ہر بدعت گمراہى ہے

(Khalid Mahmood, Bahawalpur)

بدعت كى تعريف:

دين ميں ايجاد كردہ نيا طريقہ جس پر عمل كرنے سے اجر و ثواب اور اللہ كا قرب حاصل كرنا مقصد ہو يہ بدعت كہلاتا ہے.

اس كا معنى يہ ہوا كہ وہ طريقہ نہ تو شريعت ميں وارد ہے اور نہ ہى اس كى كتاب و سنت ميں كوئى دليل پائى جائے اور نہ ہى وہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور صحابہ كرام كے دور ميں پايا جاتا تھا، تعريف سے يہ بھى واضح ہوتا ہے كہ دنياوى ايجادات شرعى طور پر مذموم بدعت ميں شامل اور داخل نہيں ہونگى.

رہا سائل كا اشكال ميں پڑنا اگر تو سائل كا مقصد ابو ہريرہ اور جرير بن عبد اللہ رضى اللہ تعالٰى عنہما كى حديث ميں تعارض ہے تو ہم سائل سے عرض كرتے ہيں كہ آئيں ہم ان احاديث كى نص اور اس كى شرع كو ديكھتے ہيں:

جرير بن عبد اللہ البجلى رضى اللہ تعالٰى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس كسى نے بھى كوئى اچھا طريقہ بنايا اور اس پر عمل كيا جانے لگا تو اسے اور اس پر عمل كرنے والے سب كو بغير كسى كمى كے اجروثواب حاصل ہو گا، اور جس كسى نے بھى كوئى شر اور برا طريقہ ايجاد كيا اور اس پر چلا جانے لگا تو اسے اور اس پر عمل كرنے والوں كو بغير كسى كمى كے گناہ ہو گا "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 2675 ) امام ترمذى نے اس حديث كو حسن صحيح كہا ہے.

اس حديث كى كوئى مناسبت اور قصہ ہے جو قولہ : جو كوئى اچھا طريقہ ايجاد كرتا ہے " كى وضاحت كرتا ہے، وہ قصہ صحيح مسلم كى حديث ميں جرير بن عبد اللہ ہى كى روايت سے مروى ہے وہ بيان كرتے ہيں:

" كچھ اعرابى رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئے اور انہوں نے اون پہنى ہوئى تھى جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ان كى يہ برى اور پراگندہ حالت ديكھى كہ وہ تنگ دست اور ضرورتمند ہيں تو آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے لوگوں كو صدقہ و خيرات پر ابھارا، تو لوگوں نے اس ميں سستى اور دير كى حتٰى كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے چہرہ مبارك سے اس كا اظہار ہونے لگا.

راوى بيان كرتے ہيں: پھر ايك انصارى صحابى چاندى كى ايك تھيلى لايا اور پھر ايك دوسرا صحابى اور پھر سب نے ان كى پيروى كى حتٰى كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے چہرہ سے خوشى و سرور ٹپكنے لگا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس كسى نے اسلام ميں كوئى اچھا طريقہ جارى كيا اور اس پر بعد ميں عمل ہونے لگا تو اس كے ليے بھى اس پر عمل كرنے كے برابر اجر لكھا جائيگا اور كسى كے اجروثواب ميں كوئى كمى نہيں كى جائيگى.

اور جس كسى نے اسلام ميں كوئى برا طريقہ جارى كيا اور بعد ميں اس پر عمل كيا جانے لگا تو اس كے ليے اس پر عمل كرنے والے كے برابر گناہ لكھا جاتا ہے اس ميں كوئى كمى نہيں كى جاتى "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1017 ).

اور اس كى مزيد وضاحت نسائى كى روايت ميں ہے:

جرير بن عبد اللہ رضى اللہ تعالٰى عنہ بيان كرتے ہيں كہ ہم رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس دن كے نصف ميں بيٹھے ہوئے تھے كہ كچھ لوگ ننگے پاؤں ننگے بدن آئے انہوں نے گردنوں ميں تلواريں حمائل كى ہوئى تھيں ان ميں سے اكثر افراد مضر قبيلہ كے تھے، بلكہ سب ہى مضر كے تھے تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جب ان كے فقر و فاقہ كى يہ حالت ديكھى تو آپ كا چہرہ متغير ہو گيا، آپ اندر داخل ہوئے اور پھر باہر نكلے اور بلال رضى اللہ تعالٰى عنہ كو اذان كا حكم ديا اور نماز كى اقامت كہى آپ نے نماز پڑھائى اور پھر لوگوں سے خطاب فرمايا:

لوگو اپنے پروردگار كا تقوى اختيار كرو جس نے تمہيں ايك ہى جان پيدا كيا اور اس سے اس كى بيوى كو پيدا كيا اور ان دونوں سے بہت سارے مرد اور عورتيں پھيلائے، اور اس اللہ كا تقوىٰ اختيار كرو جس كے نام پر تم سوال كرتے ہو، اور صلہ رحمى كرتے ہو، يقينا اللہ تعالٰى تمہارا نگہبان ہے، اور اللہ كا تقوىٰ اختيار كرو، اور ہر جان ديكھے كہ اس نے كل كے ليے كيا آگے بھيجا ہے، آدمى كو اپنے دينار اور اپنے درہم اور كپڑے اور گندم اور كھجور كے صاع سے صدقہ كرنا چاہيے حتٰى كہ آپ نے فرمايا: چاہے وہ آدھى كھجور ہى صدقہ كرے.

تو ايك انصارى شخص تھيلى لايا اس كى ہتھيلى اس سے عاجز آ رہى تھى بلكہ عاجز ہو چكى تھى، پھر لوگ اس كى پيروى كرنے لگے حتٰى كہ ميں نے غلہ اور كپڑوں كے دو ڈھير ديكھے اور ميں نے ديكھا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا چہرہ لہلانے لگا گويا كہ وہ سونا ہو، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس كسى نے بھى اسلام ميں كوئى اچھا طريقہ جارى كيا تو اس كو اس كا اور اس پر عمل كرنے والے كا بھى اجرثواب حاصل ہو گا اس كے اجر ميں كوئى كمى نہيں كى جائيگى، اور جس كسى نے اسلام ميں كوئى برا طريقہ جارى كيا تو اسے اس كا اور اس پر عمل كرنے والے كا گناہ ہو گا اس ميں كوئى كمى نہيں ہو گى "

اسے امام نسائى نے مجتبى نسائى كتاب الزكاۃ باب التحريض على الصدقۃ ميں روايت كيا ہے.

اس قصہ اور مناسبت سے يہ واضح ہوا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے فرمان:

" جس كسى نے اسلام ميں كوئى اچھا طريقہ جارى كيا "

كا معنى يہ ہوا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت كا احياء كيا يا اس كى طرف راہنمائى كى يا اس پر عمل كا حكم ديا يا اس پر عمل كيا تا كہ لوگ اس كى اقتدا كرتے ہوئے اسے ديكھ كر يا سن كر اس سنت پر عمل كرنے لگيں.

اور اس پر درج ذيل حديث بھى دلالت كرتى ہے، ابو ہريرہ رضى اللہ تعالٰى عنہ بيان كرتے ہيں ايك شخص نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آيا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ( صدقہ كرنے ) پر ابھارا، ايك شخص كہنے لگا ميں اتنا ديتا ہوں، تو مجلس ميں كوئى شخص بھى نہ بچا جس نے اس آدمى پر صدقہ نہ كيا ہو چاہے وہ تھوڑا تھا يا زيادہ، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس كسى نے بھى كوئى اچھا طريقہ جارى كيا اسے اس كا پورا اجر ديا جائيگا اور ان كا اجر بھى جنہوں نے اس پر عمل كيا ان كے اجر ميں كوئى كمى نہيں كى جائيگى "

سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 204 ).

اوپر جو بيان ہوا ہے اس سے وہ كچھ واضح ہوتا ہے جس سے شك كى كوئى مجال نہيں رہتى كہ اس سے يہ مراد ہو سكتا ہو كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے دين ميں بدعت كو جائز قرار ديا يا پھر بدعت حسنہ كا دروازہ كھولا جيسا كہ لوگوں كا خيال ہے، اس ليے درج ذيل امور بيان ہوئے ہيں:

1 - نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم بار بار تكرار كے ساتھ ہر خطبہ جمعہ اور عيد كے خطبہ ميں يہ بيان فرمايا كرتے تھے:

" ہر نيا كام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہى ہے اور ہر گمراہى آگ ميں ہے "

اسے نسائى نے باب كيف الخطبۃ صلاۃ العيدين ميں روايت كيا ہے، اور مسند احمد ميں جابر رضى اللہ تعالٰى عنہ سے اور ابو داود ميں عرباض بن ساريہ اور ابن ماجہ ميں ابن مسعود رضى اللہ تعالٰى عنہم سے مروى ہے.

اس حديث ميں شاہد " ہر گمراہى آگ ميں " ہے.

جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم خطبہ ارشاد فرماتے تو آپ يہ كہتے:

" اما بعد: يقينا سب سے بہتر كلام اللہ كى كتاب اللہ ہے، اور سب سے بہتر طريقہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم كا ہے، اور سب سے برے امور نئے ايجاد كردہ ہيں، اور ہر بدعت گمراہى ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 867 ).

تو جب ہر بدعت گمراہى ہے تو اس كے بعد يہ كيسے كہا جا سكتا ہے كہ اسلام ميں كوئى بدعت حسنہ بھى ہے، اللہ كى قسم يہ تو صريحا اللہ كے نبى صلى اللہ عليہ وسلم كےفرمان و فيصلہ كے مخالف ہے.

2 - اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے تو يہ بتايا ہے كہ جس نے بھى دين ميں كوئى نيا كام اور بدعت ايجاد كى تو اس كا عمل تباہ اور مردود ہے، اسے اللہ تعالٰى قبول نہيں فرمائيگا، جيسا كہ درج ذيل حديث ميں وارد ہے:

عائشہ رضى اللہ تعالٰى عنہا بيان كرتى ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس كسى نے بھى ہمارے اس دين ميں كوئى ايسا كام ايجاد كيا جو اس ميں سے نہيں تو وہ مردود ہے "

صحيح بخارى بمع فتح البارى حديث نمبر ( 2697 ).

تو پھر اس كے بعد كسى شخص كے ليے بدعت كو جائز كہنا اور اس پر عمل كرنا كس طرح جائز ہو سكتا ہے.

3 - بدعتى شخص جو دين ميں كوئى ايسا كام اضافہ كرتا ہے جو دين ميں نہ تھا اس كے اس فعل سے كئى ايك برائياں لازم آتى ہيں جو ايك ايك بڑھ كر ہيں. مثلا:

- دين كے ناقص ہونے كا الزام، اور يہ كہ اللہ نے اس كى تكميل نہيں كى، اور اس ميں زيادتى كى مجال ہے حالانكہ يہ درج ذيل فرمان بارى تعالٰى كے متصادم ہے:

{ آج ميں نے تمہارے ليے تمہارا دين مكمل كر ديا ہے، اور تم پر اپنى نعمت بھرپور كر دى ہے، اور تمہارے ليے اسلام كے دين ہونے پر راضى ہو گيا ہوں }.

- يہ كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور سے ہى دين ناقص تھا حتٰى كہ يہ بدعتى شخص آيا اور اس نے آ كر تكميل كى.

- اس بدعت كے اقرار سے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر دو قسم كے امور كى تہمت لازم آتى ہيں:

يا تو وہ اس بدعت حسنہ سے جاہل تھے.

يا پھر انہيں علم تھا ليكن انہوں نے اپنى امت سے چھپائى اور اس كى تبليغ نہ كى ( نعوذ باللہ باللہ من ذلك ).

- اس بدعت كا اجر نہ تو نبى صلى اللہ عليہ وسلم پا سكے اور نہ ہى صحابہ كرام حتى كہ يہ بدعتى شخص آيا تاكہ اس اجر كو حاصل كر سكے، حالانكہ اسے تو يہ كہنا چاہيے تھا كہ: اگر يہ بھلائى اور خير كا كام ہوتا تو وہ صحابہ كرام اس كى طرف سبقت لے جاتے.

- بدعت حسنہ كا دروازہ كھولنے سے دين ميں تغير و تبدل اور خواہشات و رائى كا دروازہ كھولنے كا باعت بنے گا، كيونكہ ہر بدعتى شخص يہ كہےگا ميں نے جو كام كيا ہے وہ اچھا اور حسن ہے، تو ہم كسى رائے كو اپنائيں اور كس كے پيچھے چليں ؟

- بدعات پر عمل كرنے سے كئى سنتوں كو ترك كرنے كا باعث ٹھرے گا، اور يہ حقيقت ہے واقعات اس كے شاہد ہيں: جب بھى كوئى بدعت ايجاد ہوتى ہے تو اس كے مقابلہ ميں ايك سنت مٹ جاتى ہے، ليكن اس كے برعكس صحيح ہے.

اللہ تعالٰى سے دعا ہے كہ وہ ہميں ہر قسم كى ظاہر اور باطنى گمراہى اور فتنوں سے محفوظ ركھے.

واللہ اعلم .
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
12 Mar, 2012 Total Views: 524 Print Article Print
About the Author: Khalid Mahmood

Read More Articles by Khalid Mahmood: 24 Articles with 9188 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

اسلام میں تصویر کشی حرام ہیے آقائے نامدار حضور اکرم محمد صلی الله علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ کرام نے کبھی تصویر نہیں بنوائی تھی ۔ آپ مذہبی کیٹیگری کے ذیل میں لکھتے ہیں مگر آپ نے اپنے پروفائل پر کسی اسلامی وال پیپر کی بجائے بچے کا فوٹو لگا رکھا ہے اور یقینا اسے صحیح سمجھتے ہوئے کیا ہوگا اگر یہ بدعت نہیں ہیے تو کس قسم کا تغیر ہیے جو آپ کے نزدیک جائز ہو گیا ہیے مباح تو ہو ہی نہیں سکتا آپ خود جو دینی سطح پر اپنے قول و عمل میں تضاد کا ثبوت دے رہے ہیں تو کیا یہ ہم جیسے کم عقلوں اور جاہلوں کو مزید گمراہ کرنے کے لئے کافی نہیں ہے؟
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas f w,USA on Dec, 29 2012
Reply Reply
0 Like
جناب خالد صاحب! اتنی وضاحتوں کے بعد بھی ابھی تک آپ بدعت حسنہ نہیں سمجھ پا رہے ہیں اور وہی مرغے کی ایک ٹانگ پر قائم ہیں۔ مسجد کے میناروں کو تو آپ نے مباح کے کھاتے میں ڈال کر ثواب سے خالی کہہ دیا لیکن کیا تراویح کی جماعت کو بھی ثواب سے خالی جانتے ہیں کیونکہ نبی پاک نے تو جماعت سے نہیں پڑھی اور نہ پابندی سے ٢٠ (بیس) رکعات پڑھیں تو کیا مسلمان بے وجہ پابندی اور جماعت سے تراویح پڑھتے ہیں۔ اگر اس کا ثواب نہیں تو پھر تو آپ کی نظر میں وقت کا ضیاع ہی ہوگا۔ اسی طرح آپ کے نزدیک جمعہ کے دن دوسری آذان کا بھی یہی حال ہوگا۔ ذرا پھر سے سوچیے۔ نبی پاک اور صحابہ نے تو جنگ تلواروں سے لڑی تو کیا اب بندوقوں توپوں اور میزائلوں سے جنگ کا ثواب ہوگا یا نہیں یا اس جنگ میں مرنے والے شہید ہونگے یا نہیں۔
By: Mujtaba, Karachi on Dec, 27 2012
Reply Reply
0 Like
جناب!!! ہر بدعت گمراہی نہیں ہے
(Abu hanzala M.Arshad Madani, karachi)
Hazrat ye link bhi Mulahaza farmaen
http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=27890
By: Nouman Kk, Tando Alyar on Dec, 27 2012
Reply Reply
0 Like
برادرم خالد محمود صاحب ! آپ کے اس صفحے پر یہ ساری بحث دیکھ کر مجھ کم عقل ناچیز کے ذہن میں بھی ایک سوال ابھرا ہیے ۔ آپ جو اپنے مذہبی مضامین وغیرہ اس سماجی ویب سائٹ کے پلیٹ فارم سے انٹرنیٹ پر مشتہر کرتے ہیں اور قارئین انہیں اپنے کمپیوٹر سکرین پر پڑھتے ہیں تو یہ ذریعہء ابلاغ فروغ اسلام کے دور اول میں رائج نہیں تھا آپ اسی دور کی طرح لکڑی کے قلم سے درختوں کی چھالوں اور جانوروں کی کھالوں پر کیوں نہیں لکھتے صحابہءکرام کی طرح قلمی نسخے کیوں نہیں ترتیب دیتے آپ موجودہ دور کی تمام اختراعات اورایجادات سے استفادہ کر رہیے ہیں جن کا نہ تو حضور اکرم صلی الله علیہ و سلم نے ذکر کیا اور نہ ہی اس طریقہءکار پر عمل کرنے کا حکم دیا ۔ آپ کے تمام رفقاء نے ان تمام سہولیات کے بغیر دین کی بھرپور ترویج واشاعت کی پھر آج جو آپ نے یکسر مختلف روش اپنائی ہوئی ہیے وہ شریعت کی اصطلاح میں کس نام سے پکاری جائے گی؟ بدعت حسنہ کو تو آپ تسلیم ہی نہیں کرتے حالانکہ حج وغیرہ کرنے آپ جہاز میں بیٹھ کر گئے ہونگے صحابہ کی تقلید میں پیدل یا اونٹ گھوڑے پر بیٹھ کر نہیں ۔ گاڑی بھی ہوگی آپ کے پاس جیب میں سیل فون بھی ہو گا آپکی ۔ کبھی کوئی بیان یا تقریر کرتے ہوئے آپ مائک بھی استعمال کرتے ہوںگے جو کہ سلف صالحین کا طریقہ نہ تھا آقائے دوجہاں نے حجتہ الوداع کا خطبہ بغیر کسی مائک کے دیا تھا ۔ غرض یہ جو قدم قدم پر تغیر تبدل تضاد اختلاف اضافہ استفادہ نظر آتا ہیے اس کے لاگو ہونے میں کونسا قانون کارفرما ہیے یہ باطل کیوں نہیں؟
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas f w,USA on Dec, 27 2012
Reply Reply
0 Like
Khlid Mehmood Sahb agr Biddat hasna kuch nhn to Shah Wali Ullah and un K bety Muhadiss Dehlvi melad q manaty thy .???????? Wo to sub k mutafiqa hain ..... Deo bandi peeri mureedi krty hain ,,,, In k bry melad manaty thy sub bidati thy ???Sana Ullah Ammrtsri fatawa sanaeya main kehty hain agr Gyarveen Barhveen ka maqsad esaal sawab hy to itefaq ho skta hy ,,,Goya ik biddat py ittefaq kr rhy hain ???? Phr aag naam sy takleef hti hy Naam rkhny sy burae aa jati hy to Ahlehadees kahan ka naam hy , ?? Ghair Muqaladeen Ye btaen keh Hijab day and youm e Ishk e Rasool Mananan jaiz hy ....... Apny leadr yazdani ke maut k bad beta hva to kehty haiin yazdati sahb ke roh bety main laut aae hy ?????? ye to hall hy ...... Melad 4th sadi sy 14th tk puri dunya main musalman mana rhy sub bidati hain ???? ,,,, Baqi tangy ke sawaryan Deen k theky dar bnty hain ???? Kuch to khof kro Nabi k melad py takleef hti hy to youm farooq azam k lye releyan kahan jaiz bnti hain ,,,,,,,, Jau aur Aslaf ke tshree parh looo .... Bidat e hasna ka concept na ho to bat kru
By: waseemraza, lodhran on Dec, 26 2012
Reply Reply
0 Like
السلام علیکم۔ اگر آپ کالم غور سے پڑھ لیتیں تو اس بات کا جواب کالم سے ہی مل جاتا۔ شرح تو کسی انسان کی رائے ہے۔ وہ نبی کی بات کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ کسی صحیح حدیث میں بدعت حسنہ کا ذکر ہے تو بتائیں
By: Khalid Mahmood, Bahwalpur on Dec, 26 2012
Reply Reply
0 Like
dekhen hadees ha k bad hamd e illahi k maloom hona chhaye k sub se bhtar kalam kitab ALLAH ha or behtareen rasta mUAHMMAD ka rasta ha or bad tareen chazzon me wo ha jisay naaya nikala gaya or hur bidat gumrai ha ... ap ne just itna purha jub k is ki sharah me ha k ye bidat saiyah ha .. yani wo naya kaam jo quran , hadith , asaar sahaba ya ijma e ummat k khilaf ho
By: uzma waheed, bahawalpur on Dec, 25 2012
Reply Reply
0 Like
bhai shb khalid ap ne hadess to likhi pur sharah purhna munasib nahi smjha
By: uzma waheed, bahawalpur on Dec, 25 2012
Reply Reply
0 Like
Very nice and well written article.
JizakALLAH Khair khalid bhai..May ALLAH bless you for your struggle against Biddah and may HE give you the strength and Knowledge to carry on.Indeed you are doing a great work.
MashALLAH.
By: Arslan, lahore on Jun, 14 2012
Reply Reply
0 Like
خالد صاحب! میرے خیال میں اگر پہلے علم غیب کے موضوع کو سمیٹ لیا جائے اور اس کے بعد بدعت پر بات کر لی جائے تو زیادہ مناسب ہے، کیونکہ دونوں ہی موضوع انتہائی اہم ہیں اور غور و فکر کے متقاضی ہیں۔
By: Ahmad, Lahore on Apr, 23 2012
Reply Reply
0 Like
کیا کبھی کسی سے سنا کہ مینار بنانے مین اتنا ثواب ہے؟ یا یہ کہ مینار والی مسجد میں نماز کا ثواب بغیر مینار کی مسجد سے زیادہ ہے؟ ثواب مسجد کی تعمیر کا ہے۔ وہ کھجور سے بنی ہو یا اینٹ سے۔ اور جس نقشے پر بھی بنی ہو۔ مینار بنانے کا الگ سے ثواب میں نے کسی سے نہی سنا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بدعت پر بالکل واضح ہیں۔ آپ جتنی بھی توجیہات نکال لیں دین کو من مرضی سے تبدیل نہی کر سکتے۔
By: Khalid Mahmood, Bahwalpur on Apr, 21 2012
Reply Reply
0 Like
“ ۔ مثلاً پہلے تو آپ نے ایک چیز کو دنیاوی جدت گردانا، پھر اس کو بدعت قرار دے دیا اور پھر اسی چیز کو مباحات کے زمرے میں لا کھڑا کیا ‘
آپ کی اس الزام تراشی کا جواب دینے سے پہلے دیکھ لیں کہ میں نے کیا کہا تھا اور کیا اس میں کوئی تضاد ہے یا آپکے سمجھنے کا قصور ہے۔

١۔ اگر مینار بنانے میں ثواب کی نیت ہو تو وہ بھی بدعت ھے
٢۔ مینار طرز تعمیر کی جدت ھے نہ کہ دین میں نئی نکالی ھوئی بات۔ یہ چیزیں مباح کے زمرے میں آتی ھیں
اب مباح کی تعریف دیکھ لیتے ہیں۔
شریعت اسلامی کی اصطلاح میں وہ کام جو شرعاً حلال ہو نہ حرام اسے مباح کہتے ہیں۔ مثلاً لذیذ کھانے کھانا اور نفیس کپڑے پہننا، وغیرہ
کسی مباح عمل کو اپنی مرضی سے کرنے یا نہ کرنے پر ثواب یا گناہ نہیں ہوتا۔
تو جناب اگر مینار کی تعمیر میں ثواب کی نیت ہو تہ بدعت ہی۔ اگر ثواب کی نیت نا ہو تو مباح۔ مباح اور بدعت میں ثواب کی نیت کا ہی فرق ہے۔ جیسا حدیث سے واضح ہے۔
۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ثواب سمجھ کر کوئی کام کیا اور اس کام کا میں نے حکم نہیں دیا تو وہ عمل مردود ھے۔
By: Khalid Mahmood, Bahwalpur on Apr, 21 2012
Reply Reply
0 Like
السلام علیکم۔ میں نے اپنا تمام موقف احادیث کی روشنی میں پیش کیا ہے۔ آپ نے اب تک ایک بھی حدیث پیش نہیں کی ہے۔ صرف سوال کیئے ہیں کہ کیا یہ بھی بدعت ہے۔ اور آپ کوئی انشاالله کوئی حدیث پیش بھی نہیں کر سکیں گے۔
By: Khalid Mahmood, Bahwalpur on Apr, 21 2012
Reply Reply
0 Like
لیجئے مجتبیٰ بھائی! یہ صاحب تو ایک ہی دن میں واپس کوٹھے پر چڑھ گئے۔ لگتا ہے آپ نے جو ان پر قرینے پر آنے کا "الزام" لگایا، وہ انہیں اچھا نہیں لگا۔

اور خالد صاحب! آپ نے درست کہا، ہم لوگ واقعی غور نہیں کرتے، کیونکہ یہ تو کام ہی آپ کا ہے۔ بلکہ مجھے تو یوں محسوس ہو رہا ہے کہ کثرت تفکر کی وجہ سے آپ کے ذہن پر منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ مثلاً پہلے تو آپ نے ایک چیز کو دنیاوی جدت گردانا، پھر اس کو بدعت قرار دے دیا اور پھر اسی چیز کو مباحات کے زمرے میں لا کھڑا کیا۔ ویسے اگر اسی کو غور کرنا کہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ ہی رکھے۔

باقی رہا آپ کا ہمارے اوپر جھوٹ کا الزام، تو بات یہ ہے کہ جیسے آپ ویسے آپ کے الزامات۔ یعنی نہ تو آپ کی ذات کی کوئی وقعت، اور نہ آپ کے بلا دلیل الزامات کو کوئی حقیقت۔ لیکن اگر آپ ضد کریں گے تو اس کا جواب بھی انشاءاللہ آپ کی خدمت میں پیش کر دیا جائے گا۔ پھر نہ کہیے گا کہ "جھوٹ کے موضوع پر جواب تفصیل پر بعد میں دوں گا، پہلے بدعت پر بات کر لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
کیا خیال ہے؟
By: Ahmad, Lahore on Apr, 20 2012
Reply Reply
0 Like
جناب خالد صاحب! اتنی طویل بحث کے بعد بھی ابھی تک آپ بدعت حسنہ کو سمجھنے سے قاصر ہیں یا سمجھنا ہی نہیں چاہتے ہیں۔ اب تو بس اسکے سوا کیا کہا جاسکتا ہے کہ ““آنکھ والے ترے جوبن کا نظارہ دیکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔ دیدہ کور کو کیا نظر آئے وہ کیا دیکھیں“““وما توفیق الا باللہ
By: Mujtaba, Karachi on Apr, 20 2012
Reply Reply
0 Like
زیر نظر کالم کا مقصد ایک حدیث جس کو کچھ لوگ نا مکمل اور تحریف شدہ شکل میں پیش کرتے ہیں۔ وہ میں نے مکمل نقل کر دی ھے۔ وہ واحد حدیث جس کو آپ لوگ بدعت حسنہ کے جواز میں پیش کرتے ھیں جب پوری پرھی جائے تو آپ کا جھوٹ صاف ظاہر ھو جاتا ھے۔ بدعت حسنہ کے جواز میں کوئی دلیل آپ کے پاس ھے تو پیش کریں۔
By: Khalid Mahmood, Bahwalpur on Apr, 18 2012
Reply Reply
0 Like
السلام علیکم۔ لگتا ھے آپ بلکل بھی غور نہیں کرتے اور محض بحث برائے بحث کی عادت میں مبتلا ہیں۔ بدعت دین میں نئی نکالی ہوئی بات ہے۔ اور دین میں نئی نکالی ہوئی بات کو کسی ویابی یا مولوی نے نہیں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد احادیث میں بدعت گمراہی اور جہنم کی آگ قرار دیا ھے۔ کیا یے تمام احادیث غلط ہیں؟ آپ دنیاوی باتوں پر بدعت کا حکم نیی ھے۔
By: Khalid Mahmood, Bahwalpur on Apr, 18 2012
Reply Reply
0 Like
محترم مجتبیٰ بھائی

اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آپ کے دلائل نے تو مخالف کے حواس ہی معطل کر دیے۔ یقین کیجئے ان کی تحریر میں لفظ "مباح" پڑھ کر میں اس قدر محظوظ ہوا کہ بیان سے باہر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بدلتا ہے آسماں رنگ کیسے کیسے۔
یعنی ابھی تین ہی دن پہلے تک جو آپ کو بدعت کی تعریف سمجھا رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے کہ اگر مینار بنانے میں ثواب کی نیت ہو تو وہ بھی بدعت ہے، آج فرما رہے ہیں کہ یہ تو مباح کے زمرے میں آتے ہیں۔ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔
دیکھتے ہیں اب اس کے بعد کیا پلٹا کھاتے ہیں۔
By: Ahmad, Lahore on Apr, 17 2012
Reply Reply
0 Like
وہ اترکر کوٹھے سے زینے پہ آ گیا سمجھو کہ کچھ قرینے پہ آ گیا۔ شکر ہے جناب آپ کی حرام اور ناجائز کی ضد تو ٹوٹی۔ اورمباح تک تو پہنچی۔ اللہ کا شکرہے۔ تو اسکا مطلب یہ ہے کہ آپ بھی ہر نئے کام کو بدعت کہہ کر کم از کم ناجائز اور گناہ تو نہیں ٹھرائیں گے۔ اب میلاد النبی کو کم از کم شرک یا گناہ تو نہیں مانیں گے۔ اب رہی بات کہ اسکا ثواب ہے۔ یا نہیں یہ اللہ پر چھوڑ دیں وہ اپنی رحمت سے جتنا چاہے عطا فرمائے یا کچھ نہ دے۔ اسکی رضا۔
By: Mujtaba, Karachi on Apr, 17 2012
Reply Reply
0 Like
مجتبی صاحب آپ دین کا معنی سمجھیں اور پھر دیکھیں کہ دین میں نئی نکالی ھوئی بات کیا ھے۔ اعراب عربی زبان کی جدت ھے نہ کہ دین اسلام کی۔ مینار طرز تعمیر کی جدت ھے نہ کہ دین میں نئی نکالی ھوئی بات۔ یہ چیزیں مباح کے زمرے میں آتی ھیں۔
By: Khalid Mahmood, Bahwalpur on Apr, 16 2012
Reply Reply
0 Like
Displaying results 1-20 (of 34)
Page:1 - 2First « Back · Next » Last
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB