جوہری ہتھیارکی ایجاد

(Arbab Latif, )

دنیا میں اس وقت21 ہزار8 سو44ایٹم بم یہں ،ان بم میں قیامت بھری ہوئ ہےـاگر یہ سارے بم پھٹ جائیں تو11 منٹ میں پوری دنیا ختم ہو جاۓ ـ یہ دنیا کی سب سے مہلک اور خوفناک ایجاد ہے ،یہ مہلک ایجاد غلط فہمی پر مبنی خط کا ردعمل تھی -

اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ارکان برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین، روس اور امریکا کے پاس آفیشل طور پر ایٹمی ہتھیار موجود ہیں جب کہ پاکستان ، ہندوستان اورشمالی کوریا بھی ایسے ممالک شامل ہیں جو کہ ان ہتھیاروں کا تجربہ کر چکے ہیں. اسرائیل کو بھی ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ممالک میں شمار کیا جاتا ہے تاہم اس نے کبھی اس کا باضابطہ اعلان نہیں کیا اس ہتھیار کا سب سے پہلا تجربہ امریکا نے جولائی 1945 میں نیو میکسیکو میں کیا تھاـ اس تجربے کے فوری بعد امریکا نے یورینیم کو بطور ایندھن استعمال کرنے والے ایٹمی ہتھیار کے ذریعے جاپان کے شہر ہیروشیما کو تباہ کیا۔ اس حملے کے تین دن بعد امریکا نے جاپان کے شہر ناگا ساکی کو بھی ایٹم بم سے نشانہ بنایا ـ ۔

اور اس واقعے کے بعد دنیا کی تمام بڑی طاقاتوں نے اپنی خودمختاری اور سلامتی کو مد نظر رکھتے ہوۓ ایٹمی ہتھیار بنانے شروع کیے اور یوں سابقہ سپر پاور سوویت یونین نے بھی اپنے پہلے ایٹمی ہتھیار کا تجربہ اگست 1949 میں قازقستان کے صحرا میں کیا۔

پاکستان کے لیے یہ ہتھیاربنانااس وقت ضروری ہوگیا جب ہمسایہ حریف ملک بھارت نے 1954ء اپنا نیوکلیائی تحقیقی پروگرام شروع کیا۔

اگر ہندوستان ایٹم بم بناتا ہے تو" ہم گھاس کھائیں گے، بھوکے رہ لیں گے لیکن اپنا ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔ "اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔

یہ تاریخی الفاظ اس وقت کے وزیر خارجہ، جناب ذوالفقار علی بھٹو نے 1965میں کہے۔

بھارت نے 11مئی 1998 ء کو ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کی سلامتی اور آزادی کے لئے خطرات پیدا کردیئے تھے ۔ بھارت نے ایٹمی دھماکہ کرنے کے بعد ہر محاذ پر پاکستان کو دبانا شروع کر دیا اس کے جواب میں وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے دور حکومت میں28 مئی 1998ء کی سہ پہر تین بجے ایٹمی دھماکہ کیا یوں پاکستان، دنیا کی بڑی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کر نے کے قابل بن گیا تھا۔ یہ لمحات پاکستان کی تاریخ میں عزت، وقار اور شان و شوکت کا تاج بن کر تاریخ میں رقم ہوگۓ پاکستان بالآخر مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن گیا-

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
18 Nov, 2017 Total Views: 630 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Arbab Latif

Read More Articles by Arbab Latif: 2 Articles with 1011 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
good research work
By: Fariha, karachi on Nov, 19 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB