جہیز کی دونوں قسمیں لعنت ہیں

(Sami Ullah Khan, mianwali)

اس حقیقت سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا کہ جہیز اک معاشرتی و اخلاقی ناسور ہے۔ملک و ملت کی بقاء اسی میں ہے کہ اس کی ہر شکل کو ناپید کر دیا جائے۔جہیز اس مال وزر کو کہتے ہیں جو والدین اپنی دختر نیک اختر کو رخصتی کے وقت عنایت کرتے ہیں۔

اگر چہ والدین کی جانب سے تحائف دینا اک مستحسن عمل ہے۔لیکن موجودہ دور میں جہیز اک معاشر تی خرابی بن کر ابھرا ہے ۔در حقیقت یہ ایک ہندوانہ رسم ہے۔جسے مسلمانوں نے اس حد تک قبو ل کر لیا ہے کہ یہ فرسودہ رسم ہماری رگوں میں سرایت کر گئی ہے۔شرع نے جہاں دوسرے مذاہب کے بر عکس صنف نازک کے مقام ومرتبہ کو بلند کیا ہے وہاں جائداد میں بھی ان کا حصہ مقرر کر دیا ہے۔مسلم طبقہ (برصغیر)کے 99/ لوگ اپنی بیٹیوں کو جائداد میں ان کا مقرر کردہ حصہ دینے کے بجائے جہیز کے ذریعے اسکی تلافی کرتے ہیں ۔جو کہ ایک اخلاقی و شرعی جرم ہے۔اس قبیح رسم کے ہولناک نتائج وقتا فوقتا ہما رے سامنے آتے رہتے ہیں۔ مثلاً
1۔ایک نجی چینل کے مطابق کم جہیز لانے کی پاداش میں خاوند نے اپنے ماموں کے ساتھ مل کر بیوی کو کوئیں میں گرا دیا۔جس سے اس کی ریڑھ کی ہڈ ی ٹوٹ گئی ۔
2۔لاہور کے نوجوان نے کوشش کے باوجود بہن کا جہیز نہ بنا سکنے کی وجہ سے دلبرداشتہ ہو کر خود کشی کر لی۔
3۔معمولی جہیز کی بناء پر بیوی پر تیل چھڑک کر جلا دیا۔
4۔کم جہیز لانے کی پاداش میں بیو ی کو زہر پلا دیا۔(اخباری رپورٹس)
5۔جہیز نہ لا نے کے جرم پر شادی کے دوسرے روز دلہن کو قتل کر دیا گیا۔

رسمو ں‘ رواجوں کے آہنی شکنجے میں جکڑے والدین بسا اوقات بھاری قرض(IMF) لے کراس انسانیت سوز رسم کا دم بھر تے ہیں۔اور پھر سالہاسال قرض اتارتے رہتے ہیں یا پھر اگلی نسلوں کو منتقل کر جاتے ہیں۔تضنع و بناوٹ سے بھرپور زندگانی میں عوام جہیز کی ادائیگی کو فریضہ دین سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ بعض لوگ اسے بنت رسول ﷺ خاتون جنت حضرت فاطمہؓ کی رخصتی سے منسوب کر تے ہیں ۔جو کہ پرلے درجے کی لغو بات ہے۔چونکہ شیرخدا ‘حیدر کرار‘حضرت علیؓ رحمت اللعالمین ﷺ کی کفالت میں تھے۔ اسلیئے رخصتی کے وقت چند اشیائے ضرورت دی گئیں۔اور ان میں سے بیشتر حضرت علیؓ کی زرہ مبارک فروخت کر کے خریدی گئیں۔اور مولا علی ؓ نے مہر بھی اسی رقم میں سے ادا کیا(آج کل بھاری مہر کی شرائط قائم کر کے نکاح میں رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں)۔عرب میں اس قسم کی زہریلی رسم کا تصور ہی مفقود ہے۔بلکہ سسرال والے ہی ضرورت زندگی کی جملہ اشیاء کا بندوبست کرتے ہیں۔ویسے منطقی اعتبار سے بھی یہی طرز عمل درست معلوم ہوتا ہے کیونکہ دلہن تو مہمان ہوتی ہے اور اہتمام کرنا میزبان کا ہی حق بنتا ہے۔

بھاری بھر کم جہیز کے پس پردہ جذبہ نمود ونمائش بھی پوری آب وتاب کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔اور اکثر دیہی علاقوں میں تو جہیز کا سامان بکھیر کر اپنی دولت کے جاہ وجلال سے مرعوب کرنے کی انتہائی سعی روا رکھی جاتی ہے۔تاکہ گاﺅں کے گوشے گوشے میں ان کی جاہ وحشمت کی شنید ہو اور سسرالی گھر میں بیٹی کی شنوائی بھی ممکن ہو سکے۔جہیز کے محرکات میں لالچی دامادوں کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔
بقول شاعر
ہے جستجو کہ خوب (قیمتی جہیز)سے ہے خوب تر کہاں
اب دیکھئے ٹھہرتی ہے جا کر نظر کہاں؟

جن کی فرمائشیں پوری کرتے کرتے لڑکی کے والدین غربت کی گہری کھائی میں جا گرتے ہیں۔اگرچہ بھاری جہیز کے خلاف کچھ قوانین بھی موجود ہیں لیکن اس قہر آلود رسم کے خاتمے کیلئے ہمیں اپنا انداز فکر درست کرنا ہو گا۔

اس امر کی طرف بھی توجہ دلانا ضروری ہے کہ بیٹیوں کی قدروقیمت جہیز سے نہیں بلکہ ان کی اخلاقی و معاشرتی تربیت سے عیاں ہوتی ہے۔جو اسکی باقی ماندہ زندگی میں اپنا گہرا اثر چھوڑتی ہے۔والدین کو چاہیے کہ اپنی بچیوں کو امور خانہ داری ‘طبی معلومات اور شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے فنی ودینی تعلیم دلوائیں تاکہ ان کا مستقبل درخشاں ہو سکے۔لاکھو ں کی تعداد میں بے جرم و خطاء لڑکیاں اب بھی کنواری بیٹھی ہیں۔اور ہزارہا لڑکیوں کے بال تو والدین کی چوکھٹ پر ہی سفید ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے والدین کے پاس جہیز بنانے کیلئے خطیر رقم موجود نہیں ہوتی۔شاذونادر چند لڑکیاں جوش جوانی میں آکر بے راہ روی کا شکار ہو جاتی ہیں۔”زنا“ جیسا قبیح جرم جس سے دین حق کو سخت چڑ ہے بسا اوقات جہیز کی ہی مرہون منت ٹھہرتا ہے۔اور نتیجاً لڑکیاں عدالتوں کا رخ کرتی ہیں‘بے گھر ہوتی ہیں یا پھر قتل ہو جاتی ہیں۔اور صدیوں تک نسلیں طنزوتشنیع کے سلسلہ وار گھناﺅنے زخم سہتی ہیں ۔

جہیز کی دوسری قسم پہلی قسم کے بالمقابل کہیں زیادہ درد و الم کا باعث ہے۔یہ قومی سلامتی و معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔اس قسم میں والدین ”گزشتہ حکومت “ کو اور سسرال موجودہ حکومت کو کہتے ہیں ۔جہیز کی دونوں قسموں میں کافی مشتر ک باتیں پائی جاتی ہیں۔ہماری بیشتر حکومتیں یہی تجزیہ پیش کرتی آئی ہیں کہ پچھلی حکومت نے ہمیں جہیز میں :دگرگوں معیشت‘خالی خزانہ‘حساس اداروں میں نالائق افراد کی بھرتی‘اقرباءپروری‘آئین کی پامالی و لاقانونیت‘سورج مکھی کے پھول کی مانند ایک ہی محور میں گردش کر تی خارجہ پالیسی ‘غربت وافلاس‘فاقہ کشی‘عدم مساوات‘لوڈ شیڈنگ ‘درآمدات و برآمدات میں سرعت کے ساتھ کمی‘کالا باغ ڈیم کا ناکام منصوبہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وغیرہ دی تھیں۔لیکن ہم نے دن دگنی و رات چگنی محنت کر کے حالات کا رخ کافی حد تک بدل دیا ہے اور اب ملک تر قی کی راہ پر گامزن ہے۔حالانکہ صورتحال اسکے برعکس ہوتی ہے جس کا اظہار اسکے بعد آنے والی حکومت واشگاف الفاظ میں کر دیتی ہے۔در حقیقت ہر حکومت نے جہیز میں قدرے اضافہ ہی کیا ہے۔ اگر کسی فوجی حاکم نے بنیاد فراہم کی تو جمہوریت میں موجود مفاد پرست عناصر نے (اپنی حکومت میں )اسے رنگ وروپ بھی ضرور عطاءکیا۔جمہوریت کے دلدادہ بعض تجزیہ کار صرف فوجی حکمران کو ہی آمر تصور کرتے ہیں جبکہ فی الحقیقت نفسیاتی آشوب میں مبتلا‘ طبع حلیم و روشنی طبع سے محروم ہر وہ مطلق العنان حاکم جو بے توقیر معرکے رقم کرے ‘جو اصولوں ‘آدرشوں اور نظریوں کے بجائے ذرا ذرا سی اناﺅ ں کے پھریرے لہرائے‘قومی وسائل و قومی اثاثے نیست و نابود کرے‘آئین و قانون کو اپنی جاگیر بنا لے‘اور جس سے خدا فروش و خود پرست فرعونوں کی رعونت جھلکتی ہو ”آمر“ ہی کہلائے گا خواہ وہ کسی جمہوری طرز عمل یا چھڑی کے جادو سے تخت سجائے۔ ملکی تاریخ کے اوراق اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ(جہیز میں) کسی نے رائفل کا کلچر عطاء کیا‘کسی نے خود کش بمبار(عدلیہ پر تو قریباً سب نے ہی اپنے اپنے انداز میں ضرور وار کیا)‘کسی نے فرقہ واریت کو عروج دیا تو کوئی ذاتی مفاد کی خاطر نسلی و لسانی جماعتو ں کی حد بندی میں مصروف عمل رہا۔بس فر ق صر ف اتنا ہے کہ کسی کے چہرہ انور پر وقت نے نشان ثبت کر دیا تو کوئی مجرم ہونے کے باوجو د ملزم ٹھہرا۔صرف موجودہ جمہوری دور ہی ایسا ہے کہ جس میں کوئی سیاسی قیدی نہیں ہے وگرنہ ماضی کی حکومتوں کا مقد م مشغلہ ہی سیاسی مخالفو ں کو سبق سکھانا ہو تا تھا۔موجو دہ دور میں اگر اپوزیشن مثبت کردار ادا کرتی رہی اور وفاق بھی اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کر تا رہا تو قوی امید ہے کہ جہیز کی اس گھٹیا روایت سے خلاصی ممکن ہو جائے گی۔

حاصل گفتگو یہی ہے کہ جہیز کی فرسودہ روایت کی ہر نوعیت کو ناپید کر دیا جائے اور معاشرے و ملک کی بقاء بھی اسی میں ہے۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
13 May, 2011 Total Views: 738 Print Article Print
About the Author: sami ullah khan

Read More Articles by sami ullah khan: 150 Articles with 28285 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

OK, I got married a few months back and due to lack of space I had to take a separate home for myself. I have purchased each and everything out of my pocket. So, the person here who called I am found of Jahaiz should rethink now. Yes, but her parents gave her some crockery and some other stuff for personal use and thats ok for me, although I asked them that there is no need and I've already arranged everything. Now, if Jahaiz is given in this way thats ok and this was what I'd been trying to elaborate. I'm not sure someone will read my comment after this long period but, its what it is.
By: Kashif Saeed Hashmi, Rawalpindi on Aug, 21 2013
Reply Reply
0 Like
Kashif saeed Sb ki bat ke Sath Itefaq Karta Hon...
By: Altaf Shah, Islamabad on Jun, 07 2011
Reply Reply
0 Like
Kashif Sharjee. exactly.. me bilkul sahe samajta hon. but (read this with attention) JAB WO PARENT KI KHUSHI OR MARZI SE HO. MANG KR LI GAI CHEZ JAHAIZ NEIN BHEEK HOTI HAE. Parents apni khushi se kuch dain to that doesn`t mean k koi bari buri baat ho gai. or na dain tab b mulamat wali koi bat nein. jahaiz hinduism se adopted nein hae atleast.
By: Kashif Saeed Hashmi, Rawalpindi on May, 17 2011
Reply Reply
0 Like
Meri zaati raaye may ameer ho ya gareeb sab larkion k liye ek Jesa hi Jahaiz muqarar karna chahiye.
aur larka khud hi Jahaiz se mana kar de to kya baat hai.
By: kashif sherjee, Karachi on May, 16 2011
Reply Reply
0 Like
MR. KASHIF SAEED HASHMI SAHAB aap ki baaton se Lagta hai aap Jahaiz k lain dain ko sahi samjhtay hain.
Halanke aaj kal sab jante hain Jahaiz k naam per seedhi seedhi sode baazi hoti hai. aur agar Jahaiz dena hi hai to wohi do jo hadith se sabit hai.

By: kashif sherjee, Karachi on May, 16 2011
Reply Reply
0 Like
bhai sahab,ab main kia kah sukta hoon,mujay afsos sirf es baat ka hai, k hum se kafi sudyaaan phele ulma nay aur hamary buzergane deen,aur hamary baroon nay koi bhi important role play nahi kia,aur humko ye sub sekha ker es dunya se chalay gay,ab ye cheez hamary khoon ka hisa hain.
By: sheraz, multan.pakistan on May, 15 2011
Reply Reply
0 Like
kashif saeed hashmi ap sy adab sy guzarish hy article k second paragraph ki first line read krein********agarchy waldein ki janib sy gift dyna ek acha amal hy** **********
reh gai bat """zira"""" ki to article mein likha hy k kuch chezein us ko sale kr k purchase ki gaen.es ka matlub hy k ap s.a.w ny bi kuch chezein di thein laikin hazrat ali r.a ap ki kafalat mein thy,
By: khuram shahzad, lahore on May, 14 2011
Reply Reply
0 Like
سمیع اللہ خان میانوانی اچھا مضمون ہے لیکن جوش خطابت میں تھوڑی سے بد پرہیزی ہو گئی ہے اور سیاسیانہ جوہر بھی آپ نے شامل کر لئے ۔ نتیجہ

حقیقت اسباب میں کھو گئی
By: M.N.Khalid, Islamabad on May, 14 2011
Reply Reply
0 Like
jahan tak zarra farokht kr k saman khareedne ki bat hae to meher beshak us se ada kia gaya lekin Nabi Pak (S.A.W.W) ne Quran Pak, Jaey namaz or chakki apni taraf se bator tohfa di thi. (consult to islamic history book). or jahaiz darasal parents ki taraf se beti k liye ghar chorte waqt tohfa he hota hae jo k parents apni financial position k mutabiq dete hein. But jahaiz ko zindagi moat ka masla nein banana chahye. Her koi apni beti ko apni hesiat k mutabiq umda se umda tohfa he deta hae.
By: Kashif Saeed Hashmi, Rawalpindi on May, 14 2011
Reply Reply
0 Like
with due respect! u said it HINDUWANA RASAM. Nabi Pak (S.A.W.W) ne b apni beti ko jahaiz dia tha. Beshak aj kal jahaiz ka matlab lootna bun chuka hae but beher hal ye Sunnat se sabit hae or hinduon ki rasam hergiz nein hae.
By: Kashif Saeed Hashmi, Rawalpindi on May, 14 2011
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB