امام اہل سنت

اﷲ تعالیٰ نے دین قیم کی سربلندی وپاسبانی کے لئے ہر دور میں ایسے مردان حق پیدا فرمائے ہیں جنہوں نے خون جگر سے گلشن دین کی آبیاری کی اور اس کو سرسبز وشاداب رکھا اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:
''میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور وہ اپنے مخالفین پر غالب رہیں گے یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ کا حکم آپہنچے اور عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوجائیں''۔

حضرت علمائے حق کی اسی جماعت میں سے تھے جنہوں نے ساری زندگی دین کی نشرو اشاعت، اعلائے کلمة اﷲ اور قرآن مجید کا پیغام پوری امت تک پہنچانے کے لئے جدوجہد کی اور آخر میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے شہادت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوکر ایسی حیاتِ جاودانی حاصل کرلی جس کے بعد کوئی بھی مسلمان ان کو مردہ نہیں کہہ سکتا۔حضرت حیدری مجمع المحاسن تھے، اﷲ تعالیٰ نے ان کو زہدوتقویٰ، اخلاص و للّھیت، خشیتِ الہٰی، علم وعمل، فصاحت وبلاغت، جرأ ت وشجاعت، دینی غیرت وحمیت، اخلاق کریمانہ، ظالم اور جابر حکمرانوں کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنے کا حوصلہ اور دیگر بے شمار خوبیوں سے نوازا تھا۔، حضرت کے علم و فضل و کمال وکردار و جدوجہد کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ امام ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ کے علوم و معارف کے سچے عاشق و وارث تھے، وہ امام ربانی مجدد الف ثانی رحمة اللہ علیہ کے فکر و نظر کے ترجمان تھے۔ وہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے سچے جانشین تھے۔ وہ شیخ العالم مولانا محمود حسن دیوبندی رحمة اللہ علیہ کی سوچ و فکر کے ترجمان تھے۔ وہ صاحب کمال بھی تھے اور صاحب جمال بھی، وہ مولانا عبدالشکور لکھنوی کے علوم و معارف کے امین تھے۔وہ شیخ العرب والعجم حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمة اللہ علیہ کے تقویٰ و دیانت و امانت و ذہانت کے امین تھے۔ وہ متکلم اسلام مولانا علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمة اللہ علیہ کے کمال ذہن کا عکس تھے۔ وہ مجاہد اسلام شیر سرحد مولانا غلام غوث ہزاروی رحمة اللہ علیہ کی جرأت و بہادری اور دلیری کے مناد تھے۔ وہ متانت و سنجیدگی میں مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمود رحمة اللہ علیہ کے ترجمان تھے۔وہ قیادت وسیادت میں تمام سابقہ قائدین کے سچے جانشین تھے۔محسوس یوں ہوتا تھا کہ وہ قرون اولیٰ کے مسلمانوں کے قافلے کے بچھڑے ہوئے انسان ہیں، ان کو دیکھ کر اللہ والوں کی حقیقت دل میں راسخ ہو جاتی تھی۔ وہ بڑے شفیق اور خلیق انسان تھے، جو ان کی مجلس میں ایک دفعہ گیا، پھر وہاں ہی کا ہو کر رہ گیا، جب وہ مسکراتے تو پھول بکھیرتے۔

وہ ایک ماہر اور کامیاب مدرس تھے اور اس میدان میںانہوں نے ہزاروں تشنگان علوم کو سیراب کیا۔

وہ خطابت کے شہسوار تھے، علما کے مجمع میں علمی تقریر کرتے اور عوام کے مجمع میں ان کے فہم اور استعداد کے مطابق بیان کرتے، خاص طور پر جدید تعلیم یافتہ طبقہ ان کے بیانات سے بہت متاثر تھا۔ برمحل عربی، اردو اشعار پڑھنے کا ان کو ملکہ حاصل تھا۔ ان کی تقریر مدلّل، منضبط، عام فہم اور دلوں پر اثر کرنے والی ہوتی تھی اور کمال یہ ہے کہ اول سے آخر تک وہ موضوع سے اِدھر اُدھر نہ جاتے اور جتنا چاہتے اتنا بولنے پر قادر تھے۔وہ اپنے ہم عصر حضرات کا بھی احترام کرتے تھے،ان حضرات کا نام ادب و احترام سے لیا کرتے تھے، وہ ہم عصر حضرات کے حوالے بھی دیتے تھے، ان کی گفتگو میں مٹھاس اور لطف و کرم کی جھلک ہوتی تھی۔ وہ مشکل بات کو آسان طریقے سے بیان کرتے تھے۔ان کی بات طویل بھی ہوتی تو سننے والے پہ گراں نہیں گزرتی تھی، ان کی بات میں وزن ہوتا تھا ، وہ غیبت نہ کسی کی کرتے تھے اور نہ کسی کی غیبت سنتے تھے۔

مجھ جیسے ہیچ مدان کاحضرت کی خوبیوں اوران کے کمالات پرکچھ کہنا''جوئے شیربہانے ''اورسورج کوچراغ دکھانے کے مترادف ہے،مگرالامرفوق الادب کے تحت لکھ رہاہوں ۔حضرت کے علم وعمل ،قوت استدلال اوران پراکابر کے اعتماد کے حوالے سے حضرت کے شاگردِ خاص مولانامفتی عبدالرازق کاشمیری کے بیان کردہ چندواقعات ان کے شکریے کے ساتھ''شنیدہ کے بودماننددیدہ'' کے اصول کے تحت درج کیے جارہے ہیں،وہ رقمطرازہیں:
اللہ تعالیٰ نے میرے شیخ،امام اہل سنت ،قاطع رافضیت،ضیغم ِ اسلام حضرت اقدس علامہ مولانا حافظ علی شیرحیدری ا علی اللہ مقامہ کوعلم وفضل میں اعلیٰ مقام عطافرمارکھاتھا۔یوں توآپ کی ذات میں اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صفات ودیعت کررکھی تھیں،صبرواستقامت،ہمت وحوصلہ،غیرت ودینی حمیت ،ذہانت ومتانت،تدریس وخطابت اورقیادت وسیادت جیسے مختلف عناصرکویکجاکرکے ایک حسین وجمیل پیکرتراشا۔ان تمام اوصاف میں علم وعمل اورورع وتقویٰ کی صفات آپ میں ایسی کوٹ کوٹ کربھری تھیں،کہ اپنے تواپنے پرائے بھی ان صفات کے معترف تھے،بلکہ دشمن ان سے ہردم ہراساں بھی رہتاتھا۔

آپ کے علم کی گہرائی اورلاجواب وبے نظیرقوت ِ استدلال کا اندازہ اس واقعے سے بخوبی لگایاجاسکتاہے کہ:
ایک مرتبہ بریلویوں کی شیعوں سے بحث ہوئی،فریق اول کاکہناتھا کہ شیعہ کلمے میں اضافے کے مرتکب ہیں ،جبکہ فریق ثانی کااپنے دفاع میں بریلویوں پریہ الزام تھاکہ وہ اذان میں اضافے کے مرتکب ہیں،جس کی دلیل کے طورپرانہوں نے اذان ِ فجرکوپیش کیاکہ تم نے اس میں ''الصلوٰة خیرمن النوم''کا اضافہ کیاہے،جوقرآن سے ثابت نہیں،اس پربریلوی مناظرنے بلاسوچے سمجھے کہہ دیاکہ یہ الفاظ قرآن سے ثابت ہیں۔یہ سننا تھا کہ شیعوں نے شورمچادیاکہ آئندہ تاریخ طے کرکے اسی عنوان پرمناظرہ کیاجائے،چنانچہ تاریخ طے ہوگئی۔

بعدمیں بریلویوں نے ٹھنڈے دل سے غورکیا توانہیں اپنی شکست صاف نظرآنے لگی،ان کی صفوں میں کھلبلی مچ گئی،بالآخربریلوی علمانے مناظرہ نہ کرنے کافیصلہ کیا،کیونکہ موضوع ہی غلط طے ہواتھا۔کسی نے تاریخ طے کرنے والوں کومشورہ دیاکہ اس شرمندگی سے بچنے کے لیے حضرت اقدس علامہ مولانا حافظ علی شیرحیدری سے رجوع کرو،وہ کوئی حل نکال لیں گے۔بریلوی احباب کویک گونہ اطمینان ہوا،انہوں نے حضرت سے رابطے شروع کردیے اورملاقات کرکے انہیں تمام احوال بتائے اور تعاون کی درخواست کی۔ان کی گفتگوسن کرحضرت نے فرمایاکہ یہ عنوان اورموضوع ہی غلط ہے،جس پرمناظرہ نہیں ہوسکتا۔یہ دیکھ کرانہوں نے بڑی منت سماجت کی اوراپنے احباب نے بھی حضرت سے باصراردرخواست کی کہ:حضرت!سنیت کا مسئلہ ہے،آپ اس مناظرہ کابوجھ اٹھالیجیے۔خلاصہ یہ کہ حضرت نے ہامی بھرلی۔

بریلویوں نے اشتہارلگادیے کہ اہل سنت کی طرف سے مناظرامام اہل سنت علامہ مولانا حافظ علی شیرحیدری ہوں گے۔جب اس بات کی اطلاع شیعہ مناظرین کوپہنچی توان کے چھکے چھوٹ گئے،ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑگئے۔انہوں نے راہ فراراختیارکرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی اوراعلان کردیاکہ ہم ہرگزمناظرہ نہیں کریں گے۔ہرچندکہ انہیں سمجھایاگیاکہ ''الصلوٰة خیرمن النوم''قرآن میں نہیں ہے،آپ مناظرہ کریں ،فتح آپ کامقدرہوگی۔مگران کاکہناتھا کہ کچھ بھی ہو،ہم مناظرہ نہیں کریں گے کیونکہ علامہ علی شیرحیدری کا علم اورقوت استدلال اس قدرمضبوط ہے کہ وہ ''الصلوٰة خیرمن النوم''کوقرآن سے ثابت کرہی دیں گے۔

قارئین کرام!آپ نے اندازہ لگایا دشمن بھی آپ کی علمیت اورقوت استدلال کاکس قدرمعترف اورآپ سے ہراساں تھا!

حضرت کے علم وفضل کاایک اورواقعہ قارئین کی نذرکرتے ہیں:
ایک مرتبہ کاواقعہ ہے کہ کراچی میں ایک شیعہ خاتون نے اپیل کی کہ میرے کچھ اشکالات ہیں ،اگران کو دورکیا جائے تو میں مسلمان ہونے کے لیے تیارہوں ۔اس خاتون سے بات کرنے کے لیے ایک جیدعالم دین کاانتخاب کیا گیا،جوعلوم دینیہ وعصریہ کے ماہر،محقق ومدبراورمایہ نازمصنف وخطیب بھی تھے،انہوں نے بڑے احسن اندازسے اس کے اشکالات سنے اورتسلی بخش جوابات دیے،لیکن اس عورت کے کچھ اشکالات ایسے تھے کہ ان کے جوابات سے اس خاتون کی تسلی وتشفی نہ ہوسکی۔آخرمیں انہوں نے ایک تاریخ سازجملہ ارشادفرمایاکہ :یہ میرے علم کانقص ہے،میرے مذہب کے جھوٹے ہونے کی علامت نہیں ۔اس کے بعدعلمانے باہمی مشورے سے حضرت علامہ حیدری کواس حوالے سے خیرپورسے تشریف لانے کی درخواست کی ،حضرت تشریف لائے اوراس خاتون کے تمام اشکالات کے تسلی بخش جوابات دیے۔

کراچی اورملک کے دوسرے شہروں میں جیدعلماومناظرین کی کمی نہیں تھی،لیکن اس کے باوجودعلامہ حیدری کاانتخاب اکابرکے ان پراعتمادکی بین دلیل اوران کے علم وفضل کابھی واضح اعتراف ہے۔

ورع وتقویٰ میں بھی آپ اپنی مثال آپ تھے۔ہم نے سن رکھاتھا کہ بڑے لوگوں سے دوررہ کرہی ان سے حقیقی محبت وعقیدت قائم رہتی ہے اورجتنی ان سے قربت بڑہتی اوران کے روزوشب سامنے آتے ہیں ،عقیدت ومحبت اورپارسائی کا یہ بھرم ٹوٹ جایاکرتاہے،لیکن واللہ العظیم ہم نے اپنے حضرت کوقریب سے دیکھا،سفرتوحضرمیں ان کے ساتھ رہنے کا بارہاموقع ملا، خوشی وغمی میں ،اپنوں اوربیگانوں میں غرضیکہ ہرحال میں دیکھااورہمیشہ ہمیں آپ کے ورع وتقوے کی ایک عجیب ہی شان نظرآئی،معمولات کی پابندی…نمازپنجگانہ ہی نہیں ،تہجدتک کا اہتمام…تلاوت کلام مجیدسے رطب اللسان…استقامت وعزیمت…صبروتحمل…یہ اوصاف آپ میں ہمہ وقت جلوہ گردیکھے۔ہم نے آپ کوجب بھی جامعہ حیدریہ میں دیکھا،کسی نہ کسی دینی وعلمی مشغولیت میں دیکھا،جامعہ میں پہرے کے دوران ہم دیکھتے کہ حضرت تہجد کے بعدجامعہ میں بے خوف وخطرچکرلگارہے ہوتے تھے،حالاں کہ آپ کوجیدعلمائے کرام نے کہہ رکھاتھا کہ احتیاطاًفجراورعشاکی نمازیں بھی گھرپرادافرمایاکیجیے،مگراصحاب ِ رسول کے اس شیرکی جراء ت کایہ عالم تھا کہ جامعہ میں موجودہوتے توہرنمازصف ِ اول میں اداکرتے اورتہجدکے بعدبھی جامعہ کاچکرلگاتے تھے۔سفرمیں عام طورپربڑی تھکاوٹ ہوجاتی ہے اورشریعت نے بھی قصرنمازکی سہولت رکھی ہے،مگرحضرت سفرمیں بھی اعمال میں کوئی کمی نہ کیاکرتے تھے۔رمضان المبارک میں سندھ وپنجاب کے اسفارمیں مسلسل پروگرامات کی وجہ سے حددرجہ تھکاوٹ ہوجاتی تھی،ایسے ہی ایک سفرکاواقعہ ہے ،ہم علامہ طارق محمودمدنی صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قیام پذیرتھے،عشاکی نمازکاوقت ہوگیا،سب کاخیال تھا کہ حضرت صرف نمازِ قصرادافرمائیں گے،کیونکہ مسلسل اسفاروبیانات اورنیندکی وجہ سے آپ کی آنکھیں سرخ ہوگئی تھیں،مگرفرضوں کے بعدحضرت نے آگے بڑھ کرخودتراویح کی نماز کی امامت فرمائی،یہ دیکھ کرہم حضرت کی اس ہمت پرحیران رہ گئے۔

ان تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ حضرت کو اﷲ تعالیٰ نے محبوبیت بھی عطا فرمائی تھی جو بہت کم کسی کو نصیب ہوتی ہے، علما وطلبہ اور عوام الناس، بوڑھے اور جوان سب ان سے محبت کرتے تھے۔حضرت مفتی صاحب کی شہادت سے کسی ایک خاندان یا ادارے یا کسی ایک شعبے کو نہیں بلکہ دین کے تمام شعبوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔بلاشبہ ان کی شہادت کے بارے میں کہا جاسکتا ہے:
وما کان قیس ھلکہ ھلک واحد
ولکنہ بنیان قوم تھدما

دشمن نے ہم سے ہمارے محبوب قائدورہنما کوچھین کر ہمیں یتیم کردیاہے،مگریہ اس کی بھول ہے کہ اس طرح وہ حق کی آوازکوخاموش کرسکے گا۔شہادت اسے معلوم نہیں کہ علامہ حیدری جامعہ حیدریہ کے متخصصین کی شکل میںباطل کونکیل ڈالنے کے لیے ایک نہیں سینکڑوں حیدری تیارکرکے گئے ہیں،جوان کی طرزپرہرمیدان میں باطل کا ناطقہ بندکرتے رہیں گے۔ان شاء اللہ تعالیٰ
M Jehan Yaqoob
About the Author: M Jehan Yaqoob Read More Articles by M Jehan Yaqoob: 251 Articles with 368777 views Researrch scholar
Author Of Logic Books
Column Writer Of Daily,Weekly News Papers and Karachiupdates,Pakistanupdates Etc
.. View More