جہیز : آخر کیوں؟؟؟

(Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi)

ہمارے ہاں اس بات کو برا سمجھا جاتا ہے کہ بنا جہیز لیے کوئی لڑکی اپنے سسرال میں جائے، اکثر اسی وجہ سے طلاق لے کر بھی واپس اپنے گھر آجاتی ہیں کہ انکے ساتھ معقول جہیز نہیں دیا گیا ہوتا ہے جو کہ ایک بدترین عمل کہا جا سکتا ہے جو کہ اسلامی تعلیمات کے خلاف بھی ہے مگر پھر بھی اس کا رواج عام ہے۔

جہیز ایک لعنت

ہمارے ہاں اس بات کو برا سمجھا جاتا ہے کہ بنا جہیز لیے کوئی لڑکی اپنے سسرال میں جائے، اکثر اسی وجہ سے طلاق لے کر بھی واپس اپنے گھر آجاتی ہیں کہ انکے ساتھ معقول جہیز نہیں دیا گیا ہوتا ہے جو کہ ایک بدترین عمل کہا جا سکتا ہے اسلامی تعلیمات کے خلاف بھی ہے مگر پھر بھی اس کا رواج عام ہے۔اکثر والدین اپنی بچیوں کی شادیوں کے لئے قر ض لے لیتے ہیں اور پھر ساری عمر اس کو ادا کرتے رہتے ہٰں۔

دوسری طرف اگر جہیز میں کوئی شے کم رہ جائے تو پھر سے مطالبہ کر کے لی جاتی ہے اور والدین جیسے کیسے محض اپنی بیٹی کے گھر بسائے رکھنے کی خاطر وہ فراہم کرتے ہیں ۔جس کی وجہ سے لڑکی کا سسرال کم سے کم دیکھنے میں آیا ہے کہ اور شیر ہو جاتا ہے اور پھر ہر شے کی ذمہ داری جو بھی اس کا خاوند نہ دے پا رہا ہو اس کو ہی فراہم کرنے کا کہا جاتا ہے۔

اکثر لڑکیوں کو طعنہ بھی دیا جاتا ہے کہ تم آخر لے کر ہی کیا آئی ہو، اپنی بیٹی کو چاہے تھوڑا ہی جہیز کی صورت میں ساز و سامان دیا گیا ہو مگر اپنے بہو کے ساتھ لمبی فہرست تھاما دی جاتی ہے کہ یہ سب ہونا چاہیے۔اکثر مطلوبہ اشیا فراہم نہ کرنے کی صورت میں رشتے بھی توڑ دیے جاتے ہیں جو کہ ایک غیر اخلاقی فعل قرار دیا جا سکتا ہے کہ اس طرح اسلام کی تعلیمات کے برخلاف کر کے بھی ہم خود کو سچا مسلمان قرار دیتے ہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’تم اُن (مطلّقہ) عورتوں کو وہیں رکھو جہاں تم اپنی وسعت کے مطابق رہتے ہو ‘‘۔
(الطلاق،65: 6)

یہ حکم بیوی کو رہائش کی فراہمی کو ظاہر کرتا ہے اور بعدازں طلاق عدت پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے مگر یہاں یہ دستور بنا یا لیا گیا ہے کہ بیوی کو ہی گھر کی تمام تر اشیا ساتھ لے کر آنے کا کہا جاتا ہے۔

’’حنفی فقہاء کی رائے یہ ہے کہ گھر (اور گھریلو سامان) کی تیاری خاوند کے ذمہ ہے کیونکہ ہر قسم کا خرچہ مثلاً کھانا، لباس اور رہائش کی جگہ دینا اس پر واجب ہے۔ اور گھریلو سازو سامان (جسے عرف عام میں جہیز کہا جاتا ہے) رہائش کے مکان میں داخل ہے۔ پس اس اعتبار سے گھریلو سازو سامان کی تیاری خاوند پر واجب ہوئی۔ حق مہر جہیز کا عوض نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ صرف اور صرف عطیہ ہے جیسا کہ قرآن مجید نے اس کا نام نحلۃ (عطیہ) رکھا۔ وہ خالصتاً بیوی کی ملکیت ہے اور خاوند پر اس کا حق ہے۔ مصادر شریعت میں کوئی ایسی دلیل نہیں جس کی بنیاد پر گھریلو سازو سامان کی تیاری عورت کا حق قرار دیا جاسکے اور بغیر دلیل کے کبھی کوئی حق ثابت نہیں ہوتا‘‘۔
(ابوزهره، محمد، محي الدين، الاحوال الشخصيه، السعادة القاهرة، 1985ء، 977)

شادی پر لڑکی کے والدین کا جہیز دینا کوئی شرعی حکم نہیں ہے اور نہ ہی یہ لازمہ نکاح ہے اور نہ ہی سنت ہے۔ جہیز کا سامان مہیا کرنے کا ذمہ دار خاوند ہے۔ گھریلو سازو سامان تو الگ رہا نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لئے خوشبو بھی مہر کی رقم سے منگوائی۔ یہ سب کچھ تعلیم امت کے لئے تھا ورنہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر چاہتے تو احد پہاڑ کو سونا بناکر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جہیز میں دے دیتے۔

لیکن آج ہمارے معاشرے میں کئی ایسی رسومات پائی جاتی ہیں جن کا شریعت اسلامی میں کوئی تصور نہیں پایا جاتا یعنی شریعت اسلامی میں نہ تو ان کا درس ملتا ہے اور نہ ہی اس کی ممانعت ملتی ہے ایسے امور کو فقہ اسلامی کی روشنی میں مباح کہتے ہیں ان میں سے ایک جہیز بھی ہے۔ جو ہمارے معاشرے میں آگیا ہے اور جڑ پکڑ چکا ہے۔جس کی وجہ سے پاکستان بھر میں کئی لڑکیاں بالوں میں چاندی لیے بوڑھی ہو رہی ہیں کہ انکے سرپرستوں کے پاس اس قدر رقوم نہیں ہیں کہ وہ انکے لئے جہیز کا بندوبست کر سکیں۔اکثر مرد بھی اپنے گھرانے کی خواتین کے زور پر بھی بنا جہیز شادی پر رضا مند نہیں ہوتے ہیں جو کہ ایک لمحہ فکریہ کہا جا سکتا ہے۔

’’عورت کو اس بات پر مجبور کرنا جائز نہیں کہ وہ اپنے خاوند کے پاس سامان جہیز لائے۔ نہ ہی اس مہر کی رقم سے جو خاوند نے اسے دی ہے اس کا اپنا مال مہر جو سارے کا سارا اس کی ملکیت ہے اس میں وہ جو چاہے کرے خاوند کو اس میں کسی قسم کا دخل دینے کا کوئی حق نہیں۔
(ابن حزم، علی بن احمد، المحلی، دارالافاق الجديده، بيروت، لبنان، 404)

کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ میں ہے:
’’اگر کوئی آدمی ایک ہزار روپے مہر پر کسی عورت سے نکاح کرے اور عادت یہ ہو کہ اتنا مہر ایک بڑے جہیز کے مقابلے میں ہوتا ہو مگر وہ عورت ایسا نہ کرے (جہیز نہ لائے) تو خاوند کو اس بات کا حق نہیں کہ اس سے جہیز لانے کا مطالبہ کرے۔ اگر بیوی جہیز بھی لائے تو اس کی مالک بیوی ہی ہوگی خاوند کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔ آدمی پر واجب ہے کہ وہ عورت کے لئے ایسی رہائش کی جگہ تیار کرے جو ضروریات زندگی پر مشتمل ہو۔
(الجزيری، عبدالرحمن، ترجمه: منظور احسن عباسی، کتاب الفقه علی مذهب الاربعة، علماء اکيدمي، شعبه مطبوعات محکمه اوقاف پنجاب، 2006ء، ج4، ص217)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
’’صحیح یہ ہے کہ خاوند بیوی کے باپ سے کسی شے کا مطالبہ نہ کرے کیونکہ مال نکاح میں مقصود نہیں۔
(مواهب الرحمن، ترجمه: مولانا سيد امير علی، فتاویٰ عالمگيری، مکتبه رحمانيه، اردو بازار، لاهور، س،ن، ج2، ص223

کتابوں میں درج یہ باتیں سوچنے والوں کے ذہن بخوبی کھول سکتی ہیں مگر اس کے لئے بھی حوصلہ چاہیے کہ وہ سب کچھ جان کر عمل کی طرف آئیں۔ اصل بات نیت کی ہوتی ہے جب نیت صاف ہو تو انسان کچھ بھی کرنا چاہیے تو وہ کر سکتا ہے۔مگر یہاں تو لوگوں کی خوشی کی خاطر بھی بسا اوقات جہیز قبول کرنا پڑتا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو لوگ کیا کہیں گے کہ بیٹی کو کچھ دیے بنا ہی رخصت کر دیا ہے۔

جہیز آخر کیوں دیا جاتا ہے اس حوالے سے دلائل سے اپنے موقف کو دینے والے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر حساس دل رکھنے والوں کے نزدیک جو لوگ جہیز لیتے ہیں وہ ڈاکو ہیں جو جونک کی طرح لڑکی کا بعدازں خون چوستے ہیں کہ والدین نے کچھ نہیں دیا ہے۔اسی وجہ سے اکثر گھرانوں میں نا چاہتے ہوئے بھی جہیز دیا جانے لگا ہے تاکہ وہ اپنی بیٹی کو کم سے کم اس حوالے سے تو محفوظ کر لیں کہ طعنوں سے جان بچی رہے۔

برصغیر میں ہندو رسم و رواج اسلامی معاشرے میں رچ بس رہے ہیں تبھی یہ جڑ پکڑ چکے ہیں اس حوالے سے سب کو مل کرکوشش کرنی چاہیے کہ اس طرح کی رسم ورواج جو کہ کسی کی زندگی کو متاثر کر رہے ہوں تر ک کر دیئے جائیں اور اسلام کی تعلیمات کے مطابق سادگی سے زندگی کو گذارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔تاکہ محض اس کی وجہ سے لڑکیوں کی شادی نہ رک سکے کہ وہ جہیز لے کر نہیں جا سکتی ہیں۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
13 Jan, 2018 Total Views: 225 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do NOT preach, I only share what I learn and feel!

I'm an original, creative Thinker, Teacher
.. View More

Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 230 Articles with 141582 views »
Reviews & Comments
Sari baten ek taraf or sab sahi hain jahez ek lanat hai or hum sab mil kar he is lanat ko khtm kr sakty hain
Lakin kya kabhi kisi nain is nukty py gor kia hai k sirf larky walon ko he q target kia jata hai boht c demands ais bhi hain jo larki waly bhi karty hain jinka i think koi notice nahi leta
Apko nahi lagta k tali dono hathon sy baj rahi hai???
Ager Allah pak nain jahez ko lanat kaha hai ya orat k ooper bojh ya usk maan bap k opr isko bojh qrar dia hai to kya kahen yh zikr nahi kia gaya k ort b apny mard ki istaat k mutabik us py bojh daly? Be ja k shraet or chezo ki demand krna kya yh lanat k zumry main nahi ata?? Or ager koi mard wo demands poori krny ki taqt ni rakhta to aisi orto k liy Allah nain kia kch ni kaha ya aisi families jo ort k shrae haq k hony ka najaez faida utha k larky walo ko tang krty unk bary main kahen koi lanat mlamat?? To fir hamesha ort he q mazloom bana dety hain ??? Jab k bht sy mard hazraat b is halat e zaar main jee rahy hon gy jinka islam shrah ya kisi b lehaz sy mzhb sy taluk nai hoga....
Over all main apki ya kisi ki bat sy dis agree nahi karti but main 100 % ankh band kr k is sab sy agree bhi nai krti
So mra manna yeh hai k tali dono hath sy baj ri sirf ort ko mazloom ya mard ko zalim he q potray kia jarh hai haqooq dono k braber hain so equally deal kia jaye sab ko
But main itna kau gi k yh double sided hai so yh dono tarc sy khtm hoga to e society ka bigar sudhaar main badly ha shukria....
By: Heena, Islamabad on Jan, 13 2018
Reply Reply
0 Like
محترمہ آپ کی رائے سے متفق ہوں، ہمارے معاشرے میں جہیز کی لعنت کے فروغ کی بڑی وجہ لڑکے اور لڑکی دونوں طرف سے اس کی حوصلہ افزائی کرنا ہے اس حوالے سے سب کو مل کر خاتمے کے رحجان کی طرف کوشش کرنی چاہیے۔
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on Jan, 16 2018
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB