|
|
کامران صاحب آپ کی کرم نوازی کاشکریہ |
|
|
By:
ali raza,
karachi
on
Jul, 06 2012
|
|
|
|
|
|
|
بہت شکریہ کامران بھائی
عرصے بعد آپ کا کوئی تبصرہ دیکھنے کو ملا، اور وہ بھی اس ناچیز کی تائید میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرحت و طمانیت سے دل معمور ہو گیا۔ امید کرتا ہوں آپ کی علمی تحریریں جلد دیکھنے کو ملیں گی۔
جزاک اللہ
|
|
|
By:
Ahmad,
Lahore
on
Jul, 04 2012
|
|
|
|
|
|
|
بھائی علی رضا اور بھائی احمد ۔۔۔۔۔۔ السلام علکیم ورحمتہ اللہ و برکاتہ ،
ماشاءاللہ عزوجل بہت خوب انداز میں آپ دونوں بھائی حق کی برتری کو حبیب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں ثابت کررہے ہیں۔ اللہ کریم اپنے حبیب لبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل آپ کی محنتوں کو قبول فرمائے۔ آمین
جزاک اللہ خیرا کثیرا ۔۔۔۔ والسلام |
|
|
By:
Kamran Azeemi,
Karachi
on
Jul, 04 2012
|
|
|
|
|
|
|
احمد بھائی شکریہ آ پ نے بالکل بجا فرمایا بس اب جب بھی میرا تفریح کا موڈ ہوگا تو بابر صاحب کے کمنٹ پڑھ لیا کروں گا شکریہ |
|
|
By:
ali raza,
karachi
on
Jun, 30 2012
|
|
|
|
|
|
|
پیارے دوست علی رضا!
مجھے امید ہے کہ آپ کو "جانبدار" اور "غیر جانبدار" کے مابین فرق تو بخوبی معلوم ہو گیا ہو گا۔ لہذا آئندہ کوئی سوال کرنے سے پرہیز ہی کیجئے گا۔
باقی جہاں تک تعلق ہے بابر تنویر صاحب کا، تو ان کی باتوں کو سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں۔ میں انہیں قریباً گزشتہ ڈیڑھ برس سے یہی سب کچھ کرتے دیکھ رہا ہوں۔ اور اس بات کی فکر بھی آپ بالکل نہ کریں کہ بابر تنویر کی وجہ سے کوئی یہاں لڑے گا۔ یہ بیچارے تو صرف اپنی ناکام حسرتوں کی تکمیل کی خاطر سرگرداں ہیں۔ اور حالت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ کل تک جو کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے، آج اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنے کے بجائے دوسروں کے سہارے ڈھونڈنے پر مجبور ہیں۔ لیکن کیا کریں، قسمت ہی خراب ہے کہ جو بھی داؤ استعمال کرتے ہیں کمبخت الٹا ہی پڑتا ہے، جس پر بیچارے ہر مرتبہ کچھ عرصے کے لیے تو سکتے کی سی کیفیت میں چلے جاتے ہیں۔ لیکن "استقامت" ایسی کہ جونہی کچھ افاقہ ہوا یہ پھر سے اگلی حماقت کے لیے فوراً تیار۔
اب یہیں دیکھ لیجئے، انہوں نے ایک شعر پیش کر کے امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کو جھٹلانے کی کوشش کی، لیکن جنہیں اپنا ہمنوا سمجھ کر گواہی طلب کی، ان کے اکابرین کا نظریہ ملاحظہ فرمائیے
جامع الفتاوی جلد 1 صفحہ 102 پر ایک سرخی قائم ہے "معراج میں رویت باری تعالیٰ کے متعلق علمائے دیوبند کا مسلک" سوال۔ معراج میں رویت باری تعالیٰ کے متعلق علماء احناف کا کیا مسلک ہے؟ مولانا تھانوی، مولانا نانوتوی، مولانا شیخ الہند، مولانا حسین احمد مدنی و دیگر علماء حاضرہ رویت کے منکر ہیں یا قائل؟
جواب۔ اس مسٔلہ میں اختلاف واقع ہوا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ رویت کا انکار کرتے ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ایک جماعت رویت کی قائل ہے۔ علامہ انور شاہ کشمیری بظاہر رویت کے قائل ہیں "ولقد راہ نزلۃ اخری" کی تفسیر ملاحظہ ہو۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے دیگر مشائخ کا بھی یہی مسلک ہے، تلاش کرنے پر تصریحات بھی مل سکتی ہیں (بحوالہ خیر الفتاویٰ ج 1 صفحہ 77)
اگرچہ یہ فتویٰ اس ضمن میں کافی تھا، لیکن سوچا کہ ایک آدھ تصریح بھی تلاش کر کے پیش کر دی جائے۔ لہذا تفسیر معارف القرآن میں محمد ادریس کاندھلوی صاحب نے زیر آیت 13 سورہ النجم اس مسٔلہ پر تفصیلی بحث کی ہے جس میں نبی کریم علیہ السلام کے معراج کے موقع پر دیدار الٰہی کے بارے میں مختلف اقوال نقل کیے گئے ہیں۔ ان اقوال کے مطابق حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما رویت باری تعالیٰ کے قائل نہیں، جبکہ قائلین کے بارے میں ہے لکھا ہے کہ
"لیکن اس کے بالمقابل ایک جماعت صحابہ میں سے اس بات کی قائل تھی کہ شب معراج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رویت خداوندی حاصل ہوئی ہے اور یہ قرب اور تدلی حق تعالیٰ کے قرب اور تدلی پر، جیسے بھی اس کے شان کے لائق ہو، محمول ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس، انس ابن مالک اور حسن بصری اسی کے قائل تھے کہ رویت بصریہ ہوئی ہے اور ان کے علاوہ صحابہ اور تابعین کے طبقہ میں بھی متعدد حضرات رویت باری تعالیٰ کے قائل تھے (رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)"۔
صحابہ و تابعین کے اقوال اثبات رویت باری میں نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ انور شاہ کشمیری صاحب اور شبیر احمد عثمانی صاحب کی رائے یہ ہے کہ معراج میں نبی کریم علیہ السلام کو رویت باری تعالیٰ ہوئی ہے۔
ملاحظہ فرمایا آپ نے۔ بابر صاحب کو یہ بھی معلوم نہیں کہ رویت کے مسئلے میں فاضل بریلوی کے خلاف جن کی حمایت طلب فرما رہے ہیں، اگر وہ ان کی تصدیق کر دیں تو خود ان کے اپنے اکابرین پر فرد جرم عائد ہو جاتی ہے۔ عرض یہ ہے کہ جب نیتوں میں فتور ہوں تو نتیجے ایسے ہی نکلا کرتے ہیں۔
اب آپ زیادہ مسکرائیے نہیں، کیونکہ جب تک بابر صاحب اس فورم پر موجود ہیں، اس قسم کی مضحکہ خیز صورتحال آپ کو اکثر دیکھنے کو ملتی رہے گی۔
|
|
|
By:
Ahmad,
Lahore
on
Jun, 27 2012
|
|
|
|
|
|
|
|
جزاک اللہ خیرا و احسن الجزاء بھائ ناصر نعمان۔ آپ نے مختصرا اور جامع انداز سے اپنی بات کی وضاحت فرمائ۔ اللہ تعالی سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین! ۔
|
|
By:
Baber Tanweer,
Karachi
on
Jun, 27 2012
|
|
|
|
|
|
|
ناصر جی جواب بن نہیں رہا کیا؟ جواب تو یدیں اور ذرا اس مقام کی نشاندہی فرمائیں کہ جہاں آپ پر علامء نے یہ لکھا ہو کہ زمین وآسمان کا کل غیب ثابت کرنا شرک ہے ایک عبارت ہی دیکھاو ایسی کوئی عبارت ہی پیش نہیں کی بس آپ نے موڑ تڑوڑ کے عبارتیں پیش کیں اور یہ ہی ثابت کیا کہ کل علم غیب اللہ کا خاصہ ہے پھر اس کو شرک کہا تو جناب میرا سوال بھی یہی ہے کہ قیامت کے علم کے بارے میں بھی تو علماء نے اسی طرح کہا ہے جواب دو اور وہ واضح عبارتیں تو پیش کرو اور بابر جی کیوں ہر جگہ فتنہ پھیلاتے ہو اس کے علاوی کوئی کام نہیں ہے کیا |
|
|
By:
ali raza,
karachi
on
Jun, 27 2012
|
|
|
|
|
|
|
محترم بابر بھائی ...جہاں تک تو احمد صاحب کے اسلوب کا تعلق ہے تو عرض یہ ہے کہ ہمیں مختلف جگہوں پر کافی تلخ تجربہ ہے کہ لوگ جذبات میں آکر کس طرح کا رویہ اختیار کرتے ہیں اور حتی کہ ایسے ایسے القابات سے نوازتے ہیں کہ بس نہ پوچھیے ۔۔۔۔۔اس لحاظ سے تو ہم احمد صاحب کے ممنون ہیں کہ انہوں نے پھر بھی اپنا رویہ بہتر رکھا . اور جہاں تک لوح محفوظ اور مسئلہ علم غیب میں مماثلت کے تعلق کی بات ہے تو بھائی یہاں مماثلت صرف اس حد تک ہے کہ ان حضرات کے دعوی میں” کائنات کے ذرے ذرے"کا ذکر آتا ہے اور اسی طرح قرآن پاک میں لوح محفوظ میں” ذرے ذرے کی تفصیل موجود"ہونے کا ذکرآیا ہے۔۔۔۔باقی یہ حضرات کھینچ تان کر اپنا مدعا ثابت کرنے کے لئے صرف اسی مماثلت (یعنی ذرے ذرے کی خبر) کو اپنے دعوی کے ساتھ جوڑے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔۔اور دلیل یوں پیش کرتے ہیں کہ لوح محفوظ میں جو کچھ لکھا ہے اس کی تفصیل قرآن پاک میں ہے۔۔۔۔۔ یعنی ابتداءسے لے کر انتہائے کائنات تک کے ہر ہر ذرے کا بیان قرآن پاک میں موجود ہے اور جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم قرآن پاک کے عالم ہیں ۔۔۔۔۔اس طرح رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو کلی علم غیب کی عطاءہوئی ؟؟؟ حالانکہ اگر یہ حضرات صرف اسی چیز پر غور کرلیں تو ان کی یہ غلط فہمی (قرآن پاک میں لوح محفوظ کی تفصیل ہے) باآسانی دور ہوسکتی ہے ۔۔۔۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : لِكُلِّ أَجَلٍ كِتَابٌ ﴿٣٨﴾ يَمْحُو اللَّـهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ ۖ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ الخ رعد38،39 پارہ 13 (ترجمہ :ہر مقرر وعدے کی ایک لکھت ہے ،اللہ جو چاہے نابود کردے اور جو چاہے ثابت رکھے ،لوح محفوظ اسی کے پاس ہے ) ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سال بھر کے امور مقرر کر دئیے لیکن اختیار سے باہر نہیں۔ جو چاہا باقی رکھا۔جو چاہا بدل دیا۔سوائے شقاوت ،سعادت ،حیات و ممات کے،کہ ان سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے ان میں تغیر نہیں ہوتا۔ مزید لکھتے ہیں کہ منصور نے حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا کہ ہم میں سے کسی کا یہ دعا کرنا کیسا ہے کہ الٰہی میرا نیکوں میں ہے تو باقی رکھ اور اگر بدوں میں ہے تو اسے ہٹا دے اور نیکوں میں کردے۔آپ نے فرمایا کہ یہ اچھی دعا ہے۔ سال بھر کے بعد پھر ملاقات ہوئی یا کچھ زیادہ عرصہ گذر گیا تو میں نے ان سے پھر یہی بات کہی تو آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ ﴿٣﴾ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ الخ دخان3،4 پارہ25 (ترجمہ:بے شک ہم نے نازل کیا ہے اسے ایک برکت والی رات میں اس لئے کہ ہم (لوگوں کو )متنبہ کرنا چاہتے تھے۔اس رات میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر پرو حکمت کام کا) اور فرمایا کہ لیلتہ القدر میں سال بھر کی روزیاں ،تکلیفیں مقرر ہوجاتیں ہیں۔پھر اللہ جو چاہے مقدم وموخر کرتا ہے۔ہاں ثقاوت اور سعادت کی کتاب نہیں بدلتی۔ ابن کثیر رحمہ اللہ مزید لکھتے ہیں کہ ہر رمضان میں تجدید ہوتی ہے۔پھر جو اللہ چاہتا ہے مٹادیتا ہے جو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے ،روزی بھی تکلیف بھی ،دیتا ہے اور تقسیم بھی۔ اورمسند احمد کی حدیث میں ہے کہ ”بعض گناہوں کی وجہ سے انسان اپنی روزی سے محروم کردیا جاتا ہے اور تقدیر کو سوائے دعا کے کوئی چیز میں بدل سکتی اور عمر کی زیاتی کرنے والی بجز نیکی کے کوئی چیز نہیں“(مسند احمد:5۔277) ”بعض گناہوں کی وجہ سے انسان اپنی روزی سے محروم کردیا جاتا ہے “کے علاوہ باقی حدیث دوسری اسناد کے صحیح ہے۔(ابن ماجہ:کتاب المقدمہ ،باب فی القدر ،ح:90 (ایضاً)(نسائی) حاصل کلام یہ کہ اللہ تعالیٰ لوح محفوظ میں لکھی تقدیر جو چاہے لکھتا ہے جو چاہے مٹاتا ہے۔ جبکہ یہ حضرات اپنے دلائل سے یہ تو ثابت کرنے کی کوشش تو کرتے ہیں کہ ”قرآن پاک میں لوح محفوظ کی تفصیل ہے اور ہر ہر ذرے ذرے کا بیان ہے“ لیکن سوال یہ آتا ہے کہ پھر لوح محفوظ میں لکھی اور مٹائی جانے والی تقدیر قرآن پاک میں کیسے ثابت کریں گے ؟؟؟؟ امید ہے کہ اگر یہ حضرات اس مختصر وضاحت پر ہی غور فرمالیں تو یہ غلط فہمی بھی باآسانی دور ہوسکتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاءفرمائے ۔آمین |
|
|
By:
Nasir Noman,
Karachi
on
Jun, 26 2012
|
|
|
|
|
|
|
وہ میں نے آپ کے سامنے رکھا ہے کے خاصہ خدا تو علماء نے قیامت کے علم کو بھی کہا اور پھر یہ بھی کہا کہ یہ علم اللہ نے اپنے نبی کو دیا تو آپ کا کیا جواب ہے
جناب علی رضا صاحب فتنہ میں نہیں آپ پھیلایا کرتے ہیں۔ قرانی آیات کو جھٹلا کر۔ سورہ الملک کی ان آیات پر غور فرمائیں۔ يَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿٢٥﴾ قُلْ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِندَ اللَّـهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ ﴿٢٦﴾ اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب ہو گا اگر تم سچے ہو (25) کہہ دو اس کی خبر تو الله ہی کو ہے اور میں تو صاف صاف ڈرانے والا ہوں (26) ذرا ان آیات پر غور کرو اور دیکھو کہ اللہ قران میں تو فرماتا ہے یہ قیامت کا علم تو اللہ تعالی کو ہے۔ اس کے علاوہ اس کوئ بھی نہیں جانتا اور آپ فرما رہے ہیں کہ نبئ کریم کو بھی قیاقت کا علم تھا۔ اور فتنہ تو وہ پھیلاتا ہو جو کہ قران اور صحیح احادیث کو جھٹلاتا ہے۔ اور آپ انہیں میں سے ایک ہیں۔ |
|
|
By:
Baber Tanweer,
Karachi
on
Jun, 26 2012
|
|
|
|
|
|
|
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا))) (((((جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود
محترم جناب ناصر نعمان صاحب بھائ آپ سے ایک اور بات کی وضاحت چاہتا ہوں ۔ وہ یہ کہ مضمون مین پیش کردہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے فرمان کی روشنی میں یہ فرما دیجیۓ کہ کیا شاعر نے اپنے آپ کو جھوٹا تو نہیں ثابت کردیا۔ کیونکہ ام المؤمنین فرما رہی ہیں کہ کو آپ عالم الغیب مانے وہ جھوٹا ہے اور جو یہ کہے کہ آپ نے اللہ تعالی کو دیکھا ہے وہ بھی جھوٹا ہے۔ وضاحت پر آپ کا شکر گذار رہوں گا۔ |
|
|
By:
Baber Tanweer,
Karachi
on
Jun, 26 2012
|
|
|
|
|
|
|
کہہ دو میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس الله کے خزانے ہیں اور ((نہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں)) اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے کہہ دو کیا اندھا اور آنکھوں والا دونوں برابر ہو سکتے ہیں کیا تم غور نہیں کرتے (50) تم فرمادو میں تم سے نہیں کہتا میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور (((نہ یہ کہوں کہ میں آپ غیب جان لیتا ہوں))) اور نہ تم سے یہ کہوں کہ میں فرشتہ ہوں میں تو اسی کا تا بع ہوں جو مجھے وحی آتی ہے تم فر ماؤ کیا برابر ہو جائیں گے اندھے اور انکھیا رے تو کیا تم غور نہیں کرتے، (50) محترم جناب ناصر نعمان صاحب اوپر میں نے سورہ انعام کی آیت نمبر 50 کے دو تراجم پیش کیۓ ہیں۔ میری آپ سے درخواست ہے اگر ممکن ہو تو یہ واضح کردیجیۓ کہ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ" کا درست ترجم کونسا ہے اور کیوں۔ میرا دوسرا سوال آپ سے یہ ہے کہ اگر دوسرا والا ترجم درست ہے تو کیا " أعلم الغيب" کا ترجمہ کچھ ایسے نہین ہونا چاہیۓ " میں آپ غیب جان لیتا ہوں" آپ کا بہت بہت شکریہ۔ |
|
|
By:
Baber Tanweer,
Karachi
on
Jun, 25 2012
|
|
|
|
|
|
|
بابر میاں آپ ہر جگہ آکر فتنہ پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں اس کالم پر میرے خیال سے احمد بھائی اور ناصر صاحب دونوں ہی مہذب انداز میں گفتگو کر رہے ہیں بعض اوقات دونوں ہی جانب سے سخت جملے استعمال ہوئے ہیں مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ یہاں نا شائستگی اختیار کی گئی ہے اب آپ یہاں پر بھی اس قسم کی فتنہ پرور گفتگو اور دو شخصوں کو لڑانے کی ناکام کوشش نہ کریں برائے مہربانی مسلمانوں میں نفرتیں عام نہ کریں کچھ تو خیال کرو اور آخر میں ناصر صاحب سے یہ ہی عرض ہے کے وہ اگرچہ میرے سوال کو تعصب کی نظر سے سیکھ رہے ہیں مگر ناصر جی میں نے آپ کے ایک اہم اصول کی بنیاد کی طرف توجہ دلائی ہے اگر میں نے غلط کہا ہے تو میری نشاندہی فرما دیں کیونکہ آپ نے اپنی پوری بحث کا جو مرکز اور بنیاد جس بات کو بنا یا ہے جس کو ایک عام قاری بھی سمجھ جائے گا وہ یہ ہے کہ خاصہ خدا ثابت کرنے کی وجہ سے بریلوی حضرات شرک میں مبتلا ہے تو اس بنیاد پر ایک اعتراض تھا وہ میں نے آپ کے سامنے رکھا ہے کے خاصہ خدا تو علماء نے قیامت کے علم کو بھی کہا اور پھر یہ بھی کہا کہ یہ علم اللہ نے اپنے نبی کو دیا تو آپ کا کیا جواب ہے اور آپ سے اس بات پر معذرت کے میں درمیان گفتگو میں آیا جو کہ آپ کو نامناسب لگی حالانکہ میرے علاوہ بھی کئی حضرات آئے مگر آپ کو برا نہیں لگا |
|
|
By:
ali raza,
karachi
on
Jun, 25 2012
|
|
|
|
|
|
|
| محترم جناب ناصر صاحب سب سے پہلے تو یہ عرض کر دوں کہ اس طرح با مہذب گفتگو کرنا جناب احمد صاحب کا اسلوب نہیں ہے جس کا ثبوت آپ کو اسی کالم کے ابتدائی کمنٹس میں آپ کو مل جاۓ بہر حال ان کے آخری کمنٹس میں آپ کو ان کے اسلوب کی ایک ہلکی سی جھلک مل جاۓ گی۔ ایک سوال میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ کیا آپ کو احمد صاحب کی پیش کی گئی لوح محفوظ والی مثال اور علم غیب مین کوئ مماثلت نظر آتی ہے۔ اگر کوئ مماثلت ہے تو میری معلومات کے لیۓ بیان کردیجیۓ۔ |
|
|
By:
Baber Tanweer,
Karachi
on
Jun, 24 2012
|
|
|
|
|
|
|
علی رضا صاحب ۔۔۔۔۔ اگر آپ مخالفین کی بات سرسری طور پر پڑھنے کے بجائے توجہ سے پڑھنے کی عادت ڈال لیں گے تو ان شاء اللہ تعالیٰ آپ کو جواب نہ ملنے کا گلہ اگر ختم نہیں تو کم ضرور ہوجائے گا۔ قارئین کرام کے لئے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔ ہم آپ کو دئیے گئے پچھلے جواب میں واضح کرچکے ہیں کہ کوئی بھی غیر جانبدار دوست کو مسئلہ کو سنجیدگی سے سمجھنے کے لئے جس اشکال کی وضاحت درکار ہوگی ان شاء اللہ تعالیٰ ہم واضح کرنے کی کوشش کریں گے |
|
|
By:
Nasir Noman,
Karachi
on
Jun, 23 2012
|
|
|
|
|
|
|
| ناصر جی فقط ان عبارتوں کی بھی وضاحت کردیں تاکہ عوام کے علم میں اضآفہ ہوجائے |
|
|
By:
ali raza,
karachi
on
Jun, 23 2012
|
|
|
|
|
|
|
| ناصر نعمان صاحب آپ نے جواب دینے کے بجائے الٹا الزام لگا دیا خیر مجھے آپ سے کیا توقع رکھنی ہے لیکن آپ مجھے بے شک جواب نہ دیں مگر یہ بات آپ کے ذہن میں ہونا چاہیے کے میں نے جس بات کی طرف اشارہ کیا ہے وہ ضرور ایک اہم بات ہے اور قارئین ضرور یہ چاہیں گے کہ آپ اس کا جواب دیں ورنہ آپ کتنے ہی دلائل دیدیں لوگ سمجھے گے کہ آپ حق کے بجائے اپنا مدعا ثابت کرنا چاہتے ہیں |
|
|
By:
ali raza,
karachi
on
Jun, 22 2012
|
|
|
|
|
|
|
جی ناصر صاحب!
لیجئے میں تصحیح کیے دیتا ہوں کہ اس مرتبہ بھی میں ہی غلط تھا اور آپ ہمیشہ کی طرح صحیح۔ اب ٹھیک ہے؟
|
|
|
By:
Ahmad,
Lahore
on
Jun, 22 2012
|
|
|
|
|
|
|
قابل احترام احمد بھائی آپ کے دعوی کی تفصیل کو پیش کرنے کا ہمارا مقصد حیرانگی کے اظہار کے لئے نہیں تھا .......بلکہ ہم نے تو واضح طور پر قارئین کرام کو نشادہی کی ہے کہ آپ حضرات کے دعوی کی حقیقت کیا ہے اور دلائل کس نوعیت کے ہیں .... اور دعوی اور دلیل میں کیا تضاد ہے ......اور کیا آپ کے دلائل آپ کے دعوی سے مطابقت رکھتے ہیں بھی یا نہیں??? نہ جانے آپ کو ہمارے کن لفظوں نے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ہم حیرانگی کا اظہار کررہے ہیں?? .بحرحال ہمیں امید ہے کہ آپ تصحیح فرمالیں گے .جزاک اللہ |
|
|
By:
Nasir Noman,
Karachi
on
Jun, 21 2012
|
|
|
|
|
|
|
ناصر جی میں نے موضوع سے ہٹ کر کوئی بات کی ہو تو آپ کا اعتراض بجا تھا اسی طرح آپ نے درمیان میں احمد بھائی کے علاوہ دو تین لوگوں کو بھی جوبات دییے تھے تو پھر مجھے کیوں جواب دینے سے آپ کترا رہے ہیں اور درحقیقت میں اپ دونو ں کے مابیں آکر بحث کو طول نہیں دینا چاہت اویسے بھی بہت ہی طویل گفتگو ہو چکی ہے ناصر جی مجھے آپ صرف یہ بیان کردیں کے خاصہ خدا میں شریک تو ان علماء نے بھی کیا جن کے میں نے نام بحوالہ تحریر کئیے ہیں عوام آپ سے پوچھنا چاہیتی ہے کے آپ یہ بتا دیں کے کیا یہاں بھی شرک کا حکم ہے یا نہیں ؟ جواب ضرور دیان ورنہ عوام سمجھے گی کے شاید آپ کے پاس جواب ہین نہیں اور میں میں اب بھی یہ بات نہیں کر تا مگر جب آپ ایہ سمجھنے لگیں ہیں کہ آپ نے بات مکمل کر لی ہے اور اہل حق نے کوئی جواب نہیں دیا ہے تو میرے ذہن میں اٹھنے وا لا اایک سوال تھا وہ میں نے آپ سے کرلیا ہے ورنہ تو احمد بھائی نے ہی اتنے پیارے جوابات دیے ہیں کے مجھے کچھ لکھنے کی حاجت نہیں تھی مگر شاید بعض لوگوں کی عقلیں موٹی ہوتی ہیں انہیں آسانی سے سمجھ نہیں آتا اس لئے میں نے آپ کی توجہ اس طرف مبذول کرائی ہے شکریہ اور آخر میں اگر میری کوئی بات بری لگی ہو تو معذرت خواہ ہوں |
|
|
By:
ali raza,
karachi
on
Jun, 21 2012
|
|
|
|
|
|
|
اس وہم یا اعتراض کا نئے سرے سے جواب دینے کی تو مجھے ضرورت نہیں، البتہ ایک لطیفہ اس ضمن میں یاد آ رہا ہے جسے ہدیہ قارئین کرتا ہوں۔فریق مخالف کے معتبر اشرف علی تھانوی صاحب کے افادات پر مشتمل کتاب بنام جواہر حکیم الامت کی جلد 2 صفحہ 105 اور 106 پر ایک دلچسپ واقعہ درج ہے، جو کچھ اس طرح سے ہے کہ قاسم نانوتوی صاحب سے ایک مرتبہ دیانند سرستی نامی غیر مذہب نے سوال کیا کہ "مسلمان کہتے ہیں کہ لوح محفوظ میں اول خلقت سے قیامت تک کے تمام واقعات لکھے ہوئے ہیں اور واقعات تو لاتعداد و لا تحصی ہیں تو وہ کتاب بہت ہی بڑی ہو گی، پھر وہ رکھی کہاں جاتی ہو گی؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مولانا نے اس کا جلدی جواب نہیں دیا بلکہ ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے کہ لالہ جی! آپ کی کتنی عمر ہے؟ اس نے کہا ستر برس کی۔ مثلاً پوچھا کہاں کہاں تعلیم حاصل کی ہے کیا کیا پڑھا ہے؟ اور آپ کو اپنے بچپن کے واقعات بھی کچھ یاد ہیں؟ اس نے بیان کیاکہ میں نے پہلے وہاں تعلیم حاصل کی پھر وہاں اور میں نے اتنی کتابیں دیکھیں اور اتنی کتابیں پڑھیں۔ اور میں نے اتنے سال سیاحت کی۔مولانا نے پوچھا کہ یہ سب واقعات آپ کو یاد ہیں؟ کہا ہاں۔ اور بچپن کے واقعات بھی بہت یاد ہیں اور جوانی کے اور سیر و سیاحت و تعلیم وغیرہ کے واقعات تو گویا اس وقت میرے سامنے ہیں۔ غرض اس نے اپنے حاٖفظہ کی بہت تعریف کی۔ مولانا نے پوچھا کہ یہ سب واقعات آپ کو محفوظ ہیں؟ اس نے بڑے دعوے سے کہا، جی ہاں، بجنسہ سب محفوظ ہیں۔ اب مولانا نے فرمایا کہ لالہ جی! اس ذرا سے دماغ میں جو ایک بالشت سے بھی کم ہے، ستر برس کے واقعات اور کتابوں کے مضامین اور لوگوں کی باہمی تقریریں اور ابحاث کس طرح سما گئے؟ اس پر وہ خاموش ہو گیا۔ مولانا نے فرمایا کہ لوح محفوظ کی نظیر تو خود آپ کے اندر موجود ہے، آپ کا دماغ، پھر حیرت ہے کہ آپ لوح محفوظ پر یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ کہاں رکھی جاتی ہو گی؟ آپ کو کبھی اپنے دماغ پر شبہ نہ ہوا کہ اس ذرا سے دماغ میں اس قدر بے شمار واقعات و مضامین کس طرح محفوظ رہتے ہیں"۔
قارئین نے ملاحظہ فرمایا کہ ایک غیر مذہب کو جب لوح محفوظ کے بارے میں شک لاحق ہوا کہ اس میں اتنی کثیر اشیاء اور واقعات کا اندراج کیسے ہو سکتا ہے؟ تو نانوتوی صاحب نے اسے سمجھانے کے لیے انسانی دماغ کی مثال پیش کی کہ دیکھو اگر ایک چھوٹے سے دماغ میں یہ سب باتیں سما سکتی ہیں تو پھر لوح محفوظ میں کیوں نہیں آ سکتیں، اور اس پر وہ بے دین مطمئن بھی ہو گیا۔ جبکہ آج انہیں نانوتوی صاحب کے ایک نام لیوا باوجود لوح محفوظ میں ان تمام اشیاء و واقعات کے مندرج ہونے کو تسلیم کرنے کے اس بات پر وحشت میں مبتلا ہیں کہ ان اشیاء کا علم انسانی قلب یا ذہن میں کیسے سما سکتا ہے؟ اور قلب بھی کس کا؟ محمد مصطفی علیہ الصلوۃ والسلام کا؟ اسی کو کہتے ہیں الٹی گنگا بہنا۔ ولاحول ولا قوۃ الا باللہ۔
یہی نہیں، یہ جو اربوں کھربوں کے الفاظ کی بناء پر ناصر صاحب کے رونگٹے کھڑے ہو رہےہیں اور دل کی دھڑکنیں اتھل پتھل ہوئی جاتی ہیں، ہمارے نزدیک تو یہ سب علوم مصطفوی علیہ السلام کے دفتروں کی محض ایک سطر ہے۔ تو کل علوم مصطفی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کے تصور سے کہیں خدانخواستہ جناب کا جگر ہی چاک نہ ہو جائے۔
اور یہ بھی اچھا "خاصہ خدا" ہے کہ ان تمام براعظموں، جنگلوں، پہاڑوں، صحراؤں، زمین کی گہرائیوں، آسمان کی وسعتوں، لاکھوں، کروڑوں، اربوں، کھربوں مخلوقات و حادثات و واقعات کا ذکر ایک کتاب میں سما جائے تو اس "خاصہ" پر کوئی آنچ نہ آئے، لیکن اگر اس سب کو قلب مصفطفیٰ کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم میں القاء مانا جائے تو شرک اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ ثابت ہو جائے۔ اچھی قدر کی جا رہی ہے رب قدیر کی "ذاتی" صفات و خصوصیات کی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
اس سے پہلے کہ ناصر صاحب کی طرف سے ایک مرتبہ پھر گلہ پیش کیا جائے کہ میں ہر بار کی طرح اس مرتبہ بھی ان کے استدلال وغیرہ کو نہیں سمجھ پایا اور نہ جانے کیا سوچ کر چند حروف لکھ کر اسے جواب سمجھ بیٹھا، میں خود ہی اعتراف جرم کیے لیتا ہوں کہ میرا یہ "عجیب و غریب" جواب آپ کے دلائل قاہرہ کے سامنے پرکاہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتا۔ بلکہ یہ تو محض قارئین کی ضیافت طبع کے لیے ایک لطیفہ پیش کیا گیا تاکہ لوگ قائل بیشک نہ ہوں، کم از کم کچھ دیر کے لیے مسکرا ہی لیں۔ لیکن آپ پرواہ نہ کیجئے اور بدستور بغض و تعصب کی ہلکی آنچ پر سلگتے رہئے، کہ یہی آپ کا انتخاب ہے۔
آخر میں اپنے غیر جانبدار دوستوں اور بظاہر فریق مخالق کے ہم مسلک لیکن معتدل رائے کے حامل حضرات سے معذرت خواہ ہوں کہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس گفتگو نے ایسا رخ اختیار کیا جو اسے نہیں کرنا چاہئے تھا۔ مجھے اندازہ ہے کہ آپ حضرات کے لیے یہ سب کوفت کا باعث ہو گا۔ ہو سکے تو وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے درگزر فرما لیجئے گا۔ میں بھی کوشش کروں گا کہ جو کچھ لکھا جا چکا، اسے کافی سمجھتے ہوئے مزید اضافے سے گریز کیا جائے، چاہے مخالف کی بات کتنی ہی بری لگے اور جواب دینے پر اکسائے۔ دعا کیجئے اللہ تعالیٰ ہمت و استقامت عطا فرمائے۔
|
|
|
By:
Ahmad,
Lahore
on
Jun, 20 2012
|
|
|
|
|