ہنوز دلی دور است "

(Mona Shehzad, Calgary)

آزادی نسواں دور حاضر کی سب سے رواں بحث ہے اور المیہ یہ ہے کہ جو لوگ آزادی نسواں کے علمبردار بنتے ہیں ،انہی کہ قول و فعل میں سب سے بڑا تضاد نظر آتا ہے. اس کی ایک چھوٹی سی مثال بشری بی بی کے نکاح کی ہے. اس وقت لگتا ہے کہ جیسے پورا پاکستان جوار بھاٹے کا شکار ہے. بشری بی بی کے دوسری شادی کی ایسی مزمت کی جارہی ہے جیسے یہ کوئی قومی سلامتی کا مسئلہ ھوں. میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہو کہ جب اللہ اور اس کے رسول صل اللہ و علیہ وسلم نے جب مطلقہ، بیوھ کو نکاح کی اجازت دی ہے تو ہم اور آپ کون ہوتے ہیں جو کسی کے نکاح جیسے پاک رشتے پر سوال اٹھایں؟

ہمارے پیارے رسول اللہ کے نکاح میں بیوہ اور مطلقہ دونوں قسم کی خواتین تھیں. جہاں تک کہ بشری بی بی کے بچوں کا تعلق ہے تو اسلام بچوں والی عورت کو دوسرے نکاح کی کوئی ممانعت نہیں کرتا تو اتنا شور کس بات کا ہے. کچھ لوگوں نے یہ گھٹیا الزامات بھی عائد کئے ہیں کہ عمران خان پیرنی کو لے اڑے اور عدت کے دوران ہی نکاح کرلیا، یہ ایسے بہتان ہیں جو کہتے ہوئے سو دفعہ سوچنا چاہیے. ہم اس دین کے پیروکار ہیں جو کسی معصوم کی کردار کشی تو جھوٹ ثابت ہونے پر کوڑوں کی سزا سناتا ہے. یہ عجیب امر ہے کہ کسی کی دینداری تو اس کے لیے ایک طعنہ بنا دیا گیا ہے .

جہاں تک عدت کا تعلق ہے تو کوئی بھی مسلمان مرد و عورت اللہ کی حدود پار کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا. مجھے یقین ہے کہ عمران خان صاحب اور بشری بی بی اس نزاکت سے بخوبی واقف ہونگے اور ایسی کوئی جرات کے مرتکب نہیں ہوے ہونگے. مگر افسوس ہے اس گھٹیا سیاسی حربوں اور میڈیا پر جو گھٹیا الزام تراشی سے نہیں چوکتے.قرآن پڑھنے والے لوگ اس بات سے بخوبی واقف ہونگے کہ اگر کسی مطلقہ عورت سے کوئی مسلمان نکاح کا خواہشمند ہے تو اس کے لیے یہ ہدایت ہے کہ وہ خواہش دل میں رکھے اور عدت ختم ہو جانے کے بعد نکاح کا پیغام اس عورت کے گھر بھیجے. اگر عمران خان صاحب نے یہ جسارت کی تو کیا غلط کیا؟

جو لوگ یہ نتیجہ نکال رہے ہیں کہ عمران خان کی وجہ سے بشری بی بی کی طلاق ہوئی تو ایسے لوگ خود اخلاقی گراوٹ کا شکار ہیں کسی کے بھی کردار پر بہتان انگیزی کرتے ہوئے کسی مسلمان کو سوچنا چاہئے. ہندوانہ رسو رواج کی پیروی کرنے والے ہمارے بیمارِ معاشرے میں تو یہ خان صاحب کی دلیری ہے کہ انہوں نے ایک مطلقہ سے نکاح میں کوئی عار محسوس نہیں کی.

کچھ لوگوں کو بشری بی بی کے پردے پر اعتراض ہے اور ان کے مطابق "نیا پاکستان " اس پردے کے باعث شرمندھ تعبیر نہیں ہوسکے گا، تو ان سے میری استدعا کہ اگر عورت کی بے پردگی ہی "نیا پاکستان " کی تعبیر ہے تو آپ لوگوں کے اخلاقی انحطاط پر کیا تبصرہ کیاجائے؟ بس رہے نام اللہ کا.

میں زاتی طور پر کسی سیاسی پارٹی سے تعلق نہیں رکھتی. مگر بشری بی بی کے نکاح کے بعد جو لغویات کا طوفان اٹھا تو میں اپنے قلم کو روک نہ پائی. میرا دین تو عورت کو شادی کا پیغام بھی بھیجنے کی اجازت دیتا ہے کجا یہ کہ آپ لوگ دو عاقل، بالغ لوگوں کے نکاح پر ایک طوفان تہمت اٹھا لیا جائے. غرض آزادی نسواں کے نعرے کو تو بھول ہی جائے کیونکہ ہنوز دلی دور است.

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
06 Mar, 2018 Total Views: 251 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More

Read More Articles by Mona Shehzad: 92 Articles with 51813 views »
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB