اصلاح ملت اسلامیہ کیوں اور کیسے ؟

(Peer Tabasum, Narowal)

صاحب غنیۃ الطالبین حضرت غوث اعظم ؒ کی نظر میں

محبوب سبحانی۔ قطب ربانی، قندیل نورانی، غوثِ صمدانی، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؓ فرماتے ہیں اﷲ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے والوں کا ذکر کیا ہے اور انکی تعریف اس طرح فرمائی ہے :’’تم لوگوں کی ہدایت کے لئے بہترین گروہ بنا کر بھیجے گئے ہو۔بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اﷲ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ایک اور آیت میں اس طرح فرمایا گیا :’’مومن مرد اورمومن عورتیں باہم ایک دوسرے کے دوست ہیں بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ۔‘‘ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم قطعاً بھلائی کا حکم دو اور بری باتوں کی ممانعت کرو ،ورنہ اﷲ تعالیٰ تمہارے نیکوں پر تمہارے بروں کو ضرور مسلط کر دیگا ۔پھر نیک لوگ دعا کرینگے مگر انکی دعا قبول نہ ہوگی ۔

حضرت سالم رضی اﷲ عنہ بن عبد اﷲ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا!’’اچھی باتوں کا حکم دو اور بری باتوں سے رو کو قبل ازیں کہ تمہارے نیک لوگوں کی دعائیں قبول نہ ہوں اور تم استغفار کرو مگر تمہیں معاف نہ کیا جائے ۔خوب سمجھ لو کہ اچھائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا رزق کو دور کر دیتا ہے نہ عمر کی مدت کو کم کرتا ہے ۔خوب سن لو! کہ یہودی علماء اور عیسائی عابدوں نے نیکی کا حکم دینا اور بدی سے روکنا جب ترک کر دیا تو اﷲ تعالیٰ نے ان کے پیغمبروں کی زبان سے ان پرلعنت بھیجی اور سب کو مصیبت میں ڈال دیا۔

ہر مسلمان آزاد عاقل بالغ پر جو معروف اور منکر سے واقف ہو (یعنی عالم ہو) لازم ہے کہ لوگوں کو اچھی اور نیک باتوں کا حکم دے اوربری باتوں سے روکے اگر منع کرنے کی طاقت رکھتا ہو اور ایسا کرنے سے کوئی ایسا بگاڑ اور فساد پیدا نہ ہو جس سے اسے مال یا اس کے اہل و عیال کو نقصان پہنچے ۔ان احکام کے پہچاننے کے لئے کوئی تخصیص نہیں حاکم ہو یا عالم ،خلیفہ (حاکم وقت) ہو یا عام رعیت کا کوئی فرد ہو۔ہم نے بدی کے ساتھ علم اور اس سے قطعی طور پر آگاہی کی جو شرط لگائی ہے اس کی بنیاد یہ ہے کہ بغیر علم گناہ میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہے اس لئے کہ بدی سے منع کرنے والامحفوظ نہیں کہ اس نے جو گمان کیا ہے ممکن ہے کہ حقیقت اس کے خلاف ہو اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے :’’مسلمانو! بہت بد گمانی کرنے سے بچو بیشک بعض بد گمانی گناہ ہے ۔‘‘ (غنیۃ الطالبین)

پردہ دری :صاحب غنیۃ الطالبین فرماتے ہیں کسی پر جو بات پوشیدہ ہے اس کا اظہا راس پر واجب نہیں کیوں کہ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے :’’ٹوہ میں مت رہا کرو۔‘‘بدی سے روکنے والے کا فرض ہے کہ جو بدی ظاہر میں ہو صرف اسی کو دور کرے اور اسے ترک کر نیکی تلقین کرے جو بدی پوشیدہ ہے اسے پر دے ہی میں رہنے دے۔

منع کرنے پر قدرت:صاحب غنیۃ الطالبین فرماتے ہیں نیکی کا حکم کرنے کیلئے طاقت کی شرط اس لئے لگائی گئی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ کا ارشاد ہے :’’اگر کسی قوم میں کوئی شخص گنا ہ کررہا ہے اور لوگ اس کو بدلنے کی قدرت رکھتے ہوں اور اس کو نہ بدلیں (نہ روکیں) تو اﷲ کی طرف سے توبہ کرنے سے پہلے ہی عذاب نازل ہو جاتا ہے ۔اس حدیث میں حضور ﷺ نے قدرت و طاقت کی قید( شرط) لگائی ہے اور قدرت اس وقت حاصل ہو تی ہے جب نیک لوگوں (اہل صلاح) کا غلبہ ہو ۔حاکم عادل ہو اور اہل خیر کی مدد بھی حاصل ہو لیکن ایسی حالت میں جب کہ جان کا خطرہ ہو یا مال کا ضرر ہو تو باز داشت واجب نہیں ۔اﷲ تعالیٰ کا ارشا د ہے :’’اپنے ہاتھوں سے اپنے آپکو ہلاکت میں نہ ڈالو۔‘‘دوسری آیت میں ہے:’’خود کشی نہ کرو‘‘

رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا اپنے آپ کو بے عزت کرنا مومن کیلئے زیبا نہیں ،صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے عرض کیا یا رسو ل اﷲ ﷺ کوئی خود اپنے کو کیسے بے عزت کرتا ہے ؟ فرمایا! ایسی بات کے درپے نہ ہو جس کی اس کو طاقت نہ ہو،حضور ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے ۔’’ جب تم ایسی بات دیکھو جس کے بدلنے پر تم قادر نہ ہو تو صبر کرو یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ ہی اسے بدل دے، کیونکہ وہی اسے بدل سکتا ہے ۔‘‘

پس جب کسی پر یہ ثابت ہو جائے کہ منع کرنے کی قدرت نہیں رکھتا تو اس پر منع کرنا واجب نہیں ،خوف کے غالب ہو نے پر یہ سوچنا کہ منع کرنا جائز ہے یا نہیں ۔توہمارے نزدیک صاحب غنیۃ الطالبین اپنی طرف اشارہ فرماتے ہیں منع کرنا جائز ہے بلکہ اگر مانع اولو العزم اور صابر ہے تو اور اچھا ہے کہ اس صورت میں منع کرنا جہاد کی طرح ہے ۔اﷲ تعالیٰ نے لقمان کے قصے میں فرمایا ہے :’’اچھائی کا حکم دو، بری بات سے روکو اور جو کچھ تم کو دکھ پہنچے اس پر صبر کرو۔‘‘آنحضرت ﷺ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا ’’اے ابو ھریرہ ! نیکی کا حکم کرو اور بدی سے باز رکھو اور جو مصیبت آئے اس پر صبر کرو۔جابر حاکم کے سامنے یا کلمہ کفر کے غلبہ کے وقت ایمان کا کلمہ زبان پر لانا رواہے ۔اس دونوں مقامات پر اظہار حق کرنے پر فقہا کا اتفاق ہے ،اختلاف کے مواقع اس سے الگ ہیں۔
منع کرنے والوں کے گروہ:صاحب غنیۃ الطالبین فرماتے ہیں امر منکر سے روکنے والے تین قسم کے ہوتے ہیں۔
1) بادشاہ اور حاکم جو منع کرنے کی طاقت اور قدرت رکھتے ہیں۔
2) زبان سے منع کرنیوالے یہ علماء ہوتے ہیں۔
3) دل سے برا جاننے والے یہ عام لوگ ہیں۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص خلاف شرع بات دیکھے تو اسے ہاتھ سے روک دے ایسا نہ کر سکے تو زبان سے اس کو روکے اور اگر ایسا بھی نہ کر سکے تو دل سے اسے برا جانے ۔یہ ضعیف ترین ایمان ہے (ایمان کا کمزور ترین پہلو)۔بعض صحابہ رضی اﷲ عنہم کا قول ہے کہ اگر کوئی شخص کوئی امر ممنوع دیکھے اور اس کو روکنے (منع) کی طاقت نہ رکھتا ہو تو تین مرتبہ کہے! الہٰی بلاشبہ یہ برا کام ہے اگر ایسا کہہ دے گا تو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ثواب اس کو ملے گا۔

ظن غالب:صاحب غنیۃ الطالبین فرماتے ہیں اگر اس بات کا گمان غالب ہے کہ منع کرنے سے بھی برائی دور نہ ہوگی اور برائی کرنے والا اس پر جما رہے گا تو ایسی صورت میں اسے منع کرنا چاہیے یا نہیں ؟ اس سلسلہ میں امام احمد رحمۃ اﷲ علیہ سے دو قول مروی ہیں ایک سے وجوب ثابت ہے کیوں کہ ممکن ہے منع کرنے سے وہ باز آجائے ،اس کے دل میں نرمی پیدا ہو جائے اس کو اﷲ کی طرف سے توفیق مل جائے ،منع کرنے والے کی سچائی کی برکت سے اس کو ہدایت مل جائے اور وہ اپنے برے عمل سے باز آجائے ۔ پس گمان منع کرنے کی راہ میں حائل نہیں ۔

دوسری روایت میں ہے کہ جب تک اس بات کا یقین کامل نہ ہو کہ منع کرنے سے برائی دور ہو جائے گی اس وقت تک منع کرنا واجب نہیں کیونکہ روکنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ برائی دور ہو جائے پس اگر قوی گمان ہے کہ برائی دور نہ ہوگی تو ترک نصیحت اولیٰ ہے ۔

امر بالمعروف اور نھی عن المنکرکی شرائط:صاحب غنیۃ الطالبین فرماتے ہیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی پانچ شرائط ہیں:1)جس نیکی کا حکم کرتا ہے اور جس بدی سے روکتا ہے اس کا خود عالم ہو۔
2) اﷲ کی خوشنودی حاصل کرنے ،دین کو قوی کرنے اور اﷲ کا بول بالا کرنے کیلئے ہو۔دکھاوٹ ،شہرت اور اپنے نفس کی بیجا تعریف مقصود نہ ہو اگر منع کرنے والا سچا اور مخلص ہو گا تو اﷲ کی طرف سے اس کی مدد ہو گی توفیق خداوندی شامل ہو گی ۔اﷲ تعالیٰ ارشاد فرمایا ہے ’’اگر تم اﷲ کے دین کی حمایت کرو گے تو اﷲ تمہاری مدد کریگا اور تمہارے قدموں کو جمادے گا۔پھر ارشاد فرمایا!’’اﷲ پرہیز گاروں اور احسان کرنیوالوں کی مدد کر تاہے ۔‘‘لہٰذا پس جب تم شرک سے بچو گے اور اس سے باز رکھنے میں لوگوں کا دکھا وا چھوڑ دو گے اور اخلاص کے ساتھ عمل کرو گے تو تم کو کامیابی حاصل ہو گی ۔اسکے بر عکس کیا تو بے عزتی ،رسوائی،جگ ہنسائی اور برائی باقی رہے گی بلکہ اس میں برابر اضافہ ہو تا رہے گا ۔ اسکا غلبہ ہو گا اور اہل معاصی اسکی طرف دوڑیں گے ۔اﷲ تعالیٰ کی مخالفت ،نافرمانی،ممنوعات کے ارتکاب پر جن وانس کے شیاطین اتفاق کرینگے ۔
3) امر و نہی نرمی اور محبت کے ساتھ ہو اور بد خلقی اور سختی کے ساتھ نہ ہوتا کہ نیک مقصد کے ساتھ ہو اور برائی کرنے والے کو شیطان کے چنگل سے آزادی حاصل ہو جو رب کی نافرمانی کو اس کی نظر میں آراستہ کر کے لایا اور برائی کرنے والے کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ۔اس شیطان کا مقصد صرف یہ تھا کہ اس گنہگار کو تباہ کر دے اور دوزخ میں پہنچادے ۔اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے :’’شیطان اپنے گروہ والوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ دوزخی ہو جائیں۔‘‘
اﷲ تعالیٰ حضور ﷺ کو خطاب کر کے فرماتا ہے: ’’اﷲ کی کتنی رحمت ہے کہ آپ کے لئے نرم دل ہیں اور اگر آپ بد خلق اور سخت دل ہوتے تو یقینا یہ لوگ آپ کے گرد و پیش سے پرا گندہ ہو جاتے ۔‘‘اﷲ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کو پیغمبر بنا کر فرعون کے پاس بھیجا توفرمایا:’’اس سے نرمی سے بات کرنا شاید وہ نصیحت قبول کرے یا (اﷲ کی نافرمانی سے )ڈر جائے۔‘‘حضر ت اسامہ رضی اﷲ عنہ کی روایت کردہ حدیث میں ہے حضور اکرمﷺ نے فرمایا جب تک کسی میں یہ باتیں نہ ہوں اچھائی کا حکم دینا اور بری باتوں سے روکنا اس کے لئے زیبا نہیں وہ تین خصلتیں یہ ہیں کہ جس بات کا حکم کرے خود اس کا عامل ہو، جس بری بات سے منع کرے اس سے اچھی طرح واقف ہو اور جو کچھ کہے نرمی اور شفقت کے ساتھ کہے۔
4) امر و نہی نرمی کے ساتھ کرے۔وہ صابر ہو ،بردبارہو، قوت برداشت کامالک ہو،متواضع ،خوش خلق اور نرم مزاج ہو ،اپنی نفسانی خواہشات پر قابو رکھتا ہو ۔طبیب ہوتا کہ بیمار کا علاج کر سکے، دانشمند ہو تا کہ اس کی دیوانگی دور کر سکے، پیشوا اور رہنما ہو ،اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے ایک جماعت بنائی جو ہمارے حکم کے مطابق ہدایت کرتی ہے ۔جب انہوں نے اپنی قوم کو اذیتوں کے برداشت کرنے پر اﷲ کے دین کی نصرت اور اس کے غلبہ اور اس پر قائم رہنے کی خاطر صبر کیا تو اﷲ تعالیٰ نے ان کو رہنما ہدایت کرنے والے ،دین کے حکیم اور مومنوں کا سردار بنایا۔حضرت لقمان کے قصے میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’اچھے کام کا حکم دے۔ بری بات سے روک، جو کچھ تجھے (اسکے بدلہ میں) دکھ پہنچے اس پر صبر کریہ بڑے حوصلہ کا کام ہے ۔‘‘
5) جس نیک کام کی تلقین کرے خو دبھی اس پر کاربند ہو اور جن منہیات (ممنوعات) سے دوسروں کو روکے خود بھی اس سے بچے تاکہ دوسرے لوگ فعل کے لئے اسے دلیل نہ بنائیں اوروہ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک ذلیل اور قابل ملامت نہ ٹھہرے ۔

اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’تم دوسروں کو نیکی کا حکم دیتے ہو۔مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو حالانکہ تم کتاب(الہٰی )پڑھتے ہو کیا اتنا بھی نہیں سمجھتے ۔‘‘

حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت کر دہ حدیث میں آیا ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا!’’میں نے شب معراج کچھ لوگ دیکھے جن کے ہونٹ قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے ۔میں نے جبرائیل سے کہا یہ کون لوگ ہیں ،جبرائیل نے کہا یہ آپکی اُمت کے خطیب ہیں جو دوسروں کو نیکی کا حکم دیتے تھے مگر اپنے آپ کو بھول جاتے تھے حالانکہ وہ کتاب(الہٰی) پڑھتے تھے۔‘‘

ایک شاعر کا قول ہے جس بات کو تو خود کرتا ہے اس سے دوسروں کو نہ روک اگر ایسا کرے گا تو تیرے لئے بڑی شرم کی بات ہو گی ۔

حضرت قتادہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگوں نے مجھ سے کہا کہ تورات(توریت) میں آیا ہے کہ اے آدم کے بیٹے! تو مجھے یاد دلاتا ہے اور خود کو بھول جاتا ہے ۔دوسروں کو میری طرف بلاتا ہے اورخود مجھ سے بھاگتا ہے ،تیرا یہ ڈرانا بیکار ہے ،اس آخری فقرے سے مرادیہ ہے کہ جو دوسروں کو اچھے کام کا حکم دیتا ہے اور بری بات سے روکتا ہے مگر اپنی ذات کو چھوڑ دیتا ہے اسکا یہ نصیحت کرنا بیکار ہے ۔اﷲ تعالیٰ بزرگ و برتر ہے اسے خوب جانتا ہے ۔

امر و نہی تنھا ئی میں کرنا بھتر ہے :صاحب غنیۃ الطالبین فرماتے ہیں اگر ممکن ہو تو امر و نہی تنہائی میں کرے کیوں کہ تنہائی میں نصیحت کا دل پر زیادہ اثر ہو تا ہے اور آدمی بری باتوں سے بچ جاتا ہے حضرت ابو الدرداء رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی کو علیحدگی میں نصیحت کرتا ہے وہ اسے سنوارتا ہے اور جو لوگوں کے سامنے نصیحت کرتا ہے وہ گویا اسکا عیب بیان کرتا ہے ۔

اگر علیحدگی کرنے کا اثر نہ ہو تو ایسے شخص کو کھلم کھلا نصیحت کرنا چاہیے اور اس سلسلہ میں دوسرے لوگوں سے بھی مددلے ،اگر یہ صورت بھی کارگرنہ ہو تو پھر حکومت کے آدمیوں سے مددلے بہر حال غیر مشروع کاموں سے منع کرنے کا کام کسی طرح نہ چھوڑے جس قوم نے یہ روک ٹوک ختم کر دی اور اس کی طرف سے غافل ہو گئی اﷲ نے اس کی مذمت کی ہے ۔فرمایا ہے:’’جو لوگ برے کام کرتے تھے اور آپس میں ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے وہ بہت ہی برا کام کرتے تھے۔‘‘

دوسری آیت میں ارشاد فرمایا ہے :’’درویشوں اور عالموں نے لوگوں کو جھوٹ بولنے اور حرام کھانے سے منع کیوں نہیں کیا ان کا ایسا کرنا بہت ہی برا اور قبیح تھا۔‘‘یعنی علماء مشائخ اور واعظوں نے ان کو بے حیائی کی باتیں کہنے ،حرام کھانے اور گناہ کے کام کرنے سے کیوں نہیں روکا ؟

روایت ہے ’’کہ اﷲ تعالیٰ نے حضرت یوشع بن نون پر وحی نازل فرمائی کہ میں تمہاری قوم میں سے چالیس ہزار نیکوں اور ساٹھ ہزار بدی کرنے والوں کو ہلاک کرونگا۔‘‘حضرت یو شع بن نون نے عرض کیا ،برے تو خیر اپنے کئے کی سزا پاتے ہیں ۔لیکن نیکوں کو ہلاک کرنے کی کیا وجہ ہے ؟ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا اس لئے کہ وہ میری ناراضگی پر ناراض نہیں ہوئے اور بدوں کے ساتھ کھانے پینے میں برابر کے شریک رہے ۔

پانچویں شرط کی مزید توضیع و تشریح:صاحب غنیۃ الطالبین فرماتے ہیں ہم نے تبلیغ کے سلسلہ میں پانچویں شرط کے تحت بیان کیا ہے کہ برائی سے روکنے اور نیکی کی ہدایت کرنے والوں کیلئے ضروری ہے کہ خود بھی وہ ان نیکیوں کے حامل ہوں جنکی و ہ تبلیغ کرتے ہیں لیکن ہمارے بزرگوں اور مشائخ کا کہنا ہے کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہر شخص پر واجب ہے خواہ وہ فاسق ہو یا صالح الاعمال ،اسکے بارے میں سابقہ آیات و احادیث میں جو عموم بلا تفریق آیا ہے یعنی عام حکم دیا گیا ہے کہ اس حکم کے ثبوت میں یہ بزرگ یہ آیت پیش کرتے ہیں :’’بعض لوگ ایسے ہیں جو اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنی جانیں بیچ دیتے ہیں ۔‘‘
حضرت عمر رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص یہ آیت بڑھ رہا تھا میں نے کہا ہم سب اﷲ تعالیٰ کے لئے ہیں اور اس کی طرف لوٹنے والے ہیں ایک آدمی اُٹھا اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے لگا۔ اسے اسی وقت شہید کر دیا گیا ۔ ابو امامہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ ’’:بہترین جہاد ظالم حاکم (بادشاہ)کے سامنے حق بات کہنا ہے ۔‘‘ حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:’’قیامت کے دن تمام شہیدوں میں افضل حمزہ بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہما ہونگے اور وہ آدمی ہوگا جس نے ایک ظالم بادشاہ کے سامنے کھڑے ہو کر اس کو بھلائی کا حکم دیا اور برائی سے روکا اور بادشاہ نے اس کو قتل کرا دیا۔‘‘جس شخص کو برے کاموں سے روکا جائے اور وہ اس سے باز نہ آئے ایسے شخص کے بارے میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے :’’وہ ہے جو برائی سے رُکتا ہے اور اسے عزت پکڑ لیتی ہے مگر باز نہیں رہتا۔‘‘

ایک اور آیت میں ارشاد ہے :’’اور جب اس سے کہا جائے کہ اﷲ سے ڈرو تو اسے عزت گناہ کے ساتھ پکڑلے۔‘‘

حضرت ابن مسعود رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ کسی بندے سے کہا جائے کہ اﷲ سے ڈرو اور جواب دے کہ تم اپنی خبر لو۔یہ حکم سب کیلئے عام ہے ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا!’’اچھی بات کا حکم دو خواہ خود عمل نہ کیا ہو اور بری بات سے رو کو خواہ خود نہ رکے ہو،کیونکہ کوئی شخص گناہ سے خالی نہیں ہے ،خواہ وہ مصیبت ظاہر میں ہو یا باطن میں۔‘‘

لہٰذا اگر ہم یہ کہیں کہ برائی کی مذمت کا حق صرف اسی کو ہے جو برائی سے احتساب کرتا ہے تو امر بالمعروف و نہی عن المنکر دشوار ہو جائیگا ۔اس طرح نصیحت کرنیکا حکم ہی مٹ جائیگا۔

نیک و بداعمال:صاحب غنیۃ الطالبین فرماتے ہیں جو بات کتاب (قرآن) و سنت(احادیث) اور عقل کے موافق ہو وہ معروف (اچھی) ہے اور جو بات اسکے خلاف ہو وہ منکر اور بدی ہے ۔معروف و منکر کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جسکا وجودبحرمت عوام و خواص سب جانتے ہیں جیسے پانچوں وقت کی نماز،رمضان کے روزے ،زکوٰۃ ،حج وغیرہ کی فرضیت اس سے سب واقف ہیں اور زناء ،شراب نوشی،چوری ،رہزنی،سود خوری ،ڈاکہ زنی کی حرمت (حرام ہونا) ایسے گناہوں سے روکنا عوام کے ذمہ بھی اسی طرح ہے جیسے خواص کے ذمہ ۔

دوسری قسم وہ ہے جسے خواص کے سوا عوام نہیں جانتے مثلاً ان باتوں پر اعتقاد جو باری تعالیٰ کے بارے میں جائز اور ناجائز ہیں۔ اس قسم میں امر بالمعروف خاص علماء کا کام ہے ان میں جو ممنوعات ہیں اگر کوئی عالم عوام کو ان سے منع کرے تو انہیں اچھی طرح خبردار کردے ۔عام آدمی کو لازم ہے کہ اگر وہ قدرت رکھتا ہے تو اس سے باز رہے ۔عام آدمی کو لازم نہیں کہ عالم سے معلومات کرنے سے پہلے ایسے امور کار دیا انکار کرے۔

منع کرنے کے آداب: صاحب غنیۃ الطالبین فرماتے ہیں ہر مومن پر واجب ہے کہ بہر حال آداب مذکورہ پر عمل کرے اور ترک نہ کرے،مروی ہے کہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:پہلے باادب ہو جاؤ پھر علم حاصل کرو۔ابو عبد اﷲ بلخی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ’’ادب پہلے علم بعد میں‘‘ عبد اﷲ بن مبارک رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ جب مجھ سے بیان کیا جاتا ہے کہ فلاں عالم کو تمام اگلوں اور پچھلوں کے برابر علم ہے تو مجھے اس سے ملاقات نہ ہونے کا افسوس نہیں ہوتا ،لیکن اگر مجھ معلوم ہو کہ فلاں شخص کو ادب نفس حاصل ہے تو مجھے اس سے ملنے کی آرزو ہوتی ہے اور ملاقات نہ ہونیکا افسوس۔

اس موقع پر ایک مثال پیش کی جاتی ہے ۔ایک شہر ہے جسکے پانچ قلعے ہیں ایک سونے کا ،دوسرا چاندی کا ،تیسرا لوہے کا، چوتھا پختہ اینٹوں کا اور پانچواں کچی اینٹوں کے قلعہ کی حفاظت کرینگے تب تک دشمن دوسرے قلعوں کی طرف راغب نہیں ہوگا ۔لیکن اگر اہل قلعہ اس کی حفاظت چھوڑ دینگے تب دشمن دوسرے قلعوں کی طمع کرنے لگے گا یہاں تک کہ سارے قلعوں کو ویران کردے گا ۔یہی مثال ایمان کی ہے ۔اسکے پانچ قلعے ہیں ،پہلا قلعہ یقین کا ہے ،دوسرا اخلاص کا ،تیسرا فرائض کا ،چوٹھا ایمان و سنن کا اور آخری قلعہ حفظ آداب (مستحبات کی پابندی)کا،جب بندہ مستحبات (آداب) کی پابندی ترک کردے گا تب شیطان سنن و ایمان ،پھر فرائض ،پھر اخلاص اور پھر یقین پر حملہ کر دے گا ۔لہٰذا ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے کہ وہ وضو ،نماز خرید و فروخت غرض ہر بات میں مستحب (آداب) کا پابند رہے۔مم

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
08 Feb, 2018 Total Views: 149 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Peer Tabasum

Read More Articles by Peer Tabasum: 27 Articles with 6577 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB