|
|
656 / 8. عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضي الله عنه قَالَ : کُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم بِمَکَّةَ، فَخَرَجْنَا فِي بَعْضِ نَوَاحِيْهَا، فَمَا اسْتَقْبَلَهُ جَبَلٌ وَلَا شَجَرٌ إِلَّا وَهُوَ يَقُوْلُ : اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ يَا رَسُوْلَ اﷲِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَالْحَاکِمُ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.
الحديث رقم 8 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : (6)، 5 / 593، الرقم : 3626، والدارمي في السنن، (4) باب : ما أکرم اﷲ به نبيه من إيمان الشجر به والبهائم والجن، 1 / 31، الرقم : 21، والحاکم في المستدرک، 2 / 677، الرقم : 4238، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 2 / 134، الرقم : 502، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 150، الرقم : 1880، والمزي في تهذيب الکمال، 14 / 175، الرقم : 3103، والجرجاني في تاريخ جرجان، 1 / 329، الرقم : 600.
’’حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں مکہ مکرمہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ ہم مکہ مکرمہ کی ایک طرف چلے تو جو پہاڑ اور درخت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آتا (وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) عرض کرتا : (اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ يَا رَسُوْلَ اﷲِ)۔‘‘
853 / 4. عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضي اﷲ عنهما قَالَ : جَاءَتْ مَلَائِکَةٌ إِلَي النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم وَهُوَ نَائِمٌ. . . فَقَالَ بَعْضُهُمْ : إِنَّهُ نَائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : إِنَّ الْعَيْنَ نَائِمَةٌ وَالْقَلْبَ يقْظَانُ، فَقَالُوْا : فَالدَّارُ الْجَنَّةُ، وَالدَّاعِي مُحَمَّدٌ صلي الله عليه وآله وسلم، فَمَنْ أَطَاعَ مُحَمَّّدًا فَقَدْ أَطَاعَ اﷲَ، وَمَنْ عَصَي مُحَمَّدًا فَقَدْ عَصَي اﷲَ، وَمُحَمَّدٌ فَرَّقَ بَيْنَ النَّاسِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
الحديث رقم 4 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الاعتصام بالکتاب والسنة، باب : الاقتداء بِسُنَنِ رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، 6 / 2655، الرقم : 6852.
’’حضرت جابر بن عبداللہ رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ کچھ فرشتے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم استراحت فرما رہے تھے تو ان میں سے ایک نے کہا : یہ تو سوئے ہوئے ہیں۔ دوسرے نے کہا : (ان کی) آنکھ سوتی ہے مگر دل بیدار رہتا ہے۔ پھر انہوں نے کہا : حقیقی گھر جنت ہی ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (حق کی طرف) بلانے والے ہیں۔ جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی (درحقیقت) اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کی اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اچھے اور برے لوگوں میں فرق کرنے والے ہیں۔‘‘ |
|
|
By:
azeem,
rwp
on
Jun, 20 2012
|
|
|
|
|
|
|
ماشاالله۔
655 / 7. عَنْ أَبِي مُوْسَي الأَشْعَرِيِّ رضي الله عنه قَالَ : خَرَجَ أَبُوْطَالِبٍ إِلَي الشَّامِ، وَخَرَجَ مَعَهُ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم فِي أَشْيَاخٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَلَمَّا أَشْرَفُوْا عَلَي الرَّاهِبِ هَبَطُوْا، فَحَلُّوْا رِحَالَهُمْ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمُ الرَّاهِبُ، وَکَانُوْا قَبْلَ ذَلِکَ يَمُرُّوْنَ بِهِ فَلَا يَخْرُجُ إِلَيْهِمْ وَلَا يَلْتَفِتُ، قَالَ : فَهُمْ يَحُلُّوْنَ رِحَالَهُمْ، فَجَعَلَ يَتَخَلَّلُهُمُ الرَّاهِبُ، حَتَّي جَاءَ فَأَخَذَ بِيَدِ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم، فَقَالَ : هَذَا سَيِدُ الْعَالَمِيْنَ، هَذَا رَسُوْلُ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، يَبْعَثُهُ اﷲُ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِيْنَ، فَقَالَ لَهُ أَشْيَاخٌ مِنْ قُرَيْشٍ : مَا عِلْمُکَ؟ فَقَالَ : إِنَّکُمْ حِيْنَ أَشْرَفْتُمْ مِنَ الْعَقَبَةِ لَمْ يَبْقَ شَجَرٌ وَلَا حَجَرٌ إِلَّا خَرَّ سَاجِدًا، وَلَا يَسْجُدَانِ إِلَّا لِنَبِيٍّ، وَإِنِّي أَعْرِفُهُ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ أَسْفَلَ مِنْ غُضْرُوْفِ کَتِفِهِ مِثْلَ التُّفَاحَةِ، ثُمَّ رَجَعَ فَصَنَعَ لَهُمْ طَعَامًا، فَلَمَّا أَتَاهُمْ بِهِ، وَکَانَ هُوَ فِي رِعْيَةِ الإِْبِلِ، قَالَ : أَرْسِلُوْا إِلَيْهِ، فَأَقْبَلَ وَعَلَيْهِ غَمَامَةٌ تُظِلُّهُ. فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْقَوْمِ وَجَدَهُمْ قَدْ سَبَقُوْهُ إِلَي فَيئِ الشَّجَرَةِ، فَلَمَّا جَلَسَ مَالَ فَيئُ الشَّجَرَةِ عَلَيْهِ، فَقَالَ : انْظُرُوْا إِلَي فَيئِ الشَّجَرَةِ مَالَ عَلَيْهِ. . . قَالَ : أَنْشُدُکُمْ بِاﷲِ أَيُّکُمْ وَلِيُّهُ؟ قَالُوْا : أَبُوْطَالِبٍ. فَلَمْ يَزَلْ يُنَاشِدُهُ حَتَّي رَدَّهُ أَبُوْطَالِبٍ، وَبَعَثَ مَعَهُ أَبُوْبَکْرٍ بِلَالًا، وَزَوَّدَهُ الرَّاهِبُ مِنَ الْکَعْکِ وَالزَّيْتِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.
الحديث رقم 7 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : ما جاء في نبوة النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 5 / 590، الرقم : 3620، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 317، الرقم : 31733، 36541، وابن حبان في الثقات، 1 / 42، والأصبهاني في دلائل النبوة، 1 / 45، الرقم : 19، والطبري في تاريخ الأمم والملوک، 1 / 519.
’’حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابو طالب روسائے قریش کے ہمراہ شام کے سفر پر روانہ ہوئے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ جب راہب کے پاس پہنچے وہ سواریوں سے اترے اور انہوں نے اپنے کجاوے کھول دیئے۔ راہب ان کی طرف آنکلا حالانکہ (روسائے قریش) اس سے قبل بھی اس کے پاس سے گزرا کرتے تھے لیکن وہ ان کے پاس نہیں آتا تھا اور نہ ہی ان کی طرف کوئی توجہ کرتا تھا۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ ابھی کجاوے کھول ہی رہے تھے کہ وہ راہب ان کے درمیان چلنے لگا یہاں تک کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب پہنچا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دستِ اقدس پکڑ کر کہا : یہ تمام جہانوں کے سردار اور رب العالمین کے رسول ہیں۔ اﷲ تعالیٰ انہیں تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر مبعوث فرمائے گا۔ روسائے قریش نے اس سے پوچھا آپ یہ سب کیسے جانتے ہیں؟ اس نے کہا : جب تم لوگ گھاٹی سے نمودار ہوئے تو کوئی پتھر اور درخت ایسا نہیں تھا جو سجدہ میں نہ گر پڑا ہو۔ اور وہ صرف نبی ہی کو سجدہ کرتے ہیں نیز میں انہیں مہر نبوت سے بھی پہچانتا ہوں جو ان کے کاندھے کی ہڈی کے نیچے سیب کی مثل ہے۔ پھر وہ واپس چلا گیا اور اس نے ان لوگوں کے لئے کھانا تیار کیا۔ جب وہ کھانا لے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونٹوں کی چراگاہ میں تھے۔ راہب نے کہا انہیں بلا لو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو آپ کے سرِ انور پر بادل سایہ فگن تھا اور جب آپ لوگوں کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ تمام لوگ (پہلے سے ہی) درخت کے سایہ میں پہنچ چکے ہیں لیکن جیسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہوئے تو سایہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھک گیا۔ راہب نے کہا : درخت کے سائے کو دیکھو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھک گیا ہے۔ پھر راہب نے کہا : میں تمہیں خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ ان کا سرپرست کون ہے؟ انہوں نے کہا ابوطالب! چنانچہ وہ حضرت ابوطالب کو مسلسل واسطہ دیتا رہا (کہ انہیں واپس بھیج دیں) یہاں تک کہ حضرت ابوطالب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واپس (مکہ مکرمہ) بھجوا دیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کے ہمراہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور راہب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ زادِ راہ کے طور پر کیک اور زیتون پیش کیا۔‘‘ |
|
|
By:
azeem,
rwp
on
Jun, 20 2012
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
By:
Abu Hanzalah M.Arshad Madani,
Karachi
on
Jun, 16 2012
|
|
|
|
|