آزاد کشمیر میں بھی قادیانی فتنے کا راستہ بند ہوگیا

(عابد محمود عزام, Lahore)

آزادکشمیر میں بھی قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قراردے دیا گیا۔ آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی آزاد جموں وکشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس میں تحفظ ناموس رسالت ایکٹ 2018ء متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ 45 سال قبل 1973ء میں سردار عبدالقیوم خان کے دور میں ممبر اسمبلی میجر محمد ایوب خان نے قومی اسمبلی سے بھی قبل ختم نبوت کی قرارداد پیش کی تھی، تاہم چار دہائیاں گزرنے کے باوجود اسے قانون کا حصہ نہیں بنایا گیا تھا۔ عوام الناس خصوصاً دینی جماعتوں کے پرزور اصرار پر وزیراعظم نے وفاقی ختم نبوت قانون آزادکشمیر میں نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا جس پرایک ماہ کے اندر اندر عملدرآمد ہوگیا۔ ایوان میں ختم نبوت ایکٹ منظور ہوتے ہی حکومتی واپوزیشن اراکین نے ڈیسک بجا بجا کر حکومت کو داد دی، جبکہ گیلری میں موجود علمائے کرام اور سول سوسائٹی کی شخصیات نے کھڑے ہوکر خیر مقدم کیا۔ اجلاس کی صدارت سپیکر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر نے کی، جبکہ اس اہم اجلاس میں وزیراعظم آزادکشمیر سمیت جملہ اراکین کابینہ، حکومتی ممبران اسمبلی اور اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے پارلیمانی قائدین واراکین نے شرکت کی۔ آزاد جموں و کشمیر قا نون ساز اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس میں آزاد جمو ں وکشمیر عبوری آئین 74 (12 ویں ترمیمی) ایکٹ، 2018 منگل کے روز پیش کیا گیا جس کے تحت قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا بل پیش کیا گیا جو ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ مشترکہ اجلاس سپیکر شاہ غلام قادر کی زیر صدارت شروع ہوا تو وزیرقانون راجہ نثار احمد نے آزاد جموں وکشمیرعبوری آئین (12ویں ترمیم) ایکٹ 2018 پر کمیٹی آن بلز کی رپورٹ ایوان میں پیش کی اور ترمیم کا مسودہ ایوان میں شرکاء کو پڑھ کر سنایا جس کے بعد ایوان میں نئے بل پر عام بحث کا آغاز ہوا۔ پیر سید علی رضاء بخاری نے کہا کہ آج ایک ایسا مبارک موقع ہے کہ ایوان میں تاریخی بل منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔ علاوہ ازیں آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی میں منگل کے روز منظور ہونے والی بارہویں ترمیم میں پہلی بار مسلم اور غیر مسلم کی تعریف کردی گئی، جسے آئینی حیثیت بھی حاصل ہوگئی۔ دی آزاد جموں وکشمیر انٹرکانسٹیٹیوشن ایکٹ 2018ء کے نام سے موسوم اس بل میں قادیانیوں سمیت تمام غیر مسلم ادیان اور مذاہب سے آگاہ کرتے ہوئے مسلمان کی بھی تعریف کردی گئی ہے۔ اس بل کی منظوری کے بعد قادیانی خود کو مسلمان ظاہر نہیں کر سکتے۔ مسجد طرز پر اپنا گرجہ تعمیر کرنے، اذان دینے اور تبلیغ کرنے پر بھی پابندی عاید کر دی گئی، جبکہ جملہ شعائر اسلام جن میں مسجد کے مینار، اپنی عبادت گاہ پر کلمہ اسلام لکھنے سمیت تمام رسومات اور عبادات سرعام کرنے پر قادیانیوں پر پابندی عائد ہوگی ہے۔ آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی و آزاد جموں و کشمیر کونسل کے سپیکر آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر کی زیر صدارت ہونے والے مشترکہ اجلاس میں عقیدہ ختم نبوت کے بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے آزاد کشمیر کے وزیر اطلاعات راجہ مشتاق احمد منہاس نے بل کے محرکین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ قادیانیت ایک ایسا فتنہ ہے کہ لوگوں کے عقیدے اور ایمان کو کمزور کیا جاسکے۔ انگریز سامراج نے مسلمانوں کو کنفیوژ کرنے کے لیے فتنہ قادیانیت کو بڑھایا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے قائد ایوان وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ قانون کی منظوری سے مسلم و غیر مسلم کی مکمل طور پر نشاندہی کر دی گئی ہے۔ آئین میں ترمیم سے کئی فتنے ختم ہو جائیں گے۔ قادیانیوں کو پاکستان میں آئین کے تحت 1974ء میں غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔ آزاد کشمیر میں بھی اسی دور میں یہ قانون سازی ہو جانی چاہیے تھی، جو اب ہوئی ہے، مگر بوجوہ ایسا نہ ہو سکا جس کا اس اقلیت کی طرف سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کے مابین قربت، تعلقات، تہذیب اور کلچر کی ایک خصوصی اہمیت اور حیثیت ہے۔ پاکستان میں آزاد کشمیر کے امور کے حوالے سے باقاعدہ وزارت قائم ہے۔ اس حوالے سے آزاد کشمیر میں کسی بھی اقلیت کا پاکستان میں سٹیٹس سے الگ سٹیٹس ایک بہت بڑا تضاد تھا، جو اب دور کر دیا گیا ہے۔ اس کے بعد آزاد کشمیر میں بھی احمدیوں اور قادیانیوں کو اپنی جداگانہ حیثیت تسلیم کرنا ہو گی۔

آزاد کشمیر میں قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دیے جانے پر تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام، خطباء عظام اور آئمہ مساجد نے آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے اس متفقہ فیصلے پر حکومت آزاد کشمیر اور ارکان اسمبلی کو ہدیہ تبریک پیش کرنے کے لیے خطبات جمعۃ المبارک کے دوران اس اہم مسئلے کو موضوع بنایا اور جمعۃ المبارک کو یوم تشکر کے طور پر منایا۔ علمائے کرام کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر اسمبلی سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینا تاریخی اقدام ہے۔ ختم نبوت کے منکر شروع دن سے ہی پاکستان کی شہ رگ کاٹنے کے درپے ہیں۔ آزاد کشمیر میں ان کی ارتدادی سرگرمیاں کھلے عام جاری تھیں۔ کشمیری قیادت نے ختم نبوت کے حوالے سے قانون سازی کر کے پوری امت مسلمہ کے دل جیت لیے، فیصلے پر وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر سمیت تمام سیاسی و مذہبی قائدین کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ مرزائیوں کو آزاد کشمیر میں غیر قانونی اور غیر آئینی سرگرمیوں سے باز رکھنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ علمائے کرام کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ قادیانی ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ وہ پوری دنیا میں مسلمانوں کا امیج خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مسئلہ کشمیر پر بھی کبھی انہوں نے پاکستانی موقف کی حمایت نہیں کی۔ آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے ان کی آئینی حیثیت کا تعین کر کے پوری امت مسلمہ کے دل جیت لیے ہیں۔ آزاد کشمیر جیسے حساس خطے میں قادیانیوں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں پر کڑی نظر رکھی جائے اور انہیں آئین و قانون کا پابند بناتے ہوئے ارتدادی سرگرمیوں سے باز رکھا جائے۔

آزاد کشمیر میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیے جانے کے فیصلے کے بعد حرمین شریفین میں بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں مقیم علمائے حرمین، پاکستانی اور کشمیری تارکین وطن اﷲ کے حضور سر بسجود ہوگئے۔ بیت اﷲ اور مسجد نبوی میں شکرانے کے نوافل ادا کیے اور آزاد کشمیر اسمبلی کے لیے خصوصی دعا ئیں بھی کیں۔ شیخ حرم کعبہ مولانا محمد مکی حجازی بیت اﷲ شریف میں اپنے درس میں ختم نبوت کا تذکرہ کرتے آبدیدہ ہو گئے اور گڑ گڑاتے ہوئے دعا کرتے رہے۔ حرمین شریفین سے جاری ایک بیان میں قائدین تحفظ ختم نبوت نے کہا کہ کشمیر اسمبلی نے 45 سال بعداسمبلی نے متفقہ آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کوغیرمسلم اقلیت قرار دے کر قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیا ہے۔ اب پاکستان کے بعد کشمیر میں بھی ارتداد کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر اسمبلی نے پاکستان سے بھی پہلے 1973ء میں قادیانیوں کے کفر کی توثیق کردی تھی، مگر بدقسمتی سے یہ کارروائی کشمیر کے آئین کا حصہ نہ بن سکی۔ اب آزادکشمیرکے باغیرت مسلمانوں نے قادیانیت کے کفر پر ایک بار پھر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے، جس پر صدر، وزیر اعظم، وزیر قانون، سپیکر اور اراکین آزاد کشمیر اسمبلی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ حرمین شریفین میں موجود تحریک تحفظ ختم نبوت کے علمائے کرام کا کہنا تھا کہ 1974ء میں پاکستانی پارلیمنٹ کے تاریخ ساز فیصلے اور پھر امتناع قادیانیت آرڈیننس کے بعد قادنیوں نے آزاد کشمیر کو ارتدادی سر گرمیوں کا مرکز بنا رکھا تھا اور برطانوی ہیڈ کوارٹرز میں بیٹھے مرزائی گرو یہاں فوکس کیے ہوئے تھے، لیکن اب کشمیر اسمبلی کے فیصلے کے بعد قادیانیوں کا لندن پلان خاک میں مل گیا ہے۔

واضح رہے کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کے سدباب کے لیے سب سے پہلے پارلیمانی اور حکومتی سطح پر 29 اپریل 1973ء کو آزاد کشمیر اسمبلی میں قراردادِ ختم نبوت سابق اسپیکر قانون ساز اسمبلی میجر محمد ایوب خان نے پیش کی اور اسے متفقہ طور پر پاس کیا گیا تھا۔ اس عقیدے کا تحفظ کرنے والوں میں تحریک تحفظ ختم نبوت کے بانی علامہ محمد انور شاہ کشمیری بھی شامل تھے اور اسی خطّہ سے تعلق رکھنے والے عظیم مفکر شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے بھی 1935ء ہی میں پنڈت نہرو کے نام اپنے خط میں تحریر فرمایا تھا کہ قادیانی اسلام اور وطن دونوں کے غدار ہیں۔ پاکستان کی قومی اسمبلی نے بھی 7ستمبر 1974ء کو قادیانیوں کو متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔ اس طرح قانون سازی کر کے آئین میں ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر، تمام محکموں خصوصاً الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹوں میں اْن کو مسلمانوں سے الگ درج کیا اور ووٹر فارم میں حلف نامہ میں ختم نبوت کا اندراج کیا گیا۔ نیز مذہب سے متعلق نشان لگانے کے لیے مسلمان، ہندو، عیسائی، سکھ، بدھ مت، پارسی، قادیانی وغیرہ پر مشتمل الگ الگ خانے بنائے گئے، مگر کشمیر کے نہ تو آئین میں واضح طور پر قادیانیوں کا نام لے کر انہیں غیر مسلم اقلیت لکھا گیا تھا اور نہ پاکستان کے الیکشن کمیشن کی طرح ووٹر فارموں میں اور نہ ووٹر لسٹوں میں ان کو الگ لکھا گیا تھا، بلکہ قادیانیوں کو مسلمانوں کی ووٹر لسٹوں میں شامل کر کے مسلمان لکھا گیا تھا۔ تحریک تحفظ ختم نبوت گزشتہ کئی سالوں ہر دور کے حکمرانوں اور ممبران اسمبلی آزاد کشمیر سے مطالبہ کرتی رہی ہے کہ آزاد کشمیر کے آئین میں پاکستان کے آئین کی طرح قادیانیوں کو واضح طور پر کافر لکھا جائے، اس کے بعد غیر مسلموں کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا جس میں لکھا جائے کہ فلاں فلاں غیر مسلم ہیں۔ اس حوالے سے تحریک تحفظ ختم نبوت آزاد کشمیر نے صدر آزاد کشمیر، وزیر اعظم آزاد کشمیر اور ممبرانِ اسمبلی آزاد کشمیر کو خطوط لکھے اور چیئرمین الیکشن کمیشن آف آزاد کشمیر کو بھی اسی حوالے سے خط لکھا اور اس کے ساتھ بطور ثبوت پاکستان الیکشن کمیشن کے ووٹر فارم، حلف نامے ختم نبوت والے اور قادیانی مرد و خواتین کو الگ الگ ووٹر لسٹیں پیش کی گئیں کہ آزاد کشمیر کی ووٹر لسٹوں میں اور ووٹر فارموں میں قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ الگ درج کیا جائے۔ یہ آئینی تقاضا ہے۔ تحریک تحفظ ختم نبوت ہر فورم پر یہ آواز بلند کرتی رہی ہے کہ قادیانیوں کے متعلق آزاد کشمیر کے آئین میں وہی الفاظ لکھے جائیں جو پاکستانی آئین میں لکھے ہوئے ہیں، مگر ہر دور میں حکمران ملکی اور غیر ملکی دباؤ پر بے بس رہے۔ 29اپریل 2013 میں باغ میں یوم قراردادختم نبوت کانفرنس میں اپوزیشن لیڈرراجہ فاروق حیدراورممبراسمبلی سردارمیراکبرودیگرنے اعلان کیاکہ وہ برسراقتدارآکر قادیانیت سے متعلق منظور کی گئی قراردادکونہ صرف منظرعام پرلائیں گے، بلکہ اس حوالے سے قانون سازی بھی کریں گے۔ راجہ فاروق حیدرنے برسراقتدارآنے کے بعد اپنے اعلان کے مطابق عمل کیا اوران کی ہدایت کے مطابق گزشتہ سال 26اپریل2017 کوآزادجموں وکشمیر کی قانون سازاسمبلی میں تحفظ ناموس رسالت کے حوالے سے ممبر اسمبلی پیر سیدعلی رضا بخاری اور ممبر اسمبلی راجہ محمد صدیق خان کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد کو اتفاق رائے سے منظور کیاگیااور6 فروری کواس قراردادکوقانونی شکل دے کرآزادکشمیرمیں قادیانی فتنے کاراستہ بندکردیاگیا ۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
12 Feb, 2018 Total Views: 99 Print Article Print
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 858 Articles with 269794 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB