روح کا سفر

(Muhammad Rafiq Atisami, Ahmadpur East)

انسان اشرف المخلوقات ہے اور زمین پر خدا کا خلیفہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو شرف و تکریم انسان کو عطا کی ہے وہ کسی اور مخلوق کو نہیں دی گئی انسان باعث تخلیق کائنات ہے اگر انسان نہ ہوتا تو یہ کائنات کبھی معرض وجود میں نہ آتی بقول غالبؒ........
نہ تھا کچھ تو خدا تھا نہ ہوتا کچھ تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

قرآن پاک میں انسانی زندگی پر بحث کی گئی ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو کامیاب ہیں اور وہ کون سے لوگ ہیں جو ناکام زندگی بسر کرتے ہیں؟اور جنھیں اپنی زندگی سے سوائے حسرتوں اور ناکامیوں کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ لہٰذا اس مضمون میں انسانی زندگی کی مدت اور اسکی کامیابی و ناکامی پر بحث کی گئی ہے۔ عام طور پر انسانی زندگی کی حد اسکی اس دنیا میں رہنے کی مدت سے شمار ہوتی ہے یعنی چالیس ،پچاس ،سو سال یا اس سے کم یا زیادہ مدت، مگر یہ بات صحیح نہیں در حقیقت انسانی زندگی کا عرصہ صدیوں پر محیط ہے اور اس کا سفر بہت لمبا ہے۔ انسانی زندگی کا آغاز اس وقت ہوتاہے جب یہ دنیا نہیںبنی تھی۔ مفسرین اس دن کو ”یوم الست“ سے موسوم کرتے ہیں اس وقت حق تعالیٰ نے ان تمام انسانی ارواح کو جنہوں نے قیامت تک کے لیے اس دنیا میں آنا تھا کو اپنی پہچان کرا کر ان سے اپنی ربوبیت کا اقرار کرایاقرآن پاک میں یہ واقعہ اس طرح بیان کیا گیا ہے۔

”اور یاد کرو ) جب نکالا تیرے رب نے بنی آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو اور اقرار کرایا ان سے ان کی جانوں پر”کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں بولے ہاں ہے ہم اقرار کرتے ہیں کبھی کہنے لگو قیامت کے دن ہم کو تو اس کی خبر نہ تھی“ (الا عراف:۱۷۲)

یہ انسانی زندگی کا نقطہ آغاز ہے اب یہ بات کسی کو معلوم نہیں کہ وہ دن جسے یوم الست کہا جاتا ہے اس سے کتنی مدت کے بعد وہ اس دنیا میں آتا ہے؟ اور پھر یہاں ایک عمر گزارنے کے بعد جب وہ قبر اور عالم برزخ کی زندگی میں پہنچتا ہے تو وہاں قیامت کے قائم ہونے تک کتنی مدت ہے اور پھر قبروں سے اٹھنے کے بعد یوم حشر اور حساب و کتاب میں کتنا عرصہ لگتا ہے اورپھر حساب ہو چکنے اور پل صراط سے گزرنے کے بعد جنت یا دوزخ میں کنتی مدت رہے گا جسے قرآنی اصطلاح میں ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی کہا گیا ہے اس کی مدت کتنی ہے ہزاروں یا لاکھوں سال یا اس سے بھی زیادہ؟ بلاشبہ یہ عرصہ ایک زمانے پر محیط ہے ۔ یعنی انسان نے وہ سفر طے کرنا ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جب یہ گوشت و پوست کا جسم ختم ہوگیا تو انسان فنا ہو گیا اور اس کی داستان ختم ہوگئی مگر ایسا نہیں بلکہ جب یہ جسم ختم ہو جاتاہے تو دوسری دنیا جسے عالم برزخ کہا جاتا ہے وہاں انسان کو ایک ایسا جسم عطا ہوتا ہے جو بظاہر نظر نہیں آتا اور اس پر جزا و سزا مرتب ہوتی ہے ۔ موت انسان کو ختم نہیں کرتی بلکہ اسے دوسرے جہان مین منتقل کرتی ہے اسی لئے جب ہم یہ کہتے ہی کہ فلاں شخص کا انتقال ہو گیا تو گویاوہ شخص اس جہان سے دوسرے جہا ن میںمنتقل ہو گیا۔

عالم برزخ سے گزرنے کے بعد عالم آخرت میں جنتی اور دوزخی لوگوں کو ایک نیا جسم عطا ہوگا جس کی کیفیت قرآن و حدیث میں بیان کی گئی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی روح کے قالب میں ہی رہتا ہے مگر اسکا جسم بدلتا رہتا ہے۔ہندو دھرم میں لوگ اپنے مردوں کو چتا میں جلا دیتے ہیں اور اسکی راکھ دریا میںبہا دیتے ہیں انکا عقیدہ ہے کہ جسم جل کر خاکستر ہو جاتا ہے مگر روح (آتما) نیا جنم لے کر دوبارہ اس دنیا میں آجاتی ہے اس عقیدہ کو تناسخ یا آوا گون کہتے ہیںیہ عقیدہ اگرچہ دین اسلام سے متصادم ہے مگر اس سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ وہ لوگ بھی روح کی بقا کے قائل ہیں یعنی روح فنا نہیں ہوتی۔

اور جب روح نے باقی رہنا ہے اور اسکا سفر جاری و ساری رہے گا تو پھر ایسے کام کیوں نہ کئے جائیں کہ جس سے اسے چین وقرار نصیب ہو اور وہ امر ہو جائے؟ اسلامی تعلیمات کے مطابق روح کا امر ہونا اور اسکے زندہ و پایئندہ رہنے کا راز صرف اورصرف یاد خدا میںمضمر ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ”جان لو اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے“(القرآن) اور اس چیز کا اعتراف دنیا کے ہر مذہب و مکتبہ فکر میں کیا جاتا ہے کہ نیک کے کام کرنے اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں ہونے اور تقوٰی اور پرہیزگاری کے کاموں سے روح کو بالیدگی اور توانائی حاصل ہوتی ہے۔

اورقرآن نے تو صدیوں پہلے یہ نصیحت فرمائی ہے کہ ”زادراہ لو بیشک بہترین زاد راہ تقوٰی اور پرہیزگاری ہے“۔ دوسرے الفاظ میں روح کے صدیوں کے سفر کیلئے بہترین زاد راہ تقوٰی اور پرہیز گاری ہے۔ اور اس زاد راہ سے روح اپنا سفر طے کرتی ہوئی دائمی اور ابدی نعمتوں کے ایسے مقام(جنت) میں پہنچے گی کہ جن کو کبھی زوال نہیں۔ اور حدیث شریف کے مطابق اس میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں کہ جن کو نہ کسی آنکھ نے پہلے کبھی دیکھا ہے اور نہ ان کے بارے میں کبھی کانوں نے سنا ہے او ر نہ ہی ذہن میں انکے بارہ میں کوئی تصور قائم کہ جاسکتا ہے کہ وہ کیسی ہیں؟ (المشکوٰة المصابیح)
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
05 Jan, 2012 Total Views: 891 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Muhammad Rafique Etesame


بندہ دینی اور اصلاحی موضوعات پر لکھتا ہے مقصد یہ ہے کہ امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کے فریضہ کی ادایئگی کیلئے ایسے اسلامی مضامین کو عام کیا جائے جو
.. View More

Read More Articles by Muhammad Rafique Etesame: 105 Articles with 48468 views »
Reviews & Comments
pehlay to ya kay musalman jannat main ja ker hamesha rahey ga............
dosra ya kay marnay kay baad musalman ki rooh kay 3 roop hongay .......pehla to insan kay jisam kay sath kabar main hoga aur wo atay jatay logon ko pehchanay ga.........
dosra alamay barzakh main parenday kay kalb main hoga aur jannat main charay pheray ga
3 ka ilm nahe ........

musalman Allah ki rehmat lay ker marta ha aur rooh araam se jisam se nikal ati ha
takleef sirf jisam ko feel hoti ha
..................

hum jab sootay hain to hamarey rooh jisam se nikal ati ha........is liye kabhe hum sootay main hakeekat ki duniya dekh atay hain aur kabhe jannat bhe........
By: aftab, karachi on Jan, 06 2012
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB