آ گئی اور نہ جانے کیا سوچ کر آپ نے اس میں وارد لفظ امتی پر دوبارہ اظہار خیال فرما دیا۔ آئیے، آپ نے جو علم و فضل کے دریا اس سلسلے میں بہائے ہیں، اس میں سے کچھ چلو بھر حاصل کرنے کی ہم بھی کوشش کرتے ہیں۔

آپ نے لکھتے ہیں
"قیامت قائم نہ ہو گی جب تک میری امت کے کچھ قبیلے بتوں کی عبادت نہ کر لیں۔
اگر کہا جائے قیامت قائم نہ ہو گی جب تک کچھ قبیلے بتوں کی عبادت نہ کر لیں۔
ان دونوں جملوں میں سے جملہ ۲ کو غور سے پڑھیں اس کے پڑھنے کے بعد ہر ذی شعور پوچھے گا کونسے قبیلوں ہوں گے کون لوگ ہوں گے یہود کے قبیلے “نہیں “ نصاریٰ کے قبیلے “نہیں“ تو یہاں ان قبیلوں کی وضاحت اور نشادہی کے لئے کہا جائے گا امت محمدی کے قبیلے مسلمانوں کے قبیلےتو یہاں ان قبیلوں کی وضاحت اور نشادہی کے لئے امتی کا لفظ آیا ہے اب اسی بنا پر اگر کوئی یہ کہے “شرک میں مبتلا ہیں “ کون یہود وہ تو پہلے سے ہیں کون نصارا وہ تو پہلے سے ہیں نہیں بھائی مسلمان امت امت محمدیہ تو اس وضاحت کرنے اور نشاندہی والے اس جملے کو آپ جیسے فورا شور مچا کر کہیں گے جمع ضدین جمع ضدین تو بھائی “مسلمان شرک میں مبتلا ہیں “ امتی کا لفظ اور حذیفہ رضی اللہ عنہ ، شاہ ولی اللہ کا امت محمدیہ کہنا اس قبیل سے ہے اگر اپ بھی نہ سمجھ آئے تو اللہ عقل دے"۔

میں نے پہلے بھی گزارش کی تھی کہ آدھا تیتر آدھا بٹیر والا معاملہ یہاں نہیں چلے گا۔ آپ کے اس استدلال کا کیا نتیجہ نکلتا ہے، اس کا شاید آپ کو ابھی تک اندازہ نہیں ہو سکا۔میں آپ کو ایک مرتبہ پھر بتاتا ہوں۔ ذیل کے دو جملوں پر غور کیجئے
اور میری امت میں تیس کذاب ہوں گے
اور اگر کہا جائے تیس کذاب پیدا ہوں گے
ان دونوں جملوں میں سے جملہ ۲ کو غور سے پڑھیں۔ اس کے پڑھنے کے بعد ہر ذی شعور پوچھے گا کون سے کذاب ہوں گے، یہود کے کذاب؟"نہیں" نصاریٰ کے کذاب؟ "نہیں"۔ تو یہاں ان کذابوں کی وضاحت اور نشاندہی کے لئے کہا جائے گا امت محمدی کے کذاب۔ یعنی مسلمانوں میں سے کذاب۔ (جیسا کہ ان میں سے ایک کا ظہور قادیان سے ہوا، جو کہ مسلمانوں کے گھر پیدا ہوا، مدعی اسلام بھی تھا، لیکن پھر اپنی شامت اعمال سے ہلاکت میں پڑ گیا)۔ تو یہاں ان کذابوں کی وضاحت اور نشاندہی کے لئے امتی کا لفظ آیا ہے۔ اب اسی بنا پر اگر کوئی یہ کہے "نبوت کے جھوٹے دعویدار" ہیں" کون، یہود؟ وہ تو یہاں مراد ہی نہیں۔ کون، نصاریٰ؟ وہ بھی یہاں مراد نہیں۔ بھائی مسلمان امت۔ امت محمدیہ۔

ملاحظہ فرمایا آپ نے جناب علامہ طارق محمود صاحب؟ میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ اگر لفظ امتی کو آپ وضاحت یا نشاندہی کے اعتبار سے "مشرک مسلمان" کے حق میں یا پھر "مسلمان شرک میں مبتلا ہیں" کے حق میں دلیل سمجھتے ہیں، تو پھر اسی لفظ امتی کو "قادیانی مسلمان" اور "مسلمان انکار ختم نبوت میں مبتلا ہیں" کے حق میں بھی تسلیم فرما لیجئے اور صاف طور پر اس کی تصریح کر دیجئے تاکہ قصہ ختم ہو۔ لیکن آپ اس پر لب کشائی فرمانے سے ابھی تک گریزاں ہیں۔ آخر مسٔلہ کیا ہے جناب؟ آپ جیسے لوگوں کے لیے یہ کیا مشکل ہے؟ تسلیم کیجئے اور جان چھڑائیے۔

اس کے علاوہ آپ نے لکھا ہے کہ آپ میری قابلیت کی "کلی"شاہ ولی اللہ کے قول میں کھولیں گے، تو آئیے دیکھتے ہیں کہ آپ کون سی "کلی" کھولتے ہیں۔

آپ نے اپنی گزشتہ گفتگو میں شاہ صاحب کا قول نقل کرنے کے بعد لکھا تھا

"اس میں وہ مشرک بھی کہہ رہے ہیں اور امتی بھی کہہ رہے ہیں اگر امتی ہے تو مشرک نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ایمان نہیں رہتا اگر ایمان ہے تو مشرک نہیں ہوں گے تو کیا شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے جمع ضدین کر دی ہے یعنی مسلمان بھی کہہ دیا اور مشرک بھی"۔

اس پر میں نے جواب دیا تھا کہ

یہاں بھی جناب کو لفظ "امت" نے دھوکے میں ڈال دیا اور بغیر سوچے سمجھے حضرت شاہ صاحب کے قول کو اپنے حق میں دلیل سمجھ بیٹھے۔ حالانکہ یہاں واضح طور پر لکھا ہے "منافقین" امت محمدیہ۔ گویا بقول طارق صاحب کے، اگر ایک شخص امتی ہے، پھر چاہے وہ مشرک ہو، منافق ہو، یا اس سے بھی کوئی آگے کی چیز ہو، اس کا ایمان کہیں نہیں جانے والا، کیونکہ "امتی" جو ٹھہرا۔ تو جناب، پھر حدیث ابوداؤد میں جن کذابوں کے بارے میں "امتی" کا لفظ وارد ہوا، انہیں بھی کفر و اسلام کا مجموعہ قرار دے دیجئے؟

اب اگر آپ کی بیان کردہ توجیح کو درست مان لیا جائے کہ یہاں منافق سے شاہ صاحب کی مراد ان لوگوں کا دوغلا پن ہے، کہ دعوی تو مسلمانی کا کرتے ہیں لیکن کام مشرکوں والے، تو اس سے آپ کو حاصل کیا ہو گا؟ کیونکہ اس میں آپ کے اس نظریے کے حق میں تو کوئی دلیل ہی نہیں کہ "شرک جس میں آج مسلمان مبتلا ہیں" یا پھر "ایمان کے ساتھ شرک کرنے والا کہنا غلط نہیں"۔ کیونکہ شاہ صاحب کے قول میں ہے "منافقین امت محمدیہ"۔
ظاہر سی بات ہے جو شخص مسلمانی کا جھوٹا دعوی کرے گا، اسے محض اس دعوے کی بناء پر تو مسلمان تسلیم نہیں کر لیا جائے گا۔ اور اس کی منافقت یا دوغلا پن اس معاملے میں اس کے کسی کام کا نہیں۔
اور جہاں تک "امت محمدیہ" کے لفظ کا تعلق ہے، تو میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ اس لفظ سے آپ کو بلا وجہ دھوکہ ہوا ہے، ورنہ اس میں آپ کے لیے کوئی دلیل موجود نہیں، بالکل اسی طرح جس طرح حدیث ابوداؤد میں وارد لفظ "امتی" میں آپ کے دعوے کے حق میں کوئی دلیل نہیں۔ چنانچہ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ شاہ ولی اللہ کے قول کے مطابق شرک و اسلام کا کوئی چوں چوں کا مربا وجود میں نہیں آتا، جیسا کہ آپ نے اپنی اعلیٰ فہمی کی بناء پر تیار کر رکھا ہے۔ اور اگر آپ "امت محمدیہ" کے الفاظ کو اپنے دعوے پر محکم دلیل مانتے ہیں تو پھر آپ کو قادیانیوں کے حق میں بھی اسے دلیل تسلیم کرنا ہو گا اور اس کا صراحت کے ساتھ اقرار کرنا ہو گا۔

امید تو اب بھی نہیں کہ آپ کی سمجھ میں کچھ آیا ہو گا۔ لیکن قارئین کی سمجھ میں ان شاء اللہ بہت کچھ آ گیا ہو گا۔ اس لیے اپنے ان "شاندار" جوابات پر میری طرف سے ایک مرتبہ پھر سے شکریہ قبول فرمائیے۔
By: Ahmad, Lahore on Feb, 11 2013
Reply Reply
0 Like
احمد صاحب، سب باتیں اس کے بعد ہوں گی کیونکہ آپ تقریبا ایک ماہ سے مجھ سے اس بنیادی بات پر نبرآزما ہیں کہ ایمان لانے کے بعد شرک میں مبتلا“ کی عبارت صحیح نہیں ہے اور یہاں اپ نے شاہ ولی اللہ کے قول منافقت امت محمدیہ کے تحت جو نقل کیا ہے اس سے کیا نتیجہ نکلے گا اس کا اندازہ ہے ہر کلمہ گو کو آپ دائرے اسلام میں داخل ہی نہی ہونے دے رہے ہو وہ کام جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا اور نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے انجام دیا ہے یعنی جو کلمہ پڑھے اس سے قتال کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کر دیا آپ ان کے کلمہ کو تسلیم کرنے سے بھی انکاری ہیں اپ نے کیا لکھا ہے غور کریں “ ظاہر سی بات ہے جو شخص مسلمانی کا جھوٹا دعوی کرے گا، اسے محض اس دعوے کی بناء پر تو مسلمان تسلیم نہیں کر لیا جائے گا۔ اور اس کی منافقت یا دوغلا پن اس معاملے میں اس کے کسی کام کا نہیں۔ یہ اپ کی ١١ فروری کا تبصرہ ہے ۔
احمد صاحب، منافق کو دنیا میں مسلمان ہی تصور کیا جاتا ہے چاہے وہ مسلمانوں کو دھوکا دینے یا کسی عملی کمزوری کی وجہ سے منافق قرار پائے۔
چنانچہ ابن کثیر حدیث"أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا : لا إله إلا الله ، فإذا قالوها عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحقها ، وحسابهم على الله ، عز وجل" کے تحت فرماتے ہیں “ ومعنى هذا : أن من قالها جرت عليه أحكام الإسلام ظاهرًا ، فإن كان يعتقدها وجد ثواب ذلك في الدار الآخرة ، وإن لم يعتقدها لم ينفعه في الآخرة جريان الحكم عليه في الدنيا ، وكونه كان
ترجمہ : اس (حدیث) کے معنی یہ ہیں ان پر اسلام کے ظاہری احکام جاری رہیں گے اگر ان کا عقیدہ اس کے مطابق ہے تو یہ ان کو اخرت میں فائدہ دے گا اور اگر ان کا عقیدہ اس کے مطابق نہیں ہے تو ان
کو آخرت میں کوئی فائدہ نہیں ہو گا مگر دنیا میں ان پر مسلمانوں والے احکام لاگو ہوں گے
تو منافق دنیا میں مسلمان ہی شمار ہوتا ہے مگر آخرت میں اس کا پردہ چاک ہوتا ہے تو میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کے پاس وہ کون سا آلہ ہے جس کی بنا پر آپ دنیا میں یہ طے کرتے ہو کہ یہ منافق ہے اور اس کو دنیامیں مسلمان تسلیم نہیں کرتے ہیں اس عظیم ایجاد کے بارے میں ہمیں بھی بتائیں گے دوسری بات حدیث میں منافق کی علامات بتائیں ہیں اگر اس میں وہ علامات پائی جائیں تو وہ منافق کہلاتا ہے (١) جھوٹ بولنا (٢) امانت میں خیانت کرنا(٣) وعدہ خلافی کرنا(٤) جھگڑا کرنے پر گالم گلوچ کرنا، اگرچہ نماز روزہ کرتا ہو اور خود کو مسلمان سمجھے(صحیح مسلم) تو ان علامات کے حامل مسلمان شخص کے دعوا “لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ کو تسلیم نہیں کریں گے اور دیگر حدیث میں موجود ہے کہ فجر اور عشاء منافق پر بھاری ہے (صحیح مسلم) تو جناب آج فجر اور عشاء کیا مسلمانوں کی کثیر تعداد پر ٥ نمازیں بھاری ہے تو کیا آپ ان سب کو دائرہ اسلام میں داخل ہونے والا تسلیم نہیں کرتے یا دوسرے معنی میں آپ ان کے دعوے پر ان کو مسلمان تسلیم نہیں کریں گے
آپ نے تو مسلمانوں کی کثیر تعداد کو دائرہ اسلام میں داخل ہی نہین کیا ہے کیونکہ آپ کے مطابق منافق کا دعوا اپ کے نزدیک ناقابل تسلیم ہے جب کہ سلف سے لے کر خلف تک اس بات پر متفق ہیں کہ منافق پر دنیا میں مسلمان کے احکام لاگو ہوں گے مگر آپ کسی کو بھی مسلمان ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام وہ قتل بھی کریں تو چرچا نہیں
اس کا جواب عنایت کریں اس کے بعد دیگر امور پر بات ہو گی اس کا جواب دینے کے بعد آپ کے اعتراضات کا جواب دوں گا انشاء اللہ
By: tariq mehmood, Karachi on Feb, 24 2013
0 Like
طارق صاحب!
آپ جیسے لوگوں سے بحث کرنا ایک انتہائی صبر آزما کام ہے، اس بات کا مجھے اندازہ بھی تھا اور تجربہ بھی، لیکن آپ اس طرح ہٹ دھرمی کے نئے ریکارڈ قائم کریں گے، یہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔

آپ نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے بارے میں آپ اپنی غلطی مانتے ہیں کہ واقعی مشرکین کا یہ کہنا انہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ لیکن اس میں مکمل وضاحت نہیں ہے کہ آپ نے کس غلطی کو تسلیم کیا؟ آپ نے لکھا تھا

"اب اپ یہ نہیں کہنا کہ ان کو ان کا ایمان فائدہ نہیں دے رہا وہ مشرک ہی رہے تو جب فائدہ نہیں دے رہا تو ایسے ایمان کو کیوں ان کے ایمان کے طور پر گنا جا رہا ہے"

یہاں دو باتیں ہیں، ایک یہ کہ
مشرکین کے ایمان کو ایمان کے طور پر کیوں گنا جا رہا ہے؟
اور دوسری یہ کہ
یہ نہیں کہنا کہ انہیں ان کا ایمان فائدہ نہیں دے رہا۔
فائدہ دینے کے بارے میں تو آپ نے اپنی غلطی خود ہی تسلیم کر لی، لیکن یہ بھی بتا دیجئے کہ آپ ان کے "ایمان" کے اب تک قائل ہیں یا اس سے بھی رجوع فرما لیا۔ اگر تو آپ ابھی تک ان مشرکین کے ایمان کے قائل ہیں، جیسا کہ آپ نے لکھا تھا کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو ان کے ایمان کو بتا رہے ہیں، تو اس کی صراحت کر دیجئے، تاکہ آپ سے اس سلسلے میں کوئی مزید گلہ شکوہ نہ کیا جائے، کیونکہ جو شخص مشرکین کا ایمان مانتا ہے وہ اگر "مشرک مسلمان" کی اصطلاح استعمال کر لے تو کیا بعید ہے؟ اور اسے سمجھانے بجھانے کا کیا فائدہ؟
اور اگر آپ کہیں کہ آپ مشرکین کے ایمان کے قائل نہیں، تو پھر ثابت ہو جائے گا کہ قول ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پیش کر کے جو آپ نے اپنے نظریے کے حق میں استدلال کیا تھا، وہ غلط تھا۔ کیونکہ اس میں جو بنیادی وجہ استدلال آپ نے پیش کی ، اب خود ہی اس سے رجوع کر لیا۔ تو قصہ ہی ختم۔

اس کے بعد عرض یہ ہے کہ میں نے آپ کا مضمون آخر تک پڑھا بھی ہے اور اس پر غور بھی کیا ہے۔ لیکن اس میں موجود ان بہت ساری باتوں میں سے، جن سے مجھے اختلاف ہے، ابھی تک صرف ایک ہی نکتے پر بحث کی ہے۔ اب اس کا کچھ نتیجہ نکلے تو بات آگے بھی بڑھے، لیکن ابھی تک تو یہی آپ کے گلے کی ہڈی بنا ہوا ہے کہ کبھی تو آپ اس کو ثابت کرنے پر تُل جاتے ہیں، کبھی اس کا انکار کر دیتے ہیں، اور پھر دوبارہ سے اس کے دفاع پر کمر کس لیتے ہیں۔ مجھے تو یہی پتہ نہیں چل رہا کہ آخر آپ چاہتے کیا ہیں۔

بہرحال، آپ نے لکھا ہے
"میں نے شروع سے آخر تک اپنے مضمون میں یہی ثابت کیا ہے کہ ان عقائد کے حامل مشرکین کے عقائد کے مشابہ ہے اور آپ ان عقائد کے حاملین کو مومنین کے ایمان اور عقائد کے جیسا گردان رہے ہیں مومنین کے عقائد ایسے ہوتے ہیں اللہ کی ربوبیت کا اقرار کردے اس کے ساتھ مخلوق کو شرک کرنے والے کو مومنین کے ایمان سے ملا رہے ہو ان کے عقائد مشرکین جیسے ہیں بلکہ اس سے بھی بدتر ہیں امام الوسی حنفی نے سورہ العنکبوت کی آیت ٦١ کے تحت ہی لکھا ہے کہ مشرکین عرب بھی جب کشتی میں سوار ہوتے تھے اور ان کو وہاں کوئی مشکل آتی تو خالص اللہ کو پکارتے تھے مگر اج یہ لوگ امام پیر اور دیگر کو پکارتے ہیں تو بتاؤ کون بہتر ہے (سورہ العنکبوت آیت ٦٣) شرم کرو ان عقائد کے حاملین کو مومین کے ایمان کے برابر کہتے ہو مجھے تو یہی شبہ ہے اتنی بحث کو وجہ بھی یہی ہے کہ آپ ان عقائد کے خود بھی حامل ہو اللہ لعنت کرے ہر اس شخص پر جو ان عقائد کے حاملین کو مومن کے ایمان اور عقائد سے ملاتا ہے اور اس پر بھی جو ایسے عقائد رکھ کر اپنے اپ کو ایمان والا گردانتا ہے وہ ایمان سے کوسوں دور ہیں اللہ اپ کو عقل اور ایمان عطا کر ے"

طارق صاحب! میں اپنی عبارت دوبارہ نقل کر رہا ہوں، غور سے پڑھیے
"جیسا کہ میں پہلے بھی وضاحت کر چکا کہ ابن کثیر علیہ الرحمہ نے صاف تصریح فرمائی کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا یہ قول بالتخصیص مشرکین کے بارے میں تھا، اور ویسے بھی نزول قرآن کے وقت اور صحبت نبوی علیہ الصلوۃ والسلام میں زندگیاں گزارنے والے اکثر مسلمان ایسے ہرگز نہ تھے کہ ان کے بارے میں یہ الفاظ نازل ہوتے (معاذاللہ)۔لہذا "یومنون" کا جو لفظ یہاں قرآن نے استعمال فرمایا تو اس سے مراد "مومنین" ہرگز نہیں، بلکہ اس سے مراد صرف اتنا ہے کہ مشرکین اللہ تعالیٰ کو الٰہ "مانتے" تو تھے، لیکن اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے تھے۔ اس پر یہ گمان کرنا کہ مشرکین کو مومنین کہہ کر خطاب کیا جا رہا ہے، اور یوں مشرکین کے محض اس "ماننے" پر اس "ایمان" کو قیاس کرنا، جو مومنین کی صفت ہے، کسی مخبوط الحواس شخص ہی کا کام ہو سکتا ہے؟ اور اس پر مستزاد یہ کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قول کو دلیل سمجھ کر "مشرک مسلمان" کی اصطلاح اختراع کر لی جائے۔ اسے کہتے ہیں الٹی کھوپڑی اندھا گیان۔
الغرض، نہ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ان لوگوں کو "مشرک مسلمان" قرار دیا، نہ ہی یہ کہا کہ وہ لوگ "ایمان کے ساتھ" شرک کرنے والے تھے۔ بلکہ ان کے قول سے قرآن میں وارد لفظ "یومنون" کی وضاحت ہوئی کہ یہاں اس سے درحقیقت مراد کیا ہے۔ چنانچہ یہاں ایمان و شرک کے اجتماع کی بناء پر جمع ضدین کا سوال ہی نہیں ہے"۔

اب ذرا اپنے تبصرے کی ان عبارات کو دوبارہ دیکھئے کہ "میں نے شروع سے آخر تک اپنے مضمون میں یہی ثابت کیا ہے کہ ان عقائد کے حامل مشرکین کے عقائد کے مشابہ ہے اور آپ ان عقائد کے حاملین کو مومنین کے ایمان اور عقائد کے جیسا گردان رہے ہیں"
اور مزید یہ کہ
"شرم کرو ان عقائد کے حاملین کو مومینا کے ایمان کے برابر کہتے ہو"

اس پر میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ آپ بالکل بھی شرم نہ کریں، بلکہ پوری بے حیائی سے اپنے جھوٹ جاری رکھیں۔ کیونکہ میں نے تو ابھی تک کسی خاص عقیدے یا عمل کے شرک یا ایمان ہونے کے حق میں کوئی دلیل پیش ہی نہیں کی، بلکہ میں تو اب تک صرف آپ کی ایک باطل اصطلاح اور اس سے مماثل عبارات کے بطلان پر دلائل پیش کر رہا ہوں۔ اور یہاں بھی میں نے یہی کہا ہے کہ قول ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں "مسلمان مشرک" کی اصطلاح کے حق میں کوئی دلیل نہیں۔ آپ کو نہ جانے کیا ہوا کہ اندھا دھند نہ جانے کیا کیا خرافات لکھ ڈالیں اور یہ کہہ دیا کہ میں کسی شرکیہ عقیدے کو مومنین کے ایمان یا عقائد جیسا گردان رہا ہوں۔ اس سے پہلے بھی آپ مجھ پر یہ بہتان لگا چکے ہیں کہ میرا یہ نظریہ ہے کہ "مسلمان کتنا بھی شرک کر لے مسلمان ہی رہتا ہے"۔ اور میں کئی مرتبہ آپ سے اس بہتان کا ثبوت مانگ چکا ہوں، جسے آج تک آپ پیش کرنے کے قابل نہ ہو پائے۔ اور آج یہ نیا بہتان باندھ دیا کہ میں کسی شرکیہ عقیدے کو مومنین کے عقائد جیسا گردان رہا ہوں۔ تو اب آپ سے اس نئے بہتان کا ثبوت بھی مطلوب ہے۔ البتہ اگر پیش نہ کر سکیں تو آپ پر کوئی نیا الزام نہیں۔ کیونکہ پہلا بہتان بھی جھوٹ تھا، اور یہ دوسرا بھی جھوٹ۔ اور جھوٹ جمع جھوٹ نتیجہ جھوٹ۔ گویا جھوٹ در جھوٹ در جھوٹ۔
جاری ہے
By: Ahmad, Lahore on Feb, 11 2013
Reply Reply
0 Like
اس کے بعد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا ایک قول نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں

"اس میں وہ مشرک بھی کہہ رہے ہیں اور امتی بھی کہہ رہے ہیں اگر امتی ہے تو مشرک نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ایمان نہیں رہتا اگر ایمان ہے تو مشرک نہیں ہوں گے تو کیا شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے جمع ضدین کر دی ہے یعنی مسلمان بھی کہہ دیا اور مشرک بھی"۔

یہاں بھی جناب کو لفظ "امت" نے دھوکے میں ڈال دیا اور بغیر سوچے سمجھے حضرت شاہ صاحب کے قول کو اپنے حق میں دلیل سمجھ بیٹھے۔ حالانکہ یہاں واضح طور پر لکھا ہے "منافقین" امت محمدیہ۔ گویا بقول طارق صاحب کے، اگر ایک شخص امتی ہے، پھر چاہے وہ مشرک ہو، منافق ہو، یا اس سے بھی کوئی آگے کی چیز ہو، اس کا ایمان کہیں نہیں جانے والا، کیونکہ "امتی" جو ٹھہرا۔ تو جناب، پھر حدیث ابوداؤد میں جن کذابوں کے بارے میں "امتی" کا لفظ وارد ہوا، انہیں بھی کفر و اسلام کا مجموعہ قرار دے دیجئے؟ ان کے معاملے میں تردد کیوں؟ خیر، اس پر بحث آگے آتی ہے۔

المختصر، یہ آپ کا وہم ہے کہ آپ کے نقل کردہ قول میں شاہ صاحب نے بعض لوگوں کو مسلمان بھی کہہ دیا ہے اور مشرک بھی۔ وجہ اس کی یہ کہ انہوں نے "مسلمان" نہیں بلکہ "منافق" کہا ہے۔ اور "مسلمان" اور "منافق" کے مابین فرق ایک احمق بھی اچھی طرح سے جانتا ہے۔ لہذا صرف اتنے قول میں نہ تو کوئی جمع ضدین ہے اور نہ ہی انہوں نے آپ کی طرح ایمان و شرک کا کوئی چوں چوں کا مربہ تیار کیا ہے۔

اس کے بعد آپ حدیث ابوداؤد کے بارے میں لکھتے ہیں کہ میں صرف ایک یہ حدیث نہ پڑھوں، بلکہ اس سے متعلق دیگر احادیث بھی پڑھوں۔ اس پر میں دست بستہ یہی عرض کر سکتا ہوں کہ عالی جاہ، میں تو شاید یہ حدیث بھی نہ پڑھتا، اگر خود آپ نے اسے اپنے حق میں دلیل سمجھ کر پیش نہ فرمایا ہوتا۔لیکن اب جبکہ خود آپ اس حدیث کو بطور دلیل پیش فرما چکے، تو پھر اس بات کا کیا مطلب ہوا کہ میں صرف یہ حدیث نہ پڑھوں۔ لہذا جناب مجھ سے شکایت کرنے کے بجائے آپ کو اپنی قابلیت پر رونا چاہئے، کہ مکمل حدیث پڑھے بغیر اور اس پر غور کیے بغیر آپ اس کا ایک ٹکڑا بطور دلیل ڈھونڈ کر لے آئے اور لگے بغلیں بجانے۔ اور اب حالت یہ ہو رہی ہے کہ خود اپنی ہی پیش کردہ دلیل کے وزن تلے دبے کچلے جا رہے ہیں، اور جان چھڑانے کے لیے ہاتھ پیر مار رہے ہیں۔ لیکن اس طرح جان تھوڑے ہی چھوٹا کرتی ہے۔ اور یہ بھی عرض کر دوں کہ جامع ترمذی میں وارد حدیث میں بھی ان کذابوں کے لیے لفظ "امتی" اسی طرح وارد ہوا ہے جس طرح حدیث ابوداؤد میں۔ لیکن اس بات سے بھی قطع نظر، آپ یہ بتائیں کہ اگر ابن ماجہ یا دیگر کتب میں وارد شدہ احادیث میں "امتی" کا لفظ موجود نہیں ہے، تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ کیا اس سے حدیث ابوداؤد کی اہمیت کم ہو جاتی ہے جو آپ نے خود اپنے حق میں پیش کی تھی؟ جی نہیں، ہرگز نہیں۔ بلکہ اس حدیث میں وارد لفظ "امتی" اب بھی آپ کے جواب کا طلبگار ہے۔ اور اگر آپ اس کا جواب نہیں دیتے، جو ان شاء اللہ آپ کبھی نہیں دے سکیں گے، تو آپ کے قیاس کا بطلان خود بخود ثابت ہو جاتا ہے۔ البتہ ایک راستہ آپ کے لیے ہمہ وقت کھلا ہے، وہ یہ کہ آپ لکھ دیجئے کہ آپ نے تو ابوداؤد کی حدیث کا حوالہ کبھی دیا ہی نہیں تھا، بلکہ یہ تو میں نے ہی اپنے پاس سے گھڑ لیا۔ کیوں، کیا خیال ہے، آپ کی شخصیت کے لحاظ سے مفید مشورہ ہے نا؟

اس کے علاوہ آپ حدیث ابن ماجہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں
"تو ان تمام روایت سے یہی سمجھ اتی ہے کہ یہ کافر ہیں اور کافر امت محمدیہ سے خارج ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ "
بہت خوب۔ یعنی کافر تو امت محمدیہ سے خارج ہیں، لیکن مشرک امت محمدیہ میں داخل ہیں؟ ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہئے۔
دھول میں اندھا دھند لٹھ گھمانے سے پہلے سوچ لینا چاہئے کہ خاک جب اڑے گی تو خود اپنے ہی سر میں پڑے گی۔

مزید لکھتے ہیں
"مشرک اور کافر کے فرق کو سمجھیں مشرک انکاری نہیں ہوتا جبکہ کافر انکاری ہوتا ہے"

جی جناب، شاید آپ مجھے یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ مشرک اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا انکاری نہیں ہوتا
یا پھر وہ اللہ کے اس حکم کا بھی انکاری نہیں ہوتا کہ اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو
یا پھر وہ اللہ کے اس حکم کا بھی انکاری نہیں ہوتا کہ اللہ کے علاوہ کسی کو واجب الوجود نہ جانو
یا پھر وہ اللہ کے اس حکم کا بھی انکاری نہیں ہوتا کہ اللہ کے علاوہ کسی کو متصرف بالذات نہ سمجھو
یا پھر وہ اللہ کے اس حکم کا بھی انکاری نہیں ہوتا کہ اللہ کے لیے بیوی یا اولاد کا نظریہ نہ رکھو
وعلی ھذالقیاس۔ درست فرمایا آپ نے، صرف کافر ہی انکاری ہوتا ہے، مشرک بیچارہ تو انکاری بالکل بھی نہیں ہوتا۔ یقیناً آپ کا دل اپنے اس قول زریں کے بیان کرنے پر اپنی عقل کے قربان جانے کو چاہ رہا ہو گا۔

