گوئٹے مالا کے ہولناک سچ جو آپ نہیں جانتے

 

دنیا کا ہر ملک اپنی کوئی نہ کوئی خاص پہچان ضرور رکھتا ہے- چاہے وہ پہچان مثبت ہو یا پھر منفی٬ کسی کے لیے آسانی پیدا کرے یا کہ پریشانی لیکن دنیا اسے اسی خاص حوالے سے جانتی ہے-ایسا ہی ایک ملک گوئٹے مالا (Guatemala) بھی ہے جو اپنے چند منفی پہلوؤں کی بدولت دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے- آج کی اس نشست میں ہم آپ کو انہی منفی پہلوؤں کے بارے میں بتائیں گے-


آتش فشاں پہاڑ
گوئٹے مالا میں 37 آتش فشاں پہاڑ موجود ہیں جن میں سے 3 فعال بھی ہیں- Volcan de Fuego گوئٹے مالا کا ایک ایسا فعال آتش فشاں پہاڑ ہے جو رواں سال صرف جون میں ہی 6 مرتبہ پھٹ چکا ہے-


غربت اور جرائم
گوئٹے مالا کے رہائشیوں کا شمار وسطی امریکہ کی سب سے غریب ترین قوم میں ہوتا ہے جبکہ یہاں جرائم کی شرح انتہائی بلند ہے- یہاں آپ کو کار چوری٬ خواتین کو ہراساں کرنا٬ ناجائز اسلحہ٬ جعلی پولیس افسران غرض تمام اقسام کے جرائم میں ملوث افراد ملیں گے-


خوفناک گڑھا
30 مئی 2010 کو گوئٹے مالا کے دارالحکومت جس کا نام بھی گوئٹے مالا ہی ہے کہ وسط میں ایک ایسا خوفناک گڑھا پیدا ہوگیا جس کا قطر 60 فٹ چوڑا تھا اور اس کی گہرائی اتنی تھی کہ اس میں باآسانی 30 منزلہ عمارت سما سکتی تھی- اس گڑھے نے 3 منزلہ عمارت کو نگل لیا-


خانہ جنگی
بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ گوئٹے مالا ایک طویل عرصے تک خانہ جنگی کا شکار بھی رہا ہے- اس ملک میں 36 سال تک خانہ جنگی جاری رہی جس کے نتیجے میں 2 لاکھ افراد ہلاک ہوگئے اور 400 گاؤں تباہ ہوگئے-


قدیم ترین ملک
گوئٹے مالا ایک ایسا ملک ہے جو گزشتہ 20 ہزار سالوں سے آباد ہے اور آج اس کی نصف سے زائد آبادی مایا تہذیب سے تعلق رکھتی ہے- یہاں کئی سامراجی قوتیں پائی گئیں- اس پورے ملک میں آپ کو مختلف مقامات مایا دور کی نشانیاں دکھائی دیتی ہیں-


کرپشن ایک کاروبار
اس ملک میں کرپشن ایک بہت بڑے کاروبار کی صورت اختیار کرچکی ہے جس کی بنیادی وجہ یہاں تیزی سے پھیلنے والے دیگر بڑے جرائم ہیں- اس ملک کی فوج سے لے کر سیاستدان تک سب ہی کرپشن میں ملوث پائے گئے ہیں-


منشیات فروش
گوئٹے مالا منشیات فروشوں کی ایک بڑی آماجگاہ بن چکا ہے- گزشتہ سال سرکاری حکام نے 12,427 کلوگرام کوکین ضبط کی تھی لیکن اس کے باوجود منشیات فروشی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور یہ ملک کے کونے کونے میں دستیاب ہے-

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
31 Jul, 2017 Total Views: 5611 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
There used to be a joke in Guatemala, when the country was ruled by the military dictatorship. Instead of greeting his subjects with “Good afternoon” or any other such common pleasantries, the president would say, “I see you have all survived . . . ”
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB