|
|
اسلام علیکم فاروق بھائی اس طرح نام وغیرہ لکھوانا جائز نہیں ہے ۔اللہ تعالٰی ہم سب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو اپنانے کی توفیق مرحمت فرمائے اور یہود و نصاری کے طریقے اپنائے سے محفوظ فرمائے آمین |
|
|
By:
mufti muhammed bilal raza qadri,
Mirpurkhas
on
May, 25 2012
|
|
|
|
|
|
|
AOA Sir, main na bazo par bazar say sf name lakwaya hay 15 saal pahla, es ka koi gonah ha ka nahi? thanks
|
|
By:
farooq,
Lahore
on
May, 23 2012
|
|
|
|
|
|
|
|
bohat bohat shukria muffti sahab ALLAH TALLAH APP KO HAMISHAN KHUSH RAKHY OR AYSY HI DIEN-E-MATTTIN KI KI KHIDMAT KI TUFEEQ AATA FARMAY.AMMEN
|
|
By:
SHAKIL AHMED,
KARACHI
on
May, 06 2012
|
|
|
|
|
|
|
|
AMEEN....... shukar hai ab hum ko koi peryshani ne hu gee g han un ky b comments prhay heain tabi tu hum beyhad khush heain .bhai sab bhai mufti muhammed bilal raza qadri say aghur koi deen islam ky bary mey koi sawal jawab ki zaroort hu hum ko kia un say hum pouch sakty heain wesay b mey parh kar beyhad khush huwa hun ky bhut acha samajhty b heain aur likhty b heain bas ALLAH TALA say dua hai ky ya ALLAH hum ko samjhney ki aor es par amal karney ki tufeeq ata farma .
|
|
By:
habib ahmed ,
hong kong
on
May, 02 2012
|
|
|
|
|
|
|
محترم حبیب صاحب، انسہ بہن اور کاشف بھائی آپ سب کی مُحبتوں کا بے حد شُکریہ اللہ کریم آپ سبکو اور مجھے بھی دین و دُنیا اور آخرت میں کامیابیاں نصیب فرمائے اور مفتی صاحب جو اپنا قیمتی وقت ہماری ویب پر خرچ کررہے ہیں اللہ کریم اِنہیں اسکی بہترین جزا عطا فرمائے اور انکے اخلاص۔ علم و عمل میں مزید برکتیں عطا فرمائے آمین بِجاہِ النبی الامین وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم |
|
|
By:
ishrat iqbal warsi,
Mirpurkhas
on
May, 02 2012
|
|
|
|
|
|
|
(۱)جی ہاں درست ہے ۔ اور یہ حکم ہر ایک کے لئے ہے اور اگر مالک خرچ کرنے کی اجازت دیدیں تو اس صورت میں جو مال خرچ کردیا جائیے گا وہ قرض ہوجائے گا اور پھر اس مال پر قرض کے احکام جاری ہونگے جیسا کہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں ’’ہاں چندہ دہندہ اجازت دے جائیں تو حرج نہیں ، اس حالت میں جب سیٹھ تصرف کرے گا روپیہ امانت سے نکل کر اس پر قرض ہوجائے گا جو عندالطلب دینا آئے گا اگرچہ کوئی میعاد مقرر کردی ہو‘‘۔ [فتاوی رضویہ جلد ۱۹ صفحہ ۱۶۶رضافاؤنڈیشن ] صورت مسؤلہ میں مسجد کمیٹی کو اس رقم کواس طرح تبدیل کرنے کی اجازت ہے جس سے مسجد کے چندہ میں کسی طرح کی کوئی کمی واقع نہ ہو اوریہ پیسوں کو تبدیل کرنے کا اختیار مسجد کمیٹی کو ہے کسی فرد واحد کو یہ حق حاصل نہیں اگرچہ کہ وہ مسجد کمیٹی کا ممبر ہو یعنی ان پیسوں کو تبدیل کروانا باہم مسجد کمیٹی کے مشورے و اجازت سے ہو اگرچہ کہ یہ رقم امانات میں سے ہے اور امانت میں امین پر لازم ہوتا ہے کہ وہ بعینہ اسی رقم کو لوٹائے اس کو تبدیل کرنے کااختیا ر نہیں ہوتا ہے جیسا کہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں ’’ثمن معاوضوں میں متعین نہیں ہوتے جبکہ معاوضوں کے ماسوا یعنی تبرعات، امانات اور غصبات میں متعین ہوجاتے ہیں ، ہبہ اور صدقہ تبرعات میں سے ہیں۔ [فتاوی رضویہ جلد ۱۷ صفحہ ۲۳۸رضافاؤنڈیشن ] ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتے ہیں ’’زر امانت میں اس کو تصرف حرام ہے۔ یہ ان مواضع میں ہے جن میں دراہم ودنانیر متعین ہوتے ہیں اس کو جائز نہیں کہ اس روپے کے بدلے دوسرا روپیہ رکھ دے اگر چہ بعینہٖ ویسا ہی ہو اگر کرے گا امین نہ رہے گا اور تاوان دینا آئے گا۔ [فتاوی رضویہ جلد ۱۹ صفحہ ۱۶۶رضافاؤنڈیشن ]
لیکن یہ مسئلہ اس صورت میں ہے کہ جب کوئی امین اس مال کو مسجد کے مصالح کے غیر میں اٹھا ئے یعنی اپنی ذا ت پر خرچ کرئے یا کسی اور کو دے یعنی جس کام میں مسجد کا کوئی تعلق وفائدہ نہ ہو اور پوچھی گئی صورت میں معاملہ ایسا نہیں ہے بلکہ ہمارے علاقوں میں اس بات پر عرف جاری ہے کہ جمعہ و عیدین پر جو چندہ ہوتا ہے مسجد کمیٹی اس چندہ میں حاصل ہونے والی ریزگاری اور چھوٹے نوٹوں کو بڑے نوٹوں میں تبدیل کردیتی ہے اور اگر وہ ریزگاری وچھوٹے نوٹ سو ،پچاس روپے سے کچھ کم ہوتے ہیں تو اپنی جیب سے کچھ روپیہ ملا کر ان چھوٹے نوٹوں کو بڑے نوٹ میں تبدیل کردیتی ہے تو یہ طریقہ درست ہے کہ یہ مسجد کے مصالح میں سے ہے اور اس پر عرف بھی جاری ہے لہذا یہ عرفا اجازت میں شامل ہے اور اگر مسجد کمیٹی کو مسجد کے مال کو مسجد کے مصالح میں خرچ کرنے کی اجازت ہے وگرنہ مسجد کمیٹی کبھی بھی مسجد کے مال کو خرچ ہی نہ کر سکے گی ۔
خلاصہ کلام یہ کہ مسجد کمیٹی کے ارکان جو چندہ کی رقم کو بڑے نوٹوں میں تبدیل کرتی ہے یا بینک میں جمع کروانے کی صور ت میں تبدیلی ہوجاتی ہے یہ جائز ہے۔ واﷲ اعلم بالصواب |
|
|
By:
Mufti Muhammed Bilal Raza Qadri,
mirpurkhas
on
May, 02 2012
|
|
|
|
|
|
|
وعلیکم السلام عابد بھائی اگر ایک ماہ کے اندر سالہ اپنے بہنوئی کے پاس نہیں گیا تھا جیسا کہ مذکور بھی ہے تو اس کے بعد وہ جب کبھی بھی اپنے والدین سے ملے یا والدین اس سے ملے گے تو اس شخص کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوجائی گی اور اگر اس طلاق سے پہلے بھی کوئی طلاق دی تھی تو وہ بھی شمار کی جائے گی مثلا اگر ایک طلاق پہلے دی ہوئی تھی تو اب دو ہوجائیں گی اور اگر پہلے دو طلاقیں دی ہوئی تھیں تو اب تین طلاقیں مکمل ہو جائیں گی اور یہ عورت اس مر د پر حرام ہوجائے گی تا وقتکہ حلالہ نہ ہوجائے حلالہ یہ ہے کہ وہ عورت اس طلاق کی عدت گزار کر کسی دوسرے شخص سے نکاح صحیح کرے پھر وہ دوسرا شخص اس سے ہمبستری بھی کرے پھر یا تو وہ طلاق دیدے یا پھر مر جائے پھر یہ عورت اس کی عدت مکمل کرے اب یہ عورت پہلے شوہر کے لئے حلال ہوجائے گی کہ وہ اس سے چاہے تو نکاح کر لے۔ بہر حال سوال میں یہ مذکور نہیں ہے کہ شوہر نے آیا پہلے طلاق دی ہوئی تھی یا نہیں اگر پہلے کوئی طلاق نہیں دی ہوئی تھی یا دو طلاق دی ہوئی تھی پھر والدین سے ملاقات ہوئی توپہلے طلاق نہ دینے کی صورت میں صرف ایک طلاق رجعی اورایک طلاق پہلے دینے کی صورت میں دو طلاق رجعی واقع ہوئی ہے یعنی یہ عورت اس کے نکاح میں باقی ہے نئے سرے سے نکاح کی ضرورت نہیں ہےاگر عدت میں رجوع نہیں کرے گا تو بھر یہ طلاق بائنہ ہو جائے گی یعنی یہ عورت اب نکاح سے نکل جائے گی اور پھر اسے نکاح میں لا نے کے لئے صرف نکاح کرنے کی حاجت ہوگی اور تعلیق(یعنی طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنا)کو باطل نہیں کیا جاسکتا ہے بہر صورت جب بھی پہلی بار ملاقات ہوگی تو ایک مرتبہ ضرور طلاق واقع ہوگی بہرحال اگر ابھی تک والدین سے نہیں ملے ہیں اور ملنا چاہتے ہیں تو اگر طلاق پہلے بالکل نہیں دی تھی یا ایک طلاق دی تھی تو ملاقات کرلیں لیکن یہ طلاق واقع ہوجائے گی۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب |
|
|
By:
Mufti Muhammed Bilal Raza Qadri,
mirpurkhas
on
May, 02 2012
|
|
|
|
|
|
|
|
ishrat iqbal ...bhai aslam o alikum ...bhai jaan aap ka yeh likha howa maeesage parh kr mujko bhut khushi howi ky aap aa gy heain hamari web par ..app bathoo ky aap ki tabiyat kise hai thehk hu meri dua hai ky ALLAH TALA aap ko jaldi seht yab kary aor esi tara hum ko aap ky likhy kalums milty rayhen ...jab aap mera yhe masge parhoo gy mery liye b dua karna ..sach mey bhai jaan aap ka name dekh kr hi mera dil khushi sae bagh bagh hu giya ..kafi arsey bahd aye hu .. apna khiyal rakhna .ALLAH HAFIZ ....
|
|
By:
HABIB AHMED ,
hong kong
on
May, 01 2012
|
|
|
|
|
|
|
| محترم مفتی صاحب السلام علیکم ۔میرے ایک عزیز نے کچھ گھریلو جھگڑا۔ناراضگی کیوجہ سے اپنے سسر سے کہا کہ ایک ماہ کے اندر اگر آپ کا بیٹا میر ے پاس آجائے تو ٹھیک ہے اگر اس دو ران نہیں آیاتو اسکے بعد وہ اپنے ماں باپ سے ملے یا ماں باپ اس سے ملےتو میری بیوی مجھ پر طلاق ھے ۔کچھ لوگوں کی موجودگی میں یہ الفاظ کہے گئے اسکی کوئی تحریر نہیں لکھی گئی ۔اس عرصے میں تو وہ نہیں آیا اپ تو ایکسال سے ذیادہ ھوگیا ۔۔۔ اب ماں باپ اپنے بیٹے سے اگر ملتے ھیں تو کیا طلاق ھو جائیگی۔۔۔دوسرا وہ شخص اگر اپنی شرط ختم کرنا چاہے تو اسکا کیا حل ھے |
|
|
By:
ABID HUSSAIN,
ABU DHABI
on
May, 01 2012
|
|
|
|
|
|
|
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ شکیل بھائی انسان جب کسی دعوت میں یا کسی تقریب میں یا کسی معزز شخص کے پاس جاتا ہے تو اس کی کوشش ہے کہ وہ اچھے سے اچھا لباس پہن کر جائے اوریہ بھی لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ تقریب کے لحاظ سے لباس زیب تن کیا جائے لیکن یہی لوگ جب نماز کے لئے اللہ رب العزت جو کہ خالق کائنات ہے کی بارگاہ بے پناہ میں حاضر ہوتے ہیں تو لباس کا خیال نہیں کرتے فرمان خالق کائنات عزوجل ہے يَا بَنِي آدَمَ خُذُواْ زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ. ’’اے اولادِ آدم! تم ہر نماز کے وقت اپنا لباسِ زینت اختیار کیا کرو۔’’ الاعراف، 7 : 31 لہذا جب نماز پڑھنے جائیں تو لباس صاف ستھرا ہو اور ایسا ہو کہ جس سے نماز میں کسی طرح کی کوئی کراہت تنزیہی و تحریمی نہ ہو ۔ کپڑے فولڈ کرکے نماز پڑھنے کو اللہ کے رسول علیہ الصلوۃ والسلام نے منع فرمایا ہے صحیح مسلم حدیث نمبر۱۰۷۶ بعض لوگ اس گمان سے کہ شلوار کو ٹخنوں سے اوپر ہونا چاہیےنماز کے لئے شلوار فولڈ کرتے ہیں ان کا یہ فعل مکروہ تحریمی ہے اور جو احادیث طیبات میں ٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکانے پر وعیدیں مذکور ہیں وہ تکبر کی صورت میں ہے کذا فی العمدۃ القاری واشعۃ اللمعات و مرقاۃ المفاتیح لیکن تکبر کے بغیر بھی عام حالت میں شلوار کا ٹخوں سے نیچے ہونا مکروہ تنزیہی ہے۔ اب آتے ہیں آپ کے سوال کی جانب جینز کی پینٹ جو کہ عموما فولڈ کرکے ہی پہنی جاتی ہے اور فولڈنگ ختم کرنے کی صورت میں پورا پاوں ہی پینٹ میں آجاتا ہےاور یوں پریشانی ہوتی ہے اس مسئلہ میں ہمارا مو قف یہ ہے کہ اس صورت میں عام حالت میں پینٹ جتنی فولڈ ہوتی ہے میں نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے مکروہ تحریمی نہیں ہے ۔واللہ تعالی اعلم بالصواب
|
|
|
By:
Mufti Muhammed Bilal Raza Qadri,
mirpurkhas
on
Apr, 30 2012
|
|
|
|
|
|
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب کیسے مزاج ہیں آپ کے؟ پر امید ہوں کہ آپ خیریت سے ہونگے۔مفتی صاحب ہماری ویب پرآپکی موجودگی باعث رحمت و برکت ہے،انشاء اللہ آپ کی موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم اپنے عقائدونظریات،اور شریعی معاملات کی اصلاح کی کوشش کریں گے ،مفتی صاحب اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ وقت نکال کر میرے ایک سوال کا جلد از جلد جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں سوال یہ ہے کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہم نے سنا ہے کہ ا گر کوئی صدقہ وغیرہ کی رقم مسجد وغیرہ کےلئے کسی شخص کودے تو اس شخص کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اس رقم کو خرچ کر کے اپنے پاس سے دوسری رقم دیدے تو کیا یہ درست ہے اور کیا یہ حکم مسجد کمیٹی والوں کے لئے بھی ہوگا اور مسا جد کاجمعہ و عیدین میں جو چند ہ کی رقم جمع ہوتی ہے کیا مسجد کمیٹی اس کو تبدیل کر سکتی ہے یا نہیں اس معنی میں کہ جو ریزگاری یا چھوٹے نوٹ (٥ ،١٠ کے نوٹ) چندے میں جمع ہوتے ہیں ان کو بڑے نوٹ (١٠٠،٥٠) سے تبدیل کرنے کا اختیار ہے یا نہیں |
|
|
By:
Arshad Madani,
karachi
on
Apr, 30 2012
|
|
|
|
|
|
|
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ کاشف بھائی آپ اور اپنے ان تمام احباب کا مشکور ہوں کہ جو علم دین کی اشاعت کے لئے سعی کر رہے ہیں اور علم کو نشر کرنے میں میرے معاون ہیں اللہ تعالی ہم سب کو دین متین کی حقیقی محبت عطا فرمائے اور دین کا خادم بنائے ۔ آپ نے جو طلاق کے متعلق سوال کیا ہے وہ مبہم ہے لہذا آپ یہ تفصیل بیان فرمائیں کہ آپ کے دوست نے طلاق کن الفاظ سے دی ہے اگر صرف طلاق بولا تھا تو اس وقت محل تھا اور جو تحریری طلاق نامہ ارسال کیا اس میں کتنی طلاق دی ہیں ۔بہرحال یہ بات قابل حفظ ہے کہ بیک وقت تین طلاق دی جائیں تو تینوں واقع ہوجاتی ہیں انہیں ایک طلاق سمجھنا فحش غلطی ہے۔
|
|
|
By:
Mufti Muhammed Bilal Raza Qadri,
mirpurkhas
on
Apr, 30 2012
|
|
|
|
|
|
|
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ عشرت اقبال بھائی جزاک اللہ خیرا اور اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ ہم سب کو علم دین سیکھنے کی توفیق مرحمت فرمائے ۔ اگر کسی شخص پر غسل فرض ہو ا اور اسے علم نہ ہوا اور اسی لا علمی کی حالت میں اس نے نماز بھی پڑھ لیی بعد نماز اس کو حالت جنب ہونے کا علم ہوا تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس نماز کو دوبارہ پڑھے جس کو اس نے بغیر طہارت ادا کیا تھا اور اس حالت میں نماز پڑھنا،قرآن پاک یا کسی آیت کریمہ کو ہاتھ لگانا جائز نہیں تھا مگر چونکہ اس کواپنے ناپاک ہونے کا علم نہیں تھا بھول میں اس سے یہ خلاف شرع کام ہوا لہٰذا اس پر کوئی گناہ یا کفارہ نہیں ہے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اللہ تعالٰی نے میری امت سے تین حالتوں میں ہونے والے خلاف شرع کام کو معاف فرمادیا ہے ۱۔غلطی سے ۲۔بھول سے۳۔یاجس خلاف شرع کام پر اسے مجبور کیا گیا ہو مصنف ابن ابی شیبہ حدیث نمبر۲۹۳۹۰ |
|
|
By:
Mufti Muhammed Bilal Raza Qadri,
mirpurkhas
on
Apr, 30 2012
|
|
|
|
|
|
|
Ma sha Allah, Wel come Mohtram Mufti sahib, Allah app ka hamari web per ilm e deen ka masial batana aur awam ka sheree masaial ko hal fermana AAPNI bargah main qabool fermai, Insha Allah zaroor ham aapna masial ka hal aap ke bargah sa pain gaa. Duaaon ke madni iltaja
|
|
By:
Ijaz Ahmad Attari,
Karachi
on
Apr, 29 2012
|
|
|
|
|
|
|
مُحترم مفتی صاحب السلامُ علیکم
Ham aam muslalmano k leay ILM seekhny ki ye waqai bohat hee achi kawish hae....ALLAH KAREEM apko aur hamari web ko bohat ajar dy jo iss naik kaam mei aagy aaye hein...jiss se hazaron logon ka bhala hoo ga InshaALLAH...
JAZAKALLAH..
aur Ishrat bhai apko b hamari web per dekh ker bohat khushi hoi...dua hae k aap ko ALLAH KAREEM sahat e Ajila Kamila aata fermaye,aur aap ka likha hoa b hamei perhy ko mily,Aameen
aap aur mufti sahib jaisay insaan tu asassa hein ham jaisay kam ilm logon ka.
bohat sari duaein...
|
|
By:
Ansa,
Sialkot
on
Apr, 29 2012
|
|
|
|
|
|
|
مُحترم مفتی صاحب السلامُ علیکم
چُونکہ آپ اپنا پہلا کالم طہارت کے حوالے سے لکھنا چاہتے ہیں اور واقعی ہُونا بھی چاہیئے تھا کہ روحانی اور جسمانی طہارت حاصل کئے بغیر کون اپنے رَبِ جلیل کی بارگاہ میں حاضر ہونا چاہے گا میں طہارت سے متصل ایک امکانی مسئلہ معلوم کرنا چاہتا ہُوں اُمید ہے جواب عنایت فرمائیں گے۔
سوال
اگر کوئی شخص جنب (ناپاکی) کی حالت میں بغیر غُسل کئے بھول سے نماز پڑھ لے یا قران مجید کو چھو لے یا کسی قرانی آیت کو جو کسی کتاب کی پیشانی پر موجود ہُو ایسی حالت میں اپنے ہاتھ سے اُٹھالے ۔ اور اُسے بعد عمل کے یاد آجائے کہ وہ ناپاکی کی حالت میں تھا۔
اور اب اپنی غلطی پر پشیمان ہُو تُو اُسے کیا کرنا چاہیئے ۔ فقہء حنفی کی روشنی میں جواب مرحمت فرمادیں شُکریہ آپکا خیر اندیش عشرت اقبال وارثی |
|
|
By:
ishrat iqbal warsi,
Mirpurkhas
on
Apr, 28 2012
|
|
|
|
|
|
|
لاشعور سے شعور کا سفر ،فکر سے تعمیل تک کا سفر،تدبر و تفکر کے معنی خیز نتائج علم کی روشنی ہی کی بدولت ممکن ہیں ۔علم دین انسانیت کی معراج ہے جس کے ذریعہ انسان اللہ عزوجل کی معرفت حاصل کرتا ،دین کی اساس(بنیاد) سے واقف ہوتا اور مقصد حیات سے آگاہی حاصل کرتاہے ۔علم عظمت و رفعت کی علامت ہے اور علم ہی کی بدولت اللہ عزوجل نے انسان کو دیگر مخلوقات پر فوقیت عطا فرمائی ۔کتاب وسنت میں دینی علم حاصل کرنے کی کافی ترغیب اور علماء کے مراتب عام امتیوں سے اعلیٖ و ارفع بیان ہوئے ہیں ۔ علم کی حفاظت و ذمہ داری اور تبلیغ و اشاعت کا فریضہ امت مسلمہ پر عائد ہے ، اس مناسبت سے ہمارا فرض ہے کہ دینی علوم میں دلچسپی لیں اور کتاب وسنت کے احکام و فرائض ،فقہی مسائل اور ضروریات دین کے متعلقہ امور سے کما حقہ بہرہ مند ہوکر تبلیغ دین کی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوں۔دینی علم سیکھنا اور سکھانا بہت معزز پیشہ ہے اور علم دین سے وابستہ افراد انتہائی قابل احترام ہیں ۔میں مفتی بلال صاحب کا بہت مشکور ہوں جنہوں کی بدولت ہماری ویب پر فقہی مسائل پر مبنی میدان بھی پر ہوگیا اور ہمیں علم دین حاصل کرنے کا اھم ذریعہ ہاتھ آگیا میں باری تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالٰی آپ کو استقامت عطا فرمائے اور ہمیں آپ سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمین یہی آرزو ہے کہ تعلیم قرآن عام ہوجائے ہر اک پرچم سے اونچا پرچم اسلام ہوجائے |
|
|
By:
ArshadMadani,
karachi
on
Apr, 28 2012
|
|
|
|
|
|
|
ماشاء اللہ، مفتی صاحب بہت ھی خوشی ھوئی آپ کو ہماری ویب پر دیکھ کر۔ امید ھے قرآن و سنت کی روشنی میں آپ سے بہت استفادہ ھوگا۔ اللہ عزوجل آپ کے درآجات بلند فرمائے۔ آمین۔
مفتی صاحب سے میرا پہلا سوال: میرے ایک دوست نے اپنی بیوی کو طلاق دی ( تین مرتبہ بیک وقت طلاق طلاق طلاق) کہا پھر اس کے بعد قانونی نوٹس بھی بھیجوایا۔ اس کے باوجود اب وہ اپنی بیوی کو صلح کرکے واپس لے آیا ھے ۔ کیا ایسا کرنا ناجائیز نہیں ھوگا۔ براہ کرم اس پر تعفصلا“ روشنی ڈال دیے۔
دعاؤں کی درخواست : خصوصا میرے محسن جناب عشرت اقبال بھائی کے لیے ۔ |
|
|
By:
Kashif Akram Warsi,
Lahore
on
Apr, 28 2012
|
|
|
|
|
|
|
ASSALMUALIKUM Mufti sahab NAMAZ MAIN agar paint shart pahni ho tu PAINCHY ANDAR YA BAHIR FOLD KARNA KR SAKTY HAIN.? MAIN TAKRIBAN 7 MONTHS SY ISS MASSLY MAIN BHASSA HOWA HON RAHNUMAI FARMA KAR MAHRBANI ARIN.
|
|
By:
shakil ahmed,
2564386
on
Apr, 28 2012
|
|
|
|
|
|
|
محترم مفتی صاحب السلامُ علیکم
آج آپکو ہماری ویب پر دیکھ کر جسقدر خُوشی حاصِل ہُوئی ہے وہ بیان کرنے سے شائد قاصر رہوں لیکن کم از کم دُوگنا خُوشی کا اظہار تو بیاں کر ہی سکتا ہُوں پہلی خُوشی تُو اَسلئے بھی کہ آپکا تعلق بھی میرپورخاص سے ہے اور ہماری ویب پر براہ راست لکھنے والے آپ پہلے مُفتی ہیں جبکہ دوسری خُوشی اس بات کی بھی ہے کہ آپ جیسے صاحِبان علم کی موجودگی میں مجھ جیسے گُنوارں کی اِصلاح کا بھی کُچھ سامان ہوجائے گا اور یہ میری دِلی خُواہش بھی تھی کہ ہماری ویب پر اے کاش کوئی ایسا صاحب علم بھی موجود رہے جو لوگوں کی تشنگی اور علمی جستجو کا کُچھ تدارک کرسکے اور الحمدُ للہ آج شکر کا مقام ہے کہ آپ نے بھی ہماری ویب کو جوائن کرلیا ہے انشاءَ اللہ عزوجل آپ کی برکت اور نظر کرم سے ہمیں یہاں بُہت کُچھ سیکھنے کا موقع میسر آئے گا سچ کہتا ہُوں کہ آپکی موجودگی سے ایسی خوشی حاصل ہو رہی ہے جیسے گویا میری نصف جسمانی بیماری رفع ہُوگئی ہُو اللہ کریم آپکا سایہ تا دیر ہمارے سروں پر قائم رکھے اور آپ ہماری ویب پر یونہی علم کے انمول موتی رضائے خُدا عزوجل اور رضائے مُصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر بکھیرتے رہیں۔
اور مجھے یہ اعزاز بھی حاصل ہو رہا ہے کہ یہاں سب سے پہلا کمنٹ اور سب سے پہلے خوش آمدید کہنے والا شخص بھی میں ہی رہا۔
آپ سے التجا ہے کہ دُعا فرمادیں کہ اللہ کریم ایمان اور عافیت نصیب فرمادے اور ایسی صِحت عطا فرمائے کہ لوگوں کی کُچھ خِدمت بھی کرسکوں اور ہماری ویب پر اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظوں کیساتھ پھر سے نمودار ہُوجاؤں |
|
|
By:
ishrat iqbal warsi,
Mirpurkhas
on
Apr, 27 2012
|
|
|
|
|