سی آئی اے گوجرانوالہ کا شاہین عمران عباس چدھڑ

سی آئی اے گوجرانوالہ میں شاہینوں کا نگر آباد !لگتا ہے اقبال نے جن شاہینوں کے بارے میں کہا تھا وہ یہی سی آئی اے کی ٹیم ہے جن کی عقابی نگاہوں سے کوئی جرم کوئی مجرم کوئی رسہ گیرکوئی۔چور کوئی۔ڈکیت بھتہ خور،نوسر باز،بدمعاش اوجھل نہیں رہ سکتا ۔اس امر کو ماننے میں کوئی قباحت نہیں گوجرانوالہ۔سی آئی اے عوام کے لیے مسیحا ثابت ہوتا ہے اور یہاں جو سی آئی اے کی حوصلہ افزائی کرنے سے قاصر ہے۔وہ منافقوں کی صف میں شامل ہے،اللہ کے رسول ۖ کے ساتھ مل کر جنگیں لڑنے والے مجاہدین کو اللہ نے خاص انعامات سے نوازایہاں تک ہی نہیں اللہ نے انہیں جنت کی بشارت بھی دی ہے اسلام کی تمام جنگیںظلم اور بربریت کے خلاف لڑیں گئیں ۔آج حالات ایسے ہیں کہ سی آئی اے کے ڈی۔ایس پی عمران عباس چدھڑ پولیس کے ہراول دستے کے طور پر نہ صرف کام کر رہے ہیں بلکہ عوام کو مکمل تحفظ اور انصاف فراہم کرنے میں اپنا یقینی کردار ادا کر رہے ہیں میرے خیال میں ان کا اللہ کے حضور کیا مقام ہے یہ میں بیان کرنے سے قاصر رہا مگر اتنا ضرور ہے کہ اللہ اپنے ایسے بندوں کو نوازتا ضرور ہے جو اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر میدان عمل میں کودے ہوئے ہیں اور دن رات امن کے دشمنوں کے ساتھ لڑ رہے ہیں ۔غنڈوں کے نیٹ ورک توڑنے کا اعزاز پنجاب میں اگر کسی کے پاس ہے تو وہ سی آئی اے گوجرانوالہ ہیں جنہوں نے اپنی مہارت کا لوہا پورے پنجاب میں منوایا جس کا سہرا عمران عباس چدھڑ کے سر جاتا ہے جنہوں نے دن رات محنت کر کے ایک ٹیم کو تشکیل دیا جو جرائم کی بیخ کنی میں دن رات سرگرداں رہتے ہیں کوئی انسان اکیلا کچھ بھی نہیں کر سکتا جب تک آس پاس کے حالات ساز گار نہ ہوں اور کوئی بھی افسر کسی سے زبردستی کام نہیں لے سکتا مگر ایک زبان ہے پیار کی ایمانداری کی خلوص کی اچھی نیت کی جس کا اجر اللہ بندے کو فوری عطا کر تا ہے اچھی نیت کی بدولت اچھا نیٹ ورک عمران چدھڑ ڈی ایس پی آئی نے اپنی شب و روز محنت اور بہترین حکمت عملی سے تشکیل دیا ہوا ہے جس کا توڑنے کیلئے جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گا سی آئی اے قانون سے بالا دست نہیں مگر قانون کو ہاتھ میںلینے والوں کیلئے سی آئی اے موت کی علامت بن چکا ہے ۔عمران چدھڑ ایک بہترین کمانڈر ہیں جنہوں کھوٹے سکوں میں جان ڈال کر انہیں کار آمد بنایا سارا سارا دن افسران کی مرلی بجانے والوں کو سی۔آئی اے کی کارکردگی کیوں نظر نہیں آتی عمران عباس چدھڑ ایسے افسر ہیں جو کام کو عبادت سمجھ کر کرتے ہیں جنہوں نے انتہائی قلیل مدت میں جرائم پر کافی حد تک نہ۔صرف قابو۔پایا ہے بلکہ شہریوں کا امن تباہ کرنے والے کریمنلز کو جیل کی سلاخوں میں بند کر کے عوام کو بے فکری کی نیند مہیا کی ہے اپنی تعناتی سے لیکر سے اب تک عمران عباس چدھڑ کی وجہ سے پولیس کا مورال بلند ہوا ہے جو آئے روز ایسے کارنامے سر انجام دے جاتے ہیں جس کی دشمن بھی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا ایسے افسران کے دشمن بھی بے شمار ہوتے ہیں اور دوست بھی مگر یاد رہے جیت ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے سی پی او گوجرانوالہ ایک دور اندیش افسر ہیں جنہوں عمران عباس چدھڑ پر نہ صرف اعتماد کا اظہار کیا بلکہ کرائم کے خاتمے میں ان کی مکمل راہنمائی بھی کر رہے ہیںاگر افسر اپنے جونئیر پر اعتماد کی فضا کو قائم نہیں کرینگے تو خاطر خواہ نتائج بر آمد ہونا مشکل ہو جاتا ہے عمران عباس چدھڑ کی کامیابی اس میں ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے سینئرز کے اعتماد پر پورا اترتے ہیں آج اسی تناظر میں سی پی او گوجرانوالہ نے قابل ترین افسر عمران عباس چدھڑ کو ایک قتل کا کیس سونپا!اس کیس کی نوعیت یہ تھی کہ عوام عدم تحفظ کا شکار سجھنے لگے تھے خود کو اور چہ مگوئیاں ہونے لگیں کہ آج پولیس والے خود بھی محفوظ نہیں تو عام آدمی کا کیا بنے گا مگر یہ کوئی بات نئی نہیں ڈاکوجب لوگوں کو لوٹتے ہیں تو اپنی جان بچانے کیلئے وہ عوام کی جان لینے سے گریز نہیں کرتے گزشتہ روز ہونے والے واقع میں بھی کچھ یوں ہوا تھا کہ چندا دا قلعہ کے رہائشی ملزم کی شناخت شکیل شاہ کے نام سے ہوئی ۔ہمراہی ملزم کی گرفتاری کے لئے ریڈ کئے جا رہے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق آٹھ جون کو اے ایس آئی اسلم بھنڈر اپنی اہلیہ کے ہمراہ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر نانگرے سے اپنے گاؤں بلو والی جا رہے تھے کہ راستے میں نامعلوم موٹر سائیکل سوار نے واردات کی نیت سے روکا۔ محمد اسلم کے مزاحمت کرنے پر ملزمان نے فائرنگ کر کے میاں بیوی کو شدید مضروب کر دیا ۔ محمد اسلم موقع پر ہی دم توڑ گیا جبکہ اس کی اہلیہ شدید مضروب ہو گئی۔نامعلوم ملزمان فرار ہو گئے ۔واقعہ کا مقدمہ تھانہ ایمن آباد میں درج ہوا ۔ سٹی پولیس آفیسر اشفاق خان نے محدود وقت میں ملزمان کی گرفتاری کے لئے پولیس افسران پر ٹیمیں تشکیل دیں ۔ سی پی او نے ڈی ایس پی سی آئی اے عمران عباس چدھڑ کی نگرانی میں سب انسپکٹر طاہر وٹو، اے ایس آئی بلال احمد، اے ایس آئی راشد اقبال اور دیگران پر بھی خصوصی ٹیم تشکیل دی۔ سی آئی اے پولیس ٹیم نے موقع پر جا کر شواہد ا کٹھے کئے اور سائنٹیفک انداز میں تفتیش کے عمل کو آگے بڑھایا اور اڑتالیس گھنٹے کے محدود وقت میںملزم شکیل شاہ کو زیر حراست لے کر تفتیش عمل میں لائی گئی ۔ ملزم نے اقرار جرم کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس نے اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر موٹر سائیکل سوار میاں بیوی کو لوٹنے کی غرض سے روکا ۔ مزاحمت ہونے پر فائرنگ کی جس سے موٹر سائیکل سوار دم توڑ گیا ۔ ملزم کی گرفتاری پر مدعی مقدمہ سمیت اہل علاقہ کا پولیس پر اعتمادبحا ل ہوا۔ شہریوں نے پولیس کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ۔واضح ہو کہ اے ایس آئی کی ہلاکت سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا ۔مدعی سمیت دیگر معززین ملزمان کی جلد گرفتاری کا مطالبہ کر رہے تھے ۔ سٹی پولیس آفیسر اشفاق خان نے ملزمان کی گرفتاری کے حوالے متعدد ٹیمیں تشکیل دیں تھیں اورروزانہ کی بنیاد پرمقدمہ کی پراگرس ملاحظہ کرتے رہے۔ ملزمان کی گرفتاری پر سی پی او نے سی آئی اے پولیس ٹیم کے لئے انعامات کا اعلان کیا ہیاس کیس کو عمران عباس نے اڑتالیس گھنٹوں میں حل کر لیا یوں گماں گزرتا ہے کہ عمران عباس چدھڑ ڈی ایس پی سی آئی اے گوجرانوالہ نے سی آئی اے کو صحیح معنوں میں ایک ٹریک پر ڈال دیا ہے اور ہر قسم کی سنگین وارداتوں پر کیسے قابو پایا جاتا ہے اس کے لیے ایک جامع پروگرام تشکیل دے دیا ہے جو صرف اور عمران چدھڑ کا ہی خاصا ہے جنہوں نے ہارڈپولیسنگ نظام کے ساتھ ساتھ کمونٹی پولیسنگ کو رائج کر کے میرٹ کا سکہ ہوائوں میں اچھال دیا ہے جس کو آنے والا کوئی بھی افسر پکڑ نہیں سکتا ہے انسانوں میں ہر کسی کو خدا نے صلاحیتوں سے نوازا ہے ضرورت ہے اس کو نکھارنے کی اور صلاحتیں اسی وقت کام آتی ہیں جب حرام اور حلال میں تمیزی رکھی جائے عمران عباس چدھڑ کو ئی فرشتہ نہیں مگر ان میں پائے جانے والے خواص اس صفت سے عاری بھی نہیں۔ اپنے سکون کو برباد کر کے سارا سارا دن گھر والوں کے بن خدا کے بھروسے جان ہتھیلی پر رکھ کر ظلم کے خلاف سینہ سپر ہیں
جس کو مرنے کاشوق نہیں وہ یہیں سے لوٹ جائے

Saif
About the Author: Saif Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.