مزید لکھتے ہیں
"یہ دجال اور کذاب خارج الامت ہیں"
پہلی بات تو یہ کہ یہ "خارج الامت" کیا ہوتا ہے؟ اور اگر آپ "خارج از امت" لکھنا چاہتے تھے تو جناب یہ بھی آپ کی کج بیانی ہے۔ کیونکہ حدیث ابوداؤد، جی ہاں وہی حدیث ابوداؤد جسے خود آپ اپنے حق میں پیش فرما چکے، اس میں ان دجالوں اور کذابوں کے ساتھ بھی لفظ "امتی" وارد ہوا ہے۔ اور اپنے ایک جھوٹے نظریے کو سچا ثابت کرنے کے لیے آپ حدیث کو نہیں جھٹلا سکتے۔ چنانچہ یا تو اپنے باطل نظریے سے توبہ کیجئے، یا پھر منکر حدیث بن کر حدیث ابوداؤد کا انکار کیجئے۔ میرے خیال میں آپ کو یہ دوسرا مشورہ زیادہ پسند آیا ہو گا۔

اس کے بعد آپ نے اپنے پچھلی مرتبہ کے سوال کو دہراتے ہوئے لکھا ہے کہ

"اگر بالفرض اپ کی بات مان لی جائے تو میرا سوال ہے کہ یہاں امتی کا لفظ کیوں استعمال ہوا ہے اگر اپ اس بات کا انکاری ہو کہ یہں نہ مخاطب کے لئے ہوا ہے تو پھر میرا سوال ہے یہں امتی کا لفظ کیوں آیا ہے یہ اپ بتا دو اگر اپ نہ بتا سکے تو اگلی بار میں اپ کو بتاؤں گا"

میں تو پہلے بھی بتا چکا جناب،اب آپ ہی سمجھنے سے قاصر رہیں تو میں کیا کروں۔ اور میں آپ سے یہ نہیں کہتا کہ آپ میری بات مانیں۔ بلکہ آپ یوں کریں کہ خود اپنا نظریہ ہی واضح فرما دیں جس کی بناء پر لفظ "امتی" کا اطلاق ان تمام حضرات پر یکساں طور پر ہو جائے جن کا حدیث پاک میں ذکر ہوا، یعنی بعض قبائل جو بتوں کی پرستش میں مبتلا ہوں گے او ر کذاب و دجال جو نبوت کا جھوٹا دعوی کریں گے۔ لیکن یاد رہے کہ حدیث میں مذکور تمام لوگوں کے لیے "امتی" کا لفظ وارد ہوا ہے، لہذا اس کا اطلاق سب پر ایک جیسا ہونا چاہئے، یہ آدھا تیتر آدھا بٹیر والی بات قابل تسلیم نہیں ہو گی۔

اس کے بعد آپ نے میرے ایک سوال کے جواب میں بغیر سوچے سمجھے ایک مرتبہ پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا قول پیش کر دیا ہے۔ اس پر میں پیچھے تبصرہ کر چکا ہوں جسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ لیکن یہ جو آپ نے لکھا کہ
"ابن عباس فرماتے ہیں ان کا ایمان ہے اللہ زمین آسمان کا خالق ہے اس کے باوجود وہ اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں"
تو یاد دہانی کے لیے عرض کر دوں کہ صرف اتنا "مان" لینے سے کہ اللہ زمین آسمان کا خالق ہے، کوئی "مومن" نہیں ہو جاتا۔ اور جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، اس بات کو محض "مان" لینے کے ساتھ ساتھ اگر کوئی غیر کو اللہ کا شریک ٹھہرائے تو اس سے "ایمان و شرک" کا اجتماع لازم نہیں آتا اور نہ ہی اس سے "مسلمان مشرک" کے طرز کی کوئی خود ساختہ اصطلاح ثابت ہو جاتی ہے۔

آخر میں یاد دلاتا چلوں کہ ایک جھوٹے بہتان کے حق میں ثبوت پیش کرنا ابھی تک آپ کے ذمے ہے۔ آپ اسے پیش کرنا بھول گئے، یا پھر اپنے کذب و افتراء کو آپ نے تسلیم کر لیا؟ ویسے تسلیم کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں، کیونکہ شرمندہ ہونا تو آپ کی سرشت ہی میں نہیں۔ وہ کہتے ہیں نا کہ اوڑھ لی لوئی تو کیا کرے گا کوئی۔
آپ کے مزید بے سر و پا اور لایعنی جوابات کا منتظر۔
By: Ahmad, Lahore on Feb, 05 2013
Reply Reply
0 Like
خیالی پلاؤ پکانے پر بالکل پابندی نہیں ہے، تو پکاتے رہیےاور دل بہلانے کی کوشش کرتے رہیے۔ بلکہ اگر اس حیلے سے دو گھڑی بہل جائے تو غنیمت سمجھئے گا۔
اور انداز تخاطب کا مدار مدمقابل کی حیثیت اور اہلیت پر ہوتا ہے، یعنی جو جس انداز کا اہل ہے اسے اسی انداز سے مخاطب کیا جائے گا۔ ویسے شکایت آخر ہے کس بات پر؟ کیا یہ کہ جھوٹے کو جھوٹا کہہ دیا؟ یا یہ کہ محرف کو محرف کہہ دیا؟ یا پھر یہ کہ بددیانت کو بددیانت کہہ دیا؟ حالانکہ یہ تو محض اظہار حقیقت ہے۔

کامران بھائی! اب تو آپ کو بھی بخوبی اندازہ ہو گیا ہو گا کہ ان حضرات کے ساتھ کسی بھی مسٔلے پر بحث کرنا کس قدر صبر آزما کام ہے۔
By: Ahmad, Lahore on Feb, 26 2013
0 Like
بیڑہ غرق تو اللہ کے فضل و کرم سے آپ کا ہو چکا۔ اور جو طرز گفتگو آپ لوگوں نے اپنایا ہوا ہے وہ مخالف کو گالیاں دینے سے کم بھی نہیں ہے۔ کامران عظیم صاحب آج اگر موقع ملے تو تصوف والے کالم کا وزٹ بھی کر لیجیۓ گا۔ میں وہاں آپ کو ایک نئ ایجاد کردہ نماز یعنی نماز غوثیہ کا گمراہ کن طریقہ بتاؤں گا۔ ان شاء اللہ ۔ جس نماز کا کوئ ثبوت ہمیں اپنے امام اعظم نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں بالکل نہیں ملتا۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Feb, 25 2013
0 Like
بہن نُور فاطمہ ،

کنفیوز تو آپ تب ہوں جب دو طرفہ نکات کا “موازنہ“ کر سکیں۔ اور اس اہلیت کے بغیر “کنفیوزن“ میں رہنا کچھ سمجھ نہیں ایا۔ اور اگر آپ نے اپنا کمنٹ صرف “مسٹر تاریک“ کی حوصلہ افزائی کے لئے لکھا ہے تو یہ خدمت مسٹر بابر تنویر بہت خوبی سے انجام دے رہے ہیں۔

لہذا کنفیوز ہونے سے بہتر ہے کہ آپ “اکابرین“ کی تصنیفات کا مطالعہ کیجئے اپنے ذہن سے سمجھنے میں “کنفیوزن“ تو ہوگی ہی۔
By: Kamran Azeemi, Karachi on Feb, 14 2013
0 Like
جن لوگوں پر اپنی ناک اونچی رکھنے کا خبط سوار ہو، انہیں کسی کی بھی بات سمجھ نہیں آیا کرتی۔ چاہے اس کوشش میں بالکل ہی بیڑہ غرق کیوں نہ ہو جائے۔

اور گالیوں کی ضرورت انہیں پڑتی ہے جو اپنے موقف کا دفاع کرنے سے عاجز آ جائیں۔ جبکہ بعض لوگ اپنا جھوٹا بھرم رکھنے کی خاطر خود تو چپکے بیٹھے رہتے ہیں اور گالیاں بکنے کے لیے اپنے چیلوں چماٹوں کو آگے کر دیتے ہیں۔ اگر کوئی بھول گیا ہو تو یاد دلاتا چلوں کہ ایسے ہی بعض "شرفاء" کی بکی گئی گالیاں آج بھی ایک کالم میں موجود ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو بھیڑ کی کھال میں چھپے بھیڑیوں سے محفوظ رکھے۔
By: Ahmad, Lahore on Feb, 13 2013
0 Like
نور فاطمہ صاحبہ اگر آپ واقعی میں سمجھنے اور سلجھنے کی طرف آنا چاہتی ہیں تو پھر تعصب نہیں چلے گا صرف اور صرف اپنی نظر میں ایک بات رکھنی ہے کہ میں اپنی اصلاح ٹھنڈے دل سے کرنا چاہتی ہوں تو پھر آپ سے کلام کیا جاسکتا ہے ورنہ آپ جس طرح بے باک گفتگو کرتی ہیں اس سےدل چاہتا ہے کہ آپ سے بات ہی نہ کی جائے
By: farhat naz, karachi on Feb, 12 2013
0 Like
بھائ طارق محمود امید کرتا ہوں کہ اب کی سمجھ میں میرے بات آگئ ہوگی۔ شکر کیجیۓ کہ یہ صاحب گالیوں پر نہیں اتر آۓ کیونکہ ان سے کچھ بھی بعید نہیں ہے۔ آپ نے جو کہنا تھا کہہ دیا۔ یہ آرٹیکل اور کمنٹس انشاء اللہ یہاں موجود رہیں گے۔ ایک غیرجانبدار مسلمان پڑھ کر خود ہی حق اور باطل کا فیصلہ کر لے گا۔
گو کہ میں نے یہاں انہیں مخاطب نہیں کیا مگر یہ اپنی شرانگیز طبیعت سے مجبور ہو کر اس پر پھی ضرور تبصرہ آور ہو جائین گے۔ اللہ تعالی سب مسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھے
By: Baber Tanweer, Karachi on Feb, 12 2013
0 Like
i think so yeh bahus ub hatum hona chahiy koin k bat ek dosray ki islah ki niyet sy shoro ho k bahus tk i or ub madany jung bun geya hai..ahmed bhai i am too much confused k app ka asel akeeda kia hai mujy app dono saidon main nazer aa rahy hain .i have one more qustion yeh ju log derbaron k chaker laga rahy hain MAKKAH buna k us k tawaf ker rahy hain (in pak) un k baray main app kia kahay gain woh kis catagory main hain koin k chalo app log to purhay likhay howay lakin ek unparh bunda jis ko app logon ki pori bat samj nhi ay gi bus yeh pta hai k chalo yeh bhol rahy hain k sahi hai to jao or direct he mango to kia woh gair ALLAH ko nhi pokar rahy to kia app log un ki zimadari b lain gain koin k mara bhai b app ki he line ka hai so i am worried n confused about his behave
By: noor fatima, damam on Feb, 11 2013
0 Like
ابن عباس رضی اللہ عنہ کے قول پر جو آپ نے تبصرہ کیا تھا اس بارے میں میں اپنی غلطی مانتا ہوں کہ واقعی مشرکین کا یہ کہنا ان کو کوئی فائدہ نہیں دے گا مگر جو آپ نے کہا اس پر بھی کیا اپ نادم ہوں گے۔
آپ نے لکھا ہے “ اور یوں مشرکین کے محض اس "ماننے" پر اس "ایمان" کو قیاس کرنا، جو مومنین کی صفت ہے،
یہ پڑھ کر میرا مشورہ آپ کے یہی ہے کہ ائندہ جب بھی کسی سے بحث کریں کیونکہ آپ کا مقصد صرف بحث کرنا ہے اور اپنے باطل عقائد کے خلاف جو بھی بات نظر آئے اس میں بحث کرنا،
میرا مضمون آپ نے آخر تک پڑھا ہی نہیں ہےاور اگر پڑھا ہے تو اس پر غور نہیں کیا میں نے شروع سے آخر تک اپنے مضمون میں یہی ثابت کیا ہے کہ ان عقائد کے حامل مشرکین کے عقائد کے مشابہ ہے اور آپ ان عقائد کے حاملین کو مومنین کے ایمان اور عقائد کے جیسا گردان رہے ہیں مومنین کے عقائد ایسے ہوتے ہیں اللہ کی ربوبیت کا اقرار کردے اس کے ساتھ مخلوق کو شرک کرنے والے کو مومنین کے ایمان سے ملا رہے ہو ان کے عقائد مشرکین جیسے ہیں بلکہ اس سے بھی بدتر ہیں امام الوسی حنفی نے سورہ العنکبوت کی آیت ٦١ کے تحت ہی لکھا ہے کہ مشرکین عرب بھی جب کشتی میں سوار ہوتے تھے اور ان کو وہاں کوئی مشکل آتی تو خالص اللہ کو پکارتے تھے مگر اج یہ لوگ امام پیر اور دیگر کو پکارتے ہیں تو بتاؤ کون بہتر ہے (سورہ العنکبوت آیت ٦٣) شرم کرو ان عقائد کے حاملین کو مومین کے ایمان کے برابر کہتے ہو مجھے تو یہی شبہ ہے اتنی بحث کی وجہ بھی یہی ہے کہ آپ ان عقائد کے خود بھی حامل ہو اللہ لعنت کرے ہر اس شخص پر جو ان عقائد کے حاملین کو مومن کے ایمان اور عقائد سے ملاتا ہے اور اس پر بھی جو ایسے عقائد رکھ کر اپنے اپ کو ایمان والا گردانتا ہے وہ ایمان سے کوسوں دور ہیں اللہ اپ کو عقل اکرے۔
By: tariq mehmood, Karachi on Feb, 11 2013
0 Like
شاہ ولی اللہ کے قول پر جو آپ نے تبصرہ کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی اس بے مثال تبصرے پر اپ کی عقل کے بارے میں یہ تاثر قائم ہوتا ہے اللہ نے زمین پر بیجھا تو بیھجا مگر بیھجے میں کچھ نہیں بھیجا۔ آپ نے لکھا ہے “ یہاں بھی جناب کو لفظ "امت" نے دھوکے میں ڈال دیا اور بغیر سوچے سمجھے حضرت شاہ صاحب کے قول کو اپنے حق میں دلیل سمجھ بیٹھے۔ حالانکہ یہاں واضح طور پر لکھا ہے "منافقین" امت محمدیہ۔
اب یہ بتاؤ شاہ ولی اللہ نے مشرکین کا ذکر کیا ہے اور ان کے عقائد کو منافقین امت محمدیہ سے ملایا شرک کرنے والے کو مشرک کہتے ہیں یا منافق یہاں شرک کا ذکر ہے تو لامحالہ اس کو کرنے والے مشرک ہوں گے منافق نہیں شاہ ولی اللہ اتنے کم علم بھی نہیں آپ کی طرح کہ مشرک کو منافق لکھ دیں گے دراصل اپ کے لئے یا تو وہی بات صحیح ہے جو میں نے اوپر بیان کی ہے یا پھر آپ مسٹر اصطلاح ہیں ہر بات کو اصطلاح سمجھ لیتے ہیں شاہ ولی اللہ نے یہاں کوئی شرعی اصطلاح میں اس لفظ کااستعمال نہیں کیا بلکہ یہاں یہ لفظ لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی (دوغلے) تو شاہ ولی اللہ کی منافق سے یہاں مراد ہے کہ “اسلام کی بنیاد توحید پر ہے اور آج اس کی علم بردار امت مسلمہ ہے اور اس کے یہ منافقین(دوغلے) اللہ پر ایمان کا دعوا کرنے والے اس کی توحید کو مان کر بھی اس کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں دعوا امت محمدیہ کا اور کام مشرکوں والے یہ منافقت(دوغلا پن) ہے جس کو انہوں نے منافقت سے تعبیر کیا ہے مگر اپ تو مسٹر اصطلاح ہیں ہر جملے میں اصطلاح لے کر کود پڑتے ہیں تو شاہ ولی اللہ کی منافقین سے مراد دوغلے ہیں جو دعوا امت محمدیہ کا کرتے ہیں مگر شرک یہود اور نصارا کی طرح کرتے ہیں سمجھے یا نہیں۔
By: tariq mehmood, Karachi on Feb, 09 2013
0 Like
حذیفہ رضی اللہ عنہ میں چھپی تنبیہ نظر آ گئی ماشاء اللہ مگر میں نے یہ بھی پوچھا تھا کہ سورہ یوسف کی ١٠٦ آیت میں بقول آپ کے مومنین اور مسلمین نہیں ہیں تو پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تنبیہ ہی سہی مسلمان پر کیوں پڑھی کیا ان کو نہیں معلوم تھا یہ مسلمانوں کے لیے نہیں اتری یا اپ کی علمی قابلیت ان سے بڑھ گئی جو آپ کو معلوم ہو گیا)معاذ الله صحابی رضی اللہ عنہ کو معلوم نہ ہوا اور انہوں نے اس کو ایک مسلمان پر پڑھ لیا آپ کی قبلیت کی کلی میں شاہ ولی اللہ کے قول میں کھولوں گا جو آگے موجود ہے
دوسری بات حذیفہ رضی اللہ عنہ کے قول کی تنبیہ آپ کو نظر آ گئی کیا علمی نظر ہے مگر میں اس قول “ میں نے شرک جس میں آج موجودہ مسلمان مبتلا ہے اس کو مدلل بیان کر رہا ہوں“ میں موجود اطلاع اور نشاندہی نظر نہیں آ رہی ہے اور اس کو آپ فساد کہہ رہے ہیں جبکہ آپ خود قبول کر چکے ہیں کہ“ مسلمان کا شرک میں مبتلا ہونا محال نہیں “ تو بھائی میں بھی تو یہی اطلاع دے رہا ہوں یا نشاندہی کر رہا ہو کہ مسلمان شرک میں مبتلا ہے اس اطلاعی یا نشاندہی والے جملے میں آپ کو فساد نظر آیا اس احمق پن کی وجہ پوچھ سکتا ہوں۔ اگر اب بھی آپ اسی پر قائم ہے تو اپ کا اپنے جملے کے بارے میں کیا خیال ہے “ کسی مسلمان کا شرک میں مبتلا ہو جانا محال نہیں۔ تو جب شرک میں پڑ گیا تو اس کو مسلمان کیوں کہہ رہے ہیں۔
اب چلتے ہیں ذرا حدیث ابوداؤد کے لفظ امتی کی جانب جو آپ جیسے کی عقل میں آنا محال ہے کہ یہاں امتی کا لفظ کیوں آیا ہے
(١) قیامت قائم نہ ہو گی جب تک میری امت کے کچھ قبیلے بتوں کی عبادت نہ کر لیں۔
(٢) اگر کہا جائے قیامت قائم نہ ہو گی جب تک کچھ قبیلے بتوں کی عبادت نہ کر لیں۔
ان دونوں جملوں میں سے جملہ ٢ کو غور سے پڑھیں اس کے پڑھنے کے بعد ہر ذی شعور پوچھے گا کونسے قبیلوں ہوں گے کون لوگ ہوں گے یہود کے قبیلے “نہیں “ نصاریٰ کے قبیلے “نہیں“ تو یہاں ان قبیلوں کی وضاحت اور نشادہی کے لئے کہا جائے گا امت محمدی کے قبیلے مسلمانوں کے قبیلےتو یہاں ان قبیلوں کی وضاحت اور نشادہی کے لئے امتی کا لفظ آیا ہے اب اسی بنا پر اگر کوئی یہ کہے “شرک میں مبتلا ہیں “ کون یہود وہ تو پہلے سے ہیں کون نصارا وہ تو پہلے سے ہیں نہیں بھائی مسلمان امت امت محمدیہ تو اس وضاحت کرنے اور نشاندہی والے اس جملے کو آپ جیسے فورا شور مچا کر کہیں گے جمع ضدین جمع ضدین تو بھائی “مسلمان شرک میں مبتلا ہیں “ امتی کا لفظ اور حذیفہ رضی اللہ عنہ ، شاہ ولی اللہ کا امت محمدیہ کہنا اس قبیل سے ہے اگر اپ بھی نہ سمجھ آئے تو اللہ عقل دے۔
By: tariq mehmood, Karachi on Feb, 09 2013
0 Like
احمد صاحب،
آپ کو دوغلا پن نظر نہیں آرہا ہے آپ کی انکھیں تو کمزور نہیں ہو گئی ہے آپ نے ابوداؤد کی حدیث کے حوالے سے لکھا تھا “ “ نبی کریم علیہ السلام نے بعض لوگوں کا ذکر فرمایا، اور ان کے لیے لفظ "امتی" یعنی "میری امت کے" استعمال فرمایا، تو یہ وہ لوگ تھے جن کا اس وقت تک ابھی ظہور بھی نہ ہوا تھا، بلکہ مستقبل میں انہیں یا تو مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہونا تھا یا پھر اسلام قبول کرنا تھا، اور پھر ا س بعد شرک میں مبتلا ہونا تھا۔ جبکہ آپ جن لوگوں کا تذکرہ چھیڑے بیٹھے ہیں، وہ تو آپ کے اردگرد موجود ہیں، بلکہ بقول آپ کے، مشرک بھی ہو چکے ہیں۔ پھر یہ بھی یاد رکھیں کہ امتِ رسول علیہ السلام میں "امت اجابت" اور "امت دعوت" دونوں ہی آتی ہیں“
آپ کے اس قول سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس حدیث میں جن کا ذکر ہے وہ مستقبل میں شرک میں مبتلا ہوں گے مگر جب دوسری بار اپ نے اس حدیث پر تبصرہ کیا اور میری اس بات “بھائی میں بھی تو یہی عرض کر رہا ہوں کہ مسلمان ہوں گے تو شرک کریں گے اب زمانہ بعید میں کریں یا قریب میں شرک کریں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔"

حالانکہ اس بات پر ہمارا اتفاق ہو چکا کہ کسی مسلمان کا شرک میں مبتلا ہو جانا محال نہیں۔
تو اب آپ نے اس حدیث کے لوگوں کو جو شرک میں مبتلا ہونے والے تھے ان کو پیدا ہونے سے قبل ہی شرک میں مبتلا بھی کر دیا اب شاید نظر آ گیا ہو گا آگے چلیں۔
By: tariq mehmood, Karachi on Feb, 09 2013
0 Like
اس کے بعد آپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قول کا حوالہ دیا ہے، جسے میں نے تفسیر ابن کثیر سے نقل کیا تھا۔ اس پر بھی آپ نے کچھ خامہ فرسائی کی ہے۔

میں یہاں اپنی تحریر کا متعلقہ حصہ دوبارہ نقل کر رہا ہوں۔ اگرچہ ایک ہی بات کی بار بار تکرار میرے لیے کوفت کا باعث ہے، لیکن کیا کیا جائے، میرا واسطہ ایک ایسی شخصیت سے پڑا ہے جسے ایک ہی بات دہرا دہرا کر بتانا پڑتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ سمجھ اسے پھر بھی نہیں آتی۔ میری تحریر کچھ اس طرح سے تھی

"سب سے پہلے آپ نے سورہ یوسف کی آیت 106 کا حوالہ دیا ہے۔ لیکن میں حیران ہوں کہ اس آیت کریمہ میں آپ کی بیان کردہ اصطلاح کے حق میں کون سی دلیل ہے؟ کیا اس آیت کریمہ "وما یومنون اکثرھم باللہ وھم مشرکون" میں "مومنین" ہی کو "مشرکین" بھی قرار دیا گیا ہے (معاذاللہ)؟ حالانکہ خود ابن کثیر اس آیت کریمہ کی تفسیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ "ان کا ایمان یہ ہے کہ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ زمین، آسمان اور پہاڑ کس نے پیدا کئے؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے۔پھر اس اقرار کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیروں کو شریک بھی ٹھہراتے ہیں"۔
ابن کثیر لکھتے ہیں کہ مجاہد، عطاء، عکرمہ، شعبی، قتادہ، ضحاک اور عبدالرحمن بن زید بن اسلم کا یہی قول ہے۔
مزید لکھتے ہیں
"صحیحین میں ہے کہ مشرکین اپنے تلبیہ میں یہ کہتے کہ میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ شریک ہے جسے تو نے خود شریک بنایا ہے، تو اس کا بھی مالک ہے اور اس کا بھی جس کا وہ مالک ہے۔۔۔۔۔۔"
یعنی اس آیت کریمہ میں واضح طور پر مشرکین کا رد ہے۔ اور یہاں جو "یومنون" کا لفظ وارد ہوا تو اس سے مراد یہ ہے کہ مشرکین اللہ تعالیٰ کو الٰہ "مانتے" تو تھے، اور وہ بیت اللہ کا حج بھی کرتے تھے اور تلبیہ بھی پڑھتے تھے، لیکن ساتھ ہی اپنے خود ساختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے تھے، اور انہیں لوگوں کا ذکر آیت کریمہ میں کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ یہاں لفظ "یومنون" سے مومنین یا مسلمین حضرات مراد لینا اور اس بناء پر یہ استدلال کرنا کہ "مشرک مسلمان" کی اصطلاح ثابت ہو گئی، کسی طرح درست نہیں"۔

جی طارق صاحب! میری اس تحریر پر غور کرنے کی کوشش کیجئے، شاید کہ کچھ سمجھ میں آ سکے۔
آپ کا مسٔلہ دراصل یہ ہے کہ آپ اپنی کج فہمی کی بناء پر اسلاف کے اقوال کو اپنی ہفوات کے مشابہ گمان کر لیتے ہیں اور یوں سمجھتے ہیں کہ یا تو آپ کی بات درست ثابت ہو گی ورنہ پھر اسلاف کے اقوال (معاذ اللہ) غلط ثابت ہو جائیں گے۔ حالانکہ اس وہم کی حقیقت ایک زعم باطل سے زیادہ کچھ نہیں۔
جیسا کہ میں پہلے بھی وضاحت کر چکا کہ ابن کثیر علیہ الرحمہ نے صاف تصریح فرمائی کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا یہ قول بالتخصیص مشرکین کے بارے میں تھا، اور ویسے بھی نزول قرآن کے وقت اور صحبت نبوی علیہ الصلوۃ والسلام میں زندگیاں گزارنے والے اکثر مسلمان ایسے ہرگز نہ تھے کہ ان کے بارے میں یہ الفاظ نازل ہوتے (معاذاللہ)۔لہذا "یومنون" کا جو لفظ یہاں قرآن نے استعمال فرمایا تو اس سے مراد "مومنین" ہرگز نہیں، بلکہ اس سے مراد صرف اتنا ہے کہ مشرکین اللہ تعالیٰ کو الٰہ "مانتے" تو تھے، لیکن اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے تھے۔ اس پر یہ گمان کرنا کہ مشرکین کو مومنین کہہ کر خطاب کیا جا رہا ہے، اور یوں مشرکین کے محض اس "ماننے" پر اس "ایمان" کو قیاس کرنا، جو مومنین کی صفت ہے، کسی مخبوط الحواس شخص ہی کا کام ہو سکتا ہے؟ اور اس پر مستزاد یہ کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قول کو دلیل سمجھ کر "مشرک مسلمان" کی اصطلاح اختراع کر لی جائے۔ اسے کہتے ہیں الٹی کھوپڑی اندھا گیان۔
الغرض، نہ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ان لوگوں کو "مشرک مسلمان" قرار دیا، نہ ہی یہ کہا کہ وہ لوگ "ایمان کے ساتھ" شرک کرنے والے تھے۔ بلکہ ان کے قول سے قرآن میں وارد لفظ "یومنون" کی وضاحت ہوئی کہ یہاں اس سے درحقیقت مراد کیا ہے۔ چنانچہ یہاں ایمان و شرک کے اجتماع کی بناء پر جمع ضدین کا سوال ہی نہیں ہے۔

جبکہ آپ نے لکھا ہے کہ
"تو بھائی جب مشرک کا ایمان ہی نہیں ہے تو ابن عباس رضی اللہ عنہ کو فرمانا چاہیئے تھا کہ خبردار مشرک کا کوئی ایمان نہیں ہوتا مگر وہ تو ان کے ایمان کو بتا رہے ہیں تو کیا مشرکین کا ایمان باقی رہتا ہے جو ابن عباس رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں اگر نہیں رہتا تو ایمان کیسا جو بتا رہے ہیں اور اگر نہیں ہے تو کیوں بتا رہے ہیں کیا انہوں نے بھی جمع ضدین کی ہے یعنی شرک اور ایمان کو ایک ساتھ جمع کر دیا ہے اب اپ یہ نہیں کہنا کہ ان کو ان کا ایمان فائدہ نہیں دے رہا وہ مشرک ہی رہے تو جب فائدہ نہیں دے رہا تو ایسے ایمان کو کیوں ان کے ایمان کے طور پر گنا جا رہا ہے اب ابن عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا رائے ہیں کیا انہوں نے جمع ضدیں کی ہے"

طارق صاحب! کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مشرکین کا بھی "ایمان" ہوتا ہے، ورنہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو کہنا چاہئے تھا کہ مشرک کا ایمان نہیں ہوتا، مگر وہ تو ان کا ایمان بتا رہے ہیں، اور اگر نہیں ہوتا تو پھر بتا کیوں رہے ہیں؟
اگر ایسا ہی ہے تو آفرین ہے آپ پر، کہ آپ نے وہ کارنامہ انجام دے ڈالا جو شاید تاریخ اسلامی میں آج تک کسی نے نہیں دیا ہو گا، یعنی مشرکین کا بھی "ایمان" ثابت فرما دیا۔ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قول کی ایسی توضیح بیان کی، جو آج تک کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ گزری ہو گی۔ اور پھر نا صرف ایمان کا اثبات کیا، بلکہ مشرکین کے لیے ان کے اس نام نہاد ایمان کو مفید بھی قرار دے دیا، یہ لکھ کر کہ "اب آپ یہ نہیں کہنا کہ ان کو ان کا ایمان فائدہ نہیں دے رہا وہ مشرک ہی رہے تو جب فائدہ نہیں دے رہا تو ایسے ایمان کو کیوں ان کے ایمان کے طور پر گنا جا رہا ہے"۔
تف ہے ایسی بھونڈی عقل پر اور ایسی پست ذہنیت پر۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ۔
By: Ahmad, Lahore on Feb, 05 2013
Reply Reply
0 Like
ابن عباس رضی اللہ عنہ کے قول پر جو آپ نے تبصرہ کیا تھا اس بارے میں میں اپنی غلطی مانتا ہوں کہ واقعی مشرکین کا یہ کہنا ان کو کوئی فائدہ نہیں دے گا مگر جو آپ نے کہا اس پر بھی کیا اپ نادم ہوں گے۔
آپ نے لکھا ہے “ اور یوں مشرکین کے محض اس "ماننے" پر اس "ایمان" کو قیاس کرنا، جو مومنین کی صفت ہے،
یہ پڑھ کر میرا مشورہ آپ کے یہی ہے کہ ائندہ جب بھی کسی سے بحث کریں کیونکہ آپ کا مقصد صرف بحث کرنا ہے اور اپنے باطل عقائد کے خلاف جو بھی بات نظر آئے اس میں بحث کرنا،
میرا مضمون آپ نے آخر تک پڑھا ہی نہیں ہےاور اگر پڑھا ہے تو اس پر غور نہیں کیا میں نے شروع سے آخر تک اپنے مضمون میں یہی ثابت کیا ہے کہ ان عقائد کے حامل مشرکین کے عقائد کے مشابہ ہے اور آپ ان عقائد کے حاملین کو مومنین کے ایمان اور عقائد کے جیسا گردان رہے ہیں مومنین کے عقائد ایسے ہوتے ہیں اللہ کی ربوبیت کا اقرار کردے اس کے ساتھ مخلوق کو شرک کرنے والے کو مومنین کے ایمان سے ملا رہے ہو ان کے عقائد مشرکین جیسے ہیں بلکہ اس سے بھی بدتر ہیں امام الوسی حنفی نے سورہ العنکبوت کی آیت ٦١ کے تحت ہی لکھا ہے کہ مشرکین عرب بھی جب کشتی میں سوار ہوتے تھے اور ان کو وہاں کوئی مشکل آتی تو خالص اللہ کو پکارتے تھے مگر اج یہ لوگ امام پیر اور دیگر کو پکارتے ہیں تو بتاؤ کون بہتر ہے (سورہ العنکبوت آیت ٦٣) شرم کرو ان عقائد کے حاملین کو مومین کے ایمان کے برابر کہتے ہو مجھے تو یہی شبہ ہے اتنی بحث کو وجہ بھی یہی ہے کہ آپ ان عقائد کے خود بھی حامل ہو اللہ لعنت کرے ہر اس شخص پر جو ان عقائد کے حاملین کو مومن کے ایمان اور عقائد سے ملاتا ہے اور اس پر بھی جو ایسے عقائد رکھ کر اپنے اپ کو ایمان والا گردانتا ہے وہ ایمان سے کوسوں دور ہیں اللہ اپ کو عقل اور ایمان عطا کر ے.
By: tariq mehmood, Karachi on Feb, 09 2013
0 Like
بہن نور فاطمہ! میری چند گزارشات ملاحظہ فرمائیں

کفر و شرک
اگر کوئی شخص کسی بھی ایسی بات کا انکار کرے جس کا تعلق ضروریات دین سے ہو تو وہ کافر ہو جائے گا۔ مثلاً اللہ تعالیٰ پر، انبیاء کرام پر، الہامی کتابوں، فرشتوں، روز محشر، جنت و دوزخ اور دیگر ضروریات دین پر ایمان لانا مومن ہونے کے لیے شرط ہے۔ اور ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار کرنا کفر۔

اسی طرح اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات میں کسی غیر کو اس کا شریک قرار دے، تو ایسے شخص کو مشرک کہیں گے۔ کتب عقائد میں شرک کی جو جامع تعریف بیان ہوئی، اس کے مطابق غیر اللہ کو واجب الوجود قرار دینا یا پھر مسحق عبادت سمجھنا شرک ہے۔ باقی تمام وجوہات شرک انہیں دو کے تحت آتی ہیں۔

اس ضمن میں ایک اہم بات یہ کہ ہر کفر کا شرک ہونا ضروری نہیں۔ یعنی ایک شخص اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں کسی کو اس کا شریک قرار نہ دینے کے باوجود بھی کافر ہو سکتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص روز حشر کے دن اٹھائے جانے اور حساب و کتاب کا انکار کرے، تو پھر چاہے توحید کا کتنا ہی دعوی کرے، ایسا شخص کافر ہو جائے گا۔ البتہ ذات و صفات باری تعالیٰ میں شرک نہ کرے کی بناء پر اسے مشرک نہیں کریں گے۔

لیکن یہ بات یاد رکھئے کہ ہر مشرک کافر ضرور ہوتا ہے۔ بایں وجہ کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات میں کسی غیر کو شریک ٹھہراتا ہے تو اس سے توحید وجودی یا توحید صفاتی میں سے کسی ایک یا دونوں کا انکار لازم آتا ہے، اور یہ کفر بھی ہے۔ لہذا شرک ہمیشہ کفر کو مستلزم ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک میں کفر اور شرک دونوں اصطلاحات وارد ہوئی ہیں۔

اسی طرح دو اصطلاحات اکثر سننے اور پڑھنے میں آتی ہیں۔ یعنی "مشرکین مکہ" اور "کفار مکہ"۔ چونکہ وہ لوگ بتوں وغیرہ کو مستحق عبادت سمجھتے تھے اور دوسری طرف حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کی دعوتِ اسلام کا انکار بھی کرتے تھے، تو ان لوگوں میں کفر کے ساتھ ساتھ شرک بھی جمع ہو چکا تھا، لہذا انہیں کفار بھی کہا جاتا ہے اور مشرکین بھی۔

ایمان
کفر اور شرک کے مقابل ایمان ہے۔ اور اہل ایمان کو قرآن نے کہیں "یا ایھاالمسلون" کہہ کر خطاب فرمایا ہے تو کہیں "یا ایھا المومنین" کہہ کر۔

چونکہ ایمان اور کفر و شرک ایک دوسرے کی ضد ہیں، لہذا یہ ایک انسان میں ایک ہی وقت میں یکجا نہیں ہو سکتے، اور اسے علمائے کرام اپنی اصطلاح میں جمع ضدین کہتے ہیں جو کہ محال ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ ایک شخص ایک وقت میں یا تو مومن ہو گا یا پھر مشرک یا کافر۔

اب یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کافر یا مشرک ہو، پھر اس کے بعد ایمان لے آئے اور مومنین کی صف میں شامل ہو جائے۔ اور اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص پہلے مسلمان ہو، لیکن خدانخواستہ اس سے کسی کفر یا شرک کا صدور ہو جائے اور یوں وہ اپنے ایمان سے محروم ہو جائے، جسے ارتداد کہتے ہیں۔ لیکن ایسی کسی صورت میں بھی ایمان کے ساتھ کفر یا شرک کا اجتماع لازم نہیں آتا۔ بلکہ کافر یا مشرک نے جیسے ہی اسلام قبول کیا، اس کا کفر و شرک زائل ہو گیا اور ایمان ثابت ہو گیا۔ یونہی جس وقت کسی مسلمان سے کفر یا شرک کا صدور ہوا، اسی وقت اس کا ایمان ختم ہو گیا اور کفر یا شرک ثابت ہو گیا۔ اب جس طرح قبول اسلام کے بعد اول الذکر شخص کو مسلمان کافر یا مسلمان مشرک نہیں کہا جا سکتا، اسی طرح ارتداد کے بعد ثانی الذکر شخص کو مشرک مسلمان یا کافر مسلمان نہیں کہا جا سکتا۔

اس کے علاوہ ایک مسلمہ قاعدہ ہے کہ اگر ایک شخص کسی دوسرے کو کافر یا مشرک کہے، اور وہ دوسرا شخص ایسا نہیں ہے، تو یہ حکمِ کفر یا شرک کہنے والے پر لوٹ آئے گا۔
اور یہ قاعدہ بھی متفقہ ہے کہ ایسا شخص جس کا کفر یا شرک ثابت ہو چکا ہو، اسے کافر یا مشرک نہ سمجھنے والا خود کافر ہو جائے گا۔ بلکہ جو ایسے کے کفر و شرک میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔

اس سے پتہ چلا کہ کفر و شرک یا ایمان کا معاملہ کس قدر نازک ہے اور اس میں کتنی احتیاط کی ضرورت ہے۔

فی الحال میں نے کوشش کی ہے کہ آپ کے سوال کا باقاعدہ جواب دینے کے بجائے اپنی تحریر کو ایےر پیرائے میں پیش کروں جس سے معاملے پر مختلف جہات سے گفتگو ہو جائے اور آپ کے اشکالات کا جواب بھی اسی میں آ جائے۔ مزید وضاحت درکار ہو تو بتا دیجئے گا، مقدور بھر پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔

اللہ تعالیٰ ہی سے ہدایت و رہنمائی کا سوال ہے اور ہر قسم کی گمراہی اور کوتاہی سے اسی کی پناہ مطلوب ہے۔
By: Ahmad, Lahore on Feb, 06 2013
0 Like
ahmed bhai ager muslman mushrik nhi hota to phr QURAN main ALLAH ny suub ko sirf kafir keh k koin nhi pokara jaisa k bht c ayton main kafir ka lafz use howa or mushrik ka b .ek ki istlah koin nhi use ki gai just for information poch rahi hon app dono logon ki bahus sy maira koi laina daina nhi hai thanks
By: noor fatima, damam on Feb, 05 2013
0 Like
اَعُوذ بِاللہِ اَن اَکُونَ مِنَ الجٰہلین
خدا کی پناہ کہ میں جاہلوں سے ہوں

طارق صاحب! اپنی "جواب نما" شے پر میری طرف سے شکریہ قبول فرمائیے۔ کیونکہ جتنا آپ اس موضوع پر لکھیں گے، اتنے ہی آپ کی علمیت، قابلیت اور سیرت و کردار سے پردے اٹھتے چلے جائیں گے اور عام قاری کی نظر میں آپ کی اصلیت کھلتی جائے گی اور یوں لوگ آپ جیسوں کے دامِ فریب میں آنے سے محفوظ ہو جائیں گے۔ کیونکہ اتنا تو سب سمجھتے ہیں کہ او خویشتن گم است کرا راہبری کند۔

آپ نے اپنے جواب کے آغاذ میں لکھا ہے کہ میرا بیان آپ کی سمجھ سے باہر ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ جو شخص خود اپنی بات کو سمجھنے سے عاجز ہو، اور جو بیچارہ خود اپنے موقف کا تعین کرنے کے بھی قابل نہ ہو، وہ کسی دوسرے کے بیان کو کیا سمجھ پائے گا؟ لہذا یہ سب بتانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اس گفتگو کو پڑھنے والا ہر شخص آپ کی "سمجھ بوجھ" سے کافی حد تک پہلے ہی واقف ہو چکا ہے۔

اس کے بعد آپ نے چند فقرے ادِھر اُدھر سے اچک کر بلا ربط نقل کیے ہیں اور اس کو میرا دوغلا بیان قرار دے رہے ہیں۔
طارق صاحب! کیا خود آپ کو علم ہے کہ اس سب میں دوغلا پن آپ کس بات کو قرار دے رہے ہیں؟ یا پھرمیں نے جو آپ کے دوغلے پن کی نشاندہی کی تھی، تو محض نقالی کرتے ہوئے اس کا انتقام لینے کی ناکام کوشش فرما رہے ہیں؟ اطلاعاً عرض کر دوں کہ میرا نام "طارق محمود" نہیں ہے۔ میری یہ عادت نہیں کہ پہلے ایک بات کروں، پھر خود ہی اس سے مکر جاؤں، پھر واپس اسی کو اختیار کر لوں، اور یوں بن پیندے کے لوٹے کی طرح مسلسل لڑھکنیاں کھاتا رہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مجھے اتنا حوصلہ اور ظرف عطا فرما رکھا ہے کہ اپنی غلطی کو تسلیم کرنا میرے لیے باعث عار نہیں ہوتا۔ اور میں ایمان کے مقابل ذاتی اناء کو اہمیت دینے کا بالکل بھی قائل نہیں۔ فالحمد للہ علی ذالک۔
جی ہاں، میں نے کہا تھا کہ نبی کریم علیہ السلام نے جن لوگوں کا ذکر فرمایا، اس تذکرے کے وقت تک ان لوگوں کے ایمان یا شرک کا ظہور نہیں ہوا تھا۔ میں نے یہ بھی کہا تھا کہ کسی مسلمان کا شرک میں مبتلا ہو جانا عقلی یا عملی طور پر محال نہیں۔ اور میں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس فرمان کے مطابق جو لوگ شرک میں مبتلا ہوں گے، انہیں اس ابتلا میں پڑنے کے بعد مشرک ہی کہا جائے گا۔ تو ان باتوں میں تناقض کہاں ہے؟ البتہ ایسے لوگوں کو شرک میں مبتلا ہو جانے کے بعد "مشرک مسلمان" قرار دینا ضرور تناقض ہے۔ اور یہ تناقض میری نہیں، آپ کی تحریر اور آپ کے موقف میں تھا۔ کیوں حضرت جی!! اب کچھ سمجھ میں آیا؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں آیا؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چلیے جانے دیجئے، یہ آپ کے سمجھ میں آنے کی باتیں ہی نہیں ہیں۔

اس کے بعد آپ اپنی معترضہ عبارتوں پر میرے تبصرے سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں آپ کی ان عبارتوں کے خلاف ہوں۔
جی ہاں، یہ بات آپ نے بالکل درست لکھی۔ میں واقعی آپ کی ان عبارتوں اور اصطلاح کو غلط محض سمجھتا ہوں، اور پہلے دن سے آج تک انہیں غلط ہی کہتا آیا ہوں۔ لیکن آپ کی اس تحریر سے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ آپ ایک مرتبہ پھر ان عبارات یا اصطلاح کو درست قرار دے رہے ہیں۔ یعنی جس اصطلاح اور عبارات کو آپ نے صراحتاً تحریر کیا، اور دفاع کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہے، پھر اچانک ہی یہ کہہ دیا کہ آپ نے تو وہ اصطلاح کبھی استعمال ہی نہیں کی، اور اب ایک مرتبہ پھران کے اثاکت پر کمر بستہ ہو گئے۔ عالی مرتبت! اگر ہو سکے تو کم از کم اتنی وضاحت ضرور فرما دیجئے گا کہ آپ نے جو اصطلاح استعمال کی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یا پھر شاید استعمال نہیں کی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یا پھر شاید کی ہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو آپ اپنی اس استعمال شدہ، یا پھر غیر استعمال شدہ اصطلاح اور عبارات کو آج کی تاریخ میں درست سمجھتے ہیں، یا غلط؟

بہرحال، آپ نے چند حوالے پیش کرتے ہوئے بعض معتبر شخصیات کے بارے میں میری رائے طلب کی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے آپ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ میں نے اس کا جواب نہیں دیا تھا۔ چونکہ آپ کی بصارت کے معاملے میں پہلے ہی کافی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، لہذا میں یہ شکایت نہیں کرتا کہ آپ کو میرا لکھا ہوا جواب نظر کیوں نہیں آیا، بلکہ میں اپنا جواب یہاں دوبارہ نقل کر دیتا ہوں جسے میں پہلے بھی پیش کر چکا ہوں۔ ملاحظہ کیجئے، میں نے لکھا تھا

"اس بات سے قطع نظر، آپ کے پیش کردہ قول میں بھی آپ کی اس مخترع اصطلاح کے حق میں دلیل آخر ہے کہاں؟ آپ کہتے ہیں کہ "قرآن ایمان لانے کے بعد بھی اکثر کو مشرک کہہ رہا ہے اور حذیفہ رضی اللہ عنہ بھی فرما رہے ہیں"۔
عرض یہ ہے طارق صاحب کہ "ایمان لانے کے بعد شرک میں مبتلا ہونے" کے امکان یا وقوع سے مجھے انکار نہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ ایک شخص قبول اسلام کے بعد اگر شرک میں مبتلا ہو جائے، تو کیا اس کے باوجود وہ مسلمان بھی رہے اور کہلائے گا؟ دوسرے لفظوں میں، ایمان لانے کے بعد اس سے منحرف ہونا ایک امرِ ممکن ہے، لیکن اس بات کو جو معنی آپ پہنا رہے ہیں، یعنی ایمان سے منحرف ہونے کے باوجود اس شخص کا مسلمان کہلانا، اور اپنے اس ذاتی استدلال کی بنیاد حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ کے قول کو قرار دینے کی کوشش فرما رہے ہیں، تو یہ کسی طور درست نہیں"۔

مجھے امید ہے طارق صاحب، کہ اب آپ کو میرا جواب کچھ کچھ نظر آنا شروع ہو گیا ہو گا۔ البتہ سمجھ میں شاید اب بھی نہ آیا ہو۔

اپنی اس دلیل پر آپ نے مزید سوال وارد کیا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مسلمان سے کہا کہ ایمان لانے کے بعد مشرک بنتے ہو۔
جبکہ آپ کی عبارت تھی "ایمان کے ساتھ اللہ کا شرک کرنے والا کہنا کوئی غلط نہیں ہے"
اس پر آپ بڑی معصومیت سے پوچھتے ہیں کہ ان دونوں عبارتوں میں کیا فرق ہے؟
طارق صاحب! کیا واقعی آپ کو "ایمان لانے کے بعد" شرک میں مبتلا ہونے اور "ایمان کے ساتھ" شرک کرتے رہنے اور اس ارتکاب شرک کے باوجود مسلمان کہلائے جانے کے مابین کوئی فرق معلوم نہیں ہوتا، یا پھر جان بوجھ کر نوٹنکی کر رہے ہیں؟
یعنی آپ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک تنبیہی قول کو اپنی ایک باطل اصطلاح کے حق میں دلیل گمان کر لیا، اور اسے ایسی عبارات کے دفاع میں پیش کیا جو شرک و ایمان کے اجتماع پر دوام یا تسلسل پر دال ہیں۔ تو کہاں یہ، کہاں وہ۔
یا پھر واقعی آپ یہ ثابت کرنے پر تلے بیٹھے ہیں کہ مذکورہ شخص "مسلمان" بھی تھا اور "مشرک" بھی؟ کیونکہ "مشرک مسلمان" کا مطلب تو اس کے علاوہ اور کچھ بنتا نہیں۔ اور اس قول کو آپ اپنی ایسی ہی اختراعی عبارت کے دفاع میں پیش کیا تھا۔
میں نہیں جانتا کہ آپ کو واقعی فرق سمجھ میں نہیں آ رہا، یا پھر آپ کے نزدیک یہاں کوئی فرق ہے ہی نہیں۔میرے نزدیک پہلی صورت کو جہالت کہا جائے گا، اور دوسری کو ضلالت۔ اب اپنے بارے میں فیصلہ آپ خود کر لیجئے۔
By: Ahmad, Lahore on Feb, 05 2013
Reply Reply
0 Like
Displaying results 1-20 (of 47)
Page:1 - 2 - 3First « Back · Next » Last
Post your Comments Select Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
Recent Religion Articles

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

 Search Articles [Urdu/English]
Urdu keyboard
English     Urdu - اردو

Article Categories
Politics (13820) سیاست
Society and Culture (7453) معاشرہ اور ثقافت
Religion (6052) مذہب
Other/Miscellaneous (1896) متفرق
Literature & Humor (1813) ادب و مزاح
Education (1384) تعلیم
Health (954) صحت
Famous Personalities (913) مشہور شخصیات
Science & Technology (833) سائنس / ٹیکنالوجی
True Stories (388) سچی کہانیاں
Sports (318) کھیل
Books Intro (313) تعارفِ کتب
Poetry (232) شعر و شاعری
Novel (226) افسانہ
Kids Corner (220) بچوں کی دنیا
Entertainment (205) انٹرٹینمنٹ
Career (154) کیریر
Travel & Tourism (153) سیر و سیاحت
Arts (43) ہنر
اہم خبریں
پشاور:بارش اورآندھی سےحادثات،جاں بحق افرادکی تعداد8ہوگئی
22.08.2014
دھرنوں میں موجود پکوانوں کے چٹورے
21.08.2014
پشاور میں طوفانی بارش سے 6 افراد ہلاک
21.08.2014
روس: حفظانِ صحت کے نام پر، میکڈونالڈ کے خلاف کارروائی
21.08.2014
More News
Samaa TV Live at Hamariweb.com

Recently Commented Most Commented
More On Hamariweb
News Home
Latest News
Student News
Science & Technology
Sports
Entertainment
World News
Dictionary
English Urdu Dictionary
Arabic Urdu Dictionary
Spanish Urdu Dictionary
Hindi Urdu Dictionary
French Urdu Dictionary
German Urdu Dictionary
Cricket
Live Cricket
Cricket Highlights
Dream Team
Player Profiles
Sports News
Sports Games
Mobiles
Mobile Phones
Ringtones
Mobile Games
Mobile Softwares
SMS Messages
Web2SMS
Directories
Web Directory
Edu Directory
Important Phone No.
Postal Codes
Country Codes
City Codes
Islam
Online Audio Quran
Quran Recitation
Online Naats
Islamic Names
Islamic Articles
Islamic Wallpapers
Finance
Biz News
Stock Exchanges
Business Directory
Forex Rates
Gold Rates
Prize Bonds
Classifieds
Jobs in Pakistan
House For Sale
Furniture For Sale
Mobiles for Sale
Bikes For Sale
Cars For Sale
Articles
Politics
Society and Culture
Religion
Other/Miscellaneous
Literature & Humor
Education
Poetry
Love / Romantic
Sad
General
Life
Religious
Humorous
Other Sections
Urdu Search
My Report
Food & Recipes
Blogs
Forum
Academic Results

Career Counseling
Weather Updates
Free Softwares
Desktop Wallpapers
Greeting Cards
Urdu Editor
About us | Contact Us | Feedback | Advertising | Privacy Policy | Site Map | Jobs @ Hamariweb
Copyright © 2014 HamariWeb.com All Rights Reserved.
X
Post Article