میاں بیوی کی ناراضگی اور ابلیس کا جشن

رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے ساتھ ہی انسان کی زندگی میں ایک نئے اورخو بصورت باب کا آغاز ہوتا ہے۔ لڑکی اپنے دل میں بہت سے خواب سجائے اپنے شوہر کے گھر میں قدم رکھتی ہے اور شوہر بہت محبت سے اپنی بیوی کے ان خوابو ں کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔بہت سے سپنے سجائے جاتے ہیں۔زندگی کی خوبصورتی کا احساس ہونے لگتا ہے۔لیکن یہ کیا ؟زندگی کی خوبصورتی میں آہستہ آہستہ کمی کیوں آنے لگتی ہے؟ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس خوبصورت رشتے کی خوبصورتی کیوں گہنا جاتی ہے؟

عِلمِ نفسیات کا ماننا ہے کہ ہم انسان صرف تجسس کی حد تک دوسروں کے لئے خاص ہوتے ہیں۔ جیسے ہی دوسرے کی شخصیت کا تجسس ختم ہوتا ہے، ساتھ ہی ہمارے جذبات بھی اس کے لئے ماند پڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔ نفسیات کا یہ نظریہ کس حد تک درست ہے اور کتنے لوگ اس سے متفق ہیں، یہ ایک علیحدہ بحث ہے لیکن میاں بیوی کا رشتہ تو ساری زندگی کے لئے ہوتا ہے اس میں سے محبت کی چاشنی کم ہو جانا اور بات روز مرہ کے لڑائی جھگڑوں اور چھوٹی چھوٹی باتوں پہ روزانہ کی چپقلش تک جا پہنچنا کچھ زیادہ پسندیدہ نہیں سمجھی جا سکتی۔

مولانا طارق جمیل صاحب بیان فرماتے ہیں کہ اِبلیس ہر شام اپنی ایک مجلس لگاتا ہے جس میں تمام چھو ٹے بڑے شیاطین اپنی روزانہ کی رپورٹ پیش کرتے ہیں کہ آج انہوں نے انسانوں سے کون کون سے گناہ کروائے۔ پہلے ایک شیطان بتاتا ہے کہ میں نے آج ایک انسان سے چوری کروائی۔اِبلیس بغیر تاثرات کے کہہ دیتا ہے کہ اچھا ٹھیک ہے۔ پھر ایک اور شیطان بتاتا ہے کہ آج میں نے فلاں مرد اور عورت میں زِنا کروایا۔ اس پر بھی شیطان کہہ دیتا ہے کہ اچھا ٹھیک ہے۔ پھر ایک شیطان کھڑا ہوتا ہے اور بتاتا ہے کہ میں نے آج فلاں میاں بیوی کو ایک دوسرے سے دور کر دیا۔اس پر ابلیس خود کھڑا ہو کر اس شیطان کو گلے لگاتا ہے اور سب شیاطین سے کہتا ہے کہ ’’ یہ ہے میرا اصل جا نشین ‘‘ ۔

اب صرف اس ایک بیان کی روشنی میں میرے قارئین اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب میاں بیوی کی ناراضگی طول پکڑتی ہے تو ابلیس کی محفل میں کیسا جشن کا سماں ہوتا ہے۔

میاں بیوی میں لڑائی جھگڑے ہونا یا وقتی ناراضگی ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔جب بھی دو لوگ ساتھ رہتے ہیں توایک دوسرے کی بہت سی باتیں ناگوار بھی گزرتی ہیں۔ بہت سی باتوں سے تکلیف بھی پہنچتی ہے۔بہت سی باتوں پر غصہ بھی آتا ہے۔ یہ سب عام سی باتیں ہیں لیکن ان عام سی باتوں کو جب شوہر اور بیوی اپنی ضد اور انا کی وجہ سے طول دیتے ہیں تو وہ ابلیس کو اور اس کے شیاطین کوان کے مقاصد میں کامیاب کروا دیتے ہیں۔

میرے اس موضوع کے انتخاب کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ میں اپنے قارئین کو زندگی گزارنے کا طریقہ سکھانے لگ جاؤں۔یہ آپ سب مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ ہمیں ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم اپنے تمام تعلقات میں انسانیت کو ہمیشہ یاد رکھیں۔ جب ہم ہمیشہ یہ ذہن میں رکھیں گے کہ سامنے والا بھی جیتا جاگتا انسان ہے تو ہماری زندگی بہت پر سکون ہو جائے گی۔ شوہر اور بیوی کا ساتھ زندگی بھر کا ہوتا ہے۔ اس ساتھ میں اگر انسانیت، سمجھوتہ اور محبت کی جگہ ضد، انا اور ہٹ دھرمی آجائے گی تو پھر یاد رکھیں کہ آپ زندگی نہیں گزاریں گے بلکہ زندگی آپ کو گزارتی رہے گی۔

آخر میں تمام خواتین کومجھے صرف یہی کہنا ہے کہ:
ایک حدیث میں آپﷺکا ارشاد ہے کہ: ’’جو عورت اپنے شوہر کی تابعدار ہو ، اس کے لئے پرندے ہوا میں استغفار کرتے ہیں اور مچھلیاں دریا میں استغفار کرتی ہیں اور فرشتے آسمانوں میں استغفار کرتے ہیں‘‘۔
اور تمام مرد حضرات کو صرف یہی بتانا ہے کہ:
’’اپنی بیوی کو کبھی بھی دکھ نہ دیں کیونکہ بیویوں کی دنیا بہت چھوٹی ہوتی ہے ، اپنے شوہر سے شروع ہوتی ہے اور شوہر پر ہی ختم ہو جاتی ہے‘‘۔

تو ابلیس کو جشن منانے کا موقع دینا ہے یا اس کے جشن کو ماتم میں تبدیل کرنا ہے، اس کا فیصلہ اب آپ کے ہاتھ میں ہے۔
 

Nadia Niaz
About the Author: Nadia Niaz Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.