داتا صرف الله اور کوئی نہیں

(Baber Tanweer, Karachi)

یہ آرٹیکل جناب محمد مدثر کے اسی موضوع پر لکھے گئے گمراہ کن آرٹیکل کا جواب ہے

جناب محمد مدثر صاحب آپ تو با عقل ہیں جبھی تو اتنا اچھا آرٹیکل لکھ دیا کہ ہر طرف آپ کی تعریف ہو رہی ہے۔ جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں آپ کو عربی کے قاعدے بھی معلوم ہیں۔ آپ سے کچھ سوال کرنا چاہتا ہوں۔ مزاج پر ناگوار نہ گزرے تو جواب ضرور دیجئے گا۔

یقیناً داتا عربی کا لفظ نہیں ہے ذرا یہ تو بتائیےکہ خدا کس زبان کا لفظ ہے؟ عربی کا تو نہیں ہے تو پھر آپ حضرات اکثر الله کو خدا کہہ کر کیوں پکارتے ہیں۔ آپ کا جواب یقیناً یہی ہوگا کہ اس کا مطلب وہی ہے جو الله کا ہے۔ تو بھائی داتا کا مطلب ہے سب کچھ دینے والا ۔ اور اب یہ بھی بتا دیں کہ مخلوق کو سب کچھ دینے والی ذات الله تعالیٰ کے ہیں یا اس داتا کے جو کہ مر کر قبر میں جا چکا اور قیامت کے دن اٹھایا جائے گا۔ سورہ الشوری آیت 49 اور 60 پڑھئے (تمام) بادشاہت خدا ہی کی ہے آسمانوں کی بھی اور زمین کی بھی۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے بخشتا ہے ﴿٤۹﴾ یا ان کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں عنایت فرماتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے بےاولاد رکھتا ہے۔ وہ تو جاننے والا (اور) قدرت والا ہے ﴿۵۰﴾ اب فرمائے کہ جب الله تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور وہی ہمار اصل داتا ہے اور وہ خود فرماتا ہے کہ میں ہر پکارنے والے کی فریاد سنتا ہوں تو پھر ہمیں اس مرے ہوئے داتا کی کیا ضرورت۔ کہنے والے کہیں گے کہ نہیں جی وہ الله کہ یہاں ہمارے سفارشی ہیں تو بھائی یہی عقیدہ تو بت پرستوں کا ہے جو ان بتوں کو بالکل اسی طرح الله کے دربار میں اپنا سفارشی سمجھتے تھے۔ ان میں اور ان قبر کے پجاریوں میں کوئی فرق نہیں۔

آپ حضرات اکثر الله تعالیٰ کی صفات کا تقابل مخلوق کی صفات سے کرنے کی گستاخی کے مرتکب ہوتے ہیں جبکہ اس ذات باری تعالیٰ کی صفات لا محدود اور مخلوق کی صفات محدود اور بات یہیں ختم ہو جاتی ہے۔ الله تعالی کی ذات والا صفات کا شکر ادا کریں کہ اس نے ہمارے پیارے نبی کو رؤف بھی اور رحیم کا رتبہ عطا فرمایا۔ مگر یہ تو بتائے آپکے پیر کو داتا کا سرٹیفیکیٹ کس نے عطا کیا۔ اور اگر عربی کو آپ سمجھتے ہیں تو ذرا ان باتوں پر غور کریں

نبی پاک کو الله تعالیٰ نے رحیم قرار دیا مگر الله تعالیٰ کی ذات (الرحیم) اگر اپنے ایمان کو داؤ پر لگانے کا شوق ہے تو پکارو نبی پاک سمیت کسی انسان کو(الرحیم)

اسی طرح الله تعالیٰ نے نبی پاک کو رؤف کا رتبہ عطا کیا مگر (الرؤف) کا نہیں کیوں کہ اسکی اپنی ذات الرؤف ہے اور وہ اپنی ذات میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔ اس طرح اسکی ذات العلی اور العظیم ہے۔ ہمت ہے تو پکارو کسی انسان کو (العلی) سب سے بلند یا(العظیم )سب سے عظیم(نعوذ بالله) تاکہ آپ کے ایمان اور کفر کا فیصلہ ہو جائے۔ اب ذرا ان ناموں پر غور کرلیں ۔ الرحمٰن, الرحیم, القادر , المالک , الرزاق , وغیرہ الله تعالیٰ کے نام ہیں اور یہ سب عربی کے الفاظ ہیں ۔ پوری عربی تاریخ یا آجکل کے عربی ممالک میں آپکو ان صفت کے ساتھ جو بھی نام ملے گا اسکا مطلب یہی ہوگا کہ اس صفت والی ذات کا بندہ یعنی ( عبدالرحیم , عبدالرحمان, عبد المالک , عبدالرزاق) وغیرہ۔ کبھی کسی انسان کو رحیم کے نام سے نہیں پکارا جاتا ۔ ہمیشہ عبدالرحیم کے نام سے ہی پکارا جاتا ہے۔ اسکی وجہ میں یہاں آپکو تفصیل سے بتا دی ہے۔ آپ سے اور تمام پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ اگر کوئی بات خلاف شریعت لکھی ہو تو اسکی نشاندھی فرمائیں۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
04 Nov, 2010 Total Views: 2276 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Baber Tanweer

A simple and religious man.. View More

Read More Articles by Baber Tanweer: 27 Articles with 43953 views »
Reviews & Comments
DATA YANI SAB KUCH DENEWALA SIRF ALLAH HAI. QURAN PAK, AUR KUL AMBIYA KI DUAYEEN AUR AAMAAL IS BAAT KA SABOOT HAIN. HAR NABI NE APNI HAJAT KE LIYE APNE SE PEHLE GUZRE HUE KISI BHI ALLAH KE NABI SE NAHI MANGA BALKI SIRF ALLAH SE MANGA, IMAAN O YAQEEN AUR AQEEDA DURUST HO ISKE LIYE HAR NABI PAK KI DUA JO QURAN PAK ME HAI, ZAROOR PADHAKARO, ALLAH PAK BESUMAAR NEKIYAN ATA FARMAYENGE AUR IMAAN O AQEEDA BHI DURUST HO JAYEGA. PYARE AQA SALLAHU-ALAI-WASALLAM AAKHRI NABI THE LEKIN AAP (S.A.W.) NE KABHI APNI DUA ME YE NAHIN KAHA " AE NOH ALAISSALAM MERA BEDA PAR KARDO, AE IBRAHIM ALAISSALAM MUJHE AULAD DEDO, AE MOOSA ALAISSALAM MUJHE RIZK ATA KARDO...... BALKI AAP (S.A.W.) NE HAR WAQT, HAR PAL ALLAH KO PUKARA ISLIYE KE SIR ALLAH HI DATA HAI KOI INSAAN NAHIN"
By: mohdsaleemmtc&gmail.com, malegaon, india on Mar, 10 2018
Reply Reply
1 Like
BESHAK, AULIYA ALLAH SE BADE SHAHABA (Raziallah Anh),............. SHAHABA (Rziallah Anh) SE BADE KHULFAE RASHIDEEN (Raziallah Anh) .........KHULFAE RASHIDEEN (Raziallah Anh) SE BADE AMBIYA (A.S.)....... AUR AMBIYA (A.S.) SE BADE ALLAH PAAK.........AUR ALLAH PAAK SE BADA KOI NAHIN.......................ALLAH JISE DENA CHAHE USE SARE AULIYA, SHAHABA, KHULFAE RASHIDEEN, AUR AMBIYA MILKAR BHI NAHI ROKSAKTE........AUR JISE ALLAH NAHI DENA CHAHE USE SARE AULIYA, SHAHABA, KHULFAE RASHIDEEN, AUR AMBIYA MILKAR BHI NAHI DE SAKTE........JISE YE HAQEEQAT QUBOOL NAHI WOH IMAAN WALA NAHI HO SAKTA. ALLAH SAB KO HIDAYAT DE-------AMEEN.
By: MOHAMMAD SALEEM, Malegaon. india on Mar, 16 2018
0 Like
درست فرمایا، بارک اللہ فیک
By: Baber Tanweer, Karachi on Mar, 12 2018
0 Like
bohoth umda Masha Allah ... Jazak Allah Hu Khairan Kaseera
By: farah ejaz, Karachi on Mar, 05 2018
Reply Reply
0 Like
آمین! و ایاک سسٹر۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Mar, 08 2018
0 Like
ثاقب رضا قادری صاحب اللہ آپ کے علم میں عمل میں برکتیں فرمائے۔ امین
By: Farooq , Jeddah on Mar, 04 2018
Reply Reply
0 Like
Baber bhei Allah aap ko ilm o amal main barkat ata farmaye.
By: Abdullah Amanat Muhammadi, Kasur on May, 28 2015
Reply Reply
1 Like
جزاک اللہ خیرا بھائ عبداللہ امانت محمدی. اللہ ہم سب کو دین کی سمجھ عطا فرمائے
By: Baber Tanweer, Karachi on May, 29 2015
0 Like
شرم تم کو مگر نہیں آتی

میں کہیں نہیں گیا جناب بابر صاحب ، اصل میں ہماری ویب کی طرف سے اب کمنٹس کی ای میل موصول نہیں ہوتی اسی لئے درگت بنانے میں کچھ تاخیر ہو گئی ، خیر دیر آید درست آید

جناب عجب بات ہے کہ شرک کے فتوے آپ اندھا دھند لگائیں اور معیار الوہیت ہم سمجھائیں، جب تم کو ان ابحاث علمی سے کوئی سروکار نہیں تو پھر کیوں اپنی جہالت کی وجہ سے جہنم کے مستحق بنتے ہو مسلمانوں کو مشرک قرار دے کر۔

میں تو آپ کی علمی قابلیت دیکھنا چاہتا تھا اگر آپ کو پتہ ہوتا تو اب تک کچھ نہ کچھ تحریر کر دیتے خیر انشاء اللہ جلد ہی اس موضوع پر ایک کالم پوسٹ کر دوں گا ،

توحید و رسالت کا نغمہ دنیا کو سنانے نکلے ہیں
فاران کی چوٹی کا پیغام گھر گھر پہنچانے نکلے ہیں
By: Muhammad Saqib Raza Qadri, Karachi on Feb, 23 2011
Reply Reply
0 Like
جناب قادری صاحب جاتے جاتے میرے آخری کمنٹس کا جواب تو دیتے جائیے۔ اللہ آپ کو دین کی بہتر سمجھ عطا فرمائے۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Feb, 11 2011
Reply Reply
0 Like
اے کاش اللہ آپ کو عقل و ھدایت عطا فرمائے اور آپ کو معیار الوہیت سمجھنے کی توفیق عطا ہو
By: Muhammad Saqib Raza Qadri, Karachi on Feb, 10 2011
Reply Reply
0 Like
جناب محمد ثاقب رضا قادری صاحب۔ صحیح احادیث کو آپ رد کر چکے ہیں۔ ‍‍قرآن پاک کے ترجمے میں آپ تحریف کے مرتکب ہو چکے ہیں۔ دلائل کے بجائے ہٹ دھرمی آپ کا اسلوب ہے۔ ایک طرف سے جب کوئی جواب نہ بن پڑا تو دوسری طرف نکل گئے۔ جناب شیخ محمد دانش صاحب کے کالم میں میرے کمنٹس کے جواب اپھی تک آپ نے نہیں دیا۔ وہ کمنٹس یہاں بھی کاپی کر دیتا ہوں تاکہ پڑھنے والوں کو آپ کی حقیقت معلوم ہوتی رہے۔ حس باطل کو آپ حق کہتے ہیں اس سے انشاء اللہ میں ہمیشہ ٹکراتا رہوں گا۔ -------------------------------------------------------------------------------------------------------------
جناب محمد ثاقب رضا قادری صاحب۔ یہ نہ تو اس کالم میں اٹھائے گئے سوالوں کا جواب ہے اور نہ ہی میرے آپ کو دئے گئے آخری کمنٹس کا جواب ہے۔ اور یہی آج تک آپ کا اسلوب ہے۔ کہ جب جواب نہ بن پڑا تو کوئی دوسری بات کر دی۔
میری علمی قابلیت کے بارے میں آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ نے اس سے پہلے بھی مختلف دعوے کیے مگر وہ سب باطل ہی ثابت ہوئے۔ اگر الوہیت کے معیار کی تعریف ہی میں اس مضمون میں اٹھائے گئے تمام سوالوں کا جواب موجود ہے تو آپ خود ہی ذرا ہمت کر کے اس معیار کی تفصیلات بیان کر دیجیے۔ اور ہاں جواب دینے سے پہلے خواجہ یار محمد فریدی کے ان دو اشعار کے بارے میں ضرور بیان کر دیجیے گا کہ ان میں الوہیت کا کونسا معیار بیان کیا گیا ہے۔ یہ اشعار میں نے آپ کی خدمت میں پہلے بھی پیش کیے تھے۔
بندگی سے آپ کی ہم کو خداوندی ملی۔
ہے خداوند جہاں بندہ رسول کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ استغفراللہ۔
دوسرا شعر بھی ملاحظہ فرما لیجیے۔ اس میں یار محمد صاحب اپنے پیر و مرشد کے متعلق کہتے ہیں۔
کیا خدا کی شان ہے یا خود خدا ہے جلوہ گر۔
ملتی ہے اللہ سے تصویر میرے پیر کی۔۔۔۔۔۔۔۔ استغفراللہ
میں نے تو شائد شرک و بدعت کی بات نہیں کی تھی کیونکہ فتویٰ دینا میرا کام نہیں ہے۔ جب آپ نے یہ نقطہ اٹھایا ہے تو آپ سے یہ پوچھتا ہوں کہ یہ بتائیے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی نے غنیہ الطالبین میں بدعتی کی کیا تعریف کی ہے۔

-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
شرک و بدعت کی بات آپ خود بار بار کر رہے ہیں۔ کیونکہ آپ کو معلوم ہے یہ آپ کے بڑوں پر ہی ہمیشہ اس کے الزامات لگے ہیں۔ اور اور تو اور شیخ عبدالقادر جیلانی نے بھی آپ کو مرجیہ فرقہ میں شامل کیا ہے۔ جائیے غنیہ الطالبین اٹھائیے اور میری بات کی تصدیق کیجیے۔ اور یہ بھی بیان کر دیں کہ انہوں نے اہل سنت کی کیا تعریف کی ہے اور آپ نے نبی پاک کی شان میں جو جھوٹ روایات اپنے کالم میں تحریر کیں ہیں ان کا جواب آپ کو انشاءاللہ جلد ہی مل جائے گا۔ آپ کو صحاح ستہ میں نبی پاک کی شان میں کوئی حدیث نہیں ملی جو آپ نے وہاں موضوع احادیث کا سہارا لیا۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Feb, 08 2011
Reply Reply
0 Like
جناب بابر صاحب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی اپنی جناب میں عاجزی پسند کرتا ہے لیکن جب معرکہ حق و باطل ہو تو مومنین کی صفت خود رب تعالیٰ نے ارشاد فرمائی ہے اشدا ء علی الکفار

معاذاللہ میں آپ پر حکم کفر صادر نہیں کر رہا لیکن آپ کے نظریات ابھی تک حق سے متصادم نظر آئے ہیں

پھر وہی بات کروں گا کہ معیار الوہیت بیان کریں نہیں پتہ تو کسی سے اس کی معرفت حاصل کریں تا کہ جو شرک کا بھوت آپ پر سوار ہے اس کا علاج ہو سکے
By: Muhammad Saqib Raza Qadri, Karachi on Feb, 04 2011
Reply Reply
0 Like
اس انسان سے میں کیا بحث کروں جو ہزیمت اٹھانے کے باوجود اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ جناب شیخ محمد دانش کے کالم میں میرے یہ کمنٹس آج تک آپ کے جواب کے منتظر ہیں۔
آپ کو جواب دینے سے پہلے ایک سوال میرا بھی ہے کہ کیا اللہ تعالٰی انسان کی ہر حاجت براہ راست پوری کرنے پر بھی قادر ہے کہ نہیں۔ اور کیا اس نے یہ نہیں فرمایا کہ میں ہر پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں جب وہ مجھے پکارے۔ اور کیا اس نے کہیں یہ فرمایا ہے کہ انسان کو جب بھی کوئی حاجت ہو تو وہ کسی دوسرے انسان کو حاجت روا مشکل کشا سمجھ کر اس کے پاس جائے اور براہ راست اللہ سے رجوع نہ کرے۔۔ اور کیا دعا کی صورت ہم اللہ تعالٰی کے علاوہ کسی اور ہستی سے کچھ مانگ سکتے ہیں۔ اور جب آپ نے خود ہی یہ نشاندھی فرما دی کہ اصل داتا اور مشکل کشا وہ خود ہی ہے۔ تو اسے بندوں کی حابت روائی اور مشکل کشائی کے لیے کیا کسی مدد گار کی کیا ضرورت ہے۔
اور میں آپ کو الجھانے کی سعی نہیں کر رہا بلکہ آپ کا سوال ہی کچھ ایسا ہے کہ ایک عقلمند انسان سے اس کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اور جو سوال آپ کر رہے ہیں آپ اس کا جواب بخوبی جانتے ہیں۔ اور یہاں آپ اللہ تعالٰی کے اختیارات کو زیر بحث لانے کی کوشش فرما رہے ہیں۔ وہ ذات باری تعالٰی قادر مطلق ہے اور ہر امر پر قادر ہے۔ اور جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے تو جہاں یہ امر ممکن ہے وہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے ہمارے نبی پاک تک ہمیں کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ اس نے کسی انسان کو ایسا کوئی خطاب یا رتبہ عطا کیا۔ ہاں انبیا کو جو معجزات عطا ہوئے انکا متعدد مقامات پر ذکر آیا ہے۔ اور اس بات کا ثبوت آپ مجھے قرآن اور حدیث کے حوالے سے دیجیے کہ اس نے کسی انسان کو حاجت روا، داتا، مشکل کشا وعیرہ کے خطاب سے نوازا ہو۔ یا اس کا کوئی ضابطہ مقرر کر دیا ہو۔ یا یہ فرمایا ہو کہ کسی بھی ہستی کی وفات کے بعد اس کی قبر پر حاضر ہو جاؤ اور اس کے حضور اپنی حاجت پیش کرو۔ اور آپ خود ہی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی ہی اصل مشکل کشا اور داتا ہے تو۔ اس کے فرمان کے مطابق آپ کو براہ راست اس سے رجوع کرنے میں کیا امر مانع ہے۔------------------------------------------
ایک اور بات عرض کردوں کہ اللہ تعالٰی کو تو عاجزی پسند ہے مگر آپ کا اسلوب ہمیشہ غرور اور ہٹ دھرمی پر مبنی ہوتا ہے۔ آپ نے دوسرے کالم میں ایک دعویٰ کیا تھا جس کو میں نے اگلے کمنٹس میں ہی باطل ثابت کردیا تھا مگر آپ کی نظر اس طرف نہ جا سکی۔ بجائے آپ میرا امتحان لینے کی سعی کریں۔ جو کچھ آپ کے پاس ہے اسے پیش کیجیۓ۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Jan, 26 2011
Reply Reply
0 Like
بابر صاحب آپ بخوبی آگاہ ہیں کہ آپ اسی موضوع پر دانش صاحب کے کالم بنام صرف اللہ ہی مشکل کشا ہے اور کوئی نہیں میں مجھ سے اچھی طرح زچ ہو چکے ہیں اس کے بعد آپ سے بے مثل بشریت کے موضوع پر بھی بحث چلتی رہی لیکن آپ اس میں بھی اپنے باطل نظریات ثابت کرنے میں ناکام رہے۔

میں یہاں بھی آپ کو یہی کہوں گا کہ اگر علم رکھتے ہو تو معیار الوہیت بیان کرو تمھارے اس کالم کی حقیقت سب پر عیاں ہو جائے گی کیا تماشہ لگا رکھا ہے تم لوگوں نے ، ہر وقت شرک و بدعت کی رٹ کے سوا تم لوگوں کو آتا ہی کیا ہے۔

پہلے تم مجھ کو معیار الوہیت بیان کرو اس کے بعد تم سے پوچھوں گا کہ داتا اللہ عزوجل کا کون سا نام اور صفت ہے ۔ یاد رکھنا اس کالم میں بھی تمھارے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا انشاء اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا یہ غلام اور اہل سنت کا ادنیٰ خادم تمھاری شکست کی تم کو پیشگی مبارکباد دیتا ہے۔

لاؤ کوئی دلیل اگر سچے ہو تو
By: Muhammad Saqib Raza Qadri, Karachi on Jan, 25 2011
Reply Reply
0 Like
السلام علیکم۔ اطہر بھائی نے بہت اچھی بات کی ہے۔ ہمارا دشمن ہمیں ایک ہی سمجھتا ہے۔ میں سب کی توجہ اس حدیث مبارکہ کی طرف دلانا چاہتا ہوں کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔لله اس طرف متوجہ ہوں یہ نہ ہو کہ اسلام کا دعویٰ بھی ہو اور ایک دوسرے کو تکلیف بھی دے رہے ہوں۔
By: Malik, on Nov, 24 2010
Reply Reply
0 Like
BABER SAHAB SY GUZARISH HAI K PAHLAY APNAY NAFS K DHOKAY SY BAHAR NIKLEN OR APNI BATNI ANKHEN KHOLEN ......JAB TAK BATIN YANI HAQEQAT SY AGAHE NAHEN HOGI......KABHE BHI SAHI BAAT NAHN KER PAEEN GY......
OLEYA E ALLAH KA MAKAM ZAHRI ANKAH WALE KABHE NAHEN DAIKH SAKTY.... ISKAY LEYA HAQEQI OR BATNI ANKAH CHAHEYE.....OR OSE ANKAH SY RAB KE B PEHCHAN ATA HOTI HA.... MAGER BABER SAHAB YAD RAKHEYE AP JASEY LOG JO AJKAL JIS " DRY TOHEED" K PREACHER HEN ...OSKY MUTABIK TU WO KHUD B MUSRIK HEN...ALLAH SUNATA AP B SUNTAY HEN...ALLAH DEKHTA HA..AP B DAKTAY HEN.... YA TU APKY VERSION K MUTABIK PHIR APNY SHIRK KER DEYA..... ALLAH APKO KHUSK(DRY) TOHEED SY BACHAEY JO SIRF SHETAAN KA DHOKA HA...OR OLEYA ALLAH KE BA ADABI APKO GUMRAH KER DY GI... ISLEYA AGER AHTARAM NAHEN KER SAKTAY TU GUSTAKHI B NA KARAN ...KAHEN ASA NA HO K KISI GUSTAKHI SY APKI NEJAAT KA RASTA YA HAQEQAT SY ASHNAI KA RASTA BAND NA HOJAE... ALLAH SY DOWA HA KY WO APKO SIDQ IMAAN ATA FERMAE OR BATIN KE AANKH ATA FERMAE...AMEEN
By: HAMID SOHAIL MALIK, Garhi on Nov, 24 2010
Reply Reply
0 Like
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکتہ
یار کیا ہوگیا ہے ہم مسلمانوں کو خصوصاً پاکستانیوں کو اراے اللہ کے بندو اعتدال اعتدال کا دین ہے یہ ہوش کرو جو تمھیں ختم کرنے کے در پہ ہیں وہ یہ نہیں دیکھتے کہ یہ قبر پر جا کر منتیں مانتے ہیں انہیں چھوڑ دو یا یہ قبر سے منہ پھیر کے آگے نکل جاتے ہیں انہیں چھوڑ دو۔ یہ نماز پر ہاتھ اوپر باندھنے والے ہمارے دوست ہیں انہیں کچھ نہیں کہنا یا یہ نماز کے بعد درود کا زکر کرنے والے ہمارے دوست ہیں انہیں کچھ نہیں کہنا۔
ارے خدا کے بندو تمھیں مارنے والوں کےنزدیک تم سب ایک خدا ایک رسول کے ماننے والے اُن کے دشمن ہو لیکن افسوس تم سب تو خود اپنے ہی دشمن ہو ۔۔کیوں خود کو تقسیم در تقسیم کے عمل کے لئے نئی سے نئی بات نکالتے ہو تم سب یہ کیوں نہیں مانتے کہ جس نے کسی انسان کو گزند نہیں پہنچایا اور اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی دین ہے اُس کو اللہ کریم بخش سکتے ہیں۔۔
ہم سب دوسروں کو جنت کے ٹکٹ دینے پر کیوں تلے ہوئے ہیں کہ بس یہ ہمارے کہنے پر عمل کرے گا تو جنت ملے گی نہیں تو ہم اسے دوزخ کا حق دار بنا دیں گے ارے اللہ کے بندو اللہ کے کام اللہ پر چھوڑ دو اور اس رب "رب العا لمین"سمجھو اس کے رسول کو آخری رسول جانو اور اس کی کتاب کو آخری کتاب سمجھتے ہوئے عمل کرتے رہو باقی اللہ پر چھوڑ دو ۔
خدا کے واسطے ان بحثوں مین الجھ کر اپنی توانائیاں ایک دوسرے پر ضائع کرنے کے بجائے دشمن کےلئے بچا رکھو
اللہ جی ہم سب کا حامی ناصر ہو آمین
By: Athar, Khobar(Saudia) on Nov, 23 2010
Reply Reply
0 Like
best article ...i am agree with author
By: mohammad ahmed, on Nov, 22 2010
Reply Reply
0 Like
دوستو ایک غلطی کی معافی چاہتا ہوں کاپی اور پیسٹ میں غلطی کی وجہ سی قرآن کی آیت درست نہ لکھی جا سکی اسکی تصیح فرما لیں ( ان الله غفور رحيم)
By: Baber Tanweer, Karachi on Nov, 21 2010
Reply Reply
1 Like
سب سے پہلے تو عرض کردوں کہ میرا یہ دعویٰ ہر گز نہیں کہ سب کچھ جانتا ہوں۔ میں تو اس دین کا ایک ادنیٰ سا طالب علم ہوں اور اپنے علم میں اضافے کی تگ و دو میں ہمیشہ مصروف رہتا ہوں۔ میرے ایک مہربان نے اس کالم میں ایک بحث چھیڑی کہ اللہ بھی علی اور بندہ بھی علی اور پھر اس خاکسار کو چیلنج کہ لگاؤ کوئی فتویٰ۔ بہر حال میں اس بات کی عربی کے قواعد کے مطابق وضاحت کر دیتا ہوں اور یہاں یہ بھی عرض کر دوں کہ اگر میں نے کچھ غلط لکھا ہو تو اس کی تصیح فرما دیجیے گا۔
اسم معرفہ ۔ PROPER NOUN اس کی تعریف تو آپ سب کو معلوم ہوگی۔ یعنی کسی بھی جگہ، چیز یا شخص کا نام۔
اسم نکرہ- عام چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جیسے کتاب ، مدینہ وغیرہ۔
اگر کسی اسم نکرہ کے شروع میں ال لگا دیا جائے تو وہ اسم معرفہ بن جاتا ہے۔ جیسے :-
کتاب تو کوئی بھی کتاب ہو سکتی ہے مگر جب ہم الکتاب کہیں گے تو اس سے مراد قرآن ہوگی۔
مدینہ سے مراد کوئی بھی شہر مگر جب ہم المدینہ کہیں گے تو اس سے مراد مدینہ النبی ہو گی۔
علی کسی کا بھی نام ہو سکتا ہے مگر جب قرآن میں العلی کہا گیا تو اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے۔
جہاں قرآن میں اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں کے ساتھ ( ال) کا اضافہ نہیں ہے انہیں جملہ اسمیہ کہا جاتا ہے اس کے دو جز ہیں۔ پہلا مبتداء یا معرفہ اور دوسرا خبر یا نکرہ۔ جب جملے میں معرفہ آجائے تو نکرہ کو معرفہ میں نہیں بدلا جاتا مثلاً ‏ اللّٰهَ اِنَّ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ یہاں اللہ اسم معرفہ ہے اور رحیم و غفور نکرہ۔ چونکہ یہاں معرفہ پہلے آگیا اس لیے نکرہ میں ال کا اضافہ نہیں کیا گیا۔ یہی عربی کا قاعدہ ہے۔
امید ہے کے میرے بھائی حسنین اور دوسرے دوستوں کے لیے یہ معلومات مفید ثابت ہوں گی۔
By: Baber Tabweer, Karachi on Nov, 20 2010
Reply Reply
0 Like
salam to all
baber bhai apne buhat acha likha hai apki tareef karta hun mai
lakn aj kal k laug shirk buhat karhe hain wo ALLAH k bajaye kisi or se mang rahe hain
maine to khud LAHORE mai jo DATA KA mazar hai wahan logon ko sajde karte howe dekha hai,,, ALLAH hum sub ko sidhi rah dikhaye
By: shanzee, karachi on Nov, 11 2010
Reply Reply
0 Like
جناب مدثر صاحب بے وقوفی کی حد ہوتی ہے۔ جناب علی کا نام پر نبی اکرم نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ اور یقیناً اس میں کوئی مصلحت ہوگی اور یہ بھی حقیقت ہے کہ میری نظر سے عبدالعلی نام کا ثبوت نہیں گزرا۔ نام کے سلسلہ میں مجھے صرف یہی استثناء نظر آتا ہے۔ باقی جو بھی نام الله کی صفات کے حوالے سے ہیں ان میں ہمیشہ عبد کا اضافہ ہوگا۔ اور میرے بھائی اگر آپ کو تکلیف ہوتی ہے اپنے آپ کو عبدالرحیم یا عبدالرؤف پکارنے میں تو پھر اپنا نام رؤف بھی رکھئے رحیم بھی رکھئے رحمان بھی رکھئے۔ اور آپ تو حیا کر ہی نہیں سکتے ۔ جناب علی کے نام پر میں نے اعتراض کیوں نہیں کیا اس کی وجہ میں نے اوپر بیان کردی ہے۔ باقی جہاں آپ نے عربی عبارت تحریر کی ہے وہاں ترجمہ بھی لکھ دیجئے جس سے یہ ظاہر ہو جائے گا کہ یہاں مراد صرف الله کی ذات ہے۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Nov, 10 2010
Reply Reply
0 Like
جناب حسنین صاحب تابت یہ ہوا کہ آپ کو صرف میری ذات سے پرخاش ہے ۔ میں نے تو آپ کے اپنے ہی الفاظ اپنے کمنٹس میں نقل کئے ہیں اب کیجئیے اپنے آپ پر لعن طعن۔ اور شائد میرے ان الفاظ کو نقل کرنے کی وجہ سے ہی آپنے اس حقیقت کو تسلیم کرلیا کہ اس رب ذوالجلال کی ذات الرحیم ہے الرحمن ہے الکریم ہے ۔ انسان جب اس کی صفات کا ذکر کرے گا تو اسی طرح کرے گا یعنی الرحمن الرحیم الملک السلام۔ میرے ٦ نومبر کے کمنٹس پر غور فرمائے۔ جن دو مقات کا آپ ذکر کر رہے ان کا ترجمہ خود ہی یہاں لکھ دیجئے اور فیصلہ کیجئے کہ یہاں مطلب وہ ذات نہیں ہے جو سب سے زیاد ہ رحم کرنے والی اور سب سے زیادہ شفقت والی ذات ہے۔ (ان ربکم) کہ کر اس بات کو واضح کردیا گیا کہ یہاں مراد الله کی ذات ہے۔ سورہ النحل میں یہ الفاظ دعا کا حصہ ہیں اور دعا صرف الله سے کی جاتی ہے اس لیے یہاں بھی مخاطب الله کی ذات ہے۔ آخری بات یہ کہ جن کے دلوں میں مرض ہوتا ہے وہ اسی طرح کی باتوں میں لوگوں کو الجھاتے ہیں۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Nov, 10 2010
Reply Reply
0 Like
Displaying results 1-20 (of 33)
Page:1 - 2First « Back · Next » Last
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB