ڈگری کی قدر

(Ali subhan, sambrial)

This is the critisim about the value of educated and degree holder persons in pakistan.

میرے مطابق کسی قوم کی ترقی٫خوشخالی یا کامیابی اسی میں ہے کے اس کی عوام اپنے ملک کی حکومت یا حکمرانوں سے خوش ہوں۔ اب سوال یہ ہے کے ہم سب اپنی حکومت کی کاکردگی سے خوش ہیں؟ ہمارے کسان خوش ہیں؟ ہمارا مزدوردار طبقہ خوش ہے؟ ہمارے طالبعلم،ڈگری یافتہ نوجوان جو ہمارا مستقبل ہیں وہ خوش ہیں؟

در اصل یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ پاکستان میں تعلیم کا معیار روز بروذ پسی کی طرف گامزن ہے۔ جس کے اثرات ہماری ملکی ترقی پر بھی نظر آ رہے ہيں اور ہماری ترقی کی راہيں مخدوش ہو کر رہ گی ہیں۔ ہم اپنی قومی ترقی کو جہالت کے اندھیرے میں ٹٹول رھے ہیں۔ بجاۓ اسکے کہ ہم علم کی روشنی سے ترقی کو پائیں اور یہ بات ہم پر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ترقی کے خزینے کو علم کی روشنی کے بغیر پانا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔۔

ہم باقیوں کی بات نہیں کرتے ہم بات کرتے ہیں اپنے نوجوان طبقے کی جو ہمارا مستقبل ہیں۔ جو ذندگی کے نشیب و فراز سے گزر کر، رات دن ایک کرکے محنت کرتے ہیں اور ڈگریاں حاصل کرتے ہیں کیا ان کو انکی محنت کا صلہ مل رھا ہے؟؟

ماں باپ اپنی اولاد میں سے خصوصا بیٹوں کو بڑے نازوں سے پالتے پوستےھیں ان کے سارے نازونخغرے اٹھاتے ھیں کیونکہ ان پر انہوں نے اپنی بہت سی امیدیں باندھی ھوتی ھیں۔ ماں باپ کی اپنے جوان ہوتے ہوئے بیٹے سے اور کیا امید ہوگی کہ ہمارا بیٹا ہمارا نام روشن کرے یعنی وہ کوئ ایسا اچھا کام کرے کہ ہم اپنے بیٹے کے نام سے جانے جایں ہم اس پر فخر کر سکیں۔

اور مزید یہ کہ بڑھاپے میں ھمارا سہارا بنے جس طرح ھم نے اس کی خدمت کی اس طرح ھمارے بڑھاپےمیں ھماری خدمت کرے۔ ٹھیک اس کسان کی طرح جو اپنے کھیتوں میں بیج بوتا ہے اس کی دیکھ بھال پوری ذمہ داری کے ساتھ کرتا ھے اس کو وقت سے پانی دیتا ھےاور اسکی تمام ضروریات پوری کرتا ہے۔ ایک دن آتا ھے جب اسکا وہ بیج پودا بن جاتا پھر اسکو اپنی امیدیں پوری ہوتی ہوئ نظر آتی ھیں اور وہ خواب دیکھنا شروع کر دیتا ھے اور اللہ کی رحمت سے اسکے خواب پورے ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ اپنے مقصد کو پانے کی اسکی لگن سچی تھی۔اب اس کی اسی سچی محنت اور لگن کے باوجود اس کی فصل اچھی نہ نکلے اس کو محنت کا پھل نہ ملے تو مایوس ہو جائے گااسے بہت گہرا صدمہ پہنچےگا۔ اسی طرح اگر والدین نے اپنے بیٹے پہ محنت کی اور بیٹے نے بھی رات دن ایک کر کے اپنے والدین کے خوابوں کو پورا کرنے کی سر توڑ کوشش کی لیکن کوئ سود مند نفع حاصل نہ ہوا تو ما یوسی ان کا مقدر بن جاتی ھے اور خواب خزاں کے موسم میں درختوں سے گرنے والے پتوں کی طرح ناپید ھوجاتے ہیں۔

ابھی زیادہ دن نہیں گزرے" اعزازعلی" کی خودکشی کو جوکہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا گریجوایٹ تھا۔ بلاشبہ وہ ایک ذہین طالبعلم تھا اسی لۓ اس نے سوچنا شروع کر دیا کہ ایک سال سے میں فارغ ہوں ميں گھر والوں کو کیا دے رھا ھوں اور ان کے خواب کیسے پورے کروں اسی وجہ سے وہ ڈپریشن کا شکار ھوگیا اور اپنی زندگی گنوادی۔ وہ 24 سال کا تھا جب وہ ایک مکینیکل انجینیر بنا۔ پورا سال وہ ملازمت کی تلاش میں خوار ہوتا رہا۔ جب اس نے اپنی ڈگری مکمل کی ھوگی ، سوچا ہوگا کہ اب مجھے میری محنت کا پھل ملنے کا وقت آگیا ہے۔ اب میں اپنے خوابوں کو پورا کرسکوں گا۔ اب میں ملکی ترقی کا حصہ بن سکوں گا۔ لیکن ڈگری نے اسے کیا دیا؟ ڈپریشن، دباؤ،مستقبل کی سوچیں اورآخرکارموت۔ کیا اسکی کمائ ہوئ ڈگری کی قدروقیمت ڈپریشن تھی،سوچيں تھی يا پستول کی وہ گولی تھی جو اسکے دماغ کو چیرتی ہوئ سارے خوابوں کو ختم کرگئ۔ یہ ڈگری ایک ماں کو دکھ دے گئ ساری عمرکا دکھ۔۔ ایک ماں جس کا صرف ایک ہی بچہ ہو وہ اعزازکے ساتھ جو ھوا اسے دیکھ کے اپنے بیٹے کو پڑھاۓ گی؟ انجینییر بنايے گی؟ یقینا ‏وہ یہی کہے گی میں آدھی کھا لوں گی میرا بیٹا میری آنکھوں کے سامنے رھے۔ اس ماں کا کیا قصور جس کا جوان بیٹا نوکری کے ھاتھوں جان گنوادے۔ اس ملک کے منتظمین ان سوچوں شے ماورا ہیں یہ قتل ان کے سر ہے۔ ھمارے ملک میں دن بدن پیسے کی قدر زیادہ اورجان کی قدر کم ھورھی ھے۔
مفت تعلیم کی حمایت میں ایک تحریک آر-ٹی-ای چلائ گئ جس کا مقصد پاکستان کے بچوں کو برابری کی تعلیم اور سہولیات پہنچانے کیلۓ حکومت سے فنڈذ لے کے دینا تھا۔ بعدازاں پھر آئین1959ء میں بچوں کو فری تعلیم دینے اور تعلیم کو لازمی کرنے کی بات شامل کی گئ۔ پےدرپے آئین میں ترمیم ھوتی رہی۔ اور اب2010ء کے آئین میں یہ بات شامل ہےکہ قانون کے مطابق اسٹیٹ چھ سال سے سولہ سال تک کہ بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم مہیا کرنے کی ذمہ دار ہوگی۔ ہم اچھی طرح سے واقف ہیں کہ کس حد تک اس شق پر عمل ھو رھا ھے۔ کیا اس شق میں پھر ترمیم کی ضرورت نہیں کہ گریجوایشن تک تعلیم کو مفت کر دیا جاۓ؟ جس کی وجہ سے وہ لوگ جو پیسے نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں وہ اپنی منشاء تک پڑھ سکیں۔ اس سے ان لوگوں کا بھی بھلا ھو جاۓ گا جن کی فیسیں پوری کرنے کیلۓ ماؤں کی بالیاں بک جاتی ہیں باپ مقروض ہوجاتے ہیں صرف اس لۓ کے ان کے بچے پڑھ لکھ کر آفیسر بن سکيں ہما رے یہا ں قدر صرف پیسے کی ہے یا پیسے والے کی۔ وہ دور گزر گیا جب پڑہای سب کچھ ہوتی تھی۔ اب وہ دور ہے جہاں بچوں کو کامیاب بنانے کیلۓپڑھانے لکھانے کے باوجود ماؤں کو ایک دفعہ اور بالیاں بیچنی پڑتی ہیں ایک دفعہ پھر مقروض ہونا پڑتاہے۔ ہمارے والدین بہت سی مشکلات کو برداشت کر کے ہماری فیسیں بھرتے ہیں۔ اپنی خواہشات کو نظرانداز کرکے ہمارے اخراجات پورے کرتے ہيں۔ لیکن پتا نہیں کب ان سب کو ان کی محنت کا سود مند صلہ یا آؤٹ پٹ ملے گی اور لوگ ڈگری والے کی قدر کريں گے۔ جب تک ڈگری اور ڈگری والے کی اس ملک میں قدر نہ کی گئ تو اس طرح کے کئیں اعزاز علی مایوس ہو کہ زندگیاں ختم کرتے رہیں گے۔ اللہ سبحان وتعالی ہم سب کا حا می و ناصر ہو۔۔۔۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
12 Feb, 2018 Total Views: 175 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Ali subhan


Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB