بھارت سے مذہبی رواداری کی دو عجب کہانیاں

(Sohail Aazmi, Dera Ismail Khan)

سوشل میڈیا پر دو خبریں دیکھنے کو ملیں جن کا تعلق بھارت سے تھا لیکن دونوں انسانیت سے بھرپور ،محبت ،اخوت ،بھائی چارے پر مبنی حیرت انگیر واقعات پر مبنی تھیں ،بھارت جو کہ آج کے حالا ت میں بی جے پی کی مذہبی منافرت ،انتہاء پسندی ،مسلمان دشمنی کے باعث دنیا بھر میں خصوصاًپاکستان میں کافی بدنام ہے سے ایسی اچھی خبروں کا آنا حیران کن اسلئے ہے کہ ہر معاشرے مذہب میں اچھے برے ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں یہ لیڈر شپ کا کام ہوتاہے کہ وہ کس قسم کی سوچ کو لے کر آگے چلتا ہے ۔پہلے واقعہ میں بھارت کے علاقہ کیر الاجہاں کے بہت سے لوگ یو اے ای ،سعودی عرب وغیرہ میں ملازمت کرتے ہیں کہ ایک مدائن نامی ہندو شخص ایک بے سہارا ،مجبور مسلمان لڑکی تیرہ سالہ خدیجہ کو گود لیتاہے کیونکہ اس کی کوئی بیٹی نہیں تھی اس لئے اس نے بیٹی کی خواہش خدیجہ کو لے کر پوری کی اس نے اس پر بس نہیں کیا بلکہ تمام عمر اپنی سگی بیٹی سے زیادہ اچھے طریقہ سے اس کی پرورش کی ۔اس کے ناز نخرے اٹھائے اس کے لئے گھر میں نماز قران کی تلاوت کے لئے ایک علیحدہ جگہ مختص کی ۔لڑکی خدیجہ کو نہ صرف والدین ملے بلکہ اسے دو بھائی بھی ملے جنہوں نے بہنوں کی طرح اسے پیار دیا ۔سب نے مل کر نماز روزہ ،سحروافطار کا پورا پورا خیال رکھا اور حال ہی میں اس کی شادی ایک مسلمان کے ساتھ کردی ۔شادی کی رسومات میں اسلامی روایات ،طریقوں کا مکمل خیال رکھا گیا ۔اور لڑکی کے مذہب میں بالکل مداخلت نہ کی گئی ۔اسی طرح ایک دوسرے واقعہ میں مہاراشٹر کے معز صدیقی کے گردے فیل ہوگئے اس کی بیوی ہاجرہ اپنے شوہر کو گردے دینے کو تیارہوئی جبکہ اسی ہسپتال میں ایک ہندونرمیدا کے بھی گردے فیل تھے جسے اس کی ماں کاندا بائی گردہ دینے کو تیارہوئی دونوں کے ٹشوز میچ کیے گئے لیکن کسی کے بھی ٹشو میچ نہ ہوئے ۔اب دونوں ہندو اور مسلمان گھرانوں نے ایک دوسرے کو گردے عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا ٹیسٹ کرنے پر پتہ چلا کہ معز صدیقی کی بیوی ہاجرہ کا گردہ ہندو شخص اور کاندا بائی کا گردہ مسلمان معز صدیقی سے میچ کرگئے ۔دونوں خاندانوں نے مذہب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک دوسرے کو گردہ دیا اور اب اﷲ کے فضل سے دونوں خاندان خوش اور مریض صحت مندہیں ۔اس قسم کے واقعات سے یہ درس ملتا ہے کہ انسانیت میں مذہب نہیں بلکہ مذہب میں انسانیت ہونی چاہئے ۔گزشتہ سال لندن کی ایک عمارت میں آگ لگ گئی تووہاں قریب ہی مسجد میں نماز کے لئے آئے ہوئے مسلمان فوری طور پر مدد کو پہنچے ۔انہوں نے کئی قیمتی جانیں اپنی جان پر کھیل کر بچائیں جس کی بعدا زاں کھلے عام عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے مردوزن تعریف کرتے ہوئے پائے گئے ۔اسرائیل جس طرح فلسطین کے مسلمانوں پر ظلم کرتا ہے اور اب امریکی صدر نے ہمارے مسلمانوں کے مقدس شہر یروشلم کواسرائیل کا دارالخلافہ قراردے دیا اس کے خلاف دینا بھر کے مسلمانوں کے ساتھ یہودیوں اور عیسائیوں نے بھی مظاہر ہ کیا او ر اس فیصلے کی مذمت کی ۔دنیا بھر کی اقوام کو اپنی مذہبی منافرت کو بالائے طاق رکھ کر اس قسم کے رویے کی ضرورت ہے ۔خاص کر گیارہ ستمبر کے واقعہ کے بعد جس طرح امریکی پالیسیوں ،شدت پسندی ،جارحیت نے دنیا بھر کو جس آگ میں جھونک دیا ہے اس سے کروڑوں کی تعدا دمیں نہ صرف لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہوکر پناہ گزین بن گئے بلکہ لاکھوں کی تعدا دمیں مارے بھی گئے اور اس کا زیادہ تر نشانہ مسلمان بنے جن میں افغانستان ،عراق ،پاکستان ،لیبیا ،شام ،یمن ،سوڈان ،فلسطین وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔دنیا کا کوئی بھی مذہب دہشت گردی کی دعوت نہیں دیتا بلکہ ہر مذہب انسانیت ،بھائی چارے ،محبت اخوت کا درس دیتاہے ۔آج مسلمانوں کو دنیا بھر میں دہشت گرد بنا کر پیش کیا جارہا ہے حالانکہ امریکی دہشت گردی کا سب سے بڑا شکارخود مسلمان ہیں ۔دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا وہ صرف دہشت گرد ہوتاہے سب سے بڑی چیز انسانیت ہے ۔انسانیت ہمیں ایک دوسرے کی مدد کرنا سیکھاتی ہے جیسا کہ اوپر بیان کیے گئے دو واقعات میں ہم نے دیکھا کہ ہندو مسلم خاندانوں نے انسانیت کے ناطے ایک دوسرے کی مدد کی آج جس طرح مذہب کے نام پر نفرت کا بیج یعنی انتہا پسند حکومتیں خاص کر ہندوستان کی بی جے پی اور اسرائیل کی حکومتیں بور ہی ہے اس نے دنیا کی ایک بڑی آبادی کو خطرے میں ڈال رکھا ہے ۔امریکہ ہندوستان اور اسرائیل دونوں کا ہم نوالہ اور ہم پیالہ بنا ہوا ہے اسے اپنا اسلحہ بارودفروخت کرنا ہے وہ دونوں کی پشت پناہی کرکے اپنے سیاسی ،معاشی مقاصد کے حصول کے لئے کوشاں ہے لیکن اس نے جو جنگ افغانستان ،عراق اور دیگر مسلم ممالک میں شروع کررکھی ہے اس کے باعث وہ خود معاشی طور بدحال ہوتا جارہا ہے یہی حال ہندوستان کا ہے جہاں کروڑوں کی تعداد میں لوگ فٹ پاتھ پر زندگی گزراتے ہیں ۔کروڑوں لوگوں کے لئے بیت الخلاء کی سہولت گھروں میں موجود نہیں ہے لیکن وہ مذہب کے نام پر ایساگھناؤنا کھیل کھیل رہا ہے جس کے اثرات پورے خطے کو ایک تیسری عالمی جنگ کی طرف لے جارہے ہیں ۔ایسے حالات میں مسلمانوں میں سے بچت ان کی ہی ہوگی اور کامیابی انہی کو ملے گی جواﷲ کے دین اور اسلام کے بنیادی اصولوں پر گامزن ہونگے ۔آج سکون قلب کی خاطر غیر مسلم جوق در جوق مسلمان ہورہے ہیں ۔احیائے اسلام تیزی سے جاری وساری ہے لیکن بدقسمتی سے پیدائشی مسلمان دین پر اس طرح سے کار بند نہیں ہے جس طرح سے اسے پابند کیاگیا ۔آج مسلمان ملکوں کے اکثر حکمران دنیاوی عیش وعشرت میں کھو کر آخرت کو بھلابیٹھے ہیں آج کوئی امریکہ اور کوئی روس کی جھولی میں جابیٹھا ہے ۔صرف اور صرف اپنی حکمرانی اور عیاشیوں کو محفوظ کرنے کے لئے انہیں اپنی عوام کا نہ تو احساس ہے اور نہ ہی یہ فکر ہے کہ ہمیں اﷲ کے ہاں جوابدہ بھی ہونا ہے ۔ہماری ہی بداعمالیوں کے باعث اسلام کی اصل تصویر اغیار تک پہنچ ہی نہیں پارہی آج مسلمان رشدو ہدایت کا مرکز ہونے کی بجائے روکاوٹ بناہوا ہے ۔اﷲ کرکے کہ ہمارا نام ہمارے اچھے اخلاق وکردار ،طرز عمل کے باعث بروز قیامت دین حق کی احیاء کرنے والوں میں شامل ہو نہ کہ رکاوٹ بننے والوں میں۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
13 Feb, 2018 Total Views: 185 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Sohail Aazmi

Read More Articles by Sohail Aazmi: 123 Articles with 33288 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB