بد سے بدنام بُرا

(Kanwal Naveed, Karachi)

ہزار گناہ کر کے معافی کی امید رکھنے والے ہم انسان دوسرے انسان کو معاف کیوں نہیں کرتے؟

ستارہ نہ صرف خوبصورت تھی بلکہ ہر فن مولا تھی ۔ ہر کسی کی نظر جب اس تک پہنچتی تو رُک سی جاتی مگر وہ تھی کہ اس کی نظریں صر ف کتابوں پر ہی رکتی تھیں ۔ کشف اس سے ریاضی کے سوال سمجھنے کے لیے آئی تو اس کا بھائی آفتاب اس کے ساتھ تھا۔ آفتاب بی اے کا امتحان دے کر فارغ ہو چکا تھا۔ ستارہ اور کشف نے پڑھنا شروع کیا تو کشف نے ذرا تلخ سے لہجے میں کہا یار میرا بھائی بھی نا اسے کوئی کام نہیں ہے تو امی نے میرے سر پر سوار کر دیا۔ خود تو مر مر کر پاس ہوتا آیا ہے اور مجھے ایسے ایسے لیکچر دیتا ہے ۔جیسے خود میٹرک میں پوزیشن لی ہو۔ ستارہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ شکر نہیں کرتی کوئی مشورہ دینے والا ہے۔ کشف نے ناک چڑھاتے ہوئے کہا ۔ ایسا مشورہ دینے والا تمہیں ملتا تو پوچھتی ۔ ابھی بھی گلی کے نکڑ پر ہی کھڑا ہو کر لڑکیا ں دیکھ رہا ہو گا۔ جب میں نیچے جاوں گی تو کہے گا دوپٹہ آگے کر کے کرو۔ یہاں میرے جاننے والے ہیں ۔ ستارہ پھر مسکرائی ۔ شاہد واقعی یا ر اس کے کوئی جاننے والے ہوں ہی۔ ہر چیز کو منفی انداز میں نہ سوچا کرو۔
یہ بھی ممکن ہے کہ وہ گلی کے نکڑ پر کھڑا نہ ہو ۔ چلواپنا سوال دیکھو۔ تین دفعہ کر چکے ہیں ہم ، تمہیں سمجھ کیوں نہیں آتا۔اچانک سے گھنٹی بجی تو کشف نے کہا !چلو ستارہ دیوار سے دیکھیں تمہارے گھر کون آیا ہے ۔ ستارہ نے نہیں میں سر ہلاتے ہوئے کہا، ابو ہیں نا وہ دیکھیں گئے ،ویسے بھی چھت سے نیچے جھانک کر دیکھنا کوئی اچھی بات نہیں ۔کشف نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ارے ہر بات میں اچھا ،برا نہیں دیکھا کرتے ۔ چلو دیکھیں نا۔ ستارہ نہ چاہتے ہوئے بھی کشف کے اُٹھنے پر ساتھ اُٹھ گئی ۔ آفتاب نیچے کھڑا تھا۔ارے یہ کیوں گھنٹی بجا رہا ہے ۔ یہ کون ہے؟ ستارہ نے کشف کی طرف دیکھا۔ یہ ہی تو ہے وہ ماہ شے میرابڑا بھائی ۔
ستارہ مسکرائی ۔ آفتاب نے اوپر دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ ستارہ فوراً سے پیچھے ہو گئی مگر آفتاب کا منہ اُٹھا کا اُٹھا رہ گیا۔ ستارہ کے ابو نے دروازہ کھولا ۔ آفتاب نے کشف کے بھائی کے طور پر اپنا تعارف دیا۔ ستارہ کے ابو نے ستارہ کو آواز لگائی تو بے اختیار آفتاب نے پھر اوپر دیکھا۔ دل ہی دل میں ستارہ کہا۔ ستارہ اور کشف چھت سے اُتر کر نیچے آ چکی تھیں ۔ کشف اور ستارہ کے میٹرک کے امتحان ہونے والے تھے ۔ کشف اس لیے تیاری کی غرض سے ستارہ کے گھر آتی تھی۔ امتحان کے لیے چھٹیاں دی جا چکی تھی۔ ستارہ ہمیشہ سے پوزیشن لیتی آ رہی تھی ۔ اب بھی اس کی یہ خواہش تھی کہ وہ پوزیشن لے۔
آفتا ب نے کشف سے کہا، تم اور تمہاری دوست چھت سے کیوں جھانک رہی تھی۔ یہاں پڑھنے آتی ہویا تانکا جھانکی کرنے ۔ کشف خاموش رہی۔ ویسے تم لوگ کیا باتیں کر رہی تھی؟ آفتاب نے کھریدنے کے انداز میں پوچھا ۔ کشف جو اپنے بھائی سے اچھی طرح واقف تھی مسکراتی ہوئی بولی۔ یہاں آپ کی دال نہیں گلے گی بھائی ۔ ستارہ تو اچھے اچھوں گھاس نہیں ڈالتی تو آپ کیاچیز ہیں ۔ آفتاب کو لگا کہ اس کی چوری پکڑی گئی ہے۔ اس نے سٹپٹاتے ہوئے کہا، میں گھاس کھاتا بھی نہیں ہوں ۔ ویسے بھی جو لڑکیاں لڑکوں کو دیکھ کر ہنستی ہیں ، وہ کیا چیز ہوتی ہیں میں اچھی طرح جانتا ہوں ۔ کشف آفتاب کا منہ دیکھتی رہ گئی۔
آفتا ب نے گھر آتے ہی کہا۔ امی یہ ہر روز پہنچ جاتی ہے اپنی دوست ستارہ کے گھر وہ تو آتی ہی نہیں ۔ اسے کہیں بس کرے یہ ٹھیٹر ۔ پتہ نہیں وہ پڑھتی بھی ہیں یہ لوگ یا نہیں ۔ آج جب میں گیا تو یہ اور اس کی دوست چھت سے جھانک رہی تھیں۔مجھے دیکھ کر اس کی دوست ہنس رہی تھی۔
آفتاب کی امی نے فوراً کہا کیا؟ تم وہاں پڑھنے جاتی ہو یا پھر چھتوں سے جھانکنے کے لیے۔ کشف نے اپنی صفائی میں کچھ بولنا چاہا مگر آفتاب نے پھر لقمہ دیا امی مجھے تو نہیں لگتا یہ لوگ وہاں پڑھتی ہوں گی۔ جس طرح وہ لڑکی مجھے دیکھ کر ہنس رہی تھی،مجھے تو لگتا ہے یہ لوگ وہاںوقت گزاری کرتی ہیں ۔ اگر اسے پڑھنا ہے تو آپ اسے کہیں کہ یہ ستارہ کو یہاں بلا لیا کرئے اور پھر آپ ان پر نظر بھی رکھ سکتی ہیں ۔ ورنہ یہ پتہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آفتاب نے جان بوجھ کر جملہ ادھورا چھوڑا تھا۔
کشف نے غصےسے کہا۔وہ یہاں کیوں آئے گئی۔ آفتاب نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ تم وہاں جس لیے جاتی ہووہ بھی اسی لیےیہاں آئے گی۔ کشف نے کہا ، تمہاری یہ خواہش اس دنیا میں تو پوری ہونے سے رہی ۔ مجھے سوال سمجھنے ہوتے ہیں۔ اس لیے میں اس کے پاس جاتی ہوں ۔ اسے میری ضرورت نہیں ہے ۔ سمجھے ۔
کشف کی ماں نے آفتاب کو دیکھتے ہوئے کہا۔ یہ تو ٹھیک کہہ رہی ہے ۔ ستارہ ہے تو لائق پچھلی بار بھی اسی کی پوزیشن آئی تھی۔ آفتاب نے کچھ پریشان سے لہجے میں کہا۔ اچھا امی دیکھ لیں ۔ وہاں سے اپنے کمرے میں جاتے ہی بیڈ پر اوندھا گر گیا۔ دل ہی دل میں سوچنے لگا۔ واہ یار کیا لڑکی ہے۔ ستارہ ۔ واقعی ۔ ستارہ ہی ہے۔ کاش کہ اس سے بات ہو سکے ۔ مجھے دیکھ کر ہنسی ہے تو بات تو ہو ہی سکتی ہے۔ مجھے دیکھ کر مگر پیچھے کیوں ہو گئی ۔ تھوڑی دیر کے لیے نظر مل جاتی تو کیا تھا۔ یہ لڑکیاں بھی نا۔ چاہتی یہ بھی ہماری طرح ہی ہیں ، مگر ، چلو کوئی بات نہیں ۔
کشف کو چھوڑنے کے لیے آفتاب دوسرے دن تیار ہو رہا تھا۔ اس کی تیاری دیکھ کر کشف دل ہی دل میں ہنس رہی تھی۔ وہ خوب سمجھتی تھی کہ آفتاب کس مہم پر ہے ۔ مگر وہ خاموش رہی ۔ دروازے پر گھنٹی دی گئی تو ستارہ کے ابو نے دروازہ کھولا۔ کشف اندر چلی گئی اور آفتاب دروازے پر کھڑا کا کھڑا رہ گیا۔ وہ کبھی دروازہ دیکھتا تو کبھی چھت ۔ دیوار سے پیٹھ لگا کر جاگتی انکھوں خواب دیکھنے لگا۔
کشف نے ستارہ کو دیکھتے ہی کہا، تمہیں ایک بات بتاوں تو بُرا تو نہیں مانوں گی۔ اور ناراض نہیں ہو گی۔ ستارہ نے سوال سے نظر ہٹا کر کشف کی طرف دیکھا۔ یہ مسلہ ہے یار تم ادھر اُدھر کی باتیں مت کیا کرو۔ یہ دیکھو تم نے پھر تین جگہ غلطی کی ہے ۔ کشف ارے دیکھوں گی۔ پہلے میری بات میرے پیٹ میں جو کود رہی ہے اس کا کیا کروں۔ ستارہ نے پنسل کاپی میں رکھتے ہوئے کاپی بند کی اور مسکراتے ہوئے بولی ۔ اچھا چلو ۔ تمہاری بات سنتے ہیں ۔ بولو!
تمہیں دیکھ کر کل میرا بھائی پاگل ہو گیا۔ وہ جو ہفتہ میں صرف جمعہ کے دن ہی نہاتا ہے ، آج نہا دھو کر پرفیوم لگا کر آیا ہے کہ شاہد تم پھر اسے دیکھا۔ ستارہ نے غصے سے کشف کو دیکھا اور بولی کیا بکواس کر رہی ہو۔ کچھ بھی بولتی ہو۔ کشف نے التجائی انداز میں کہا دیکھو میں تم ناراض نہیں ہو ۔ میں تو تمہیں وہ بتا رہی ہوں جو ہوا ہے۔ ستارہ نے پھر غصے سے کہا دیکھو کشف دوستی اپنی جگہ امتحان کو بارہ دن رہتے ہیں ۔ اگر تمہیں پڑھنا ہوتا ہے تو ہی آیا کرو۔ فضول باتوں کے لیے میرے پاس ٹائم نہیں ہوتا۔ تم جانتی ہو۔ اچھی طرح مجھے۔ مجھے ان سب چیزوں سے مطلب نہیں ۔ ابو نے کہا ہے کہ میری پوزیشن اگر آئی تو وہ مجھے اچھے کالج میں داخلہ دلوائیں گئے ۔
کشف نے نظریں نیچی کرتے ہوئے کہا۔ سوری یار ۔ میں تو۔ ستارہ نے پھر اس کی طرف دیکھا۔ تم میری اکلوتی دوست ہو ، میں چاہتی ہوں کہ ہم کالج میں بھی ساتھ ہو ۔ اس لیے اچھے سے امتحان کی تیاری کرو ۔ اپنے بھائی کی مصروفیات میں دلچسپی لینا بند کروں ۔ سمجھی۔ کوئی کب کیوں اور کس وجہ سے نہاتا ہے اس میں دلچسپی لینا بہت معیوب سی بات ہے۔ تمہارا نہیں خیال کہ تم ضرورت سے ذیادہ اپنے بھائی پر نظر رکھتی ہو۔کشف نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا۔ میں آئندہ دھیان رکھوں گئی ، تم بُرا نہیں مانو پلیز۔
پیپر ختم ہو چکے تھے ، ستارہ کی پورے شہر میں پہلی پوزیشن تھی جبکہ کشف ریاضی میں فیل ہو چکی تھی۔ اس نے آگے نہ پڑھنے کا ارادہ کیا۔ وہ کبھی کبھی ستارہ سے ملنے اس کے گھر چلی جاتی ۔ ستارہ کے فسٹ ائیر کے پیپر ہو رہے تھے اور کشف کی شادی کی تاریخ طے ہو گئی تھی۔ وہ ستارہ کو دعوت دینے آئی تھی۔ ستارہ نے تاریخ دیکھی تو مسکراتے ہوئے کہا۔ میں ضرور آوں گی ۔ شادی کی گہما گہمی میں ستارہ اپنی امی کے ساتھ آئی مہندی کے دن گھر میں خوب رونق تھی ستارہ کشف کے ساتھ ہی بیٹھی تھی۔ کشف کی ہر رشتہ دار ستارہ کو دیکھتے ہی کہتی ۔ دلہن کی سہیلی تو دلہن سے بھی پیاری ہے۔ ستارہ کی امی نے اشارہ سے ستارہ کو بلایا اور دھیرے سے کہا ۔ ان لوگوں نے پانی کہاں رکھا ہے ۔ ستارہ نے سوچا کیوں نا امی کو کچن سے پانی لا دے ۔ وہ پانی لینے کچن میں جا رہی تھی کہ آفتا ب کو اس نے سامنے سے آتے ہوئے دیکھا۔ وہ بلکل اس کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا تو اسے حیرت ہو رہی تھی۔ پورے صحن میں کرسیاں ہی کرسیاں تھی جن پر بہت سی عورتیں اپنے بچوں کو لیے بیٹھی تھی۔ ستارہ نے فوراً سے اطراف کا جائزہ لیا۔تو اسے محسوس ہوا کہ اس گہما گہمی میں کوئی اس کی طرف متوجہ نہیں تھا ۔ سوائے آفتاب کے ۔ ستارہ نے دھیرے سے کہا۔ بھائی راستہ دیں ۔ آفتاب نے مسکراتے ہوئے کہا۔ میں بھی یہ ہی کہنا چاہتا ہوں کہ راستہ دیں ۔ ستارہ نے دھیرے سے کہا۔ جی کیا مطلب؟ آفتاب نے آگے بڑھ کر اس کی چوڑیوں والی کلائی پکڑ کر کہا۔ دل میں آنے کا راستہ ۔ ستارہ نے غصے سے اسے گھورتے ہوئے کہا۔ یہ کیا بدتمیزی ہے؟ آفتاب نے فوراً سے اس کا کی کلائی کو چھوڑ دیا ۔ وہ جا چکا تو ستارہ کی جان میں جان آئی ۔ وہ کچن میں جانے کی بجائے اپنی امی کے پاس واپس لوٹ آئی اور دھیمی آواز میں کہا ۔ امی گھر چلتے ہیں ۔
ہوں ، اس کی امی نے شور کی وجہ سے اس کی بات نہ سنی تو اس نے پھر سے اپنی بات دہرائی ۔ اس بار اس کی امی بہت غور سے اس کے الفاظ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ کشف سے ملے بغیر ہی امی کو لے کر گھر آ گئی ۔ اس واقعہ کی وجہ سے تمام رات اسے نیند نہیں آئی تھی۔ دل ہی دل میں اسے غصہ بھی آ رہا تھا کہ اسے ہمت کیسے ہوئی ۔ ایک تھپڑ مار دینا چاہیے تھا ۔ وہ دیر تک سوچتی ہوئی سو گئی ۔ دو ماہ گزر گئے تھے۔ایک دن جب ستارہ کالج سے واپس آئی تو آفتاب کے والدین اس کے گھر بیٹھے تھے۔ اس نے امی سے ان کے آنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے غصے سے کہا۔ تم یہ مجھ سے پوچھ رہی ہو تمہیں تو سب پتہ ہے۔ ستارہ کو کچھ سمجھ نہ آیا۔ وہ لوگ کچھ دیر کے بعد جا چکے تھے۔ ستارہ نے پھر اپنی امی سے پوچھا تو انہوں نے انتہائی تلخ لہجے میں کہا۔ اسی دن کے لیے تمہیں کالج بھیجا تھا۔ اسی دن کے لیے ستارہ ۔ تم نے ہمارا سر شرم سے جھکا دیا۔ کیسی شرم ۔ میں نے کیاکیا ہے؟
اس کے ابو کمرے میں آ گئے ۔ انہوں نے ستارہ کے منہ پر ایک ذور دار طمانچہ مار کر کہا تم نے کیا کیا ہے ؟ اب یہ ہم تمہیں بتائیں ۔ آفتاب کے ساتھ بھاگ جانے کو تیار ہو تم ۔ ستارہ کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئی ۔ اس کا باپ کہتا ہے کہ وہ لوگ بھی اس رشتے کے لیے راضی نہیں تھے مگر آفتاب نے کہا ہے کہ اگر تم لوگوں کی شادی دو ماہ کے اندر اندر نہ کی تو تم کورٹ میں شادی کرو گئے ۔ تمہاری اس سے شادی تو میں کبھی بھی نہیں کراوں گا۔ تم جاو کورٹ میں ۔ سمجھی ۔
ستارہ حیرت سے اپنے ماں باپ کو دیکھ رہی تھی۔ مگر ابو ، امی میں تو نہیں پسند کرتی اسے ۔ میری تو کبھی اس سے بات تک نہیں ہوئی ۔ اس کے باپ نے ایک اور طمانچہ مار کر کہا ۔ اب تم نے جھوٹ بولنا بھی سیکھ لیا ہے ۔ یہ مکاری اس نے سکھائی ہے تمہیں ۔ ستارہ نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے روتے ہوئے کہا۔ آپ لوگ میرا اعتبار کیو ں نہیں کر رہے۔ اس کے ابو نے اپنا موبائل اس کو تھما کر کہا، یہ دیکھو جو بات نہیں کی ہے تم نے اس سے۔ مہندی کے دن آفتاب کا اس کے سامنے کھڑے ہونے کا ۔ بات کرنے کا ۔ مسکرانے کا ۔ کلائی پکڑنے کا ۔ ہر ایک چیز کا مقصد تھا۔ ویڈیو میں ستارہ کے ہونٹ تو بات کے لیے حرکت کیے تھے مگر اس نے کہا کیا ہے ، یہ ریکارڈ میں نہیں تھا۔ ریکارڈ میں تو فقط آفتاب کو دیکھتے ہی اس کا اطراف کا جائزہ لینا۔ آفتاب کا مسکرانا۔ اس کا کچھ کہنا ۔ آفتاب کا مسکرانا۔ آفتاب کا کلائی پکڑنا ۔ پھر اس کا کچھ کہنا اور آفتاب کا کلائی چھوڑ دینا تھا۔
آفتاب کے والدین نے ویڈیو دیتے ہوئے ۔ افسردگی سے کہا تھا کہ آج کل کے بچے اپنے فیصلے خود ہی کر لیتے ہیں ۔ ستارہ سکتے کی سی حالت میں ویڈیو دیکھ رہی تھی۔ اس کے ابو کمرے سے جا چکے تھے۔ امی ۔ امی ستارہ نے اپنی امی کا کندھا پکڑ کر کہا ۔ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ۔ قسم لے لیں امی ۔ یہ سب اس کی سازش ہے۔ امی ۔ مجھے اس مکار سے شادی نہیں کرنی۔ ستارہ بچوں کی طرح رو رہی تھی۔ اس کی امی نے روتی ہوئی ستارہ کو کمرے میں چھوڑا اور خود اس کے ابو کے پاس دوسرے کمرے میں چلی گئی۔
ستارہ تو کہتی ہے کہ اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے اس سے ۔ ہمیں جلدبازی نہیں کرنی چاہیے۔ ستارہ کے ابو نے کہا تو کیا کرنا چاہیے؟ ہمیں سچائی جاننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر ستارہ اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی تو۔ ہماری ایک ہی تو بیٹی ہے۔ اس کے ابو نے اپنے آنسو صاف کیے اور کہا ۔ جاو ستارہ کو بلا کر لاو۔ ستارہ کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی جبکہ اس کے ابو اس کے سر پر کھڑے تھے ۔ کہو کیا کہنا چاہتی ہو۔
ستارہ نے دھیمی آواز میں کہا ابو۔ مجھ سے فقط ایک غلطی ہوئی کہ میں کشف کی شادی پر چلی گئی۔ امی نے مجھ سے پانی مانگا ، میں کچن میں جانے لگی تھی کہ وہ منحوس میرے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ میں نے ارد گرد یکھا۔ پھر اس سے راستہ مانگا ۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ کسی سے اس ویڈیو بنوا رہا ہے۔ ستارہ کے ابو نے کچھ سوچنے کے بعد کہا ۔ سوچ لو ستارہ ۔ ہم لوگ سوچ رہے ہیں ۔ تمہاری اور اس کی شادی کر وا دیں ۔ ستارہ نے روتے ہوئے کہا ۔ آپ جانتے ہیں کہ مجھے ڈاکٹر بننے کا شوق ہے۔ میں لعنت بھیجتی ہو اس پر۔
اگر تم سچ کہہ رہی ہو تو دیکھو میں اس کا کیا حشر کرواتا ہوں ۔ اسے پولیس کے دو ہاتھ لگیں گئے تو سیدھا ہو جائے گا۔ تم پھر سوچ لو۔ ستارہ نے روتے ہوئے کہا۔ ابو میرا اعتبار کریں ۔ میرا کسی سے بھی کوئی واسطہ نہیں ہے۔ ستارہ کے ابو نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا۔ ٹھیک ہے تم جاو۔ ستارہ کے ابو نے آفتاب کے متعلق تھانے میں رپورٹ کروائی اور ویڈیو بھی دیکھا ئی ۔ ان کی جان پہچان نے ان کا کام آسان کر دیا۔ آفتاب کو دو دن لاک اپ میں رکھا گیا ۔ خوب پٹائی ہوئی ۔ جب وہ لاک اپ سے نکلا تو اس کی کایا ہی پلٹ چکی تھی۔ کسی اور لڑکی کی طرف تو دور کی بات ہے ،وہ اپنی بہنوں کی طرف نظر اُٹھا کر بات نہیں کرتا تھا۔
آفتاب کے جن دوستوں سے مل کر وہ لڑکیوں پر آوازیں کستا اور بے ہودہ باتیں کہہ کر مزے لیتا تھا ۔جب وہ اس سے ملنے آئے تو اس نےان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے اسے دوبارہ اپنے ساتھ ملانے کے لیے کہا۔ پولیس کی دو دن کی مار سے ساری مر دانگی نکل گئی تو اس نے مسکراتے ہوئے اپنے ہاتھ میں اُٹھائی ہوئی کتاب کا ایک شعر انہیں سنایا
در جوانی توبہ کردن شیوہ پیعمری وقت پیری برگ ظالم می شود پرہیزگار
جس کا ترجمہ کچھ یوں اس نے بیان کیا۔ جوانی میں توبہ کرنا پیغمروں کا شیوہ ہے اور بڑھاپے میں جب ظالم گدھ شکار نہیں کر سکتا تو کہتا ہے کہ میں پرہیزگار ہو گیا۔ اب میں شکار نہیں کروں گا۔
آفتاب کے دوست اس کا مذاق اُڑاتے ہوئے وہاں سے جا چکے تھے۔وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ ہمارے کچھ گناہ ہمیں پاک کرنے کے لیے ہی سرزد ہوتے ہیں ۔ آفتاب پر پولیس کی مار کا جو اثر ہوا تھااکثر نوجوانوں کو سزا دی جائے تو ان پر الٹا اثر بھی ہوتا ہے۔ کسی نے آفتاب کے متعلق کہا کہ لاتوں کےبوت باتوں سے نہیں مانتے ۔تو کسی نے اسے ڈرپوک کہا۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ گناہ کرنے والے سے ذیادہ توبہ کرنے والے گنہگار کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ آفتاب نے پولیس کی مار کے بعد دو ہفتے گھر رہنے کے بعد جب ستارہ کے ابو سے جا کرمعافی مانگی اور اپنے بدل جانے کا تذکرہ کیا تو انہوں نے ایک ذور دار طمانچہ اس کے منہ پر مارا اور بولے برخوردار اب کوئی نئی ویڈیو بنانے آئے ہو۔ دفع ہو جاو یہاں سے وہ منہ پر ہاتھ رکھے انکھوں میں آنسو لیے واپس آ گیا۔
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
09 Jan, 2018 Total Views: 4245 Print Article Print
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

I am nothing... View More

Read More Articles by kanwalnaveed: 85 Articles with 53254 views »
Reviews & Comments
bohat hi zabardast andaaz main is kahani ko paish kia ha ......is se waqaii main sabak milta ha or haqiqat likhe ha k bad se badmane bura ..great work
By: shohaib haneef , karachi on Feb, 02 2018
Reply Reply
0 Like
Boht ache khani ha
By: Hamza, Fsd on Jan, 23 2018
Reply Reply
0 Like
kia ye suchi kahani hai ? wese kahani bht achi thiiii :)
By: Zeena, Lahore on Jan, 11 2018
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB