زینب سمیت 11 کمسن بچیوں کے قتل کے پیچھے شرمناک حقائق

(Mian Khalid Jamil {Official}, Lahore)

زینب قتل کیس کہنے کو اغوا کے بعد زیادتی اور زیادتی کے بعد قتل کی ایک عام سی واردات لگتی ہے، لیکن اس قتل کے پیچھے اتنے ہولناک حقائق ہیں جسے قطعی طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ معاملہ سیریل کلنگ کا ہو یا ٹارگٹڈ ریپ کا لیکن یہ طے ہے کہ پولیس و سول انتظامیہ نے اس قتل اور ایسی کئی دیگر وارداتوں سے جڑے حقائق پرپردہ ڈالنے ہی میں عافیت سمجھی۔

ایسے خوفناک جرائم سے جو بھی پردہ اٹھائے گا، اس کا انجام بھیانک ہوگا کیونکہ یہ ایک بھانک مافیا ھے اور یہ مافیا بزنس مینوں سے لے کر سیاست دانوں تک پھیلا ہوا ہے۔۔ جنسی تشدد سے جڑی وارداتوں میں قاتل کارروائی کرنے کے بعد قتل کے تمام ثبوتوں کو صاف کرتےہیں اور اس کے بعد غائب ہوجاتے ہیں لیکن جنسی زیادتی سے جڑے معصوم زینب کے ہولناک قتل کے دوران زینب کی دونوں کلائیوں کو چھری سے کاٹا گیا، گلے کو پھندے سے جکڑا گیا، جسم پر بے پناہ تشدد کیا گیا، اعضائے مخصوصہ کو تیز دھار آلے سے نشانات پہنچائے گئے اور زبان کو نوچا گیا۔ ایسا عام طور پر جنسی زیادتی اور قتل کی وارداتوں میں نہیں ہوتا بلکہ ایسا کسی اور مقصد کے لیے کیا جاتا ہے اور وہ مقصد ہے بے پناہ پیسے کاحصول۔۔ پولیس انتظامیہ حقائق سے پردہ اٹھائے یا نہ اٹھائے۔ پیسے سے جڑے جن حقائق سے پردہ اٹھنے جا رہا ھے اس کے لیے آپ کو اپنے دلوں کی دھڑکنوں کو تھامنا ہوگا۔۔ دنیا میں انٹرنیٹ کی ایک ایسی کمیونٹی بھی ہے جسے گوگل تک سرچ نہیں کرسکتا۔ یہ کمیونٹی دنیا کے مختلف حصوں سے انسانی اعضاء کی خریدو فروخت سمیت بچوں کے ساتھ جنسی فعل اور بچوں پر جنسی تشدد کے بعد ان کے تشدد زدہ اعضاء کی تشہیر سے وابستہ ہے۔

یہی نہیں بلکہ اس کمیونٹی سے جڑے لوگوں کو اپنے اپنے ٹاسک پورے کرنے کے لاکھوں ڈالر ادا کیے جاتے ہیں، اور پیمنٹ کا طریقہ کار اتنا خفیہ ہوتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں یا خفیہ ایجنسیز کو بھنک تک نہیں پڑسکتی۔ اس کمیونٹی تک ایک عام صارف کی رسائی نہیں ہوتی بلکہ مکمل چھان بین کے بعد دنیا بھر سے سب سے زیادہ قابل اعتماد اور قابل بھروسہ لوگوں کو اس کمیونٹی کا ممبر بنایا جاتا ہے۔۔ ورلڈ وائیڈ ویب یعنی انٹر نیٹ پر موجود جنسی ہیجان اور انسانی جسمانی اعضاء کی خریدو فروخت کے گورکھ دھندے سے جڑی اس حقیقت کو ڈارک ویب یا ڈارک نیٹ کا نام دیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی جریدوں کے 2007ء کے اعدادو شمار کے مطابق اس دھندے سے وابستہ لوگوں کی تعداد 4.5 ملین ہے جو کروڑوں ڈالر کی تجارت سے جڑی ہے۔۔ جنوری 2007ء سے دسمبر 2017ء تک اس کاروبار کے صارفین اور ناظرین کی تعداد میں خطرناک حد تک 500 گنا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ پولیس و سول انتظامیہ کی اس دھندے تک واضح رسائی نہ ہونے کی وجہ سے اعداد شمار کا یہ تخمینہ اس سے بھی بڑھ کر ہوسکتا ہے۔ اس دھندے کا سب سے اہم جزو پیڈوفیلیا یا وائلنٹ پورن انڈسٹری ہے جس میں بڑی عمر کے لوگ بچوں یا بچیوں سے جنسی فعل کرتے ہیں یا انہیں جنسی تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دکھاتے ہیں۔

یہ ڈارک ویب کی سب سے زیادہ منافع پہنچانے والی انڈسٹری ہے۔ تیسری دنیا کے ممالک کے بچے اور بچیاں ڈارک ویب پر بیچے جانے والے مواد کا آسان ترین ہدف ہیں۔ ان ممالک میں بھارت، بنگلہ دیش، پاکستان، ایران، افغانستان اور نیپال شامل ہیں۔ یہاں پر بھارت میں ہونیوالے رادھا قتل کیس کا حوالہ دینا بہت ضروری ہے۔2009ء میں بھارتی شہر ممبئی کے ایک اپارٹمنٹ سے رادھا نامی 6 سالہ بچی کی تشدد زدہ لاش ملی تھی جسے جنسی درندگی کے دوران شدید جنسی تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے ہاتھ اور کلائیاں کاٹی گئی تھی، زبان نوچی گئی تھی اور اعضائے مخصوصہ پر چھریوں کے وار کیے گئے تھے۔ ممبئی پولیس نے اس کیس کی تحقیقات قاتل کے نفسیاتی ہونے کے زاویے پر کیں اور قاتل کوسیریل کلر کا نام دے کر فائل کو بند کردیاتھا، لیکن اصل میں معاملہ یہ نہیں تھا۔ ٹھیک 2 سال بعد ممبئی ہی میں بیٹھے ہوئے ایک ہیکر نے ڈارک ویب کی کچھ جنسی ویب سائیٹس کو ہیک کیا تو وہاں اسے رادھا کی ویڈیو ملی۔ ویڈیو پر دو سال قبل کیے جانے والے لائیو براڈ کاسٹ کا ٹیگ لگا ہوا تھا۔ ہیکر نے ممبئی پولیس کو آگاہ کیا تو تفتیش کو پورن انڈسٹری سے جوڑ کر تحقیقات کی گئیں۔

ان تحقیقات کے بعد ہولناک اور انتہائی چشم کشا انکشافات سامنے آئے۔۔ رادھا کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہوئے انٹر نیٹ پر براہ راست نشر کیا گیا۔ اس کے ساتھ کئی لوگوں نے ریپ کیا۔ ہاتھ اور کلائیاں کاٹنے کے ٹاسک ملے تو ہاتھ اور کلائیاں کاٹی گئیں۔ اعضائے مخصوصہ پر چھریاں مارنے کا ٹاسک ملا تو بے دردی سے چُھریاں ماری گئیں۔۔ اور اس براڈکاسٹ کے لیے کئی لاکھ ڈالر ادا کیے گئے۔۔ تحقیقات کا دائرہ اور بڑھایا گیا تو بڑے بڑے بزنس مینوں سے لے کر سیاست دانوں تک لوگ اس قتل کی واردات سے جڑے ہوئے پائے گئے۔ پولیس والوں کے پرَ جلنے لگے تو فائل بند کردی گئی اور آج تک قاتل کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں۔ کچھ ایسا ہی زینب قتل کیس میں بھی ہوا ہے۔

قصور میں جنسی درندگی کے بعد تشدد اور پھر قتل کایہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ زینب قصور شہر میں قتل کی جانے والی بارہویں بچی ہے۔۔ پولیس کہتی ہے قاتل سیریل کلر ہے لیکن اس تک پہنچ نہیں پاتی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزم کی شکل واضح ہونے کے باوجود غلط خاکہ تیار کیا جاتا ہے۔۔ پولیس انتظامیہ کی یہی حرکتیں ہیں جس کے باعث ان بارہ بچیوں میں سے ایک بھی مقتولہ بچی کا کیس آج تک حل نہیں ہوسکا۔

کیا پولیس انتظامیہ واقعی اتنی نااہل ہے یا کیس اتنا ہی سادہ ہے؟۔۔ اصل میں معاملہ یہ نہیں بلکہ معاملہ مبینہ طور پر مقامی ایم این اے، ایم پی اے اور اس دھندے میں ملوث پولیس کے اعلیٰ عہدیداران کو بچانے کا ہے۔اس دھندے سے وابستہ بزنس میں بڑے بڑے نام ملوث ہیں۔ 2015ء میں قصور شہر ہی میں 250 سے زائد بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، ریپ اور بعد ازاں ویڈیوز بنانے کا جو معاملہ میڈیا نے اٹھایا تھا، اس کے پیچھے بھی بہت بڑے مافیا کا ہاتھ تھا۔ مقامی حکومتی عہدیداروں ، ایم این اے اور ایم پی اے کے کہنے پر پولیس نے مبینہ طور پر اس کیس کی فائل کو بند کردیا تھا کیونکہ اس کیس کے تانے بانے بین الاقوامی طور پر بد نام زمانہ چائلڈ پورنوگرافی اور وائلنٹ پورن سے ملتے تھے۔ اور سچی بات یہ ہے کہ جرم میں ملوث افراد اتنے بااثر ہیں کہ عام آدمی انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ زینب اور زینب سمیت دیگر بچیوں اور بچوں کا قتل رادھا قتل کیس سے بہت مشابہت رکھتا ہے، لیکن پولیس غلط خاکہ تیار کرنے سے لے کر تحقیقات غلط زاویے پر چلانے تک ملزمان کو ہر طرح سے پروٹیکٹ کر رہی ہے۔

ذرا سوچیے، زینب یا دیگر 12 بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی، مبینہ طور پر لائیو براڈ کاسٹ یا ویڈیو بناکر نوٹ چھاپے گئے، لاوارث سمجھ کر لاش کو کچرے میں پھینک دیا گیا لیکن پولیس اسے محض ایک جنسی زیادتی کا کیس بنانے پر تلی ہوئی ہے۔۔ اس قتل کا ڈارک ویب سے جڑے ہونے کا واضح ثبوت کٹی ہوئی کلائیاں اور جسم پر تشدد کے واضح نشانات ہیں جسے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کھل کر بیان کیا گیا ہے۔اب بھی اگر حقائق سے روگردانی کرتے ہوئے قتل میں ملوث بڑے بڑے ناموں کو بچانے کی کوشش کی گئی تو آپ اور ہم میں سے کسی کی بھی بہن یا بیٹی ڈارک ویب سے جڑے اس گورکھ دھندے کی بھینٹ کبھی بھی چڑھ سکتی ہے، اس لیے اپنی سوچوں کے زاویوں کو مثبت ڈگر پر چلاتے ہوئے اس مافیا کے خلاف یک زبان ہوجائیں، ایک ہوجائیں اور اس خوفناک اور مکروہ دھندے میں ملوث چہروں کو بے نقاب کریں۔ ایک ۔۔ صرف ایک زینب کا کیس درست سمت میں تحقیقات سے حل ہوگیا تو آیندہ کسی بدمعاش مافیا کو یہ جرات نہیں ہوگی کہ وہ ہماری بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ پیسوں کی خاطر درندوں والا سلوک کرے۔ اس لیے ڈارک ویب سے نمٹنے کے لیے برائٹ سوسائٹی کا کردار ادا کیجیے اور صرف برائٹ سوسائٹی ہی اس مافیا سے نمٹ سکتی ہے ورنہ ارباب اختیار سے وابستہ اس دھندے کے حمام میں سب کے سب ننگے ہیں۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
24 Jan, 2018 Total Views: 247 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Mian Khalid Jamil {Official}

Independent social, electronic, print media observer / Free lance Columnist, Analyst.. View More

Read More Articles by Mian Khalid Jamil {Official}: 173 Articles with 41474 views »
Reviews & Comments
hang the responsible people's on famous public place
By: Zareena Khalid, Multan on Jan, 26 2018
Reply Reply
3 Like
پورن فلم بنانے اور قتل وغارت کرنیوالے گروہ کو سرعام پھانسی دی جانی چاہیئے
By: Abid Hussain, Karachi on Jan, 26 2018
Reply Reply
3 Like
Very shamfull situation in Qasoor. CJ of SC should take interest in this v. bad situation
By: Ambar Jan, Lahore on Jan, 26 2018
Reply Reply
2 Like
how i believe ? what a shame situation in Qasoor
By: Sajida Akram, Lahore on Jan, 26 2018
Reply Reply
2 Like
حکومت کے افراد اگر ملوث ہیں تو لعنت ایسی حکومت پر ایسی حکومت فوری ختم ھوجانی چاہیئے
By: Aeysha Naz, Lahore on Jan, 26 2018
Reply Reply
2 Like
یقین نہیں آرھا کہ پاکستان میں ایسا کوئی گروہ ھے اگر واقعی ایساھے تو دنیا میں پاکستان کی بدنامی ھوسکتی ھے لہذا اسے سیریس لیتے ھوئے عدلیہ سراغ لگائے اور ایسے ملزمان کو موت کی سزا دینے سے اجتناب نہ کرے
By: Kon Hay Don, Lahore on Jan, 26 2018
Reply Reply
4 Like
عدلیہ کو چاہیئے کہ ذمہ داران سیاسی ہیں یا غیر سیاسی انکے خلاف مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داران کو کیفرکردار تک لہنچایا جائے
By: Wafadaar Hein Hum, Lahore on Jan, 26 2018
Reply Reply
4 Like
اس گروہ کو بلاتفریق منظر عام پرلانا بہت ضروری ھے
By: Mian Shahid, Lahore on Jan, 26 2018
Reply Reply
2 Like
very dangerous matter
By: Abu Hamza, Lahore on Jan, 26 2018
Reply Reply
4 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB