اپنے ماں باپ اور بزرگوں سے محبت کریں

یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم نے محبت کرنا سیکھا ذرا سا پلٹ کے اپنے ماضی میں جائیں تو پتہ چلے گا کہ ان کی محبت اور سہارے ہی سے ہم آج یہاں تک پہنچے ہیں انسان کا دل بھی کیسا عجیب ہوتا ہے جن آنکھوں سے جس گود سے ہم نے دنیا دیکھنی شروع کی وہ ہی غیر ضروری ہو گئے۔

ایک دفعہ ان کے قریب جا کر دیکھو وہ ترسی آنکھیں وہ ترسی باہیں کب سے تمہارا انتظار کر رہی ہیں جب ان کی طاقت تھی تو کتنی دفعہ بارہا ہم کو ہمارے خوف کے وقت اپنی گود میں چھپا لیا ہوگا اس چھوٹے سے خوفزہ دل کو تسلی دی ہوگی آج وہ سوکھے اور کھردرے ہاتھ ہم سے اپنا وہ لمس مانگتے ہیں اپنی وہ محبت مانگتے ہیں جو دیتے ہوئے ادھار کہا تو نہیں تھا لیکن ہم پے وہ ہے تو ادھار ہی پلیز اپنی زندگیوں کی چکا چوند روشنیوں سے نکل کر اس اندھیرے اور ویران کمرے میں جائیں جہاں کوئی آپکا منتظر ہے جنہوں نے ہم کو اپنے دن رات دیئے جنہوں نے اس وقت صرف ہمارے کسماسانے پر اپنی ساری ساری رات گزار دی ہم تو کچھ بھی نہیں تھے ہمارے ذرا سے رونے میں کھلایا پلایا ہماری ذراسی خوشی کے لئے اپنا سب نثار کر دیا ہم کن غفلتوں میں پڑے ہوئے ہیں ان کی محبت کو کیسے بھلائے بیٹھے ہیں آج بھی کوئی اپنوں کے قدموں کی آواز پے کان لگائے بیٹھے ہیں قدموں کی آواز قریب آتے سنتے ہیں تو امید کرتے ہیں ان کی طرف کوئی آرہا ہے لیکن وہ قدم کسی دوسری طرف چلے جاتے ہیں تو ان کی آس و امید دم توڑ دیتی ہے ماں باپ کے رہتے ہوئے ان کے ہونے کا احساس کرلیں ورنہ بعد میں پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ملے گا اور آخر میں ایک بات ہم خوب اچھی طرح یاد رکھنی چاہئے ہم اپنی زندگی کی کہانی خود لکھتے ضرور ہیں لیکن پڑھ کر سناتی ہماری اولاد ہے ڈریں ہماری لکھی ہوئی کہانی میں رنگ کوئی اور بھرے کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ وقت ہاتھ سے نکل جائے ۔

جانے والے چلے جائیں ایسی نگری میں جہاں کوئی خط یا سندیسہ نہیں پہنچتا پھر لاکھ چاہیں ان سے اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگ لیں ان کی خدمت کرکے دعائیں سمیٹ لیں گیا وقت کبھی لوٹ کر نہیں آتا بچپن سے جوانی جوانی سے بڑھاپا منظر بدلتے جاتے ہیں لیکن یہ منظر دوبارہ لاکھ چاہنے کے باوجود لوٹ کے نہیں آتے۔

Shaista Sarwar
About the Author: Shaista Sarwar Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.