|
|
وعلیکم السلام عابد بھائی کوئی قید نہیں ہے صرف عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد سو کر جب رات کے کسی پہر میں اٹھے تو وتر و تہجد ادا کرلیں لیکن مناسب یہ ہے کہ وتر کو تپجد سے پہلے پڑھیں نیز جس کا یہ معمول ہو کہ وہ رات کہ آخر وقت میں اٹھ کر وتر و تہجد پڑھتا ہے تو رمضان میں بھی اسی طرح کر سکتا ہے۔ |
|
|
By:
mufti muhammed bilal raza qadri,
Mirpurkhas
on
May, 18 2012
|
|
|
|
|
|
|
وعلیکم السلام رات کو سوتے میں منہ سے جو پانی نکلتا ہے وہ پاک ہے کپڑوں پر لگنے سے کپڑا ناپاک نہیں ہوگا |
|
|
By:
mufti muhammed bilal raza qadri,
Mirpurkhas
on
May, 18 2012
|
|
|
|
|
|
|
محترم مفتی صاحب اسلام علیکم اگرکوئی شخص وتر ۔تہجد کیساتھ پڑھتا ھے تو وتر تہجد سے پہلے ھونگے یا تہجد کےبعد یا اسکی کوئی قید نہیں ۔ دوسرا یہ کہ وتر تہجد کیساتھ پابندی سے پڑھنے والا رمضان شریف میں بھی اسی ترتیب سے پڑھے یا وتر جماعت کیساتھ پڑھنا ضروری ھیں |
|
|
By:
ABID HUSSAIN,
ABU DHABI
on
May, 17 2012
|
|
|
|
|
|
|
Salam Mufti Sahib,
aik sawal ka jawab aata ferma dein
raat ko sootay mein baaz dafa monh se pani nikalta hae uss k leay kia hukam hae?
JazaKALLAH
|
|
By:
Ainee,
Birmingham
on
May, 16 2012
|
|
|
|
|
|
|
وعلیکم السلام بہن مائے مستعمل کو قابل استعمال کرنے کا طریقہ مضمون میں ذکر ہےلہذا مستعمل کو قابل استعمال بنانے کے لئے وہ طریقہ اپنایا جائے لیکن اگر قابل استعمال نہیں بھی بنایا جائے تو بھی اس سے ناپاک کپڑوں کو پاک کیا جاسکتا ہے آٹا گوندھا جاسکتا ہے مگر مستعمل پانی کا استعمال کرنا مکوہ تنزیہی ہے |
|
|
By:
mufti muhammed bilal raza qadri,
Mirpurkhas
on
May, 15 2012
|
|
|
|
|
|
|
وعیلکم السلام عابد بھائی اگر کوئی ملکی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نوکری کرے تو ایسا کرنا جائز نہیں کہ اپنے معاہدے کی پاسداری کرنا ضروری ہے لیکن خلاف قانون جو نوکری کرکے مال کمایا جائے گا اگر اس کمانے میں کوئی اور شریعت کے خلاف بات نہیں پائی جاتی ہے تو مال حلال ہوگا مگر یوں نوکری کرنا جائز نہیں |
|
|
By:
mufti muhammed bilal raza qadri,
Mirpurkhas
on
May, 15 2012
|
|
|
|
|
|
|
محترم مفتی صاحب السلامُ علیکم
bohat shukria itnay tafseeli jawab ka...JazakALLAH.
مائے مستعمل k mutalaq aik sawal hae k agar iss se Wazu aur Ghusal nahi hoo sakta tu kia ham bartan ,kapry dhoo sakty hein? ya kisi aur istemal mei la sakty hein?
Shukria.
|
|
By:
Ansa,
Sialkot
on
May, 14 2012
|
|
|
|
|
|
|
| محترم مفتی صاحب اسلام علیکم میں ابو ظہبی سے سوال کر رہا ہوں پارٹ ٹائم سے متعلق۔یہاں کے قانون کے مطابق غیر ملکیوں کیلئے ایک سے دوسری ملازمت یا کاروبار کرنا ممنوع ہے جرم ہے ایسا کرتے پکڑا جائے تو ملک بدر کردیا جاتا ہے لیکن پھر بھی کچھ لوگ چھپ کر پارٹ ٹائم یا ملازمت کے ساتھ چھوٹا موٹا کاروبار کرتے ہیں۔آپ سے پوچھنا ھےکہ اس طرح کے عمل سے حاصل ہونے والی رقم حلال ہوگی یا حرام ۔۔۔طلاق سے متعلق تفصیل سے جواب دینے کا بہت بہت شکریہ آپ کی دعا سے تفصیل سے مسئلہ بھی حل ھوگیا ۔الله پاک آپکو جزائے خیر دے آمین |
|
|
By:
ABID HUSSAIN,
ABU DHABI
on
May, 14 2012
|
|
|
|
|
|
|
|
Jaza ka Allah khair, Allah aap ka ilm , umer aur amal main barkat atta fermai, Ameen
|
|
By:
Ijaz Ahmad Attari,
Karachi
on
May, 13 2012
|
|
|
|
|
|
|
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ محترم شمس العابدین صاحب آپ نے بالکل درست بات سنی ہے کہ کپڑے فولڈ کرکے نماز نہیں پڑھنا چاہیے اسے مکروہ تحریمی کہا گیا ہے کہ کپڑے فولڈ کرکے نماز پڑھنے کو اللہ کے رسول علیہ الصلوۃ والسلام نے منع فرمایا ہے جیسا کہ صحیح مسلم حدیث نمبر۱۰۷۶ ہے بعض لوگ اس گمان سے کہ شلوار کو ٹخنوں سے اوپر ہونا چاہیے نماز کے لئے شلوار فولڈ کرتے ہیں ان کا یہ فعل مکروہ تحریمی ہے اور اپنے موقف پردلیل یہ دیتے ہیں کہ ٹخنوں سے نیچے شلوار رکھنے پر وعیدیں مذکور ہیں ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جن احادیث طیبات میں ٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکانے پر وعیدیں مذکور ہیں وہ تکبر کی صورت میں ہے اسی طرح العمدۃ القاری، واشعۃ اللمعات ،و مرقاۃ المفاتیح میں علمائے کرام نے فرمایا ہے لیکن تکبر کے بغیر بھی عام حالت میں شلوار کا ٹخنوں سے نیچے ہونا مکروہ تنزیہی ہے اور خاص نماز کے لئے کپڑے فولڈ کرنے کی ممانعت ہے لیکن پینٹ کے بارے میں ہمارا یہ موقف ہے کہ عمومی طور پر اس کو جس طرح فولڈ کر کے پہنا جاتا ہے اس قدر فولڈ کرکے نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے تحریمی نہیں اور بہتر یہ ہے کہ نماز کے لئے اچھا لباس زیب تن کرنا چاہیے اور ایسا لباس ہو کہ اس کے پہننے سے کراہت تنزیہی و تحریمی دونو ں ہی نہ ہوں اس سوال کا جواب احکام شریعت تعارف و تمہید کے مضمون کے تبصرہ کے خانہ میں بھی درج ہے اوراگر آ پ کو اس بارے میں تفصیلی فتوی درکار ہو تو ای میل ایڈریس پر فتوی لکھ کر مسئلہ ارسال کریں |
|
|
By:
mufti muhammed bilal raza qadri,
Mirpurkhas
on
May, 13 2012
|
|
|
|
|
|
|
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بہن آپ نے جو سوال کیا ہے اس کو جواب جاننے سے پہلے پرندوں کی اقسام کا جاننا ضروری ہے کیونکہ ان کی بیٹ کے الگ الگ احکام ہیں تو پرندوں کی دو اقسام ہیں ۱۔ ایک وہ جو اونچا اڑتے ہیں۔ ۲۔ اور دوسرے وہ جو اونچا نہیں اڑتے ہیں ۔
پھرجو پرندے اونچا اڑتے ہیں ان کی دو اقسام ہیں ۱ ۔حلال پرندے ۲۔حرام پرندے
اونچا اڑنے والے حلال پرندے جیسے مرغابی ،کبوتر ،مینا ان کی بیٹ پاک ہے کپڑوں پر لگے تو دھونا ضروری نہیں لیکن بہتر ہے کہ دھو لے۔
اونچا اڑنے والے حرام پرندے باز ،چیل ،کوا وغیرہ ان کی بیٹ نجاست خفیفہ ہے یعنی کپڑوں یا بدن کے جس حصہ پر یہ نجاست لگی ہو تو اگراس کی چوتھائی سے کم ہے جیسے آستین پر لگی ہو تو آستین کی چوتھائی سے کم اور دامن پر لگے تو دامن کی چوتہائی کم ہےتو بغیر دھوئے ان کپڑوں میں نماز ہو جائے گی اور اگر اس عضو کی چوتھائی سے زائد نجاست لگی ہو تو بغیر پاک کئے ان کپڑوں میں نما ز نہیں ہو گی ۔
نیچے اڑنے والے پرندے جیسے مرغی ،بطخ ان کی بیٹ نجاست غلیظہ ہے یعنی اگر کپڑوں پر درہم کی مقدار جو کہ آج کل کے پانچ روپے کے سکہ کی مقدار ہے لگ جائے تو ان کپڑوں میں نماز نہیں ہوگی۔
خلاصہ کلام یہ کہ کپڑوں پر جب کسی پرندے کی بیٹ لگے گی تو دیکھا جائے گا کہ یہ کس پرندے کی بیٹ ہے اگر وہ پرندہ ایسا ہے کہ جس کو کھانا حلال ہے اور وہ اونچا بھی اڑتا ہے تو اس کی بیٹ کتنی ہی لگی ہو کپڑے پاک ہیں ہاں البتہ بیٹ سے انسان کو کراہیت آتی ہے تو اس کو بھی دھو لینا بہتر ہے ضروری نہیں اور اگر وہ بیٹ ایسے پرندے کی ہو کہ جس کو کھانا حلا ل نہ ہو اور وہ اونچا اڑتا ہو تو اس کی نجاست خفیفہ ہے مطلب یہ کہ اس صورت میں ہم یہ دیکھیں گے کہ بیٹ کپڑوں کے کس حصے پر لگی ہے اور کتنی لگی ہے تو مثلا وہ آستین پر لگی ہے اور آستین کی چوتھائی سے کم لگی ہو تو کپڑے پاک کئے بغیر بھی ان میں نماز ہو جائے گی اور اگر آستین کی چوتہائی جتنی یازائد ہو تو بغیر پاک کئے ان میں نماز نہیں ہوگی اور اگر وہ بیٹ ایسے پرندے کی ہے کہ جو نیچے ہی اڑتا ہے جیسے مرغی تو اب اگر بیٹ درہم کی مقدار جو کہ آج کل کے پانچ روپے کے سکہ کہ مقدار ہے لگی ہو تو بغیر پاک کئے ان کپڑوں میں نماز نہیں ہوگی اور درہم سے کم ہو تو پاک کئے بغیر بھی ان کپڑوں میں نماز ہوجائے گی
|
|
|
By:
mufti muhammed bilal raza qadri,
Mirpurkhas
on
May, 13 2012
|
|
|
|
|
|
|
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ محترمہ عینی صاحبہ بہن لیکوریا کی وجہ سے نکلنے والا مواد ناپاک ہے لیکن اس سے صرف وضو ٹوٹے گا غسل فرض نہیں ہوگا یعنی نہانے کی ضرورت نہیں ہاں نجاست بدن کے کسی حصے پر لگ جائے تو صرف بد ن کے اس حصے کو دھو لینا کافی ہے اورکپڑوں پر جہاں نجاست لگی ہو صرف اس کو پاک کرنے سے پورا کپڑا پاک ہوجائے گا پورے کپڑے کا دھونا ضروری نہیں لیکن اس بات کا خیال رکھیے گا کہ پاک کرتے وقت ناپاک کپڑوں سے لگ کر پانی کے ناپاک چھینٹے پاک کپڑوں پر نہ لگے ورنہ پاک کپڑے بھی ناپاک ہو جائیں گے ۔
|
|
|
By:
mufti muhammed bilal raza qadri,
Mirpurkhas
on
May, 13 2012
|
|
|
|
|
|
|
محترم مفتی صاحب السلامُ علیکم aik aur maslay ka jawab chaheay...
agar kisi kapray per koi prinda beet ker dy tu uss k leay kia Shara'ee masla hae?
جزاکم اللہ خیرا و احسن الجزاء
|
|
By:
Ansa,
Sialkot
on
May, 12 2012
|
|
|
|
|
|
|
Mufti Sahib ,Salam JazakALLAH .
|
|
By:
Sana,
Jhelum
on
May, 12 2012
|
|
|
|
|
|
|
Salam Mufti Sahib, bohat acha silsila hae ye ham musalmano ki deeni maloomat ka.ALLAH apko jaza de.
mera sawal ha k jisko sawal number 2 wala marz hoo tu kia ussko nahana paray ga aur agar ye k kapron per bilkul thora nishan hoo tu kia unhi kapron ko utni jaga se dho ker namaz pari ja sakti hae?
thank you.
|
|
By:
Ainee ,
BHX
on
May, 12 2012
|
|
|
|
|
|
|
محترم مفتی صاحب السلامُ علیکم bohta shukria itni details ka...dua hae k ALLAH Pak apko sahat,himmat dy aur aap issi tarah ham sab k leay Ilmi aur Shara'ai Masail ka hal btaty rahein,Aameen
جزاکم اللہ خیرا و احسن الجزاء
|
|
By:
Ansa,
Sialkot
on
May, 12 2012
|
|
|
|
|
|
|
محترم مفتی صاحب السلامُ علیکم
آپ نے کالم کے آخری پیرائے میں جس طرح احقر کے لئے نیک جذبات اور دُعائیہ کلمات سے نوازا ہے یہ میرے لئے کسی انعام سے کم نہیں اللہ کریم سے دُعا ہے کہ وہ آپ کے علم میں مزید اضافہ فرماتے ہُوئے دین و دُنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں عطا فرمائے۔
آپ نے جس طرح میری گُزارش پر اس سلسلہ بنام احکام شریعت کی شروعات کی ہیں اسکے لئے میں اپنی اور ہماری ویب کی جانب سے آپکا بے حد مشکور ہوں
اللہ کریم ہماری ویب ٹیم کو بھی اس سلسلے میں تعاون پر خُوب اجر عظیم عطا فرمائے |
|
|
By:
ishrat iqbal warsi,
Mirpurkhas
on
May, 12 2012
|
|
|
|
|
|
|
Alssalam-o-Alaikum JazakAllah, bahut acha silsila hai, Muhataram Mufti sb. aaj mujhay masjid main pant/patloon tukhnay say uper karnay kay lia kaha gaya, muhtaram Mufti sb. main nay Hazrat Molana Mufti Akmal sb aur Hazrat molana Mufti Ismial Noorani sb. say suna tha kay kapra, pant/patloon ka paincha fold karna Hamaray Hazrat Muhammad Sallallh ho alaih wasalam ko sakht na pasand tha, lihaza bagar fold kiy namaz ada kar lain, warna namaz duhrany hongay, Mufti sb. is masjid main ak fatwa bhee laga huwa hai, gis main likha hai kay namaz ada karnay say pahlay fold karlain, doran-e-namaz kuch na karain, Hazrat main ab muskil main hoon, pahlay main paincha fold kar kay namaz ada karta tha, magar jab say Mufti sb ka bian suna hai tab say main bagar fold kiay namaz ada karta hoon, kia mara ya amal durast hai? agar main kisi ko khata hoon to wo nahai manta, baray maharbani mari muskil hal formain, Allah Tala Aap ko jaza-e-Khair Uta Farmaiy (Aamin) Shams
|
|
By:
Muhammad Shamsul Abedin Ashrafi,
Karachi
on
May, 12 2012
|
|
|
|
|
|
|
وعلیکم السلام بہن جس کو لیکوریا ، آشوب چشم ،پیشاب کے قطرے وغیرہ کا مرض ہو یعنی کوئی ایسی بیماری ہو کہ جس کی وجہ سے پاکی حاصل کر کے نماز پڑھنا دشوار ہوجائے تو سب سے پہلے اس شخص کو معذور شرعی بننا ہوگا یعنی ایک پورے نماز کے وقت اس کو یہ مرض اس قدر لاحق رہا ہو کہ اس پورے وقت میں اس کے لئے وضو کرکے نماز پڑھنا ممکن نہیں رہا ہو تو جب ایسا ایک بار ہوجائے تو اب یہ شخص معذور شرعی کہلائے گا اب اس شخص کے لئے آسانی یہ ہوگی کہ اس مرض یعنی لیکوریا وغیرہ سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا بلکہ یہ لیکوریا کی نجاست کے نکلنے کے باوجود بھی پاک ہے اور اس حالت میں اب نماز پڑھ سکتی ہے لیکن اس کو ان باتوں کی احتیاط کرنی ہوگی ایک یہ کہ مرض کے علاوہ کوئی وضو ٹوڑنے والی چیز مثلا لیکوریا کی مریضہ کا پیشاب پاخانہ کرنے سے وضو ٹوٹے گا لیکوریا سے نہیں ٹوٹے گا دوم یہ کہ جن ایک نماز کا وقت ختم ہوجائے گا تو بھی وضو ٹوٹ جائے گا مثلا عصر میں وضو کیا تو اب مغرب تک لیکوریا کی مریضہ کا وضو لیکوریا سے نہیں ٹوٹے گا ہاں کوئی دوسری وضو توڑنے والی چیز پائی جائے گی تو وضو ٹوٹ جائے گا پھر مغرب کا وقت آتے ہی خود بخود وضو ٹوٹ جائے گا اگرچہ کہ کوئی نجاست نہ نکلی ہو مغرب کے لئے نیا وضو کرنا ہوگا
سوم یہ کہ ایک مرتبہ تو مرض کا پورے وقت میں ہونا ضروری ہے اور جب ایسا ایک بار ہوجائے تو اب ہر مرتبہ مرض کا اتنی شدت کا اعتبار نہیں ہوگا بلکہ اس کے بعد ہر وقت میں کم از کم ایک بار مرض کا پایا جانا ضروری ہے ورنہ معذور شرعی نہیں کہلائے گے یعنی معذور شرعی بننے کے بعد ہر نماز کے وقت صرف ایک بار بھی اگر لیکوریا آیا تو معذور شرعی ہی رہیں گی اور یہ آسانیاں باقی رہیں گی
اور اگر مرض تو ہے مگر اتنا شدید نہیں ہے کہ ایک پورے وقت کو گھیرے ہوئے ہو بلکہ لیکوریا کے نکلے بغیر پورے وقت میں وضو کر کے نماز پڑھنا ممکن ہو تو پھر شرعی معذور نہیں کہلائیں گے بلکہ اب وضو کر کے اور پاک کپڑے پہن کر نماز پڑھنا ضروری ہے اور لیکوریا کہ نکلنے سے وضو ٹوٹ جائے گا اور یہ آسانیاں حاصل نہیں
یہ بات یا د رہے کہ کپڑے پاک پہن کر نماز پڑھی جائے نجاست کے لگنے سے کپڑے ناپاک ہو جائیں گے البتہ اگر حالت یہ ہے کہ کپڑا پاک پہن کر نماز پڑھیں گے تو وہ بھی ناپاک ہوجائے گا کہ مرض میں شدت بہت ہے ایسی صورت میں دوسرے پاک کپڑے بدل کر نماز پڑھنا ضروری نہیں بلکہ انہی کپڑوں میں نماز ادا کرلیں نماز ہوجائے گی |
|
|
By:
mufti muhammed bilal raza qadri,
Mirpurkhas
on
May, 12 2012
|
|
|
|
|
|
|
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ محترمہ انسہ صاحبہ میری بہن آپ نے واقعی بہت اہم مسئلہ کی طرف توجہ دلائی ہے اللہ تعالٰی آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ہم اس سوال کو مضمون میں شائع کرتے مگر سوال ہمیں دیر سے ملا ۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ گھر والے کپڑے دھوتے وقت احتیاط نہیں کرتے ہیں اور ناپاک کپڑوں کو بغیر پاک کئے پاک کپڑوں کے ساتھ مشین میں دھو دیتے ہیں جس کی وجہ سے تمام کے تمام کپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں کپڑے پاک کرنے کا طریقہ اگر کپڑوں پر نجاست مرئیہ یعنی دیکھائی دینے والی نجاست جیسے پاخانہ ، خون ، گوبر وغیرہ ہو تو نجاست اور اس کے اثر کو دور کرنا ضروری ہے خواہ کتنی ہی بار دھویا جائے اور اگر نجاست تو دور ہوگئی ہے مگر اس کا اثر یعنی رنگ یابوابھی باقی ہے تو اس کو بھی دور کرنا ضروری ہے ہاں اگر اس کو اچھی طرح تین مرتبہ دھو لیا ہے مگر اب بھی اس کا اثر نہیں جارہا ہے تو مشقت کے ساتھ دور کرنا ضروری نہیں اس طرح کہ اس کو صابن یا کیمیکل سے دھویا جائے۔ بلکہ کپڑے پاک ہیں
اگر کپڑوں پر نجاست غیر مرئیہ یعنی وہ نجاست جو نظر نہیں آتی ہے جیسے پیشاب یا ناپاک پانی وغیرہ ہو تو اس کو تین مرتبہ دھویا جائے اور ہر مرتبہ اس قدر نچوڑا جائے کہ قطرے ٹپکنا بند ہوجائیں ہاں یہ بات یا د رہے کہ اگر اس سے زیادہ طاقتور شخص نچوڑے تو دو چار قطرے نکل آئیں گے تو اس طاقتور شخص کے حق میں یہ کپڑا ناپاک ہے۔
آسان طریقہ بہتے پانی یعنی نلکے وغیرہ کے نیچے ناپاک کپڑے کواس وقت تک رکھا جائے جب تک یہ غالب گمان نہ ہوجائے کہ نجاست دور ہوگئی ہے اور جب یہ غالب گمان ہوجائے کہ نجاست دور گئی ہے تو کپڑا پاک ہو گیا ہے ۔
دوسرا طریقہ بالٹی یا کسی برتن یا واشنگ مشین میں ہی ناپاک کپڑوں کو ڈال دیں اور پانی بھرنا شروع کردیں جب بالٹی وغیرہ کے کناروں سے پانی چھلکنا شروع ہوجائے پھر آپ کو یہ غالب گمان ہوجائے کہ پانی اب نجاست کو بہا کر لے گیا ہوگا تو اب یہ کپڑے پاک ہوگئے
البتہ یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ جب نجاست مرئیہ یعنی دیکھائی دینے والی نجاست ہوگی تو اس کے اثر کا دور ہونا ضروری ہے فقط گمان کا اعتبار نہیں ہوگا کہ جب ناپاکی کپڑوں پر نظر آرہی ہے تو یقینی سی بات ہے کہ کپڑوں پر نجاست موجود ہے ہاں اگر نجاست دور ہوگئی ہے مگر نجا ست کے کچھ ایسے اثرات ہیں کہ جو مشقت کے ساتھ ہی دور ہونگے یا کیمیکل یا صابن سے دور ہونگے جیسے خون کے اثرات انتہائی مشقت سے دور ہوتے ہیں تو اس صورت میں دوبارہ دھونے کی ضرورت نہیں بلکہ کپڑا پاک ہو چکا ہے اگرچہ کہ کپڑے پر نجاست کا اثر جیسے خون کا نشان نظر آرہا ہو کپڑے پاک کرتے وقت احتیاط یہ کرنی ہوگی کہ ناپاک پانی کے چھینٹے اڑ کر پاک کپڑوں پر نہ لگے ورنہ یہ ناپاک ہوجائیں گے |
|
|
By:
mufti muhammed bilal raza qadri,
Mirpurkhas
on
May, 11 2012
|
|
|
|
|