سیاسی منظر نامہ

(Shoukat Ullah, Banu)

ساڑھے چار سال سے قومی اُفق پر چھائے‘ جمہوریت کو لاحق خطرات کے منڈلاتے بادل بالآخرچھٹگئے ہیں۔الیکشن کمیشن کی جانب سے ایوان بالا کے انتخابات کا شیڈول جاری کردیا گیا ہے۔ جس کے مطابق چار فروری سے آٹھ فروری تک کاغذات نامزگی وصول ہوں گے۔نو فروری کو اُمیدواروں کی فہرست جاری اور جب کہ اگلے تین روز کے اندر کاغذات کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔پندرہ فروری تک کاغذات نامزدگی مسترد یا منظور ہونے کے خلاف اپیلوں کی سماعت ہوگی۔ 17 فروری کو تمام اپیلوں پر فیصلہ سنانے کے بعد 18 فروری کو اُمیدواروں کی حتمی فہرست جاری کی جائے گی اور جب کہ 19 فروری کو کاغذات نامزدگی واپس لئے جاسکیں گے۔3 مارچ کو چاروں صوبوں اور اسلام آباد کی 48 نشستوں کے لئے انتخابات ہوں گے۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن کے ایک بیان کے مطابق عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان مئی کے آخری ہفتے میں کردیا جائے گا۔ پس غیر یقینی کیفیت کے خاتمے کے بعدسے سیاسی جماعتوں اور سیاسی کھلاڑیوں میں جوڑ توڑ کا عمل تیز ہوگیا ہے۔جہاں ایک طرف سیاسی کھلاڑی ایک جماعت سے ناطہ توڑ کر دوسری جماعت میں شامل ہو رہے ہیں تو وہاں دوسری جانب سیاسی جماعتوں کے درمیان نئے اتحاد بن اور پُرانے اتحاد ٹوٹ رہے ہیں۔ ماضی کی طرح یہ سارا عمل سیاسی ہَوا کا رخ دیکھ کر انجام پا رہاہے۔اس وقت یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس بار کون سی جماعت اقتدار حاصل کرے گی۔ البتہ پچھلی کارکردگی اور نادیدہ طاقتوں کی بناء پر پیش گوئیاں کی جاسکتی ہیں۔

گزشتہ دنوں صوبہ بلوچستان اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے استعفیٰ کے نتیجے میں جو تبدیلی آئی ، اُس نے یہ بات ثابت کردیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو Under Esitmate نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ اس کے پاس سیاسی بساط کے ماہر زرداری موجود ہیں۔ جنہوں نے بلوچستان اسمبلی میں ایسی چالیں اور مہرے استعمال کئے کہمحض ساڑھے پانچ سو کے قریب ووٹوں سے کامیاب ہونے والا صوبائی ممبر رقبہ کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا وزیراعلیٰ منتخب ہوگیا ہے۔یاد رہے کہ بلوچستان اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی ایک چھوٹی سی اقلیتی جماعت ہے جس کے ارکان کی تعداد محض پانچ بنتی ہے۔اس کے علاوہ صوبہ سندھ میں اَب بھی ایم کیو ایم کو ٹف ٹائم دینے کے لئے پی پی پی میں کافی دَم خَم موجود ہے۔ جہاں تک تخت لاہور کا تعلق ہے ، اس کے لئے تمام سیاسی جماعتیں ہاتھ پاؤں مار رہی ہیں۔ 17 جنوری کو لاہور میں پاکستان عوامی تحریک کے دھرنے میں تمام بڑی جماعتوں کے قائدین کی شرکت اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی لیکن لاہور کی تاریخی جلسہ گاہ پر کیا جانے والا دھرنابُری طرح ناکام ہوا۔ اس ضمن میں ہمیں این اے 120 پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج کو بھی نہیں بھولنا چاہیئیجو پاکستان تحریک انصاف کی توقعات کے بالکل برعکس آئے۔ حالاں کہ 28 جولائی کو جس طریقے سے نواز شریف کو وزارت ِ عظمیٰ چھوڑنا پڑی ، اس سے یہ لگتا تھا کہ پارٹی ٹوٹ پھوٹ اور داخلی انتشار کا شکار ہوجائے گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ پارلیمان نے جمہوری طریقے سے نیا قائد ایوان منتخب کرلیا اور قانون سازی کے ذریعے نواز شریف پارٹی قائد بھی منتخب ہوگئے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ این اے 120 کی انتخابی مہم مریم نواز نے تن تنہا بڑی عمدگی سے چلائی۔ اس کے علاوہ صوبہ پنجاب میں ہونے والے دیگر ضمنی انتخابات میں بھی پاکستان مسلم لیگ (ن ) نے تواتر کے ساتھ کامیابیاں بٹوریں ہیں۔ یوں یہ سارے واقعات پاکستان مسلم لیگ (ن) کی آئندہ انتخابات میں کامیابیوں کی پیش گوئیاں کررہے ہیں۔

صوبہ خیبر پختون خوا میں چار فروری کے جلسے میں شیر کی دھاڑ نے یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ عوام نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو مسترد نہیں کیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے ہوم گراؤنڈ پر مسلم لیگ (ن) کی دھواں دار اننگز نے اپوزیشن جماعتوں کو ہکا بکا چھوڑ دیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ خیبر پختون خوا کے عوام ہر بار انتخابات میں نئی جماعتوں کو آزماتے ہیں۔ 2002 ، 2007 اور 2013 کے انتخابات میں بالترتیب ایم ایم اے ، اے این پی اور پی ٹی آئی نے حکومتیں بنائیں۔ ایسے حالات اور حقائق کی روشنی میں خیبر پختون خوا میں اس بار قرعہ ان آزمائی ہوئی پارٹیوں کے علاوہ کسی اور کے نام بھی نکل سکتا ہے۔ اور اگر صوبہ خیبر پختون خوا میں بر سر اقتدار جماعت کی کارکردگی کا سرسری جائزہ لیا جائے تو انہوں نے پہلے چار سال دھرنوں کی نذر کئے۔مثالی پولیس کی کارکردگی کوہاٹ میں میڈیکل کی طالبہ کے قتل ، مردان کی ننھی کَلی کے اندوہناک واقعے ، مشال خان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے اندر قتل اور ڈیرہ اسماعیل خان میں شریفاں بی بی کے ساتھ پیش آنے والے بیسیوں واقعات سے لگائی جاسکتی ہے۔میٹرو بس جس کو دسمبر 2017 ء میں مکمل کرنے کا جو وعدہ کیا گیا تھا وہ تاحال پورا نہیں ہو اور اس پر جاری کام سے سارا پشاور شہر کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے۔یہی حال بیوٹی فیکشن کے نام پر جاری دیگر اضلاع کا بھی ہے۔ ایم ایم اے کی بحالی اور اس بار اے این پی کی انتخابی مہم یہ واضح ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے لئے یہاں حکومت دوبارہ حکومت میں آنا ایک چیلنج ثابت ہوگا۔
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
13 Feb, 2018 Total Views: 97 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 75 Articles with 16262 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB