علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ اور اسلامی اخلاق

حکیم الامت، فلسفی اسلام علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ اسلامیان عالم کی آنکھوں کا تارا۔ ان کی فکر رسا نے فکر و عمل کے ہر میدان میں سامانِ ہدایت فراہم کیا۔ افکارِ اقبال، نظریاتِ اقبال اور تصورات اقبال کو جمع کرلیا جائے تو حاصل تصورات جمیع ’’تصور اخلاق اسلامی‘‘ ہے۔ تصور خودی، تصور بے خودی، تصور انسان کامل، تصور شاہین اور تصور فقر کا حاصل تصور اخلاق اسلامی ہے۔ حضرت حکیم الامت علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ کے تمام تر تصور کا اساسی نقطہ یہی ہے۔ :

ہے نور تجلی بھی اسی خاک میں پنہاں
ظالم تو نرا صاحب ادراک نہیں ہے

سید نذیر نیازی اپنے شہرہ آفاق ملفوظات اقبال میں بعنوان ’’اقبال کے حضور‘‘ میں فرماتے ہیں کہ ایک جلسہ عام میں عرض کیا کہ تصور خودی کہاں سے ماخوذ ہے۔ اس پر بڑی بڑی قیاس آرائیاں، چہ مے گوئیاں ہورہی ہیں۔ حضرت اقبال نے فرمایا کل میرے پاس تشریف لاؤ، میں حاضر خدمت ہوا تو فرمایا قرآن حکیم لاؤ، اب میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ جب آپ نے قرآن پاک کی یہ آیت کریمہ نکالی :

وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنسَاهُمْ أَنفُسَهُمْ.

(الحشر : 19)

’’ور اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو اللہ کو بھلا بیٹھے پھر اللہ نے اُن کی جانوں کو ہی اُن سے بھلا دیا (کہ وہ اپنی جانوں کے لئے ہی کچھ بھلائی آگے بھیج دیتے)،‘‘۔

خدا کو بھول جانے کا نتیجہ نسیانِ ذات ہے۔ یہ نسیانِ ذات تقاضا ہائے حیوانیہ کا نسیان ہے نہیں؟ یہ تقاضا ہائے جسمانیہ کا نسیان ہے نہیں؟ تو نسیان سے یہاں مراد کیا ہے؟ فرمایا : تقاضا ہائے روحانیہ، حقیقتِ باطنیہ اور اخلاقیہ کا نسیان ہے۔ مفہوم مخالف عرفان ذات ہوا۔ عرفان ذات، تشکیل ذات ہے، تشکیل ذات تعمیر اخلاق ہے۔

اخلاق عالیہ، عظیمہ، محمودہ کی تعلیم اوراقِ قرآن پر واضح ہے۔ فرائض چہار گونۂ نبوی میں اک پہلو یزکیہم (آپ تزکیہ فرماتے ہیں) ہے۔ تزکیہ نفس، پاکیزگی اخلاق، تطہیر اخلاق کا دوسرا نام ہے۔

وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ.

(آل عمران ، 3 : 164)

’’اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے‘‘۔

اس آیت مبارکہ میں تزکیہ کو مقدم اور تعلیم کتاب کو موخر رکھا گیا ہے اس سے اخلاق و تزکیہ کی غیر معمولی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ جو تعلیم، تزکیہ کے بغیر ہو وہ شجر بے ثمر کی طرح ہے۔ وہ سعی لاحاصل کی طرح ہے۔ وہ کاوش بے نتیجہ کی طرح ہے۔ صرف حرف شناسی کردار سازی نہیں۔ علم کا طومار سر پر رکھ کر بھی انسان بدتمیز زمانہ ہی رہتا ہے۔ کتابوں کو دیمک کی طرح چاٹ کے بھی بدخلقِ دھر ہی رہتا ہے۔ جو علم، تغیر اخلاق و تطہیر کردار کا باعث نہیں وہ ذہنی عیاشی تو ضرور ہے لیکن نتیجہ خیزی نہیں۔ قرآنی موضوعات میں مرکزی موضوع تعلیم الاخلاق ہے۔ کثیر آیات مقدسہ کا موضوع تشکیل کردار اور تجسیم اخلاق ہے۔

یوں تو 6236 آیات مقدسہ ایجابی اقدار (Positive values) یا منفی اقدار (Negative Values) کے متعلق ہیں۔ مگر ہر دو صورتوں میں حاصلِ تعلیم اخلاق ہے۔ ’’اخلاق الانبیاء والصالحین‘‘ موضوعات قرآنیہ میں اہم ترین موضوع ہے۔ وہ حضرت اقبال رحمہ اللہ جن کی زندگی مطالعہ قرآن کے نام ہوئی۔ جنہوں نے بچپن سے تادم وصال مطالعہ قرآن کو حرز جان بنائے رکھا۔ اُن پر یہ الزام بالکل مضحکہ خیز ہے کہ وہ تصور اخلاق مغربی فلسفیوں کے خوان علم سے سرقہ کرتے رہے۔

بالکل اسی طرح مطالعہ احادیث مبارکہ، مطالعہ فرامین نبویہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برابر مطالعات اقبال میں رہیں۔ بھلا فکر اسلام ترک مطالعہ احادیث سے کیونکر مکمل ہوسکتا ہے۔ کلام اقبال کے داخلی مطالعہ سے ہزارہا شواہد ملتے ہیں کہ اقبال کا تصور اخلاق، فرامین رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے براہ راست اکتساب نور ہی سے مستعار ہے۔

فکر اقبال رحمہ اللہ اور اہمیت اخلاق
مثل حیواں، خوردن، آسودن چہ سود
گر بخود محکم نہ بودن چہ سود

’’حیوان کی طرح کھانے سونے میں کیا فائدہ گر تو محکم و مضبوط نہیں تو تیرے وجود کا کیا فائدہ؟‘‘

یہ محکم بودن (مضبوط و مستحکم کا ہونا) کیا ہے؟ محکم اخلاق عالیہ ہونا، مستحکم اخلاق عظیم ہونا ہے تب ہی زندگی بامقصد ہے، بامعنی ہے، بامراد ہے۔

وہ علم نہیں زہر ہے احرار کے حق میں
جس علم کا حاصل ہے دو کف جو!!!

حضرت اقبال کا تصور علم، تصور اخلاق کے ساتھ مربوط ہے۔ وہ علم جو صرف شکم پری کے لئے ہو بلند معیار زندگی کے لئے نہ ہو یعنی علم برائے معاش ہو وہ زہر ھلاہل ہے، وہ سم قاتل ہے۔ آپ جس علم کے داعی ہیں وہ انسان ساز، اخلاق ساز، کردار ساز اور شخصیت ساز ہونا چاہئے۔ یہی سبق انہوں نے اپنے مرشد گرامی سے سیکھا۔ حضرت رومی فرماتے ہیں :

علم را برتن زی مارے شود
علم را بر جاں زنی یارے شود

علم اگر تن پر وارد ہو تو یہ سانپ ہے اور علم اگر جاں پر وارد ہو تو یہ یار و مددگار بن جاتا ہے۔

آپ کا تصور فن (Concept of art) بھی اخلاق انسان پر مفید اثرات مرتب نہ کرے تو بے کارو بے مقصد ہے۔ فرماتے ہیں :

گر ہنر میں نہیں تعمیر خودی کا جوہر
وائے صورت گری و شاعری و نالے و سرود

تعمیر خودی، تعمیر اخلاق، تعمیر کردار ہی کا نام ہے۔ اگر فن میں جوہر اخلاق ابھارنے کی صلاحیت نہیں، داعیات لہو تلف کرنے کی طاقت نہیں تو صورت گری ہو، شاعری ہو، نغمہ آرائی ہو سب از کارِ رفتہ ہیں۔

اشعار اقبال رحمہ اللہ اخلاق اسلامی کے عملی مظاہر
حضرت اقبال رحمہ اللہ کے تصور اخلاق میں درج ذیل امور بڑی شد و مد کے ساتھ پائے جاتے ہیں اور ان کی تعلیمات کا خلاصہ ہیں۔ آپ نے قرآن و سنت کی روشنی میں لئے گئے ان مظاہر کو جابجا اپنی تعلیمات کا حصہ بنایا۔ مختلف دل پذیر، دل آویز پیرائے اپنائے اور اپنے قارئین، محبین کو ان کی اہمیت جانگزیں کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔

1۔ رفق و رحمت
نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو
رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاکباز

قرآن حکیم نے اسی کو فرمایا ہے :

وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا.

(البقره : 83)

’’عام لوگوں سے (بھی نرمی اور خوش خُلقی کے ساتھ) نیکی کی بات کہنا‘‘۔

لوگوں سے احسن طرز تعلم اختیار کرو۔ ’’للناس‘‘ نے اس کے دائرہ کو کائنات پر پھیلادیا۔ اپنے بیگانے کے فرق مٹادیئے۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

لايدخل الجنة الجواظ

جنت میں سخت کلام، درشت بیان داخل نہ ہوگا۔ ۔ ۔

اور فرمایا

تحرم النار عليه علی کل هين لين

نرم گفتگو کرنے والے پر دوزخ کی آگ حرام کردی گئی۔ ۔ ۔ کہیں مومن کی تعریف ہی ان الفاظ مبارکہ میں فرمائی

المومنون هيون ليون...

آج ہمارے احوال زندگی کیا ہیں۔ علم کے بڑے مدعیان کی زبانیں کیا کیا گل کھلا رہی ہیں۔ سختی کرختی، تلخی، شدت اور جدت فطرت ثانیہ بن گئی اور اس سب کے باوجود خیر کے طالب ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ چٹورپن چھوڑیں اور فکر اقبال کے عملی پہلوؤں پہ توجہ مرکوز کریں۔

جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم
دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

قرآن حکیم نے اسی تصور رفق و رحمت کو یوں اجاگر کیا۔ اشداء علی الکفار کفارپر سخت ہیں۔ ۔ ۔ رحماء بينهم اپنوں میں پیکران رحمت ہیں۔ ۔ ۔ آج ہمارا تصور جلال و جمال، مسخ شدہ، خود ساختہ اور خود پرداختہ ہے۔ آنکھ سرخ، چہرہ پر وحشت، تاثر پر غضب، بات بات پر ستم کے کوڑے برسیں، زبان شعلہ بار ہو، حضرت اقبال خود ایسے ہرگز نہ تھے۔ وہ تو چوزے مار دے کوئی تو ماہی بے آب ہوجاتے تھے بقول خالد نذیر ’’اقبال درون خانہ‘‘ بچہ بھی ان سے ہم کلام ہو تو ذرا خوف نہ محسوس کرے۔

2۔ محبت و الفت
اس کی نفرت بھی عمیق، اس کی محبت بھی عمیق
قہر بھی اس کا اللہ کے بندوں پہ شفیق

عمیق، بامعنی باریک۔ بامقصد نفرت و محبت کیسے ہوگی جب حب فی اللہ والبغض فی اللہ کا مظہر ہوگا۔ نفرت اور محبت کے جو پیمانے ہم نے وضع کررکھے ہیں وہ عمیق نہیں بلکہ رکیک ہیں۔ ہلکے ہیں، گھٹیا ہیں۔ ہماری نفرت، نفس کی پوجا پاٹ کے علاوہ کیا؟ ہمارا معیار محبت ہوس زر کی مالا جپنا ہے۔ جس کا قہر شفیق ہو تو اس کی محبت کا عالم کیا ہوگا۔ ۔ ۔ جن کی محبت قہر کو شرمادے ان کے قہر میں قہر چنگیز عیاں ہوگا۔ کیا آج ہم اقبال دعوی خوانی کے علاوہ کچھ ہیں۔ وہ فرماتے تھے :

یہ مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانی
اخوت کی جہانگیری، محبت کی فراوانی

ہوس نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے نوع انسان کو
اخوت کا بیاں ہوجا محبت کی زباں ہوجا

ہماری دنیا طلبی اور دنیا رسی نے ہمیں ان تصورات سے بیگانہ کردیا۔ ان کا کرب قلم میں ڈھل جاتا ہے تو فرماتے ہیں :

پرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کو
جو مشکل ہے تو اس مشکل کو آسان کرکے چھوڑوں گا

رشتۂ الفت میں جب ان کو پروسکتا تھا تو
پھر پریشان کیوں تیری تسبیح کے دانے رہے

الفتوں اور محبتوں کے یہ درس انہوں نے کیا نفرت پسندوں سے حاصل کئے۔ جن کے ہاں رنگ و نسل کے عذاب آج تک جاری ہیں۔ فکر قرآن و حدیث کو سانچۂ شعر میں ڈھالا ہے۔ فکر قدیم کو جام نو عطا کیا۔ ’’فکر کہن در جام نو‘‘۔ آقائے کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

المومنون کالرجل واحد ان اشتکی عينه اشتکی کله.

مومن و مسلم معاشرہ کے ایک فرد کی طرح ہے اگر اس کی آنکھ میں تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم تکلیف زدہ ہوتا ہے۔

کبھی الفت و محبت کا درس دل پذیر یوں عطا فرمایا :

المومنون للمومن کالبيان يشد بعضه بعضا.

مومن، مومن کے لئے ایک دیوار کی مانند یعنی بعض بعض کو مضبوط کرتا ہے۔

کیا یہ عین ترجمۃ الحدیث نہیں جب آپ اک تسبیح کے دانوں میں پرونے کا کہتے ہیں۔

یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں یہ ہی مردوں کی شمشیریں

آپ تو محبت فاتح عالم کا پیغام دے رہے ہیں۔ مگر ہم نفرت قاطع عالم کے عملی پیکر بن چکے۔ جو ہم دعوی محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرتے ہیں تو کس بنیاد پر؟ ہماری محبت تو والدین سے نہیں۔ ۔ ۔ ہماری محبت تو اولاد سے نہیں۔ ۔ ۔ ہماری محبت تو اعزہ و اقارب سے نہیں۔ ۔ ۔ ہماری محبت تو سگے ماں جائیوں سے نہیں۔ ۔ ۔ محبت سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک رمق بھی حاصل ہو تو کیا ہم نفرتوں کے قاسم ہوں۔ ۔ ۔ اذیتوں کے دلدادہ ہوں۔ ۔ ۔ حقارتوں کے اسیر ہوں۔ ۔ ۔ ستم کیشی ہماری فطرت ثانیہ ہو۔ ۔ ۔ ظلمات ظلم ہمارا مشغلہ ہو۔ ۔ ۔ جبر ہمارا نصب العین ہو۔ ۔ ۔ دل شکنی ہماری خواہش ہو۔ نہ ہم قرآن شناور نہ ہم حدیث شناور، نہ ہم اقبال فہم، صرف اور صرف لفظوں کے کاریگر ہیں۔

3۔ برابری و مساوات
جو کرے گا امتیاز رنگ و خوں مٹ جائے گا
ترک ضر گاہی ہو یا اعرابی والا گہر

نسل اگر مسلم کی مذہب پہ مقدم ہوگئی
اڑ گیا دنیا سے تو مانند خاک رہگذر

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز

تمیز آقا و بندہ فساد آدمیت ہے
حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں

رنگ و خوں کا امتیاز نسل انسانی کے لئے سوہانِ روح ہے۔ نسل پسندی، رنگ پسندی، قومیت برتری، ذات فوقیت، دولت برتری نے تاریخ آدم پر کیا کیا ستم ڈھائے ہیں۔ خون کی ہولی کھیلی گئی اور دریا بہائے گئے۔ بعض جدید فکر کے حاملین نے حضرت اقبال کے پیغام مساوات کو سوشلزم کی مساوات مطلقہ پر منطبق کیا ہے۔ یہ ’’متن درست تعبیر غلط‘‘ کا مصداق ہے۔ حضرت اقبال فلاسفۂ جدیدہ اور نظریاتِ جدیدہ کے بلند پایہ نقاد ہیں۔ اس کے تمام تر پہلوؤں کا باریک نظری سے جائزہ لیتے ہیں اور فکر اسلامی کے ساتھ تقابلی جائزہ لیتے ہیں۔ اگر اس میں کوئی مثبت اور تعمیری پہلو ملیں تو بالیقین قبول فرماتے ہیں اور اس کے منفی، تخریبی رخ پر واضح کلام فرماتے ہیں۔ ایک المیہ اقبال فہمی اور اقبال شناسی کے ضمن میں یہ ہے کہ اقبال شناس، قرآن نہ شناس ہیں۔ اقبال شناور، حدیث نہ شناور ہیں۔ Absolute Equality مساوات مطلقہ، قطعی غیر حقیقی اور قطعی غیر فطری ہے۔ آپ قائل مساوات تھے لیکن اسلامی مساوات ( Islamic Equality) کے، مساواتِ مواقع، مساواتِ ذرائع (Equality in sources) کے حوالے سے حکم الہٰی ان کے قرطاس ذہن پر کنندہ تھا کہ

اہم یقسمون رحمۃ ربک کیا داعیان مساوات مطلقہ رحمات الہٰی کے قاسم ہیں یا ہم ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالی شان :

لا فضل لعربی علی عجمی ولا لعجمی علی عربی ولا لاسود علی احمر ولا لاحمر علی اسود کلکم بنو آدم وآدم من تراب.

کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی، کسی کالے کو گورے پر کسی گورے کو کالے پر فوقیت نہیں۔ سب آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے تھے۔ ۔ ۔

من دعا الی عصبية فليس منا کاحکمِ مصطفوی کلام اقبال میں جھلکتا ہے۔ وہ خوان علم مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ریزہ چیں تھے۔ ان کے دامن علم میں خیرات تعلیم مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ تفاوت، تفرق اور امتیاز کے خود ساختہ تصورات کو ختم کرکے ان اکرمکم عنداللہ اتقکم ہی ان کا نصب العین تھا۔

4۔ یقین محکم
علاج ضعف یقین اس سے ہو نہیں سکتا
غریب گرچہ ہیں رازی کے نکتہ ہائے دقیق

حضرت اقبال رحمہ اللہ ضعف یقین جو ضعف شخصیت کا سبب ہے اس کا حل چاہتے ہیں۔ شک و ارتہاب میں الجھ کر بے ربطی کردار پیدا ہوتی ہے۔ وہ نکتہ ہائے دقیق، باریک، عمیق، عجیب کا رد کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ ذریعہ حصول یقین

علم از کتب، دین از نظر
دین از نظر سے مراد یقین از نظر ہے۔

مئے یقین سے ضمیر حیات ہے پر سوز
نصیب مدرسہ! یارب یہ آب آتش ناک

سن اے تہذیب حاضر کے گرفتار
غلامی سے بدتر ہے بے یقینی

علم کا حصول آپ کے ہاں منزل یقین ہے۔ مئے یقین کا ثمرۂ عظیم سوز و گداز کی نعمت کبریٰ ہے۔ بے یقینی اور شک و ارتہاب زندگی کی کتاب کو ورق ورق کردیتی ہے۔ استحکامِ کردار، یقین محکم کی بدولت ہے۔ بے یقینی کو غلامی سے بدتر قرار دیتے ہیں کہ غلامی جسمانی قید ہے اور شک و وہم ذہنی و روحانی قید ہے۔ پیکران انسانی اس صورت میں نہ زندہ رہتا ہے اور نہ موت سے دو چار ہوتا ہے۔ ۔ ۔ اک کرب مسلسل، اک اذیت مسلسل۔ ۔ ۔ بے یقینی کا مرض لاعلاج ہے۔ ۔ ۔ وہ صرف نفس شماری کرتا ہے۔ ۔ ۔ وہ صرف دن پورے کرتا ہے۔ ۔ ۔ وہ مرگ ناگاہ کا منتظر نگاہ ہوتا ہے۔ ۔ ۔ تذبذب ہر لمحہ اس کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔ آج ہم کلمہ گویاں گرفتار بے یقینی زیادہ ہیں۔ ہم ایمان کے مدعی ضرور ہیں لیکن وادی یقین میں ہمارا گذر تک نہ ہوا۔ ہم مذبذبین بین ذالک کے مظہر ہیں۔ آپ فرماتے ہیں :

شب خود روشن از نور یقین کن
ید بیضا بروں از آستیں کن

’’اپنی تاریک رات زندگی کو شمع یقین سے روشن کرو، یقین یدبیضا ہے اس کو آستیں سے نکالو اور ماحول کو روشن کرو‘‘۔

قرآن حکیم میں یقین کو منزل حقیقی قرار دیا گیا واعبدربک حتی ياتيک اليقين رب کی عبادت کرکے منزل حقیقی ’’یقین‘‘ سے بہرہ ور ہو سکو گے۔ مفسرین قدیم و جدید کا مطالعہ کیا لیکن یہ معنی نہ ملا۔ یقین کو تادم موت، تادم واپسیں استقامت کے ساتھ عبادت پر قائم رہنے کا معنی مراد لیا گیا ہے۔ عصر رواں میں داعی و پیامی یقین شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے یہ معنی مراد لیا ہے کہ عبادت کا حاصلِ عظیم دولتِ یقین ہے۔ عبادت، بندگی جب استقامت کے ساتھ پیکر انسان میں گھر کر جاتی ہے تو روشنی یقین اس کا ثمرہ عظیم ہوتا ہے۔ کیا ہماری عبادات معیار بندگی پر پوری ہیں؟ اس پر برگ و بار کہاں سے آئے تاجدار کون و مکان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نسخۂ کیمیا دان لفظوں میں عطا فرمایا : ان تعبد الله کانک تراه... عبادت میں یہ یک سوئی، ہم آہنگی، توجہ، انہماک، خالصیت، مخلصیت، گہرائی اور گیرائی پیدا کریں تو منزل یقین ہماری منزل ہوگی۔ دولت یقین کی اہمیت یوں واضح کرتے ہیں :

یقین پیدا کر اے ناداں، یقین سے ہاتھ آتی ہے
وہ درویشی کہ جس کے سامنے جھکتی ہے فغفوری

5۔ عمل مسلسل
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

حضرت اقبال رحمہ اللہ شخصیت، کردار کو مزین اخلاق عالیہ چاہتے ہیں۔ تحرک، عمل مسلسل، کاوش پیہم کے پیامی ہیں۔ کاہلی، تغافل، تساہل کے رد کرنے والے ہیں۔ فرماتے ہیں :

ہر کوئی ذوق مئے تن آسانی ہے
تم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہے

تن آسانی اور مسلمانی دو چیزوں کا جمع ہونا محال قرار دیتے ہیں۔ آپ کا شاہین ہو یا مرد کامل، نمونۂ عمل مسلسل ہے۔ عمل جنت اور دوزخ سے وابستہ ہو تو فکر غیروں کے دستر خواں سے طلب کرتے ہیں۔ عمل بے غرض اور بے ہوس نفس ہو تو ورضوان من الله اکبر خدا کی رضا مقصد اعلیٰ قرار پاتی ہے۔ ہمارا رویہ یہ کہ ہم دانش فرنگ پر نثار نثار جائیں۔ مگر اس کا جلوہ اقبال کو خیرہ نہ کرسکا۔

6۔ حیاء و غیرت
غیرت ہے بڑی چیز جہاں تگ و دو میں
پہناتی ہے درویش کو تاج سردارا
حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے

غیرت، حمیت، حیا اک قدر عظیم اور اک خلق نفیس ہے۔ مرد کامل، انسان مرتضیٰ جو حضرت اقبال کا ہے اس کا اوڑھنا بچھونا حمیت و غیرت ہے۔ مآخذ خلق فرامین مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں جو اظہر من الشمس ہے۔ الحياء من الايمان ’’حیاء ایمان سے ہے‘‘۔ ۔ ۔ الحياء خيره کله ’’حیاء خیر کل ہے‘‘۔ ۔ ۔ الحياء لاياتی الابخير ’’حیا خیر کے علاوہ کچھ نہیں لاتا‘‘۔ ۔ ۔ اذا لم تستحی فاصنع ماشئت ’’اگر حیاء نہیں تو جو دل چاہتا ہے کر‘‘۔ ۔ ۔ خلق الاسلام الحياء ’’اخلاق عالیہ اسلام میں حیا ہے‘‘۔ ۔ ۔ ان الحياء والايمان قرنا جميعا ’’ایمان اور حیاء باہم متصل، پیوست ہیں‘‘۔ ۔ ۔ لیکن آج کا دور قدر مسمار دور ہے۔ اخلاق مسمار دور ہے۔ حیاء کو جھجھک کا نام دیتے، ہم ذرا نہیں جھجھکتے، شرم کا نام ہم کسی شرم کے بغیر لیتے ہیں۔ (Replacement of ethics) تبدیلی اخلاق کا یہ دور سیاہ ہے۔ آج علوم جدیدہ کا اثر طبیعت حیا کے پردے چاک کررہا ہے۔

7۔ سوزو گداز
حدیث بندہ مومن دلآویز
جگر پرخوں، نفس روشن نگہ تیز

تر آنکھیں تو ہوجاتیں ہیں پر کیا لذت اس رونے میں
جب خون جگر کی آمیزش سے اشک پیازی ہو نہ سکا

اسی کشمکش میں گذریں مری زندگی کی راتیں
کبھی پیچ و تاب رازی کبھی سوز و ساز رومی

اقبال رحمہ اللہ پیکر انسان میں جن اقدار عالیہ اور اخلاق عظیمہ کی پیوند کاری چاہتے ہیں وہ شکستہ دلی، خستہ دلی، رقت قلبی، ٹوٹا ہوا آئینہ وہ اشکوں کی برسات چاہتے ہیں۔ وہ آنکھوں کے آب گینوں کو چھلک چھلک جانے والا چاہتے ہیں۔ فرماتے ہیں۔

سوز صدیق و علی از حق طلب

خارج کے موسم بارش سے بدلتے ہیں تو باطن کے موسم بارش کے بغیر کیسے؟ لیکن یہ رونا خون جگر کی آمیزش کے ساتھ ہو تو دو چند ہوگا۔ قرآن حکیم نے یہی تعلیم انسان مرتضیٰ کے لئے عطا کی : انما يخشی الله من عباده العلماء خشیت و خوف، گریہ و زاری کے پیکراں صرف علماء ہونگے۔ پس علم کا لازمی اثر زجاجہ نفس کو پارہ پارہ کرنا ہے۔ آنکھوں سے ساون کی جھڑی لگادینا۔ ۔ ۔ ويخشون ربهم ويخافون سوء الحساب خشیت الہٰی سے ٹوٹے ہوئے وجود بار الہ میں مقبول ہوتے ہیں۔ جب سے سوز و گداز ہماری زندگیوں سے نکلا ہم پتھر کے پتھر ہوگئے بلکہ اشد قسوۃ کے مصداق ہیں۔ ہم اوروں کو رلاتے ہیں خود کب روتے ہیں۔ حضرت حکیم تو فرماتے ہیں :

عطار ہو، رومی ہو، غزالی ہو، رازی ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی

آج آہ سحر گاہی رخصت ہوئی۔ ہمارے پاس تو آہ صبح گاہی بھی نہیں، آہ شام گاہی بھی نہیں، زندگیوں میں تبدیلیاں کیونکر آتیں۔ حضرت اقبال لفظوں کے پیکر تراش نہ تھے۔ خیال کی حسین وادیوں کے سیاح بے لگام نہ تھے بلکہ خود سوز و گداز کی بھٹی تھے۔ اوراق قرآن جن کے سُکھائے جائیں بقول سید وحیدالدین فقیر بزبان خادم اقبال نام نامی آقائے کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیتے ہی آنکھوں سے رم جھم لگ جاتی۔

8۔ خوف و رجاء
خوفِ حق عنوان ایمان است و بس
خوفِ غیر از شرک پنہاں است و بس

فارغ از خوف و غم وسواس باش
پختہ مثل سنگ شو الماس باش

تاکجا ایں خوف و وسواس و ہراس
اندریں کشور مقام خود شناس

خوف سے مراد وحشت نہیں بلکہ خوف محبت آمیز ہے۔ جس پیکر میں خوف خدا سمایاہو، اس کی کیا خوب تہذیب و تطہیر ہوتی ہے۔ ہر امر خیر اسکے پیکر سے پھوٹتا ہے۔ ہر امر شر کو قفل لگ جاتا ہے۔ راس الحکمة محافة الله خوف الہیٰ حکمتوں کے سوتے کھول دیتا ہے۔ خوف الہٰی والے لا يخافون لامة لائم کے انعام سے نوازے جاتے ہیں۔ لا خوف عليهم ولا هم يحزنون کا مژدہ جانفزا ان کے لئے ہے۔ دوسرا پہلو رجاء ہے۔

نہ ہو نومیدی زوال علم و عرفاں سے
امید مرد مومن ہے خدا کے راز دانوں میں

الايمان بين الخوف والرجاء ايمان خوف و رجاء کے مابین ہے۔ غلبہ خوف مایوسی لاتا ہے اور غلبہ امید تعطل لاتا ہے۔ دونوں مل جائیں تو عمل مسلسل اور نتیجہ پر توکل کا عمل پیدا ہوتا ہے۔ نو امیدی شخصیت کی تحلیل و اضمحلال کا نام ہے۔ امید کا چراغ بجھا، کوشش ختم ہوئی۔ آئینہ قرآن حکیم میں دیکھیں تولا تقنطوا من رحمة اللهان اشعار اور افکار اقبال کا مآخذ اصلی ہے۔ حضرت اقبال قنوطی ادب (مایوسی کا ترجمان اثر) کے قطعی طور پر اسی لئے قائل نہیں بلکہ اس کا رد بلیغ فرمایا۔ قنوطی ادب لکھنے والے، پڑھنے والوں کو بے عمل، تکاہل پسند، غفلت شعار اور بے مقصدیت کے تحفے دیتے ہیں جبکہ حضرت اقبال اس کا زبردست رد کرنے والے ہیں اور آپ کی زندگی کا لمحہ لمحہ امید مرد مومن کا ترجمان ہے۔

بشکریہ:
حافظ شکیل احمد طاہر