اے گایو بھینسو بکریو! غیرت تم سے ہے ذلت تم سے ہے

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)

اپنے بچپن میں ہی ہم نے ابتدائی جماعتوں کی اسلامیات اور اردو کی کتاب میں پڑھا تھا کہ دور جاہلیت میں عرب کے لوگ اپنی بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیتے تھے ۔ جب ذرا سمجھ آئی تو یہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ جب وہ لوگ بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے تو بیٹوں کو بیاہنے کے لئے لڑکیاں کہاں سے آتی تھیں؟ اور پھر کچھ لوگ بیٹیوں کے چند برس کی ہو جانے تک کا انتظار کیوں کرتے تھے؟ جب دفن ہی کرنا ہوتا تھا تو وہ ان کی پرورش پر خرچ کیوں کرتے تھے؟ اور انہیں جنم دینے والی مائیں کیا کسی کی بیٹیاں نہیں ہوتی تھیں وہ کیسے بچ رہتی تھیں ۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک مخصوص طبقے کا انفرادی فعل تھا جو آج تک پورے عرب معاشرے کی شناخت بنا ہؤا ہے جس کا کثرت سے حوالہ دیا جاتا ہے ۔

پھر اسی طرح سے دوسرا سبق یہ کہ اسلام سے پہلے عورت کا کوئی مقام نہیں تھا ساتھ ہی یہ بھی کہ حضرت خدیجتہ الکبریٰ ؓ مکہ کی ایک بےحد مالدار اور کاروباری خاتون تھیں ایک وسیع کاروبار کی مالک تھیں انہوں نے کئی مرد ملازم رکھے ہوئے تھے ان کا والد خویلد اپنے قبیلے کا سردار تھا ۔ اس نے نہ صرف اپنی بیٹی کو زندہ رکھا اسے دفن نہیں کیا بلکہ اسے اتنا اعتماد اور اختیار دیا کہ وہ مکے کی ایک معروف بارسوخ کاروباری شخصیت بن گئی ۔ اب ظاہر ہے کہ یہ بھی ایک انفرادی مثال تھی جسے پورے معاشرے پر منطبق نہیں کیا جا سکتا ۔ پہلے والی بات یعنی عورت کے بےتوقیر اور کوئی مقام نہ ہونے کے ذکر میں ہی زیادہ وزن نظر آتا ہے ۔

اب آپ ذرا ہزار برس پیچھے کی طرف دیکھیں اسے ایک دو صدی اور بڑھا لیں اور سوچیں کہ یہ جو ہم برصغیر کے مسلمان ہیں ہزار بارہ سو برس پہلے تک ہمارے آباء و اجداد کیا تھے؟ کافر و مشرک ہی تھے نا؟ پھر یہاں اسلام آیا عرب سے آنے والے بزرگوں نے لوگوں میں تبلیغ کی انہیں مسلمان کرنا شروع کیا عرب مسلم باشندوں نے مقامی ہندو عورتوں سے شادیاں کیں ۔ اس طرح نسل بڑھنی اور پھیلنی شروع ہوئی اور تقسیم ہند کے بعد جو علاقے پاکستان میں شامل ہوئے ان میں سے کچھ میں آباد قبائل و برادریوں میں بالخصوص اور اور ملک کے باقی حصوں میں بالعموم دور جاہلیت کے اثرات آج تک اپنی پوری توانائی کے ساتھ نظر آتے ہیں ۔ مثلاً بیٹیوں کو بوجھ سمجھنا اور ان کی پیدائش پر موت پڑ جانا ۔ برصغیر پاک و ہند کے مسلم و ہندو دونوں ہی قوموں میں ایک ایسا اکثریتی طبقہ موجود ہے جو اب بھی دور جہالت میں جی رہا ہے اور ان کی جہالت کا سب سے بڑا شکار عورت ہے جس کا جنم لینا ایک نحوست اور گالی ہے مگر بستر پر اس کے بغیر گذارا بھی نہیں ہے ۔ بیٹی سے نفرت کرنے والوں کو بستر پر کسی کی بیٹی ہی درکار ہوتی ہے ۔ جہالت و منافقت سے مالا مال اس مخلوق میں ایک اور صفت جو کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے وہ ہے غیرت ۔ جو ہر دم عورت جیسی حقیر ناچیز مخلوق کے رحم و کرم پر ہوتی ہے ۔ جس عورت کے پیدا ہونے پر پورے ٹبر کا منہ لٹک جاتا ہے وہی عورت اپنے قاتل باپ بھائیوں کی جان اور عزت بچانے کے کام آتی ہے ۔ مردوں کی جنگ میں مال غنیمت کی طرح تقسیم ہوتی ہے کسی کو ذلت محسوس نہیں ہوتی کہ عورت ہی ان کی ڈھال بن رہی ہے ۔ کہیں بھیڑ بکریوں کی طرح سودا ہو رہا ہے تو کہیں زبردستی کسی بےجوڑ جگہ پر اپنی جھوٹی انا اور نام نہاد ناموس کو زندہ رکھنے کے لئے انہیں قربان کیا جا رہا ہے ۔ پھر کسی شامت کی ماری کو بغاوت کا شوق چڑھتا ہے اور جو اپنی من مانی پر اتر آتی ہے تو اسے پاتال میں سے بھی ڈھونڈ نکالا جاتا ہے پھر ڈیڑھ ہزار برس پہلے ہی کی یا تو طرح زندہ دفن کی جاتی ہے یا بکری کی طرح ذبح کی جاتی ہے کہیں باندھ کے بھون دی جاتی ہے تو کہیں گولیوں کی بوچھاڑ سے ۔ مگر باقی کی بیوقوفوں کو سبق نہیں ملتا عبرت نہیں پکڑتیں یہ نہیں کہ اللہ میاں کی گائے کی طرح سر جھکا کر جس طرف بھی ہانک دی جائیں تو اسی کھونٹے سے بندھ جائیں ۔ کیونکہ گھر سے بھاگ کر چوری چھپے کی شادی کی سزا معافی نہیں صرف موت ہے یا معاشرے میں ایک ذلت آمیز زندگی ۔ بھگا کے لے جانے والا ہی عزت نہیں دیتا صرف طعنے دیتا ہے اور اپنی بہن کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ بھی اسی طرح کسی کے ساتھ بھاگ جائے ۔ کیونکہ یہ بہت بےغیرتی کی بات ہے ۔

یہ وہ معاشرہ ہے جہاں صرف شک کی بنیاد پر بیٹے اپنی ماں کو ٹھکانے لگا دیتے ہیں شوہر بیوی کو ٹھوک دیتا ہے ۔ بہن بیٹیوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ لینا تو اب ایک قومی مشغلہ بن گیا ہے ۔ بھائی ، بہن کو یاری آشنائی کے شبے میں قتل کر دے تو اس کا سب سے بڑا سپورٹر اس کا اپنا باپ ہوتا ہے جو گھر کی بات کہہ کر اپنے بیٹے کو صاف بچا لیتا ہے ۔ رہی بیٹی تو وہ کوئی سرکش بھینس تھی رسہ تڑا کر بھاگنے لگی تھی لہٰذا دودھ کے دھلے بھائی نے قصائی بن کر چھری پھیر دی ۔ یہ کیسی غیرت ہے جو ان دور جاہلیت کے بدوؤں کو خود کشی پر مجبور نہیں کرتی یہ کون سی آگ ہے جو اپنی ہی ماں بہنوں بیٹیوں کے خون سے بجھائی جاتی ہے ۔ جب وہ جانوروں کی طرح کام کرتی ہیں تب انہیں غیرت نہیں آتی جانوروں کی طرح سودے بازی کر کے ہانکی جاتی ہیں تب انہیں کوئی ذلت محسوس نہیں ہوتی؟ اپنی گردن پھنسنے لگے تو عورت کو ڈھال بناتے ہوئے کوئی شرم سے ڈوب کر نہیں مرتا ۔ ان غیرت والوں کا سارا مقام و مرتبہ بس عورت کی ایک لغزش یا اپنے حق کے لئے آواز کی مار ہے ۔ (رعنا تبسم پاشا)

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
05 Mar, 2018 Total Views: 3011 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 57 Articles with 325181 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Very heart touching article. Reality of our society.
By: Mona Shehzad, Calgary on Mar, 12 2018
Reply Reply
3 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB