"کٹی پتنگ"

(Mona Shehzad, Calgary)

آج وہ سکول سے جب واپس آیا تو بہت زیادہ خوش تھا، آتے ساتھ ہی اماں کے گلے کا ہار ہو گیا.
ساجدہ نے اپنے گیارہ سالہ بیٹے کی آنکھوں میں جھانکا تو ایک سرخوشی سی نظر آئی. بڑے لاڈ سے آفاق نے ساجدہ کو مخاطب کر کے کہا :
"اماں، آپ کو اپنا وعدہ یاد ہے نا ، دیکھے آج میرے سہ ماہی امتحان ختم ہوگے ہیں اب آپ مجھے بسنت کے لیے ڈہیر ساری پتنگیں لے کر دینگی. "
ساجدہ نے مسکرا کر بیٹے کا ماتھا چوما اور کہا :
"میرا سہنا پتر. لے دونگی پتنگ.
پر پتر اس پتنگ بازی سے میرا دل ذرا گھبراتا ہے. "
پر آفاق کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر اس کو مانتے ہی بنی.
بسنت آکر گزر گی اور آفاق کا دن بدن پتنگ بازی کا شوق پروان چڑھتا گیا. اب تو یہ حال ہوگیا تھا کہ پیدل چلتے ہوئے بھی اس کی نظریں آسمان کی طرف لگی رہتی کہ کہیں سے کوئی کٹی پتنگ نظر آئے تو وہ اس کو لوٹ لے.
اس کی الماری اب کافی رنگ برنگی پتنگوں کا گھر بن گئ تھی.
آج صبح سے بادل چھائے ہوئے تھے، ساجدہ کے منع کرنے کے باوجود پتہ نہیں کس وقت آفاق آنکھ بچا کر چہت پر چلا گیا.
اچانک باہر سے لوگوں کی چیخنے چلانے کی آواز آئی.
ساجدہ کے باہر آنے پر اس کو پتہ چلا، اس کا لاڈلا بیٹا پتنگ کو لوٹنے کی کوشش کرتے ہوئے بجلی کے تار کا شکار ہو گیا تھا.
کون ان کو ہسپتال لے کر گیا، کب ڈاکٹر صاحب نے کب اس کو کہا کہ
"اب اس کا پیارا آفاق نہیں رہا، بس ایک خلا تھا جس میں وہ معلق تھی. آفاق تو بڑی بات ماننے والا بچہ تھا آج کیسے مچل کر چہت پر چلاگیا تھا. "
آفاق کے جنازے پر اس کو یہ سرگوشی بھی سننے کو ملی کہ سارا قصور ماں کا ہے، جس نے بچے کا دھیان نہ رکھا. ایک صحافی محترمہ نے تو یہ تک کہہ دیا :
"خیال تو بچوں کا رکھ نہیں سکتے تو پانچ، پانچ بجے پیدا کیوں کرتے ہیں؟
وہ پتھرائی ہوئ آنکھوں سے خلا میں دیکھتے ہوے یہی سوچتی رہی کہ یہ کیسے لوگ ہیں؟ کون سے ماں یا باپ ایسے ہیں وہ اپنے ہاتہ سے اپنے بچے کو موت کے منہ میں جاتا دیکھے اور کچھ نہ کرے؟
لیکن وہ لب بلب نکتہ چینی سنتی رہی اور سوچتی رہی کہ یہ انسانیت کا تقاضا ہے کہ کسی کے زخموں پر نمک پاشی کی جائے؟ یہ لوگ تنقید برائے تنقید کرنے کو کب خیر باد کہینگے؟ شاید جس دن ان کا کوئی ______؟

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
03 Mar, 2018 Total Views: 246 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More

Read More Articles by Mona Shehzad: 92 Articles with 51812 views »
Reviews & Comments
Mona Shehzad
bohat ache tahreer ha ......is tahreer per wase to bohat se batain ho sakti hain lakin khas bat jo main krna chah raha hon wo ye ha k ....bachon ki har zid pure krna zarore nhi... khas kr jes chez se bachoun ko zara barabar bhi nuksan k andesha ho ...bacha ziyada kia kargy roayga naraz hoga bus...lakin zinda to hoga ....bachon ki zid ko dusari tarf morr dia jae ..ager wo zid in k lia nuksan de ho ...har maa bap yahi chahty hain un k bachoun ki har khuwaiesh pure ho theak ha achi bat ha lakin kuch khuwaeshain kis tarha use bachay ki dushman ban jati hain ye bhi sochna chaeya .......or dusari bat kise ki ase halat main k wo insan gham se nedhal ho us waqt tanqeed nhi krni chaeya ..bahas bara-e- islah ho na k tanqeed ....jaha maa bap ko dil naram rakhna chaeya ..main kahoun ga waha zara sakhat dil bhi rakhain is se ap ki hi olad ko faida hoga ....ALLAH pak reham farmae ameen
By: shohaib haneef , karachi on Mar, 06 2018
Reply Reply
4 Like
Thanks for your detailed comment. That's what I was trying to convey the message. I really appreciate your time. Allah keep our kids safe and sound.
By: Mona Shehzad, Calgary. on Mar, 12 2018
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB