شام کے بے قصور شہریوں کی زہریلی گیس کے ذریعہ ہلاکت ۰۰۰ ظالم کون؟

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)

شام کے شہر دوما میں زہریلی گیس کے حملے میں کم و بیش 100افراد بشمول معصوم بچے ہلاک اور 500کے قریب شدید زخمی بتائے جارہے ہیں اس سے قبل بھی بشارالاسد کی فوج نے کیمیائی حملوں کے ذریعہ عام شہریوں بشمول معصوم بچوں کو ہلاک کیا ہے۔ دوما شہر مشرقی غوطہ کا سب سے بڑا شہر ہے جہاں کی آبادی پر کیمیائی گیس کے ذریعہ ظالمانہ کارروائی کرتے ہوئے کئی بے قصور عام شہریوں کو ہلاک کیا گیا جس پر عالمی سطح پر مذمت کی جارہی ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کرتے ہوئے شام کے صدر بشارالاسد اور انکے اتحادیوں یعنی روس اور ایران کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس حملے کی بھاری قیمت ادا کرنی ہوگی۔ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ نے اپنی ٹویٹس میں بشارالاسد کو ’جانور‘ قرار دیا ۔ برطانیہ نے اس حملے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ یوروپی یونین نے بین الاقوامی برادری کی جانب سے فوری ردعمل کا مطالبہ کیا ۔ پوپ فرانسس نے اپنے ردعمل میں کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا کوئی جوازنہیں ہے۔ سعودی عرب، بحرین، کویت اور قطر نے شام کے اپوزیشن کے زیر کنٹرول قصبے دوما میں مبینہ کیمیائی حملے کی مذمت کی ہے جس میں ان ممالک کی جانب سے جاری کئے گئے علیحدہ علیحدہ بیانات میں خلیجی ممالک نے مشتبہ حملے کاذمہ دار کسی کونہیں ٹھہرایاہے ،جبکہ اقوام متحدہ اورفرانس نے شامی صدربشارالاسدکی فورسزپرانگلی اٹھائی ہے ۔ سعودی عرب نے اس کیمیائی حملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مذمت کی ہے جبکہ بحرین نے اس مبینہ حملے کو ’’برا‘‘قرادیتے ہوئے شام کے تمام شہریوں کے تحفظ کیلئے کوششیں تیز کرنے پر زور دیا ہے۔سعودی عرب کی علماء کمیٹی اور اسلامی کانفرنس تنظیم نے بھی دوما کے نہتے شہریوں پر کئے جانے والے کیمیائی حملموں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے انسانیت سوز حملے قرار دیا ہے۔ علماء کمیٹی نے ان حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف عالمی سطح پر کارروائی کرنے پر زور دیا جن میں دسیوں معصوم جانیں خطرناک کیمیائی ہتھیاروں کی نذر ہو گئیں۔ دریں اثناء او آئی سی کی جانب سے بھی دوما پر کیمیائی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مشرقی غوطہ میں معصوم شہریوں کی ہلاکت پر اپنے رنج و الم کا اظہار کیاگیا۔او آئی سی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف العثیمین نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بشار حکومت کی جانب سے نہتے اور معصوم شہریوں پر بمباری انتہائی افسوس ناک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی تنظیمیں نہتے شہریوں پر اس طرح کے حملوں کا فوری نوٹس لیں۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے سربراہ نے سلامتی کونسل کے رکن ممالک پر شام میں ہونے والے کیمیائی حملے کی کمزور الفاظ میں مذمت کرنے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ایک طرف عالمی سطح پر صدر شام بشارالاسد اور انکے اتحادیوں یعنی روس اور ایران کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے تو دوسری جانب شام اور روس دونوں نے کیمیائی حملے سے انکار کیا ہے ۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اقوام متحدہ میں روس کے سفیر کا کہنا ہے کہ شام میں ’’کیمیائی حملے‘‘ کا ڈرامہ اسٹیج کیا گیا۔ذرائع ابلاغ کے مطابق روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے 13؍ اپریل کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ روس کہ پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ دوما میں ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے کا ڈراما غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی مدد سے رچایا گیا ہے۔ تاہم وزیر خارجہ نے کسی غیر ملکی خفیہ ایجنسی کا نام نہیں لیا۔ وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیار یا کلورین کا ثبوت نہیں ملے گا۔ انکا کہنا ہے کہ روس کے ماہرین کو ایک ثبوت بھی نہیں ملا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ناقابل تردید ڈیٹا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوما کا واقعہ اسٹیج کیا گیا تھا اور اس کو اسٹیج کرنے میں اس ملک کی اسپیشل سروسز ملوث تھیں جو روس مخالف مہم میں پیش پیش ہے۔ دوما کے کیمیائی حملے کے بعد امریکی صدر کی جانب سے دی گئی وارننگ پر اقوام متحدہ میں روس کے سفیر نے کہاکہ امریکہ کی فوجی کارروائی کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں جبکہ امریکی سفیر کا کہنا ہیکہ روس کے ہاتھوں میں شامی بچوں کا خون ہے۔ اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکہ اور روس کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ غور ہیکہ ایک طرف امریکہ شام کے شہر دوما میں کیمیائی حملوں کے خلاف شام، روس کو موردِ الزام ٹھہرارہا ہے تو دوسری جانب شام اور روس اس سے انکار کررہے ہیں البتہ اس سے قبل بھی شام نے زہریلی گیس کے ذریعہ سینکڑوں شہریوں بشمول معصوم بچوں کو موت کی نیند سلادیا ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کارروائی کے بعد اسلام دشمن طاقتیں مزید مسلمانوں کو نشانہ بنائیں گے۔ پہلے ہی دوما میں بے قصور شہریوں کو نشانہ بناکر ہلاک کیا گیا تو اب شامی حکومت کو موردِ الزام ٹھہراکر امریکہ اگر کوئی سخت فضائی کارروائی کرتا ہے تو اس میں بھی کئی شامی افراد ہلاک ہوجائیں گے اس لئے وقت کا تقاضہ ہے کہ مشرقِ وسطی کے ممالک مل بیٹھ کر کوئی فیصلہ کرنے کی سعی کریں۔ شامی صدر بشارالاسد کو اقتدار سے محروم کرنے کے بجائے شام کے عام شہریوں کی بہتری اور انکے جانوں کی حفاظت کے لئے مصلحت پسندی سے کام لیتے ہوئے صدر شام سے بات چیت کریں ورنہ شامی اپوزیشن کی جانب سے اس کیمیائی حملے کے بعد جوابی کارروائی کی جاسکتی ہے کیونکہ مشرقی غوطہ کا سب سے بڑا یہ شہر دوما اپوزیشن کا آخری گڑ سمجھا جاتا ہے۔ عالمی برادری بشارالاسد کے خلاف کارروائی کرنے پر زور دے رہی ہے سوال پیدا ہوتا ہیکہ کیا امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک بشارالاسد کے خلاف کارروائی کرینگے کیونکہ اگر امریکہ بشارالاسد کے خلاف کارروائی کرتاہے تو اسکے جواب میں روس بھی بشارالاسد کی حکومت کو بچانے کے لئے کسی قسم کی بھی کارروائی کرسکتا ہے۔اقوام متحدہ میں روسی مندوب وسیلی نیبینزیا نے 10؍ اپریل کو امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ شام میں کیمیائی حملے کے جواب میں کسی فوجی کارروائی سے باز رہے۔ انہو ں نے کہا کہ اگر امریکہ کسی قسم کی غیر قانونی فوجی کارروائی کی تو وہ اس کا ذمہ دار ہوگا۔ تاہم مغربی رہنماؤں نے دوما پر کیمیائی حملے کا جواب دینے کے لئے متحدہ طور پر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے کہا ہے کہ حملوں میں شامی حکومت کی کیمیائی تنصیبات کو ہدف بنایا جائے گا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں مبینہ کیمیائی حملے کے خلاف نئی تحقیقات کی تجویز منظور نہ ہوسکی کیونکہ روس نے امریکہ کا تحریر کردہ مسودہ قرارداد ویٹو کردیا جب کہ چین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ دوسری جانب روس کی جانب سے جوابی قرار داد بھی مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرپائی۔ اس طرح امریکہ اور روس کے درمیان شام کے حالات پر سخت موقف اختیار کئے ہوئے ۔ سوال پیدا ہوتا ہیکہ کیا واقعی امریکہ ، فرانس، برطانیہ، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ممالک شام میں کئے گئے کیمیائی حملے پر شدید برہمی اور مذمت کرتے ہوئے اسکے خلاف کارروائی کرینگے ؟کیا اس واقعہ کااتنا گہرا اثر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ، فرانس کے صدرایمینوئل میکخواں اور برطانیہ کے حکمراں پرپڑا ہیکہ وہ شام اور روس کے خلاف جوابی کارروائی کرنے کے لئے بے چین ہیں۔ اگر شام کے ان بے گناہ افراد بشمول معصوم بچوں کی ہلاکت کا اتنا گہرا اثر پڑا ہے تو پھر گذشتہ ہفتہ افغانستان کے صوبے قندوز کے دشت ارچی کی مسجد اور مدرسہ میں ان کمسن معصوم فارغین حفاظ اور علماء و فضلاء کے سالانہ جلسہ میں افغان فوج کی فضائی کارروائی کے وقت کیوں نہیں پڑا ۔ کیا افغانستان کے وہ معصوم بے قصور حفاظ و علماء جنہوں نے ابھی فراغت حاصل کرکے خوشیاں منارہے تھے،بے قصور معصوم بچے نہیں۔ ان پر ظالم افغانی فوج نے جلسہ کے مقام پر طالبان کی میٹنگ کے نام پرالزام عائد کرکے اتنی بڑی کارروائی کی ۔ اس ظالمانہ کارروائی کے خلاف کسی عالمی حکمراں نے لب کشائی کرتے ہوئے مذمت کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ بے شک شام کے معصوم عوام پر کیمیائی گیس کے حملے قابلِ مذمت ہے لیکن افغانستان کے اس مدرسہ و مسجد پر افغان فوج کی جانب سے کی جانے والی کارروائی بھی سخت قابلِ مذمت تھی اور اس کے ذمہ داروں کو سخت سے سخت سزا دینے کی عالمی سطح پر آواز اٹھنی چاہیے تھی لیکن جب اپنوں نے ہی خاموشی اختیار کی تودشمنانِ اسلام کے تیئں کیا امید رکھی جاسکتی ہے۔کاش عالم اسلام دشمنانِ اسلام کی سازشوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے شام ، یمن اور دیگر ممالک میں مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور آپسی پیار و محبت کے پیغام کو پہنچانے کی سعی کریں ورنہ آئندہ چند برسوں میں مسلمانوں کو دشمنانِ اسلام سے مزید سازشوں کا شکار ہونا پڑے گا ۰۰۰

فلسطین میں اسرائیل کی بربریت اور ظالمانہ کارروائی
غزہ کی پٹی پر پُر امن احتجاج کرنے والے کئی بے قصور فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج نے ظلم و بربریت کا شکار بنارہا ہے۔ اسرائیلی دہشت گردی گذشتہ دو ہفتہ سے جاری ہے جس میں 29فلسطینی شہیداور 3000 کے لگ بھگ زخمی ہوچکے ہیں ۔فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ30 ؍مارچ سے 6 ؍اپریل کے درمیان اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 29 فلسطینی جام شہادت نوش کرگئے جب کہ 3 ہزار کے قریب زخمی ہوچکے ہیں۔ زخمیوں میں سے 79 کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے ۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ نے بتایا کہ حق واپسی ریلیوں کے دوران اسرائیلی فوج نے وحشیانہ کارروائیوں میں بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو زخمی کیا ہے۔

شہزادہ محمد سلمان ۔ فرانس میں ۰۰۰۰
سعودی عرب کے ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان ان دنوں امریکہ کے دورے کے بعد فرانسیسی حکومت کی دعوت اور خادم الحرمین الشریفین کی ہدایت پر فرانس کے دورہ پر ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پیرس پہنچنے پر فرانسیسی وزیر خارجہ اور پیرس میں سعودی سفیر ڈاکٹر خالد العقری نے انکا استقبال کیا۔ وہ فرانسیسی صدر سے ملاقات کرینگے اور توقع کی جارہی ہے کہ ان قائدین کے درمیان دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ ماحول میں مزید معاہدے طئے پائینگے۔ شہزادہ محمد بن سلمان مملکت سعودی عرب میں 2030ویژن کے تحت تیل پر انحصار کم کرتے ہوئے مختلف ترقیاتی منصوبوں کو روبہ عمل لانا چارہے ہیں اسی سلسلہ میں سعودی عرب میں کئی پابندیاں ختم کردی گئیں۔ شاہ سلمان کے دورِ اقتدار میں شہزادہ محمد بن سلمان کی کوششوں کے نتیجہ میں امریکہ کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات میں مزید بہتری پیدا ہوئی ہے جبکہ بارک اوباما کے دور میں سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں سرد مہری بتائی جارہی تھی ۔محمد بن سلمان امریکہ کے بعد فرانس کے اس دورے سے واپسی کے بعد مملکت میں کس قسم کے اقدامات کرتے ہیں یہ تو آنے والا وقت بتائے گا ۔

دبئی میں ترقیاتی منصوبوں پر اربوں ڈالرز مختص
دبئی دنیا کے ان گنے چنے شہروں میں شمار ہوتا ہے جہاں دنیا کے کئی ممالک سے لوگ تفریح کیلئے آتے ہیں۔ دبئی کے حکمراں اس شہر کو انتہائی خوبصورت اور مہمانوں کے لئے انتہائی آرام دہ اور پرسکون بنانے کے لئے حتی المقدور کوشش کرتے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی اسی طرح کی کوشش جاری ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق دبئی میں نمائش 2020ء کے نام سے بین الاقوامی تجارتی میلے کے انعقاد سے قبل انفرااسٹرکچر کی تعمیر اور مہمان داری سے متعلق منصوبوں کیلئے اربوں ڈالرز مختص کئے ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق کنسٹرکشن انٹیلی جنس کی رپورٹ میں بتایاگیاکہ نمائش سے متعلق جاری منصوبوں کی مالیت مارچ میں ساڑھے 42 ارب ڈالرز سے تجاوز کر چکی تھی۔ان میں 17.4 ارب ڈالرز انفرا اسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ کے منصوبوں ، 13.2 ارب ڈالرز مکانات اور 11 ارب ڈالرز ہوٹلوں اور تھیم پارکس کی تعمیر پر صرف کیے جارہے ہیں۔ان منصوبوں کے تحت دبئی کے آل مکتوم بین الاقوامی ایئرپورٹ کی توسیع پر 8 ارب ڈالرز صرف کیے جارہے ہیں ۔یہ ایئرپورٹ شہر کے جنوب میں واقع ہے۔اس کی توسیع سے شہر کے شمال میں واقع دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر فضائی ٹریفک کا بوجھ کم ہوجائے گا ۔ 2017ء میں دبئی ائیرپورٹ دنیا کا سب سے مصروف ترین ایئرپورٹ تھا اور اس کے ذریعے گذشتہ سال 8 کروڑ 80 لاکھ مسافروں نے سفر کیا تھا۔آل مکتوم اس توسیعی منصوبے کی تکمیل کے بعد دنیا کا مصروف ترین ہوائی اڈا بن جائے گا اور اس کے ذریعے 16 کروڑ مسافر سالانہ سفر کرسکیں گے۔دبئی ایک نئی میٹرو لائن کی تعمیر پر دو ارب 90 کروڑ ڈالرز صرف کررہا ہے ۔اس کے ذریعے ٹرانسپورٹ کے موجودہ مرکزی نظام کو نمائش گاہ سے ملایا جائے گا۔دبئی کی ترقی اپنی جگہ جاری ہے ۔مشرقِ وسطی کے بعض ممالک میں ہزاروں مسلمان ہلاک وزخمی ہورہے ہیں تو بعض ممالک میں ترقیاتی منصوبے جاری ہیں اﷲ کرے کہ ان ممالک میں بھی جہاں مسلمان دشمنانِ اسلام کی ناپاک سازشوں کا شکار ہورہے ہیں انکی جان و مال کی حفاظت ہو اور وہ بھی امن و سلامتی کی زندگی گزاریں۔

ایران میں اقلیتوں کی تذلیل کا اعتراف ۰۰۰ امور علی یونسی
ایران میں اقلیتوں خصوصاً سنی مسلمانوں کے ساتھ جس طرح کا برتاؤ ہوتا آرہا ہے یہ تو بہت ہی کم ذرائع ابلاغ کے ذریعہ منظر عام پر آتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران میں صدر حسن روحانی کے مشیر برائے مذہبی و نسلی امور علی یونسی نے کہاہے کہ ایران کی تمام اقلیتوں میں امتیازی سلوک اور تذلیل کا احساس ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے۔امریکی ٹی وی کے مطابق خصوصی انٹرویو میں یونسی کا کہنا تھا کہ نسلی اور مذہبی اقلیتوں سے متعلق معاملات کا شمار ایران کو درپیش سب سے بڑے سیاسی چیلنجوں میں ہوتا ہے۔یونسی نے باور کرایا کہ اسلامی جمہوریہ کے نظام کو چار دہائیاں گزر چکی ہیں تاہم مختلف قومیتوں اور مذہبی اقلیتوں بالخصوص ملک کے سنیوں کے اندر ابھی تک امتیازی برتاؤ اور تذلیل کا احساس باقی ہے۔ صدر حسن روحانی کے تمام تر وعدوں کے باوجود اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے شہری ملک کی انتظامیہ میں شریک ہونے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ یونسی کے مطابق ہمیں بلوچوں، کردوں، عربوں، ترکمانوں اور سنیوں میں سے تعلیم یافتہ دانشور طبقے کو لے کر انہیں ریاست میں اہم عہدوں پر مقرر کرنا چاہیے۔یونسی نے واضح کیا کہ یہ امر قومی سلامتی اور ملی یکجہتی کے مفاد میں ہر گز نہیں کہ سنیوں کو یا کسی قومیت یا مذہبی فرقے سے تعلق رکھنے والے شخص کو سماجی عہدوں اور پارلیمانی نمائندگی سے محروم کیا جائے یا پھر انہیں وزارتوں میں منصب سنبھالنے یا جامعات میں تدریس انجام دینے سے روکا جائے۔یونسی کے مطابق قومی اور مذہبی اقلیتوں کے حوالے سے تنگ نظری اور تعصب قومی سلامتی کیلئے ایک حقیقی خطرہ ہے۔البتہ علی یونسی نے اس حوالے سے زیادہ نہیں بتایا کہ یہ تنگ نظر اور متعصب عناصر کون ہیں۔علی یونسی کا یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حکومتی سطح پر ان تمام اقلیتوں کے ساتھ آج بھی تنگ نظری اور تعصب پرستی موجود ہے جسے دور کرنا وقت کا تقاضہ ہے ۰۰۰
***
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
16 Apr, 2018 Total Views: 108 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 115 Articles with 30996 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB