امریکی ’ان پڑھ‘ استاد جو 17 سال تک سکول میں پڑھاتا رہا

 

جان کورکورین سنہ 40 اور 50 کی دہائیوں میں میکسیکو اور امریکہ میں پلے بڑھے۔ چھ بھائی بہن میں وہ ایک تھے۔ انھوں نے ہائی سکول کیا، یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور پھر 60 کی دہائی میں پڑھانے لگے۔وہ 17 سال تک یہ خدمت انجام دیتے رہے لیکن اب وہ اپنے غیرمعمولی راز سے پردہ اٹھا رہے ہیں۔

بچپن میں والدین نے کہا تھا کہ میرے اندر جیت کا جذبہ ہے اور چھ سال تک میں اپنے والدین کی اس بات کو سچ سمجھتا رہا۔
 


میں نے دیر سے بولنا سیکھا لیکن اس امید پر سکول گیا کہ میں اپنی بہن کی طرح پڑھنے لگوں گا۔ ابتدا میں سب ٹھیک تھا۔

دوسرے درجے میں ہمیں پڑھنا سیکھنا تھا۔ لیکن میرے لیے یہ کسی چینی اخبار کو کھول کر پڑھنے سے کم نہیں تھا۔ مجھے پتہ نہیں کہ اس میں کیا لکھا تھا اور چھ، سات اور آٹھ سال کے بچے کے طور پر میں اس مسئلے کو حل کرنے سے قاصر تھا۔

مجھے یاد ہے کہ میں رات کو دعا کرتا تھا کہ 'خدایا جب میں کل صبح اٹھوں تو مجھے پڑھنا آتا ہو۔' میں رات کو کبھی روشنی جلا کر کتاب دیکھتا کہ کوئی کرشمہ ہوا یا نہیں۔

میں سکول میں بدھو لڑکوں کی قطار میں ہوتا جنھیں پڑھنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ مجھے پتہ نہیں کہ میں وہاں کیسے پہنچا، وہاں سے کیسے نکلوں اور کیا سوال پوچھوں۔

جب آپ بدھو لڑکوں کی قطار میں ہوتے ہیں تو آپ خود کو بدھو سمجھنے لگتے ہیں۔

ٹیچر میٹنگ میں میری ٹیچر نے میرے والدین سے کہا: 'یہ سمارٹ ہے، یہ کر لے گا' اور مجھے تیسری جماعت میں پہنچا دیا گیا۔

اسی طرح مجھے چوتھی اور پانچویں جماعت میں پہنچا دیا گیا لیکن مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔
 


پانچویں میں پہنچتے پہنچتے میں نے پڑھنے کی امید چھوڑ دی تھی۔ روزانہ صبح اٹھتا، تیار ہوتا جیسے میں کسی جنگ پر جا رہا ہوں۔ مجھے کلاس روم سے نفرت تھی۔ وہاں کا ماحول معاندانہ تھا اور مجھے اس میں جینا تھا۔

میں ساتویں جماعت میں عموما پرنسپل کے کمرے میں بیٹھا ہوتا۔ میں لڑتا تھا۔ میں ضدی تھا، میں جوکر تھا، میں خلل دینے والا تھا اور مجھے سکول سے نکال دیا گیا۔

لیکن میرا اندرون ایسا نہیں تھا۔ میں ویسا نہیں ہونا چاہتا تھا۔ میں کچھ اور بننا چاہتا تھا، کامیاب ہونا چاہتا تھا، اچھا طالب علم ہونا چاہتا تھا لیکن میں ایسا نہیں کر سکا۔

جب آٹھویں جماعت میں پہنچا تو میں خود کو اور گھر والوں کو پشیمان کرنے سے تھک چکا تھا۔ اس لیے میں نے شریف بننے کی ٹھان لی۔ اگر آپ سکول کے نظام کے ساتھ چلتے ہیں تو آپ کو راستہ مل جاتا ہے۔ اس طرح میں ٹیچر کا پالتو بن گیا اور پاس ہونے کے لیے ہر ضروری کام کرنے لگا۔

میں ایتھلیٹ بننا چاہتا تھا کیونکہ میں اس میں اچھا تھا اور میری ریاضی بھی اچھی تھی۔ مجھ میں سماجی ہنر بھی تھا۔ میں بچوں کے ساتھ رہتا تھا۔ میں نے سکول کی سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والی لڑکی کے ساتھ ڈیٹ کیا تھا اور لڑکیاں زیادہ تر میرا ہوم ورک کر دیتی تھیں۔

میں اپنا نام اور کچھ الفاظ لکھ سکتا تھا لیکن ایک جملہ پورا نہیں لکھ سکتا۔ لیکن میں نے کسی کو نہیں بتایا کہ میں لکھ پڑھ نہیں سکتا۔
 


امتحان میں یا تو میں کسی کی کاپی دیکھ کر نقل کرتا یا پھر اپنی کاپی دوسرے کے حوالے کر دیتا جو میرا جواب لکھ دیتا تھا۔

لیکن جب میں ایتھلیٹک کی سکالرشپ پر کالج گیا تو وہاں کہانی ہی دوسری تھی۔

میں نے سوچا کہ سب تو میرے سر سے اوپر سے گزر رہا ہے اور میں اس سے کیسے نکلوں گا۔ میں نقل کرنے کا ہر حربہ استعمال کرتا۔

ایک امتحان میں پروفیسر نے چار سوال کیے۔ میں سب سے پیچھے بیٹھا تھا۔ میں نے بہت محنت سے چاروں سوال اتارے لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ ان کا مطلب کیا ہے۔

میں نے سکول کے شاید سب سے سمارٹ لڑکے کو کھڑکی کے پاس رکھا جو میرا جواب لکھے گا۔ وہ ذرا شرمیلا تھا اور میری نامی کی ایک لڑکی سے دوستی چاہتا تھا۔

ایک دوسرا امتحان پاس کرنا میرے لیے بہت ضروری تھا اور میں نے نصف شب کو پروفیسر کے گھر چوری کی لیکن مجھے کچھ نہ ملا۔ تین رات ایسا ہی کیا لیکن کچھ نہ ملا، پھر اپنے تین دوستوں کے ساتھ وہ الماری اٹھا لایا جس میں امتحان کا پرچہ ہو سکتا تھا۔ میں نے تالا کھولنے والے کو تیار کر رکھا تھا اور مجھے امتحان کے پرچے مل گئے اور ایک ذہین لڑکے نے تمام سوالات کے صحیح جواب لکھ دیے۔

میں نے الماری واپس اس کی جگہ پر جا رکھی اور سوچا کہ مشن پورا ہوا لیکن میں بستر میں آ کر خوب رویا۔ میں نے کسی سے مدد کیوں نہیں مانگی۔ شاید میں سوچتا تھا کہ کوئی مجھے پڑھنا سکھا ہی نہیں سکتا۔
 


لیکن میں تدریس کے لیے کیوں گیا؟ میں نے پکڑے گئے بغیر سکول، کالج کر لیا تھا۔ اس لیے میں نے سوچا کہ میں ٹیچر کے بھیس میں چھپ سکتا ہوں کیونکہ کوئی بھی ٹیچر کے بارے میں یہ نہیں کہتا کہ اسے پڑھنے نہیں آتا۔

میں نے طرح طرح کے کام آزمائے۔ میں ایتھلٹکس کا کوچ بنا۔ میں سوشل سائنس پڑھاتا تھا۔ میں ٹائپنگ پڑھاتا تھا۔ میں ایک منٹ میں 65 لفظ ٹائپ کر لیتا تھا لیکن یہ نہیں جانتا تھا کہ کیا ٹائپ کیا ہے۔ میں نے کبھی بھی بلیک بورڈ کا استعمال نہیں کیا۔ ہم کلاس روم میں بہت سی فلمیں دیکھتے اور بحث و مباحثہ کرتے۔

مجھے یاد ہے کہ میں کس قدر سہما ہوا رہتا تھا۔ میں بچوں کا نام بھی نہیں پڑھ کر پکار سکتا تھا۔ اس لیے بچوں سے کہتا کہ وہ خود ہی اپنا نام اور رول نمبر بتا دیں۔ میں دو تین لڑکوں کو شروع میں چھانٹ لیتا تھا جو میرے خیال سے کلاس میں سب سے اچھا پڑھتے لکھتے تھے کہ وہ میری مدد کریں۔ وہ میرے معاون تھے لیکن انھوں نے کبھی مجھ پر شک نہیں کیا کیونکہ استادوں پر شک نہیں کیا جاتا۔

پھر میری شادی ہو گئی۔ میں نے سوچا کہ اب اپنی بیوی سے سب سچ بتا دوں۔ آئینے کے سامنے مشق کرتا۔

ایک شام میں نے اسے بتا دیا: 'کیتھی میں پڑھ نہیں سکتا، مجھے پڑھنا نہیں آتا۔'

لیکن اسے میری بات سمجھ میں نہیں آئی وہ یہ سمجھی کہ میں زیادہ کتابیں نہیں پڑھتا۔ محبت اندھی اور بہری ہوتی ہے۔ پھر ہمارا ایک بچہ پیدا ہوا۔ اور جب ہم اسے پڑھا رہے تھے تو کہیں جا کر وہ سمجھی کہ میں کیا کہہ رہا تھا۔

میں نے سنہ 1961 سے 1978 تک پڑھایا اور پھر میں نے نوکری چھوڑ دی اور پھر آٹھ سال بعد میری زندگی اس وقت بدل گئی جب بابرا بش کو میں نے ٹی وی پر تعلیم بالغاں کے بارے میں بات کرتے سنا کیونکہ میں یہ سمجھتا تھا کہ دنیا میں واحد آدمی میں ہی ہوں جو اس پریشانی سے دو چار ہے۔
 


میں نے ایک رضاکار خاتون کی خدمات حاصل کیں اور ان سے پڑھنے لگا۔ مجھے لگا کہ مجھے ایک نیا جنم ملا ہے۔ جب آپ کو پڑھنا نہیں آتا تو آپ اپنے بچپن میں قید رہتے ہیں۔ نفسیاتی، جذباتی، تعلیمی، روحانی، ہر اعتبار سے آپ بچے ہی رہتے ہیں۔

مجھے مکمل مہارت حاصل کرنے میں سات سال لگے لور میرا ضمیر اس وقت جا کر صاف ہوا جب واقعی مجھے پڑھنا آ گیا۔

کیا میں لوگوں کو بتا دوں؟ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ میرے خاندان پر اس کا کیا اثر ہو گا؟ لوگ میرے بچوں کے بارے میں کیا سوچیں گے؟

آخر ہمت کر کے میں نے لوگوں کو بتا دیا۔ پہلے تو انھیں یقین ہی نہیں آتا تھا۔ سب سمجھتے تھے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں۔

لیکن میرا پیغام یہ ہے کہ مجھ جیسے لوگ بدھو نہیں ہوتے اور کسی کام کا آغاز کے لیے کبھی دیر نہیں ہوتی۔ ہم کسی بھی عمر میں سیکھ سکتے ہیں۔

48 سال تک میں اندھیرے میں تھا لیکن اب اپنے بھوت سے چھٹکارا حاصل کر چکا ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ پڑھنا مشکل ضرور لیکن ناممکن نہیں۔


Partner Content: BBC URDU

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
15 Apr, 2018 Total Views: 1611 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
bohat hi achi tahreer likhe ha ...jo insan ek bar soch leta hay kay wo nhi kar sakta pher yakeen kijiya wo nhi kar sakta ,,or ek bar soch le insan kay main kar sakta hon to insan pher kise bhi umar main kise bhi halat main kar jata ha wo kam ...ALLAH pak sub ko taleem hasil karne ki tofiq ata farmae or is tarha ki taleemi pareshani se ALLAH pak sub ko bachae ameen ...
By: shohaib haneef , karachi on Apr, 16 2018
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
John Corcoran grew up in New Mexico in the US during the 1940s and 50s. One of six siblings, he graduated from high school, went on to university, and became a teacher in the 1960s - a job he held for 17 years. But, as he explains here, he hid an extraordinary secret.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB