اردوشاعری کے خود ساختہ خداؤں کے لئے بے بحر شاعر ایک سزا بنتے جارہے ہیں

نمرود اور مچھر کی کہانی سب نے ہی سنی ہوگی مگر آج میں اس کو ایک بار پھردوہرانا چاہتی ہوں واقعہ یہ ہے کہ جب نمرود نے خدائی کا دعویٰ کیا اﷲ نے اس کو ایک مچھر کے ذریعے سبق سکھادیا تھا، وہ مچھر نمرود کے دماغ میں چلا گیا اور دھیرے دھیرے نمرود کے بھیجے کو کھنا لگا اﷲ کی قدرت اس نے مچھر کو نمرود کے دماغ میں زندہ رکھا،نمرود کے سر میں جب درد اٹھتا تھا وہ درد کی شدت سے اتنا بیچین ہوجاتا تھا کہ عوام سے اپنے سر پر جوتیاں لگواتا تھا۔

تاریخ خود کو دہراتی ہے ٹھیک اسی طرح جب ابن الوقت چاہے وہ کسی بھی میدان سے وابستہ ہوں اپنی خدائی کا دعوی کرتے ہیں اﷲ تعالیٰ ان کے سر پر ایسے ہی مچھر مسلط کردیتا ہے ۔یہی حال کم و بیش اردو ادب میں شاعری کا بھی ہے یہاں بھی کچھ ایسے ابن الوقت موجود ہیں جو شاعری کے نعوذ باﷲ خود ساختہ خدا بنے ہوئے ہیں ان کا زعم یہ ہے کہ جس کو چاہیں مشاعروں کا بے تاج بادشاہ بنادیں اور جس کو چاہیں مشاعروں سے گمنامی کی گلیوں میں پہنچادیں ۔ جب وہ اسٹیج پر آکر مشاعرے کا آغاز کرتے ہیں تو پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا اور شعر کے اختتام پر جب تک سامعین داد دے دے کر بے حال نہ ہوجائیں مجال ہے دوسرا شعر سنایا جائے ۔ایسا لگتا ہے ان کو سامعین کا خاموش قتل کرنے کے لئے ہی بھیجا جاتا ہے اگر کوئی داد نہ دے تو یہ برا مان جاتے ہیں اور اگر پھر بھی ان کی مزاج کے اعتبار سے داد نہ ملے تو یہ آپکو حشر کے دن کا خوف بھی دلا دیں گے اور یہی کہیں گے کہ حشر کے دن آپکا گریبان پکڑ لیں گے ۔یہا ں یہ بات بھی قابل غور ہے جب وہ اپنے مزاج کی داد نہیں پاتے تو شراب کے نشے میں یہاں تک کہہ جاتے ہیں جو میں کہہ رہا ہوں وہی صداقت ہے نعوذ باﷲ ۔اتنا چینخ چینخ کر بار بار وہ اس جملے کو دہراتے ہیں جیسے وہ بس پتہ نہیں کیا ہیں میں مزیدکچھ کہنا نہیں چاہتی۔

مجھے ایک بہت پرانا واقعہ یاد آریا ہے بھوپال میں ایک مشاعرے کے دوران ڈاکٹر بشیر بدر ،ساغرخیامی، ڈاکٹر ملک زادہ منظور احمد اور کئی بڑے شاعر موجود تھے۔ڈاکٹر بشیر بدر بولے ایک دن بیگم کہنے لگیں کہ’’ آپ ہر مشاعرے سے آکر یہی کہتے ہیں کہ مشاعرہ لوٹ لیا آئندہ مشاعرے میں مجھے بھی ساتھ لے چلنااور بیگم بضد ہوکر آگئیں اور میں پورے وقت یہی دعا کرتا رہا ااگر آج داد نہیں ملی تو ساری زندگی یہ نہیں کہہ سکونگا کہ میں نے مشاعرہ لوٹ لیا‘‘اسی دوران ایک اور شاعر نے کہا کہ رات مشاعرے میں جس شعر پر بہت داد ملتی ہے صبح جب اخبار میں اس شعر کو پڑھتاہوں تو سوچتا ہوں کیا یہ وہی شعر ہے جس پر داد دینے والوں نے مشاعرے کے شامیانے تک اڑا دئیے تھے۔تب میں نے ان سے پوچھا کیا وہ آپکے ہی شعر ہوتے ہیں ۔سب نے بلند قہقہہ لگایا اور بولے شہلا نواب کو اپنے اداریے کا نیا مضمون مل گیا۔

بس یہی حال جوں کا تو ں ہے بس مشاعروں کے ان خود ساختہ خداؤں نے اس طرح سے قبضہ کرلیا ہے کہ ان کی مرضی کے خلاف کوئی ایک لفظ نہیں بول سکتا ہے ۔یہاں ایک بات اور بیان کردوں جب یہ بڑے مشاعرے باز شاعر اسٹیج پر موجود ہوتے ہیں اور کوئی دوسرا شاعر غزل پڑھ رہا ہوتا ہے اس کو داد دینا یہ اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں اور اپنے برابر میں بیٹھے شاعروں سے اتنی شان بے نیازی سے بات کرتے ہیں کہ جیسے ان کو مشاعرے سے کوئی دل چسپی ہی نہیں ہے اور جب وہ خود پڑھتے ہیں اس وقت اگر کوئی زرا سے ادھر سے ادھر بھی ہوجائے تو اتنی ناگواری کا اظہار کرتے ہیں کہ سامنے والا شرمندہ ہوجائے ان کو یہ بھی برداشت نہیں ہوتا سامعین میں سے کوئی موبائل پر بھی بات کرے یعنی سب ان کے سامنے ہمہ تن گوش ہوجائیں ورنہ ان کاموڈ تبدیل ہوجاتا ہے اور وہ ناراض ہوکر واپس چلے جاتے ہیں۔کچھ کی تو یہ عام پریکٹس ہے ان کے چاہنے والے سامعین کی صف میں سب سے آگے ہوتے ہیں اور وہ چینخ چینخ کر ان کو واپس بلاتے ہیں۔ایک چلن اور عام ہوتا جارہا ہے جس کا شکار کچھ بڑے شاعروں کے بیگ اور جوتے اٹھانے والے بھی ہیں وہ اسٹیج پر آکر کہتے ہیں صبح مجھے کچھ چاہنے والوں نے وہاٹس اپ اور فیس بک پر میسج کیا تھا ان کی فرمائش پر یہ غزل پیش کررہا ہوں اور فیس بک فرینڈ کی فرمائش پر یہ ایک اور غزل حاضر ہے۔جناب ایسا ہے اگر آپ کو اپنے سوشل میڈیا کی فرمائش کا اتنا شوق ہے تو یہ غزل ان کو سوشل میڈیا پر بھیجومشاعرہ گاہ میں جھوٹی فرمائش بتاکر لاتعداد غزلیں سنانے کا قصد کرلیتے ہیں اب ناظم کچھ بھی کہہ لے مجال ہے جو وہ اپنا فرمائشی پروگرام بند کردیں۔

اﷲ کا کرم ہے اس رب نے ایک بار پھر اسٹیج کے ان بڑے شاعروں کی ناک میں دم کرنے کے لئے کچھ بے بحر شاعر اسٹیج پر نمودار کردئے ہیں جنہوں نے ان وقت کے خود ساختہ خداؤں کی ناک میں دم کردیا ہے۔ان بے بحر شاعروں کا گلہ بھی اچھا ہے سر کے بھی پکے ہیں اردو سے سرے سے نا واقف مگر ان کو سامعین اتنا پسند کرتے ہیں جب وہ اسٹیج پر آتے ہیں ان کے سامنے ان بڑے بڑے شاعروں کو کوئی نہیں پوچھتا ۔ایسا لگتا ہے ان بے بحرگلے باز شاعروں کے سامنے بڑے بڑے شاعروں کے چراغ گل ہورہے ہیں ۔معاملہ اب اور بھی سنگین ہوگیا ہے کہ ابن الوقت شعراء کی اب سامعین میں بھی قدر و قیمت گھٹتی جارہی ہے۔کیونکہ جب ہم نے سامعین کو ایسی شاعری سننے کی عادت ڈال دی ہے تو بھلا وہ معیاری شاعری کیسے سنیں اور داد دیں ،جب ان ابن الوقت نے خود اپنی پسندیدہ چند بے بحر شاعرات کو ہندی میں کلام پڑھکر سنانے اور داد وصول کرنے کا جو چلن شروع کیا تھا بہ اس کی تان ان بے بحر شاعروں پر آکر ٹوٹ رہی ہے اور یہ سب ان کے لئے عزت کا مسئلہ کم کشمیر کا مسئلہ زیادہ بنتے جارہے ہیں کیونکہ عزت کے معاملے میں ان کا کیا پوچھنا جن شراب کے نشے میں اسٹیج پر آکر اﷲ اور رسول کے مبارک نام لیتے ہیں اور حشر کا واسطہ دے کر داد وصول کرتے ہیں ۔ہاں ان کی مارکیٹ ویلیو پر بہت اثر پڑھ رہا ہے جو ایک ایک مشاعرے کے پچاس پچاس ہزار روپے وصولتے ہیں ۔میں ایک اور واقعہ بیان کردوں جن کو ہم اردو ادب کا خادم اور فقیر کہتے ہیں وہ بھی کسی وی آئی پی سے کم نہیں ہیں کہتے تو ہیں ادب کے فقیر مگر وہ ہیں جیب سے بہت امیر ۔میرے استاد نے بتایا کہ ایک مشاعرے میں ایسے ہی اے ابن الوقت جن کا بہت نام ہے مشاعرے میں مدعو کیا مگر کچھ نا گزیر حالات کی وجہ سے مشاعرہ کینسل ہوگیا تو انہوں نے کہا ان کو پوری رقم چاہئے مشاعرہ کینسل ہو یا نہ ہو میری فوب پر بات کرنے کی یہی قیمت ہے کنوینر نے کہا کہ آپ اردو کی خدمت کررہے ہیں ایسی بات نہ کریں شاعر نیں کہا نہیں جناب میں اردو کا خادم نہیں بلکہ اردو میری خادم ہے آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔

یہ حقیقت ہے جن کو ہم اردو کا خادم کہتے ہیں وہ اردو زبان کی کوئی خدمت نہیں کررہے بس اپنی جیبیں بھر رہے ہیں۔اب یہ بے بحر شاعر ان کی ناک میں دم کررہیں ہیں تو چینختے پھر رہے ہیں ان کے سامنے ان کے چراغ گل ہورہے ہیں سچ ہے وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا ان کے خود کے بنائے بت ان کے سامنے بول رہے ہیں۔واہ رے وقت ۔

سامعین کو قصور وار ٹھہراتے ہیں ان کو کہتے ہیں سننے کا شعور نہیں ہے پتہ نہیں کیسی شاعری پسند کرتے ہیں حقیقت میں سامعین بھی وہی ہیں آپ بھی وہی ہیں مگر جو عادت آپ نے سامعین کی بگاڑی انہوں آپ کی ہر انداز کو پسند کیا مگر اب ان کی پسند تبدیل ہوگئی ہے ان کو برا بھلا کہنے سے کچھ نہیں ہوگا خود اپنا محاسبہ کرو اردو سے اتنی خدمت لی ہے اتنا خون چوسا ہے اب کچھ کام کرو تاکہ نئی نسل سے آنکھ ملا سکو۔
 

Shehla Nawab
About the Author: Shehla Nawab Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.