ویٹ لفٹنگ میں متعدد ریکارڈ قائم کرنے والا پاکستانی کھلاڑی

(Saleem Ullah Shaikh, Karachi)

پاکستان کے باصلاحیت لوگ دنیا کے کسی بھی خطے میں چلے جائیں وہ اپنی صلاحیتوں اور فن سے دنیا کو حیران کردیتے ہیں۔ ارفع کریم مرحومہ ہوں یا کم عمر ترین مائیکرو سوفٹ پروگرامر حمزہ شاہد یا دیگر افراد ہوں ۔ ان جیسے باصلاحیت افراد نے دنیا بھر میں اپنی ذہانت اور صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ کھیل کے میدان بالخصوص پہلوانی اور اس سے متعلقہ کھیلوں میں بھی پاکستانی کھلاڑیوں نے ملک کا نام روشن کیا ہے۔
 


ایسے ہی ایک باصلاحیت اور ریکارڈ ساز کھلاڑی برٹش پاکستانی شہزادہ سلیم ہیں جنہوں نے ویٹ لفٹنگ میں کئی اعزاز اپنے نام کیے ہیں۔ حال ہی میں انہیں ہیوی ویٹ لفٹنگ کا ریکارڈ قائم کرنے پر ملکہ برطانیہ کی جانب سے ’’برٹش ایمپائر میڈل‘‘ دیا گیا ۔ لارڈ مئیر برمنگھم کونسل کارل رائس نے برمنگھم سٹی کونسل میں منعقدہ ایک تقریب میں انہیں یہ میڈل پیش کیا۔ اہم بات یہ ہے کہ شہزادہ سلیم وہ پہلے پاکستانی ہیں جنہیں یہ اعزاز دیا گیا ہے، انہیں یہ میڈل ملنے سے نہ صرف برٹش پاکستانی بلکہ تمام ہی پاکستانیوں کے سر فخر سے بلند ہوگئے ہیں۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والے شہزادہ سلیم ویٹ لفٹنگ کی صنف اسٹون لفٹنگ کے عالمی چیمپئن رہے ہیں۔ اس کھیل میں کھلاڑیوں کو وزنی پتھر کو چند لمحوں تک اٹھا کر اپنے کاندھے پر رکھنا ہوتا ہے۔ بظاہر تو یہ بہت آسان لگتا ہے لیکن تین من سے زیادہ وزنی پتھر کو اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر کاندھے تک لے جانا جان جوکھو ں کا کام ہے۔
 


شہزادہ سلیم جو کہ کنگ شہزاد کے نام سے مشہور ہیں نے 1982 میں اسٹون لفٹنگ کا آغاز کیا۔1985میں انہوں نے اٹھارہ سال کی عمر میں پہلی بار 350 پونڈ وزن اٹھا کر ریکارڈ قائم کیا۔

دس سال بعد اپنے ہی ریکارڈ کو توڑتے ہوئے 201 کلو وزن اٹھا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا اور یہ اعزاز 13سال تک ان کے پاس رہا۔

1995میں انہوں نے رٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا تاہم 2010 میں 45سال کی عمر میں وہ ایک بار پھر میدان میں اترے اور ایک بار پھر ریکارڈ قائم کرلیا۔ اس بار انہوں نے مانچسٹر میلہ میں 210 کلو وزن اٹھا کر معمر ترین ورلڈ چیمپئین کا اعزاز اپنے نام کیا۔
 


ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ڈڈلی میلہ کا نام تبدیل کر کے اس کو شہزاد میلہ کا نام دیدیا گیا۔2010میں مئیر ڈڈلی کی جانب سے انہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔2014 میں انہیں برطانوی ہاؤس آف لارڈز میں معروف برٹش پاکستانی سماجی رہنما اور برطانوی دارلامراء کے رکن لارڈ نذیر احمد کی جانب سے " ICONIC STINE LIFTIER"کا ایوارڈ عطا کیا گیا۔

2015 میں یوم ِ آزادی کے موقع پر انہیں برمنگھم میلہ میں مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا اور برمنگھم سٹی کونسل کی جانب سے انہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔جب کہ جون 2016 میں کھیلوں میں ان کی خدمات اور شاندار ریکارڈز کے اعتراف میں انہیں برٹش ایمپائر میڈل کے لیے نامزد کیا گیا اور گزشتہ دنوں برمنگھم کونسل کے لارڈ مئیر نے انہیں یہ میڈل پیش کیا۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
25 Sep, 2016 Total Views: 4378 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
mera sar fakhar se bulanad ho gia hai yeh news parh kar ...............pakistani hain hi bahadur aor taqawar josheeli jurat wali qom ...................
By: azeem, paklahore on Sep, 27 2016
Reply Reply
2 Like
عظیم صاحب آج پرانے مضامین دیکھ رہا تھا تو دیکھا کہ آپ کے کمنٹس کو پورا ایک سال ہوگیا ہے۔ تو ان کمنٹس کو پہلی سالگرہ مبارک ہو۔
By: Saleem Ullah Shaikh, Karachi on Sep, 27 2017
0 Like
During roman empire, one Italian House -hold had a newly born calf.House- keeper[male] eased the calf on his shoulder,took the calf on the roof -top through the stairs and brought the calf back to the same place. He made this exercise on daily basis.ONE day he was carrying BULL on his shoulder to the roof-top,He achieved it through consistency.In diary no mention of drugs or stimulators.IF I MAY SAY,NO OVER-TIME IN THE WASHROOM,,PERIOD..
By: IFTIKHAR AHMED KHAN, CALGARY ALBERTA CANADA on Sep, 27 2016
Reply Reply
1 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Strapping Shahzada Saleem, better known as King Shazad, has been competing since the early 80s in the Asian sport of stone lifting, which sees competitors lifting a mega stone block with one hand.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB