|
|
|
hum buhat hi maezrat kwah hain ka app ki dil sikni huye hay.Hum nay apna nazrea dya hay app ko acha nahi laga hum maezrat kertey hain,Dil kaaba hay is kay totney sey hum dertey hain.
|
|
By:
ghulam ahmed daud,
Islamabad
on
May, 29 2012
|
|
|
|
|
|
|
| جناب غلام احمد صاحب کیا بات کردی ۔آپ نے سوال کیا مجھے حیرت ہوئی ۔میں تو ڈاکٹر صاحب کا تہہ دل سے قدردان ہوں ۔خدا کے بندے وہ ہمارے علم میں اضافے کا ذریعہ بن رہے ہیں اسلام کی وہ جہتیں بھی متعارف کروارہے ہیں وہ بھی حوالوں کے ساتھ اور ایک ہم ہیں کہ عجیب سوال کررہے ہیں ۔ڈاکٹر صاحب بہت اچھا لکھتے ہیں ہمیشہ خوش رہیں لیکن اپنے خرچے پہ ۔مہنگائی بہت ہے ۔ |
|
|
By:
farhan,
misr
on
May, 28 2012
|
|
|
|
|
|
|
| میں اپنے تام قارئین کا ممنون و مشکور ہوں کہ وہ میرے پیغام کو پڑھ کر کچھ آرا سے نوازتے ہیں اور کچھ دل ہی دل میں امید ہے کہ دعا سے بھی نوازتے ہونگے ۔غلام احمد داود صاحب کی بات یہ ان کی رائے ہے ہر شخص کو بات کرنے کا حق ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ عقل کے جس ترازو پر وہ تول رہا ہواس ترازو میں تولنے کی سکت ہی نہ ہوں ۔بہرحال اسلام ظاہر وباہر دین ہے اس کے سیکھنا صرف داڑھی والے ،حضرات کے لیے ضروری نہیں ،یہ ابدی پیغام ہے ہر کسی کے لیے منفعت ہے اس میں ۔راز افشاں نہ کرنے والی بات میری ناقص عقل قبول نہ کرسکی اور شاید میری اس بات سے دیگر قارئین بھی اتفاق کریں گئے کہ اسلام کی ہربات کو چھپاتے پھریں گئے تو سکھائے گا کون اور سیکھے گاکون؟ازرائے کرم یہ میری دانش میں اک بات تھی جو میں محترم غلام احمد بھائی کی نظر کرتا ہوں |
|
|
By:
DR ZAHOOR AHMED DANISH,
NAKYAL KOTLE AK
on
May, 28 2012
|
|
|
|
|
|
|
Quran or ahadesh mubarka main sey is tarah kay topic nikal kr lay anney main maloom nahi load sheding door hoti hay ya per muslims ka akhlaq or kirdar acha hota hay.Said rishwat stani or zina main kami waqay hoti hay ya wizir or maseer hram khana chorr detey hain.Is waqat is zehni ayashi kay hum muthamal ho sektey hain ka is behss main parrey ka Kutey ko marna dena hay ya pall kar rekhna hay.Is tarha ki tehqiqat nay to hummay tamash bana kar rukh dia hay.Her batt her ik kay liy or amm kernay ki nahi hoti.Quran pak ka bi hukam hay ka shariat kay raz afsha nahi karney chahiyeh
|
|
By:
ghulam ahmed daud,
Islamabad
on
May, 27 2012
|
|
|
|
|
|
|
|
JAZAKALLAH.
|
|
By:
zai.,
karachi.
on
May, 27 2012
|
|
|
|
|
|
|
O DR ZAHOOR AHMED DANISH UR SO GREAT PERSON.IM IMPRESS BY UR KNOWLEDGE AND THOUGHT ABOUT HUMAINBEIANG. TAKE CARE.
|
|
By:
NAZISH IQBAL,
GUJRAT
on
May, 26 2012
|
|
|
|
|
|
|
| ڈاکٹرصاحب کوئی ایسا عنوان بھی ہے جس کے متعلق آپ کی نظر خطا کھاگئی ہو۔جس پر بھی لکھا کمال لکھا۔میرے پاس الفاظ نہیں کہ پیش کرسکوں ۔میں منتظر ہوں کہ آپ اخبارات میں بھی لکھیں ۔ہماری ویب کی خوش بختی ہے کہ آپ جیسے عظیم ،ہمدرد ،عاجزی پسند لکھاری سے مستفید ہورہی ہے ۔ |
|
|
By:
DR SABTEEN HAIDER,
islamabad
on
May, 26 2012
|
|
|
|
|
|
|
ماشاءَ اللہ
محترم ڈاکٹر صاحب آپکا یہ کالم بھی بُہت منفرد ہے بُہت سے لوگ صرف خُود کو مصروف رکھنے کیلئے لکھتے ہیں اور بعض تو صرف لکھنے کیلئے لکھتے ہیں میرا مطلب ہے کہ صرف وقت گُزاری کیلئے بھی لکھتے ہیں ! پھر اُس لکھے سے کِسی کی دِل آزاری ہُوتی ہے یا لوگوں میں تعصب کی فضا قائم ہُوتی ہے یا غیبت کا مزاج پروان چڑھتا ہے۔ لکھاری کو اِن تمام باتوں سے کوئی غرض نہیں ہُوتی لیکن شائد وہ نہیں جانتے کہ اُنہوں نے اپنے نامہ عمل میں کیا کُچھ درج کروالیا ہے۔
آپکے تمام ہی کالمز اپنے اندر سوچنے سمجھنے کا سامان لئے ہُوتے ہیں اسلئے آپکے کالمز پڑھنے کو دِل بھی چاہتا ہے میں ایسی تحریریں لکھنے پر آپکو ہہت بُہت مبارکباد پیش کرتا ہُوں |
|
|
By:
ishrat iqbal warsi,
Mirpurkhas
on
May, 26 2012
|
|
|
|
|
|
|
|
JAZAK ALLAH
|
|
By:
maan,
khi
on
May, 26 2012
|
|
|
|
|