میں سلمان ہوں(آخری قسط)

(Hukhan, karachi)

واپس لوٹ رہا ہوں
جو راہ سے بھٹک گیا تھا اسے پانے لگا ہوں
درد ہے بہت مگر دوا چھوڑنے لگا ہوں
لوٹ رہا ہوں بند گلی میں خود کو جکڑنے لگا ہوں
تماشا ہوں زمانے میں تو کیا ہوا
ٹوٹ ٹوٹ کے اب بکھرنے لگا ہوں

اب کسی بات کا غم نہیں
جسے ڈھونڈتا ہے وہ شاید وہ ہم نہیں

سوچ رہا ہوں اب خود کو بدل ہی لوں
شہرِ دل سے کہیں اور کوچ کر ہی لوں

خان پیچھے مڑ کے نہ دیکھا کر
ہر راہ منزلِ درد کو جاتی ہے

سوچ رہا ہوں خود کو پھر سے تنہا کر لوں
اک بار خود کے لیے پھر سے جی لوں

ٹرین تیزی سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کی طرف دوڑنا شروع ہو گئی
تھی،،،سلمان نے بزنس کلاس کے اے سی ڈبے میں اپنے بلیک سن گلاسز
اتار کر اک لمبی پرسکون سی سانس لی،،،

اس کے علاوہ بوگی میں پانچ مسافر اور تھے،،،نئی دلہن،،،ساس سسر،،،بیٹا اور
ستائیس سالہ خوبرو سی بہن،،،وہ سب بہت ہی خوش تھے،،،

سلمان نے سیٹ سے ٹیک لگا کر آنکھیں سختی سے موند لیں،،،
بانو بولی،،،ہائے سلمان بیٹا،،،ندا تو راج کر رہی ہے،،،لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ
ہماری ہی ندا ہے،،،گال بھر گئے،،،بات بات پر قہقہے لگاتی ہے،،،
امجد تو مجھے اپنی ماں سی عزت دے رہا تھا۔مگر،،،بانو اک دم سے چپ ہو
گئی،،،وہ فیصلہ نہیں کر پارہی تھی کہ بولے ناں بولے،،،

سلمان مسکرا کر بولا،،،جی جانتا ہوں میرا اک بار بھی نہیں پوچھا ہو گا،،،ہے نا
بانو کی آنکھیں حیرت کے سمندر سا بن گئیں،،،بیٹا سب کیسے پتا چل جاتا ہے؟

سلمان مسکرا کر بولا،،،اب وہ امجد کی بیوی ہے اس کی عزت اس کا مان،،،میں
اب پرایا ہو گیا،،،وہ ہمیشہ سے گناہ کرنے سے بچتی ہے،،،
میں ویسے بھی ہائی وے کے سٹاپ جیساہوں،،،زندگی پل بھر کو سانس لیتی
ہے،،،پھر رواں دواں،،،

آپ چائے پیئیں گے؟؟،،،! سلمان کے کندھے کو کسی نے بہت نرمی سے ہلایا
سلمان گم سم سا دیکھنے لگا،،،جیسے اسے سمجھ ہی نہ آیا ہو ،،،یا،،،وہ یہ
زبان ہی نہیں جانتا ہو،،،
بس نفی میں سر ہلا کر پھر سے آنکھیں موند لیں۔

فیکٹری کا گیٹ کیوں بند ہے؟؟
آپ کو نہیں پتا،،،کینڈا میں کریم صاحب کا بیٹی فوت ہو گیا ہے،،،بیٹی
پیدا ہوا تھا نا،،،اسی میں اللہ کو پیارا ہو گیا،،،سب لوگ کینڈا ہیں،،،
سلمان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی،،،اوہ میرے اللہ!!!

تین دن بعد فیکٹری ویسے ہی چل رہی تھی،،،اک اس کی مالکن کم ہو گئی
تھی،،،مگر نہ مشین کو فرق پڑا،،،نہ انسانوں کو،،،بس اک گھر ماتم زدہ تھا،،،
سلمان صاحب آپ کے لیے کینڈا سے فون ہے،،،سلمان تیزی سے فون کیلئے
لپکا،،،دوسری طرف سے روزی تھی۔

سلمان،،،اور خاموشی،،،پھر سسکیاں،،،
سلمان زور سے بولا،،،کریم صاحب اور آنٹی سب ٹھیک ہیں؟ بولو ،،،کیا ہوا؟؟؟
ہمت کرو،،،
سلمان!! پھر سے رونے کی آواز،،،سلمان آسمان اور زمین کے درمیان معلق
ہو گیا،،،

سلمان اس ننھی پری کو ماں چاہیے،،،تیمور بھائی کو جو اب میرے لیے صرف
تیمور بننے جارہے ہیں،،،اک بیوی جو اس کی پری کو ماں بن کر چاہے،،،
یہ ہمارا خون ہے سلمان،،،اسے کیسے بے سہارا ہونے دے سکتی ہوں میں،،،
سلمان! اِٹس مائی لاسٹ کال،،،اینڈ ریکویسٹ،،،بس جب میں مسز تیمور بن
کے پاکستان آؤں،،،تو پلیز تم ناں نظر آنا،،،

پلیز اک بار پھر بے نشان سے ہو جاؤ،،،تم تو عادی ہو،،،آئی کانٹ فیس یو،،،،بٹ
ڈیمڈ آئی لّو یو،،،گو اوے،،،آئی ڈونٹ وانا سی یو،،،جسٹ گو اینی ویئر،،،آئی کانٹ
فیس یو،،،سلمان،،،بس،،،

سلمان نے فون رکھ دیا،،،جو ہمیشہ حکم دیتی آئی تھی،،،التجا کرتے ہوئے
اچھی نہیں لگ رہی تھی،،،
سلمان نے ریزائن ٹائپ کیا،،،ریزن میں،،،اَن وائڈ ایبل سرکم سٹینسز لکھ کر
گھر آکر بیگ اٹھایا،،،اور ٹرین کے لیے چل پڑا،،،
بے نام و نشان نہیں میں،،،میرے بھائی ہیں بہنیں ہیں،،،گھر ہے،،،

آپ کھانا کھائیں ناں ہمارے ساتھ،،،لڑکی نے جو دلہا کی بہن تھی،،،سلمان
سے کہا،،،سلمان ذرا جھنپ سا گیا۔
لڑکی نے غور سے سلمان کی طرف دیکھا،،،،آپ رائٹر ہو؟؟
سلمان حیران سا دیکھنے لگا،،،لڑکی نے جھٹ سے پوئٹری اور افسانے والا
میگزین جس پر اس کی بلیک اینڈ وائٹ پکچر لگی ہوئی تھی،،،سامنے کردیا،،،

اس سے پہلے کہ سلمان کچھ کہتا،،،وہ جھٹ سے بولی،،،اپنی وہ غزل سنادیں
اپنی آواز میں،،،کتنی اچھی بات ہے آپ کے ساتھ سفر ہو رہا ہے،،،
لڑکی کی ماں بولی،،،بیٹا اگر اس کو کھانا کھلانا ہے تو کھلا دو،،،تنگ نہ کرو،،،

لڑکی جھٹ سے بولی،،،سلمان صاحب! آپ کیا تنگ ہو رہے ہیں؟؟،،،
سلمان مسکرا کر بولا،،،میں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا،،،آپ کھلا دیجئے
گندم اندر جائے گی شعر باہر خود بخود آنے لگیں گے،،،

تیرا ہر رنگ عجب ہے
روپ بھی کیا غضب ہے
سفر ہے مختصر
مگر دلچسپ ہے

میں جو جی رہا ہوں شاید وجہ تم ہو
اب کہہ دو کہ خوش ہو یا مجھ سے تنگ ہو

لڑکی نے زور سے قہقہہ لگایا،،،ٹرین نے زور دار سیٹی بجائی،،،،،،(سفر کا اختتام)
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
15 Dec, 2017 Total Views: 1220 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 932 Articles with 431175 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
end main salman akela kiu tha bhai :( maine pura novel read kia per mujhe laga abhi kuch acha hoga salman sath per end hi kar dia khai nove; pura hone per bht bht mubarak apko ALLAH pak apko dheerrroooo novel likhne ke toufeq dain ameeeeeeeen ,,,
By: Zeena, Lahore on Dec, 20 2017
Reply Reply
0 Like
thx ,,,,,,,am sorry for the end
By: hukhan, karachi on Dec, 20 2017
0 Like
Uzma Sahiba ki terha hum nay bhi is ka ikhtetam kuch alag hi khayalo may soch rakha tha .... lakin writer say behtar koyee nahee janta ka kahani ka anjaam kiya hoga .... her character apni jagah behtareen tha ..... especially Salman ajub malung type character aap nay takhleeq kiya or us kay saath insaaf bhi khoob kiya ........ but bhai Hukhan agar kuch acha salman kay saath aap novel may kerjatay to hum log jo is khayali character ko end may khush or mutmain daikhna chatay thay ..... gu magoo kafiyath ka shikar nahi hotay any way ..... behtareen novel tha ....... acha novel likhnay per dhairo mubarak baad meri tarafsay qubool kijiyai ... shurikiya and Jazak Allah HU Khairan Kaseera
By: farah ejaz, Karachi on Dec, 15 2017
Reply Reply
0 Like
shyd salman jesai kirdaron kizindgi ka safar aisai he chalta hai aur aisi he chalty chaltai mukamal b ho jata hai ....hota hai aisa b kisi kisi ki zindgi mein safar dr safar musafar he musafat koe manzil nahi na he koe manzil ka nishan
By: uzma ahmad, Lahore on Dec, 17 2017
0 Like
sister thx for like,,,,,,and,,,,,,sorry for unexpected end of this story,,,,always well come for your good thoughts i feel so blessed among you peoples as reader as critics,,,,,always needs your precious words for my creation
By: hukhan, karachi on Dec, 15 2017
0 Like
End 😮😯
By: Uswa khan, Gujranwala on Dec, 15 2017
Reply Reply
0 Like
How cool ,,,,weldone Mr
By: Mini, mandi bhauddin on Dec, 15 2017
Reply Reply
0 Like
thx ,,yes he is cool
By: hukhan, karachi on Dec, 15 2017
0 Like
we miss all the characters
By: sohail memon, karachi on Dec, 15 2017
Reply Reply
0 Like
i miss you all too,,,,,,,,being writer
By: hukhan, karachi on Dec, 15 2017
0 Like
sad and still alone he is very special he deserve very special
By: khalid, karachi on Dec, 15 2017
Reply Reply
0 Like
thx,,,,,,,yes he is still bachelor so every one can try,,,,,,hahahahahah
By: hukhan, karachi on Dec, 15 2017
0 Like
yeh ikhtetam tau nahi socha tha hm ny iss novel ka..............pr shyd Salman ki kahani ka ikhtetam b dusry kirdaroN sy zra ht kkr he hona tha...anyways achha sath raha wqt k guzrny ka pta he nahi chla aur kahjani mukamal ho gae
BE HAPPY GOOD LUCK AND STAY BLESSED ALWAYS
By: uzma ahmad, Lahore on Dec, 15 2017
Reply Reply
0 Like
thx,,,yes its true ,,,,some times life never spares you to get rid of your dark phase
By: hukhan, karachi on Dec, 15 2017
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB